Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشرے کے دو انتہائی اور قابل توجہ موضوعات، جن پر ہم سب کیلئےغور کرنا ضروری ہے

Updated: April 27, 2026, 3:16 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اپنے زمانے سے آگے نہیں بڑھتے۔ کسی زمانے میں چو تھی /ساتویں جماعت پاس افراد بھی کوئی نہ کوئی ملازمت حاصل کر لیا کرتے تھے، اُس دَور کے چھوٹے موٹے کاروبار بھی کیا کرتے تھے۔

Parents should plan to make the gloomy atmosphere of the home pleasant. Photo: INN
والدین کو چاہئے کہ گھرکے اداس ماحول کو خوشگوار بنانے کیلئے منصوبہ بندی کریں۔ تصویر: آئی این این

بے روزگار بیٹا
بے روزگاری ویسے تو ہمارے ملک کا انتہائی بڑا مسئلہ ہے البتہ ہمارےمعاشرے میں یہ انتہائی شدّت کا حامل ایشو ہے۔ ہمارا نوجوان جب بے روزگار ہوتا ہے تب وہ بڑی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔ ذہنی اُلجھن، تشویش، اضطراب، غرض کہ بے چینی کی ہر کیفیت سے دوچار ہو جاتا ہے جو اُسے بالآخر مایوسی یا ڈپریشن تک بھی لے جاتا ہے۔ اس ضمن میں والدین، رشتہ دار، عزیز واقارب اور دوست و احباب کے علاوہ سماج کے بڑوں کارو یہ بھی اکثر مثبت نہیں ہوتا۔ اِسی ضمن میں ہم آج کچھ رہنمائی کرنے والے ہیں۔ 
ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ اپنے زمانے سے آگے نہیں بڑھتے۔ کسی زمانے میں چو تھی /ساتویں جماعت پاس افراد بھی کوئی نہ کوئی ملازمت حاصل کر لیا کرتے تھے، اُس دَور کے چھوٹے موٹے کاروبار بھی کیا کرتے تھے۔ کوکن سے کیرالا کے کئی افراد مرچنٹ نیوی میں ملاز متیں حاصل کر کے آفیسر سے کپتان تک بن جاتے تھےاور خلیجی ممالک میں بھی ملازمتیں حاصل کرتے تھے۔ اب حالات مختلف ہیں۔ اب تو خلیجی ممالک میں ہیلپر اور ڈرائیورکی نوکری کیلئے بھی دسویں پاس ہونا ضروری ہے۔ الیکٹریشین، اے سی میکانک کیلئے بھی نِت نئی معلومات رکھنے والا آئی ٹی آئی کے بجائے ڈپلوما انجینئر کو ترجیح دی جاتی ہے۔ غرض کہ چھوٹے موٹے ٹیکنیکل جاب میں بھی جدیدٹیکنالوجی کا علم رکھنے والا ہی ٹِکے گا اور گلف ممالک میں اپنا ویزا حاصل کرپائے گا، یعنی ہمارا بیٹا بے روزگار اسلئے ہے کہ وہ باہُنر نہیں ہے۔ 
روزگار کے محاذ پر آج ہنگامہ آرائی یہ ہے کہ ہمارے بے شمار انجینئربھی بے روزگار ہیں۔ یہاں غلطیاں یہ ہورہی ہیں : 
(الف) رہنمائی کے فقدان کی بناء پر ہمارے کئی طلبہ صرف انجینئرنگ ڈپلومہ کرکے اپنی تعلیم منقطع کردیتے ہیں حالانکہ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اُن نوجوانوں نے یہ طے کرلیا ہے کہ وہ زندگی بھر کسی ٹیکنیکل شعبے میں ایک ہیلپر بنے رہیں گے۔ (ب) ڈِگری انجینئر بھی ملازمت سے اسلئے محروم ہے کہ اُس نے ڈگری انجینئرنگ ہی کو اپنی منزل سمجھ لیا اور معلومات میں کوئی مزید اضافہ نہیں کیاجیسے اُسے پوسٹ گریجوکیشن کا امتحان گیٹ تو دنیا ہی چاہئے تھا۔ اس امتحان کیلئے نصاب کچھ اس طرح ہے کہ ڈگری انجینئرنگ کے چار برسوں کے مکمل نصاب کا اعادہ ہوجاتا ہے نیز اس امتحان کی کارکردگی کو ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کیلئے اہمیت دی جاتی ہے۔ (ج) سائنس، کامرس، فارما، حتّیٰ کہ انجینئرنگ گریجویٹس کو اعلیٰ درجے کے امکانات بھی اُس وقت روشن ہو جاتے ہیں جب وہ اپنی فیلڈ سے منسلک شعبے میں ایم بی اے کا دوسالہ کورس بھی کرلیتے ہیں۔ زیادہ نالج، زیادہ خود اعتمادی، زیادہ امکانات اور سیدھا سادا فارمولہ ہے اپنے کر یئر میں کامیاب بننے کا۔ (د) آج لگ بھگ سارے کریئرس میں مصنوعی ذہانت ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے لہٰذاسارے نوجوان یہ سمجھ لیں کہ اُن کے کریئر میں اے آئی کیا رول ادا کر سکتا ہے، اُس کی بھر پور جانکاری ہونی ضروری ہے اور ضرورت پڑنے پر اُس سے وابستہ کوئی قلیل مدتی کورس کرتے ہیں تو کریئر کے راستے روشن ہوجاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف اچھے روزگار مل جاتے ہیں بلکہ ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ 
روزگار کے سلسلے میں ہمارے یہاں ایک ڈفلی مسلسل بجائی جاتی ہے اور اُس کا نام ہے : تعصّب۔ تعصب ہوتا ہے کیونکہ دنیا میں ہر ملک میں اقلیتوں کے ساتھ تعصب ہوتا ہے۔ علاج؟ تعصب کا اندھیرا جتنا گہرا ہے، اپنی قابلیت کا اُجالا اُس سے سِوا کر دو۔ 
کالج / پروفیشنل انسٹی ٹیوٹ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک مختصر دَور ایسا ہوتا ہے جس میں صرف عملی نالج حاصل کیا جائے، چاہے اُس کیلئے کوئی تنخواہ/ مشاہرہ نہ ملے۔ ہر نوجوان کو جدوجہد کے اس دَور سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ 
ملازمت کی جدوجہد کے دَور میں گھر کے لوگوں (کم از کم والدین) کا ساتھ بے حد اہم ہوتا ہے۔ اسلئے اس دَور میں ہمارے گھروں سے یہ آوازیں نہیں آنی چاہئے : (الف) اتنا عرصہ گزرا، ابھی تک کو ئی جاب مل نہیں رہا (ب ) ساتھ والے کہاں سے کہاں پہنچ گئے (ج) مفت کی روٹی توڑ رہا ہے (د) ہر انٹرویو میں ناکام ہو رہا ہے (و) اتنے عرصے سے خرچ ہوچکا ہے اب بھی انٹرویو کو جاتے وقت پاکٹ منی مانگتا ہے (ہ) نوکری کا پتہ نہیں اور اس کی امّی ابھی بھی لاڈلے کی پسند کی ترکاری ہی پکاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اب تو جینا ہے سوشل میڈیا کے سا تھ، مگر کیسے؟

بن بیاہی بیٹی
کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو وداع یا رُخصت کرنا نہیں چاہتا، ماں بھی نہیں، مگرکرنا تو ہے کہ وہ اللہ کی امانت ہے اور اُسے صحیح جگہ پہنچانا ہے، نیز جنّت کی بشارت تو صرف بیٹی کے ماں باپ کو ہے کہ اگر انہوں نے اس کی تربیت تعلیم اور نکاح احسن طریقے سے کیا تو اُنھیں جنّت کا وعدہ ہے۔ 
ہمارے معاشرے کو برائیوں نے کچھ اس قدر گھیرلیا ہے کہ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی پورا گھر ماتم کدے میں تبدیل ہوجاتا ہے اور پھر پورے گھر میں ایک ہی موضوع زیرِ بحث رہتا ہے کہ جہیز کاانتظام کیسے ہوگا؟ 
لڑکی کی تعلیم کے تعلق سے ہمارا معاشرہ ان ادوار سے گزرچکا ہے: (الف)لڑکی کیلئے صرف دینی تعلیم (ب) دینی تعلیم + سلائی + بنائی + کتائی۔ (ج) ساتویں تک پڑھایا جائے تاکہ وہ شوہر کو خط لکھ سکے (د) لڑکیوں کی اسکول میں ایس ایس سی تک تعلیم (و) بارہویں +مہندی کورس+ ڈی ایڈ + بیوٹیشن کورس (ہ) گریجویشن + بی ایڈ (ل) ڈاکٹر، انجینئر، آرکیٹیکٹ، مینجمنٹ، ریسرچ وغیرہ۔ 
گزشتہ دَور سے آج کے زمانے میں بھی بیٹیوں کو اُن کے حق و فرض پر لیکچر تو دیا جاتا ہے مگر وہ بہو کیسے بنے اس پر کوئی تربیت نہیں ہوتی۔ خانہ داری میں بڑی بوڑھی یہ کہتی نظر آتی ہیں : (کوکن میں : )چاول کی روٹی اور مچھلی کا سالن بنانا آنا چا ہے۔ ( خاندیش میں :) مٹن کڑھائی اور پایہ (مراٹھواڑہ میں :)دم بریانی اور (وِدربھ میں : ) کباب۔ البتہ نکاح کے بعد بیٹی کی زندگی کا منظر نامہ جب مکمل تبدیل ہو جاتا ہے اور سارے کردار بدل جاتے ہیں اُس وقت اُن سب سے بیٹی کو ہم آہنگ ہونے کی کوئی خاص تربیت نہیں ہوتی۔ ہاں کچھ گھروں میں ساس سَسُر کو چھوڑ کیسے دیا جائے اور شوہر کو اپنی مٹھی میں کرنے کے البتہ گُر سکھائے جاتے ہیں۔ 
بیٹی کے نکاح کے تعلق سے سب سے تکلیف دہ پہلو ہے کہ جہیز ! اب مسلم معاشرے میں بھی لڑکے والوں کا ڈھکا چھپا نہیں بلکہ کھلا مطالبہ جہیزرہتا ہے کہ ہمارے ہاں جہیز کے بغیر نکاح ہوہی نہیں سکتا۔ لڑکی کتنی ہی دیندار، پڑھی لکھی، باشعور اور امور خانہ داری سے واقف ہو مگر جب تک ’لین دین‘ کی بات نہیں ہوتی، رشتے کی بات آگے نہیں بڑھتی۔ کئی جگہوں پر لڑکے والے رشتے کی بات کر تے وقت بتاتے ہیں کہ اُن کے بیٹے کی پڑھائی پر کتنا خرچ آچکا ہے۔ پھر انھیں جو جو ’آفر‘ آئے ہیں اُن کا ذکر بھی کھُل کر کرتے ہیں کہ ایک لڑکی والوں کی جانب سے سائوتھ ممبئی میں دوبیڈروم فلیٹ، دوسری کی جانب سے ان کے بیٹے کا اب تک کا تعلیم کا خرچ نیز ایک لڑکی والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شادی کا مکمل خرچ بھی وہی کریں گے وغیرہ۔ آج اسی بناء پر ہمارے معاشرے میں ہزاروں لڑکیاں بِن بیاہی بیٹھی ہیں۔ 
لڑکی کے رشتے کے ضمن میں ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی رُکاوٹ ہے پڑھی لکھی لڑکیوں کے لئے پڑھے لکھے لڑکے نہیں مل رہے ہیں۔ ہمارے ہاں لڑکیاں تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں جب کہ لڑکے صرف خاندان کا چراغ بنے ہوئے ہیں جو اکثر ٹمٹما رہے ہیں۔ توازن بگڑتا جا رہا ہے اور کہیں کہیں مکمل گِر بھی چکا ہے۔ اس صورت میں کچھ لڑکیاں بڑا بدبخت اور افسوس ناک فیصلہ کرلیتی ہیں۔ وہ سوچتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں اُن کے لائق دُور دُور تک کوئی لڑکا نہیں ہے اور اس طرح وہ پھر’سرحدپار‘ نظریں دوڑاتی ہیں۔ ایسی ہماری لڑکیوں کو بہکانے اور بھٹکانے کے لیے زعفرانی ٹولے کی جانب سے ہر طرح کے منصوبے تیار کئے جارہے ہیں۔ ہماری ہزاروں بیٹیاں اس طرح دین سے بھٹک رہی ہیں۔ ان سب معاملات کا عذاب ہماری قوم کے لڑکے اور اُن کے والدین کے نام ہی درج ہوگا۔ اس کی روک تھام کیلئے چند کوششیں ہورہی ہیں مگر وہ ناکافی ہیں۔ 
رشتے کے تعلق سے ہماری بیٹیوں کو بھی مثبت رُخ اپنانے کی ضرورت ہے۔ کہیں یہ بھی دیکھا گیا ہےکہ لڑکی اگر ایم اے ایم ایڈ ہے تو وہ بی اے بی ایڈ سے شادی کوتیار نہیں۔ انہیں دیکھنا یہ چا ہئے کہ لڑکا پڑھا لکھا، باہُنر دیندار ہو، یہ کافی ہے ورنہ سوشل میڈیا میں سیلفی کی بھرمار کرنے والے ’اسمارٹ‘ لڑکوں کی کمی نہیں ہے۔ 
اخبارات میں شائع ہونےوالے ’ضرورت رشتہ‘ کے اشتہار، آن لائن بیو رو وغیرہ پر بھی تحقیق و محنت سے رشتے ہو رہے ہیں۔ والدین اس کیلئے مسلسل جدوجہد کریں تو اچھے رشتے بھی موجود ملیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK