آسمان سے پَرے فرح احمدی کی ہجرت

Updated: November 09, 2020, 3:46 PM IST | Shahid Nadeem

فرح نے کم عمری میں ہی اتنی مصیبت اور مسائل دیکھے ہیں کہ دوسروں کو یقین کرنا ممکن نہ ہو،جدوجہد اور حوصلہ کی ایک طویل داستان

Farah Ahmedi
معروف مصنفہ فرح احمدی

  فرح احمدی نے کم عمری میں ہی اتنی مصیبت اور مسائل دیکھے ہیں کہ دوسروں کو یقین کرنا ممکن نہ ہو، کابل سے کوئٹہ اور پھر شکا گو تک کا لمبا سفر، اس کے علاوہ جدوجہد اور حوصلہ کی ایک طویل داستان، فرح نے دی اَدر سائیڈ آف اِسکائی، میں اپنی زندگی کی کہانی بیان کی ہے ، یہ کتاب اس نے تمیم انصاری کے اشتراک سے تحریرکی ہے جو خود بھی ادیب ہیں اور فرح کی مادری زبان فارسی اور درس سے واقف ہیں۔ اس کتاب کی بھی اپنی ایک کہانی ہے، امریکہ کے ایک ٹی وی چینل  نے لوگوں کو اپنی زندگی بھر کے واقعات بیان کرنے کے لئے مدعو کیا۔ پروگرام کا نام تھا  ’اسٹوری آف مائی لائف۔‘ اس پروگرام میں تقریباً چھ ہزار لوگوں نے حصہ لیا۔  اپنی سہیلی ایلس لنٹر کے اصرار پر اس نے جو لکھا ، اسے شریک کردیا۔ اس میں سے صرف تین کو منتخب کیا گیا ، فرح ان میں سے ایک تھی  ۔ فرح کے مطابق  افغانستان میں گزارے اپنے بچپن کے بارے میں سوچتی ہوں تو وہ بہت دور اور پرانا معلوم ہوتا ہے۔ پھرسوچتی ہوں کہ میں اپنے شہر کابل میں پروان چڑھی، خستہ حال مگر بھرے پُرے محبت کرنے والے خاندان کے درمیان، اتنا جانتی ہوں کہ وہ سب اس وقت کھوگئے جب میں ۱۴؍ برس کی بھی نہیں تھی۔
  بچپن میں گھر کی چہاردیواری کی بلند دیواروں سے دوسری طرف دیکھنا چاہتی تھی، مگر یہ کبھی خواب میں بھی نہیں  سوچا تھا کہ اپنے ٹوٹے پھوٹے ، اینٹ پتھر کے مکان سے نکل کر میرا سفر دنیا کے دوسرے سرے پر ختم ہوگا۔بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی زندگی کی کہانی  بیان کروں گی، کیوں کہ یہ صرف میری کہانی نہیں ہے، مجھ جیسے بہتوں کی کہانی ہے۔ ممکن ہے آپ نے کہیں پڑھی بھی ہو۔ سات برس کی فرح احمدی کی  داستانِ حیات ۱۹۹۴ء کی ایک ناخوشگوار اور  اداس صبح سے شروع ہوتی ہے ، اسکول کے لئے دیر ہوچکی تھی، وہ جلد سے جلد اسکول پہنچنا چاہتی تھی  اوراس جلدبازی نے اس کی زندگی کو ایک درد ناک حادثے سے دوچار کردیا۔اس نے اسکول کے لئے ایک مختصر راستہ اختیارکیا، جو بے تحاشہ جھاڑیوں سے گھرا ہوا تھا، اس طرح وہ چار منٹ بچالیتی، وہ لکھتی ہے:میں اس طرف بڑھ گئی، یکایک میرے چہرے کے پاس روشنی کا جھماکاسا ہوا،  پیروں  تلے زمین ہل گئی، بس اتنا  یاد ہے کہ مٹی کی بوچھار اڑی پھر سب گم ہوگیا، اسپتال میں آنکھ کھلی، اس کا پیر زمین میں دبی بارودی سرنگ پر پڑ گیا تھا۔اسپتال میں آنکھ کھلی ،لیکن میرا ایک پیر پہاڑی کی طرح بھاری ہورہا تھا۔ پورا خاندان بستر کے اردگردکھڑا تھا، مگر کسی نے کچھ بتایا نہیں۔  
 افغانستان میں ایک عرصہ سے جنگ جاری تھی۔ پہلے۱۹۷۹ء تک  سویت روس  سے اور پھر مجاہدین سے ،  جو کابل شہر پر اپنا قبضہ چاہتے تھے، ہرطرح کے سامان کی قلت تھی دواؤں اور طبی آلات کا ملنا مشکل تھا۔ بیرونی ممالک سے منگوانے کے لئے رقم بھی نہیں تھی ۔اس دوران ہر تیسرے مہینے ایک جرمن فلاحی تنظیم کابل آتی اور  زخمی  بچوں کو علاج کے لئے جرمنی لے جاتی۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ فرح کا علاج بھی ہوسکتا، اسے جرمنی جانے دیں۔یہی ایک راستہ ہے  ۔ فرح کے مطابق  جب میں  نے یہ بات سنی تو ڈرگئی اورکہا کہ میں نہیں  جاؤں گی ، والدہ بھی ساتھ ہوں گی ، مہربان  افغانی ڈاکٹر نے مجھے الگ لے جاکرسمجھایا۔   
 جرمنی میں ایک عرصہ تک علاج اورآپریشن کے بعد ڈاکٹروں نےسیدھے  پیر کے اوپر ایک فریم لگادیا اور کمبل ڈال دیا ۔ اس کے بعد فرح اپنا دکھ سہ نہ سکی اور  روز رات کو روتی، ایک رات اس  کے آنسوؤں نے پڑوس کی ایک خاتون کو متوجہ کرلیا۔ وہ اپنے بیٹے سے ملنے آئی تھیں۔ اس نے  اس بارے میں نرس سے دریافت کیا، جب اسے معلوم ہوا کہ اس افغانی لڑکی کا جرمنی میں کوئی نہیں ہے ۔ تو کمرے میں آئیں اور مجھے دلاسا دیا۔ایک ہفتہ بعد ان کے بیٹے کو  ڈسچارج کردیا گیا۔ اس کے بعد بھی وہ اسپتال آتی رہیں۔ ان کا نام کرسٹینا تھا۔ کرسٹینا ،فرح کے لئے گلدستہ ، کارڈ ، کھلونے اور کینڈی لاتیں اور ڈرائنگ کا سامان بھی۔ دونوں ساتھ ساتھ ڈرائنگ  بناتے ۔ انہوںنے فرح کے لئے کچھ لباس بھی تیارکئے اوراپنے گھر ڈنر پربھی لے گئیں۔فرح لکھتی ہے ، ایک شخص پہلی بار مصنوعی پیر کا ناپ لینے آیا، مجھے دکھانے کے لئے وہ نمونے کی ٹانگ بھی لایا تھا، میں نے غصہ سے اسے دھکیل دیا، نرس کو غصہ آگیا بولی ، تم جینا چاہتی ہو لڑکی تویہ پیر لگالو۔ڈیڑھ سال جرمنی میں گزارنے کے بعد فرح اپنے گھر افغانستان جانے کے قابل ہوگئی۔ فرح کو گھر روانہ کردیا گیا ہے۔ چار ماہ بعد کابل ایک بار پھر جنگ کی زد میں تھا، ایک روز وہ اپنے بھائیوں اور والدہ  کے ساتھ بازار گئی اور کپڑے خریدے اور گھر کی طرف چل دیئے، گلی میں داخل ہوئے تو  دیکھا لوگوں کا ہجوم تھا، ایک  راکٹ نے ہمارا گھر تباہ کردیا تھا۔ آس پاس کے لوگوں نے میرے شہید والد اور معصوم بہنوں کی لاشوں پر کمبل ڈال دیا تھا،مجھ  پرسکتہ طاری تھا۔ راکٹ کے  حملے اور گھر والوں کی ہلاکت کے تین چار دن بعد مجاہدین کابل سے چلے گئے۔
 ۱۹۹۶ء کا ستمبرتھا، شہر میں ہنگامہ برپا تھا، کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ ہمارے پیارے مرنے والوں کا مناسب انتظام کرتا۔ چند ایک لوگ سرعت سے ہمارے گھر آئے  اور لاشوں کو قبرستان لے گئے اور فوراً دفن کردیا۔ آخری رسومات بھی میرے والد اور بہنوں کو نصیب  نہ ہوئی۔‘‘ فرح  ، والدہ اور دوبھائیوں سمیت اپنے چچا کے گھر منتقل ہوگئی مگر دوہفتہ بعد بھار ی دل سے اپنے بچے کھچے کمرے میں رہنے لگے۔  فرح کا خاندان ہزارہ قبیلہ سے تھا، جو عموماً پہاڑوں کے درمیان رہتا تھا، طالبان ، ہزارہ قبیلہ سے نفرت کرتے تھے  اور انہیں پریشان کرنے کی ہرممکن کوشش کرتے، زبردستی اٹھالے جاتے اور قتل کردیتے۔ایک شام حالات کا جائزہ لینے کے بعد سب جمع ہوئے ، کسی نے مشورہ دیا کہ نوجوان لڑکوں کو پاکستان روانہ کردیاجائے۔فرح کے مطابق والدہ کے پاس سونے کے چند زیورات تھے ایک شناسا نے اس میں سے کچھ  فروخت کرکے رقم والدہ کو دی جو اس نے میرے بھائیوں کے حوالے کردیئے۔ والدہ نے اپنے بیٹوں اور میں نے اپنے بھائیوں کو گلے لگایا اور رخصت کیا، ہم سب رو رہےتھے، بڑے بھائی نے چھوٹے کا ہاتھ تھام رکھا تھا، وہ دوسرے لڑکوں میں شامل ہوگئے، اس کے بعد میں نے اپنے بھائیوں کو نہیں دیکھا۔
  کابل کے حالات خراب ہوتے جارہے تھے۔ رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، کوئٹہ ، پاکستان میں مقیم والدین کی ایک کزن کے اصرار پر وہ ہجرت پر آمادہ ہوگئے۔ فرح کہتی ہے کہ ہم اپنے بچے کھچے سامان کو کپڑے میں باندھ کر جلال آباد کی بس میں سوار ہوگئے۔ جلال آباد سرحد سے آدھے فاصلہ پر تھا۔ وہاں سے وین میں سوار ہوئے ، جس میں اور بھی لوگ تھے، وین نے سرحد سے تقریباً ایک کلو میٹر  دور اتار دیا۔ سرحد پار کرنے والوں کا ہجوم تھا، پاکستان کا گیٹ بند تھا۔ گارڈ کسی کو جانے کی اجازت نہیں دے رہا تھا، لوگوں کو رائفل ، ڈنڈے  سے دھکیل رہا تھا، ہم گیٹ کے آس پاس بھی نہیں پہنچ سکے ۔ دوسرے روز راز کھلا کہ سرحد پار کرنے کے لئے رشوت دینی ہوگی۔ ہمارے پاس  تھوڑی بہت رقم تھی،  وہ کوئٹہ جانے کے کام آتی، اس جگہ ایک نیک دل خاتون تھی جو اپنے شوہر غلام علی کے ساتھ تھی، اس نے سرحد پار کرنے کا  راستہ ڈھونڈ نکالا۔  خاتون کی دعوت پر فرح اوراس کی والدہ بھی ساتھ ہولئے۔
 ’’دوسری رات نیم تاریکی میں ہم غلام علی اوران کے خاندان کے ہمراہ نکل پڑے۔ چند کلو میٹر بعد پہاڑی  شروع ہوگئی۔ والدہ کو دمہ کی وجہ سے سانس کی تکلیف تھی، جس کی وجہ سے ہم رک رک کر چلتے ۔ ہمارا سفر گھنٹوں میں طے ہوا۔ غلام علی نہایت نیک اور رحم دل تھے، جیسے ہی ہم پہاڑوں کے دامن میں پہنچے انہوںنے کہا اب ہم قانونی طورپر پاکستان میں ہیں۔
 ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی، ہم بے حد مسرور تھے حالانکہ ہمیں اپنے مستقبل کا کچھ اندازہ نہ تھا لیکن فرح احمدی کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کوئٹہ میں کزن کے گھر سال بھر رہنے کے لئے اسلام آباد اور پھر شکاگو (امریکہ ) کا ایک طویل سفر  ہے، بے گھری کا درد جو  فرح اور اس کی والدہ کو جھیلنا پڑا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK