Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: معتدہ کے تعلق سے ایک سوال

Updated: August 21, 2026, 4:56 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

ایک معتدہ (وہ خاتون جو عدت میں ہو) کے متعلق ایک مسئلہ معلوم کرنا کہ جس دن معتدہ کی عدت پوری ہو رہی ہو، کیا اس دن کھانا پکانا اور رشتے داروں کو بلانا ،یہ سب امور جائز ہیں ؟

Picture: INN
تصویر: آئی این این
معتدہ کے تعلق سے ایک سوال 
مفتی صاحب، ایک معتدہ (وہ خاتون جو عدت میں ہو) کے متعلق ایک مسئلہ معلوم کرنا کہ جس دن معتدہ کی عدت پوری ہو رہی ہو، کیا اس دن کھانا پکانا اور رشتے داروں کو بلانا ،یہ سب امور جائز ہیں ؟ اکرام الحق،کوکن 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق :معتدہ طلاق اور معتدہ وفات دونوں کی عدت میں فرق ہے۔ عورت حمل سے ہو تو عدت طلاق ہو یا عدت وفات دونوں کی عدت وضع حمل یعنی بچے کی پیدایش تک ہے۔ حمل سے نہ ہو تو طلاق کی عدت تین حیض (اور عندالشوافع تین طہر) ہے جبکہ عدت وفات چار ماہ دس دن ہے۔ عدت وفات کا شمار شوہر کی وفات کے دن سے ہوتا ہے اس لئے عدت کب پوری ہورہی ہے اس کا جانناآسان ہے اور عموماً ہر ایک کو اس کا علم ہوتا ہے۔ چونکہ عدت کے بعد کے احکام الگ ہیں مثلاً معتدہ کی شادی اور گھر سے باہر آنے جانے کی اجازت وغیرہ اس لئے اس حدتک تو گنجائش ہوگی کہ قریبی لوگوں کو اطلاع کر دی جائے لیکن شریعت میں اس موقع پر کسی خاص تقریب اور دعوت وغیرہ کا تذکرہ نہیں۔ رشتے داروں کو بلانے کی بھی بظاہر کوئی ضرورت نہیں اور کتب شریعت میں تو اس کا ذکر بھی نہیں۔ اس طرح کی رسوم خودساختہ ہیں البتہ قریبی رشتہ دار تالیف قلب کی غرض سے خود آ جائیں تو گنجائش ہونی چاہئے مگر کسی دعوت وغیرہ کا اہتمام نہ ہو نا چاہئے جبکہ اکثر ایسی دعوتیں خرابیوں سے خالی بھی نہیں ہوتیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK