مشہور صحافی اورمصنف کرن تھاپرکی تیز اورتیکھی باتیں

Updated: March 09, 2020, 1:23 PM IST | Shahid Nadeem

کرن تھاپر، ہندوستان ہی نہیں عالمی سطح پر ممتاز صحافی ٹی وی تبصرہ نگار اور بے باک انٹرویو ر کے طورپر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے والد جنرل پریم ناتھ تھاپر ایک زمانے میں چیف آرمی اسٹاف تھے ۔

Karan Thapar - Pic : Mid-Day
کرن تھاپر ۔ تصویر : مڈ ڈے

کرن تھاپر، ہندوستان ہی نہیں عالمی سطح پر ممتاز صحافی  ٹی وی تبصرہ نگار اور بے باک انٹرویو ر کے طورپر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے والد جنرل پریم ناتھ تھاپر ایک زمانے میں چیف آرمی  اسٹاف تھے ۔ممتاز مورخ پروفیسر رومیلا تھاپر ان کی کزن ہیں۔ تھاپر اپنے جارحانہ سوالات اور تبصروں کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ ایک عرصہ تک وہ انڈین ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے۔ ۲۱؍ اپریل ۲۰۱۷ء کو ایک کالم یادآتا ہے ۔ ’دی مسٹر یرس آف مسٹر جادھو‘‘ کل بھوشن جادھو، جن پر پاکستان میں جاسوس کا الزام ہے، ان پر کچھ سوال اٹھائے تھے ، کالم کی اشاعت کے بعد ملک بھرمیں کافی ہنگامہ ہوا، لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوںنے اپنے ہی ملک کے خلاف لکھ کر ملک کو بدنام کیا ۔ آج بھی ہندوستان ٹائمز میں ان کا کالم دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔
  کرن تھاپر کی کتاب ’ڈیولس ایڈوکیٹ ، اَن ٹولڈ اسٹوری‘ شائع ہوئی اور حسب معمول لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ وہ سفاکی کی حد تک  حقیقت پسند اورایماندارہیں ، انہوںنے سیاسی اور دیگر اہم شخصیات کو بہت قریب سے دیکھا ہے، جن میں سنجے اور راجیو گاندھی ، بے نظیر بھٹو ، پی اے سنگما، وی پی سنگھ ، لال کرشن اڈوانی ، امیتابھ بچن اورکپل دیو وغیرہ شامل ہیں۔ کرن تھاپر کہتے ہیں کہ ان کے بے لاگ ، بے باک پروگرام ’’ڈیولس ایڈوکیٹ ، میں خاص طورپر دو انٹرویو بہت مقبول ہوئے تھے پہلا ۲۰۰۷ء میں نریندر مودی کا انٹرویو، جس میں وہ محض تین منٹ بعد ہی اٹھ کر چلے گئے تھے، کرن کے مطابق اگر مجھے ٹھیک یاد رہے تومیرا پہلا سوال تھا’’گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے آپ دوسرے الیکشن سے چھ ہفتہ دورکھڑے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے  اور راجیو گاندھی فاؤنڈیشن نے آپ کو سب سے بہتر وزیراعلیٰ قراردیا ہے دوسری جانب ہزاروں مسلمان آپ کو قاتل سمجھتے ہیں، کیا آپ کے سامنے امیج کا مسئلہ ہے؟‘‘مودی جی نے کہا کم ہی لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہیں ۔ میں نے کہا ایسا ماننے والے کم نہیں ہیں۔ مودی نے کہا ’ایسا صرف کہا گیا ہے۔ لکھا نہیں گیا۔ میں نے کہا ’’ اگر چیف جسٹس ایسا کہہ رہے تو اس سے فرق نہیں پڑتا ؟ میں نے توجہ دلائی کہ ساڑھے چار مقدموں میں سے دوہزار چھ سو مقدمے گجرات سے باہر منتقل کردیئے گئے۔ سپریم کورٹ نے اس طرح کے اور بھی تبصرے کئے ہیں، یہ تمام باتیں اشارہ کرتیں ہیں کہ ایسے لوگ کم نہیں ہیں۔‘‘ انہوںنے کہا جو لوگ ایسا کہتے ہیں وہ خوش رہیں اگریہ آپ کی سوچ ہے تو آپ کو مبارک ،مجھے پانی چاہئے۔
  میں نے کہا پانی بازو میں رکھا ہے ، پی لیجئے ، مجھے احساس ہوا کہ پانی بہانہ ہے، وہ انٹرویو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے مائیک  باہر نکال دیا اور انٹرویو ختم ہوگیا ۔اس کے بعد گھنٹہ بھر  ہماری بات ہوئی، میں انٹرویو دوبارہ کرنے کے لئے مناتا رہا ، لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔ ان کی مہمان نوازی کافی اچھی تھی ، چائے مٹھائی  اور ڈھوکلہ  پیش کرتے رہے ۔ میں ایک گھنٹہ بعد چلا آیا۔
   دوسرا جے للتا کا ایک پرانا انٹرویو، جو اکتوبر ۲۰۰۴ء میں ریکارڈ کیا گیا۔ وہ پورے انٹرویو میں شریک رہیں مگر ناراض ہوکر غصہ میں چلی گئیں۔ یہ انٹرویو بی بی سی کے ہارڈ ٹاک کے لئے لیا گیا  تھا۔ چودہ برس بعد انہوںنے اس کی تفصیل بیان کی ہے وہ لکھتے ہیں ’’ وہ تمام لوگ جن سے میں انٹرویو کرنا چاہتا تھا جے للتا ان اولین  لوگوں میں تھیں ، ان کا کانوینٹ لہجہ ، توجہ، غور وفکر اور بے آواز چلنے کا انداز دل فریب تھا۔ وہ اتنی احتیاط  ،شائستہ  اور مہذب انداز میںاپنے خیالات کا اظہار کرتیں جو مصنوعی لگتا ۔ مسئلہ چند پھولوں کی حماقت سے شروع ہوا۔ جے للتا نے کہا چند پھول ، انٹرویو ٹیبل پر رکھ دیئے جائیں ، چنانچہ فوری طور پر اوپر سے نیچے تک گلدان کے لئے لوگوں کو کام پر لگایا گیا۔ میںنے منع کردیا کہ یہ میرے لئے رکاوٹ پیدا کررہا تھا، اس کے بجائے میں نے ان کے بازوں میں اسٹول پر رکھ دیا۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ پھولوں سے ان کی خوبصورتی میں کیا اضافہ ہوگا۔ جے للتا ان کے پیچھے اپنے نوٹس پوشیدہ  رکھنا چاہتی تھیں۔ ( گلدان) کی موجودگی میں کاغذات نظرآجاتے۔ انٹرویو کے دوران میں انہیں دیکھ لیتا ۔وقتاً فوقتاً وہ اسے پڑھ لیتیں، میں نے اس طرف اشارہ کردیا۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے یہ سب کیوں کیا ، انہوںنے غصہ سے کہا میں سیدھے تمہاری آنکھوں میں دیکھ رہی ہوں۔ میں ہر کسی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہوں۔ دراصل انٹرویو کی بدقسمتی کا آغاز اس سے پہلے ہی ہوچکا تھا، بلاشبہ غلطی میرے پہلے سوال کی تھی، ’’وزیراعلیٰ  چلئے آپ کی امیج سے شروع کرتے ہیں، گزشتہ برسوں میں کئی موقعوں  پر پریس والوں نے آپ کو غیر جمہوری ،غیر حقیقت  پسند ، غیر معتبر، یہاں تک کہ انتقامی جذبے والی شبیہ پیش کی ہے ، کیا آپ کو غلط سمجھا گیا یا آپ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ کوتاہی اور غلطیاں ہوئی ہیں؟
 ان کا جواب اور مختصر اور واضح تھا اوریہ اشارہ بھی کہ مجھے کیا کرنا چاہئے ، ’’ میں قطعی غیر ذمہ دار نہیں ہوں ۔ یہ حقیقت سے دورہے ، ہاں مجھے غلط سمجھا گیا۔یہ اور اس طرح کی باتیں اس لئے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں سے ہی نہیں بلکہ جب سے میں نے سیاست میں  قدم رکھا میڈیا میرے خلاف ہے۔‘‘  میں نے ان کو پوری طرح متوجہ کرنے کے لئے دانستہ یہ سوال کیا تھا۔ مگر جے للتا نے اسے خود پر ذاتی حملہ سمجھ لیا، بہرحال میرے پاس سوال تیارتھے۔ اور میڈیا کے خلاف مقدمہ واپس لینا ،گزشتہ برس سرکاری ملازمین کی ہڑتال کے خلاف سزا اور تادیبی کارروائی کو منسوخ کرنے کو کیا کہیں گی ؟ وہ اس وقت غیر منصفانہ اور من مانی تھی اورآج بھی ہے۔‘‘ ’’میڈیا میرے خلاف جانبدار تھا کیوں کہ میں ایک خود ساختہ خاتون ہوں۔ ایک عرصہ سے سیاست میں مردوں کو برتری حاصل ہے ، میڈیا نے مجھے اس لئے گھیرلیا کہ میرا خاندانی پس منظر جنوبی ایشیاء کی دیگر خواتین لیڈروں کی طرح نہیں ہے ، اندرا گاندھی ، سری مائوبندرا نایک ، بے نظیر بھٹو، شیخ حسینہ کو دیکھئے، یہ سب کسی نہ کسی کی بیوی یا بیٹی ہیں، میرا ایسا کوئی پس منظر نہیں۔‘‘ انہوںنے اپنے سیاسی حریف ایم کروناندھی کو جس طرح گرفتار کیا یہ محض تین برس پہلے کی بات تھی ۔ اس وقت کروناندھی کی عمر تہتر برس تھی اور وہ چودہ سال متواتر  وزیراعلیٰ رہ چکے تھے۔ میں نے اگلا سوال کیا آپ نے سابق (وزیراعلیٰ) کو سنیچر رات دو بجے گرفتار کرایا،حالانکہ ایک روز  پہلے ہی  ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی ۔ انہیں لات مار کر ہنگامہ کرتے ہوئے جیل روانہ کیا گیا۔ اتنے غیرمعمولی انداز میں آخر یہ سب کیوں کیا گیا؟ دراصل پریس کے ایک حصہ نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ جے للتا کا انتقام تھا۔  
  جے للتا کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ ا ن کا غصہ صاف جھلک رہا تھا۔ ’’ ڈی ایم کے حکومت نے میرے خلاف فرضی مقدمہ کیا تھا اورجیل میں ٹھونس دیامیں نے بے سبب اس کیس میں اٹھائیس دن کاٹے اور بالآخر بری ہوگئی۔ ‘‘ موضوع بدلنے کے لئے میںنے ان کے تبدیل ہوتے رشتوں پرگفتگو کا فیصلہ کیا۔ انہوںنے گزشتہ برسوں کے دوران کئی سیاسی اتحاد توڑے تھے، ’چلئے ، وہ آپ کو بے اعتبار قراردیتے ہیں، آپ نے ۹۸ء کا الیکشن سونیا گاندھی  کے خلاف لڑا ۔ ۲۰۰۳ء میں آپ نے ایک بار پھر راستہ بدل دیا اور اب کانگریس نے فتح حاصل کرلی تو دعویٰ کررہی ہیں کہ یہ کوئی ذاتی معاملہ نہیں تھا۔ لگتا ہے آپ ملک کے مزاج کے ساتھ ساتھ ہرلمحہ اپنا ذہن بدلتی رہتی ہیں۔‘‘جے للتا نے اس کا جواب دینے سے انکارکردیا۔ ’’میں اس انٹرویو میں سونیا گاندھی کے بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہتی ۔‘‘مجھے ان سوالات کا انتخاب کرنے دو ، جس کا جواب میں دینا چاہوں ۔‘‘ اس کے بعد معاملہ صرف خراب ہی ہوسکتا تھا، بالآخر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ہاتھ آگے بڑھا کر کہا: ’’وزیراعلیٰ آپ سے گفتگو خوشگواررہی۔‘‘
 ایک لمحہ کے لئے انہوںنے سفاکی بھری نظروں سے دیکھا اورکہا ’’میں کہہ سکتی ہوں کہ ’’آپ سے گفتگو خوشگوار نہیں رہی ، نمستے ، انہوںنے میرے بڑھے ہوئے ہاتھ کو ہٹایا، مائیک کا کلپ پٹکا اور کمرے سے نکل گئیں۔ معاملہ یہیں نہیں رکا ، انٹرویو کے بعد کرن تھاپر اپنے پروڈیوسر کے ساتھ کار میں فورٹ سینٹ جارج سے نکل رہے تھے تو اشوک اپادھیائے ان کی طرف مڑے۔ انہوںنے انٹرویو کا ٹیپ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا، کہا ’بہتر ہے کہ ہم اس انٹرویو کا حصہ تیارکرلیں جے للتا تم کو دوبارہ انٹرویو نہیں دیں گی۔‘‘کرن کے مطابق ’ اس وقت مجھے ان کی بات درست لگی۔ لیکن اماں نے اشوک کی بات غلط ثابت کردی ، وہ عظیم سیاستداں تھیں یا باہمت فراخ دل خاتون ، دوسری ملاقات میں انہوں نے مجھے حیران کردیا۔ اس کے بعد دو سال کا وقفہ ہے۔ نئی دہلی وگیان بھون میں قومی یک جہتی کونسل کی میٹنگ تھی ، میں اڑیسہ کے وزیراعلیٰ نوین پٹنائک سے یہ بات کررہا تھا۔ وہ آکر ہمارے ساتھ شریک ہوگئیں۔ میرا خیال تھا کہ وہ  مجھ سے نہیں نوین پٹنائک سے ملنا چاہتی ہیں۔ میں الگ ہٹ کر کھڑا ہوگیا، تم کہاں جارہے ہوں کرن ‘‘ انہوںنے بے حد خوشگوار لہجہ میں کہا۔ ’ میں تم سے بات کرنے آئی ہوں، مسٹر پٹنایک توکبھی بھی مل سکتے ہیں، مجھے یقین نہیں آرہا تھا جو میں نے سنا ، خاموشی سے ان کی جانب دیکھتا رہا سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دوں، ٹھیک ہے وہ مسکرالیں کیا تم کچھ نہیں کہو گے۔‘’’مجھے یقین نہیں تھا کہ آپ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں، آپ ہماری گزشتہ ملاقات بھول گئیں۔‘‘ ’بالکل، دراصل یہ اور وقت ہے۔‘‘ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا ، وہ نوین کی  طرف مڑگئیں اور پوچھا آپ کیسے ہیں؟‘‘ یہ اشارہ تھا کہ میں جاسکتا ہوں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK