Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: کمیشن پہ چندہ، زکوٰۃ کا ایک مسئلہ، مستحق کا قرض ادا کرنا

Updated: March 07, 2026, 1:40 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱)کمیشن پہ چندہ۔ (۲)زکوٰۃ کا ایک مسئلہ (۳)مستحق کا قرض ادا کرنا

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کمیشن پہ چندہ 
آج کل کمیشن پر جو چندہ کیا جاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ اگر مکمل باطل ہے تو اداروں کے انتظامات کیسے چلائے جائیں ؟کتاب و سنت میں کیا رہنمائی ملتی ہے نیز مدارس میں جو زکوٰۃ ة کی رقوم دی جاتی ہیں طلبا کی تملیک (رقم کا مالک بنانا) کے لئے کیا بہتر صورت اختیار کی جائے؟ محمد انور، ممبئی 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: کمیشن پر چندہ کو بالعموم بر صغیر ہند وپاک کے تقریباً تمام علماء درست نہیں مانتے۔ جن حضرات سے جواز منسوب ہے ان کا کہنایہ ہے کہ قرآن کریم نے مصارف ِزکوٰۃ کے ضمن میں عاملین زکوٰۃ یعنی زکوٰۃ کے وصول کرنے والوں کا بھی ذکر کیا ہے لیکن جمہور علماءمدارس کے سفراء کو و العاملین علیہا کا مصداق تسلیم نہیں کرتے۔ 
یہ ایک تفصیلی بحث ہے مگر یہ صاف اور واضح ہے کہ قرآن کریم میں جن عا ملین کا ذکر آیا ہے وہ اسلامی حکومت کے نمائندے تھے جن کی کفالت بیت المال کے ذمے تھی، ان کےاختیارات اور ذمے داریاں طے شدہ تھیں نیز کسی ضعیف سے ضعیف روایت میں بھی مروجہ کمیشن کا ذکر نہیں ملتا۔ پھر کمیشن کی یہ وبا ماضی قریب سے شروع ہوئی ہے جبکہ مدارس کی تاریخ انگریزوں کے تسلط کےبعد ہی سے شروع ہوتی ہے۔ اب سے پہلے جو نظام تھا وہ تنخواہ والاتھا اور آج بھی ملک کے معتبر اداروں کا یہی نظام ہے۔ تنخواہ عام طور سے صدقاتِ واجبہ کے علاوہ سے دی جاتی ہے۔ دوسری صورت تملیک بھی ہے لیکن جومعتبر ادا رے ہیں وہ اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ تملیک صحیح اور لازمی شرائط کے مطابق ہو۔ مدارس کے طلباء بیشتر خود مستحق ہوتے ہیں جن پر صرف کیلئے تملیک ضروری نہیں۔ چھوٹے بچے بالعموم غرباء کے ہوتے ہیں، بڑے طلباء عام طور سے خود صاحب نصاب نہیں ہوتے تاہم جو خود صاحب نصاب ہیں ان کیلئے تملیک بہر حال ضروری ہے بڑے مدارس کے یہاں کیا نظم ہے ان سے رجوع کرنے پر تفصیل مہیاہوسکتی ہے۔ طلباء کیلئے ایک بہتر صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ارباب ِمدارس غریب طلباء کو وظیفہ کے طور پر اتنی رقم ماہانہ دےدیں کہ وہ اس سے مطبخ کے کھانے کی قیمت جمع کردیا کریں اور کچھ ان کے ذاتی خرچ کیلئے بھی بچ جائے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
زکوٰۃ کا ایک مسئلہ 
ایک خاتون کے ۸؍ سے ۱۰؍ تولہ زیور بینک میں گروی رکھے ہیں مگر ان پر بینک کا قرضہ بھی ہے تقریباً ساٹھ لاکھ کا جو انہوں نے مختلف ضروریات کے لئے مثلاً بچوں کی تعلیمی فیس وغیرہ کے نام پر لئے ہیں ۔ کیا مقروض مان کر ان کو زکوٰۃ کی رقم دی جا سکتی ہے جبکہ ان کے پاس دو گھر ہیں، ایک میں رہائش ہے دوسرا کرایہ پر ہے جس سے گزر بسر ہوتی ہے۔ عبد اللہ، ممبئی 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: صورت مسئولہ میں مسمات کے پاس جو زیور ہے (۸-۱۰تولہ) اول تو وہ گروی ہے اس کے علاوہ قرض زیور کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جو دو گھر ہیں (ایک میں رہائش اوردوسرا کرائے پر جس سے گزر بسر ہوتاہے)نہ ان پر زکوٰۃ ہے نہ یہ استحقاق زکوٰۃ سے مانع ہیں لہٰذا اس صورت حال میں ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ شرعاً مدیون یعنی قرض دار مستحقین زکوٰۃ میں شامل ہے جس کااللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
مستحق کا قرض ادا کرنا 
کسی محتاج اور مستحق ِزکوٰۃ شخص کا قرضہ ادا کرنا ہو تو کیا قرض خواہ کے اکاؤنٹ میں براہ راست زکوٰۃ کی رقم منتقل کرنے سے صاحب زکوٰۃ کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟ نیز اگر سود کی رقم سے اس مستحق شخص کا قرض ادا کیا جائے تو کیا ادا ہوجائے گا یا نہیں ؟ قرض خواہ چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم۔ طلحہ، ممبئی
 باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: کوئی بھی رقم براہ راست کسی کو دی جائے یا بینک اکاونٹ میں بھیج دی جائے دونوں کا حکم یکساں ہے بشرطیکہ اکاونٹ ہولڈر کو علم ہو (اور اس کی اجازت بھی ہو)لیکن قرض خواہ خود تو مستحق نہیں جس پر قرض ہے، مستحق وہ ہے اسلئے بھیجنے والے کو یہ مستحق وکیل بنادے کہ میری طرف سے فلاں قرض خواہ کو رقم بھیج دے ( نیز جس کا اکاونٹ ہے اسے بھی باخبر کردیا جائے )۔ اس تفصیل کے مطابق رقم قرض خواہ کے اکاؤنٹ میں بھیجنے سے زکوٰۃ ادا ہوجائیگی اگر مستحق سخت ضرورتمند ہے تو اسے قرض کی ادائیگی کے لئے سود کی رقم بھی دی جاسکتی ہے تاہم واقعی ایسا ضرورت مند ہونا چاہئے کہ اس کے پاس ادائیگی ٔ قرض کی دوسری کوئی صورت نہ ہو۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK