Inquilab Logo

فتاوے: مشترکہ ھبہ، ایصال ثواب، وضو خانے کی ٹنکی میں گلہری کا گرنا

Updated: July 05, 2024, 2:53 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے:(۱) مشترکہ ھبہ (۲)ایصال ثواب (۳) ملی ہوئی رقم کا تصرف (۴) وضو خانے کی ٹنکی میں گلہری کا گرنا (۵) قربانی میں دوسرے شخص کا نام لینا۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

مشترکہ ھبہ
 کیا فرماتے علماء مشترکہ ھبہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنا ایک فلیٹ اپنی زندگی میں ہی اپنی دونوں بیٹیوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ ھبہ کرتا ہے تو اس ھبہ کا اعتبار ہوگا یا نہیں ؟ یا زندگی میں دینا ہے تو درست شکل کیا ہوگی؟ 
محمد علی، بھیونڈی
باسمہ تعالی۔ ھوالموفق: ایک سے زیادہ افراد کے درمیان زمین جائیداد ہبہ کرنے کی صحیح صورت یہ ہے کہ اگر اسے تقسیم کیا جاسکتا ہے بایں طور کہ تقسیم کرنے سے اس کی منفعت فوت نہ ہوجائے تو تقسیم کر کے اپنی زندگی میں ہر ایک کو اس کے حصے پر مالکانہ قبضہ کے ساتھ اس کی تحویل میں دے دینا ضروری ہے۔ لہٰذا اگر فلیٹ اتنا بڑا ہے کہ تقسیم کرکے دونوں کو ایک ایک حصہ دینے سے منفعت فوت نہ ہوگی بلکہ ہر ایک بفراغت اپنے اپنے حصے میں رہ سکےگی تو تقسیم کرکے دونوں کو ایک ایک حصہ دینا ضروری ہوگا۔ ھبہ اس کے بغیر درست نہ ہوگا البتہ اگر اسے تقسیم نہ کیا جاسکتا ہو تو مشترکہ ھبہ بھی صحیح ہوگا لیکن اپنی زندگی ہی میں مالک بنا کر قبضہ دینا ضروری ہوگا۔ واللہ اعلم وعلمہ اُتم
ایصال ثواب
  کیا کسی نیک عمل سے مرحومین کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے؟ کیا قرآن پڑھ کر کسی کی روح کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے؟ بعض لوگ اسے غلط کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ چیز نص سے ثابت نہیں ہے۔ عبد اللہ، ممبئی 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: کون کیا اور کیوں کہتا ہے اس بحث میں سوائے وقت ضائع ہونے کے کوئی فائدہ نہیں، جو صاحب آپ سے نص کا مطالبہ کر رہے ہیں آپ ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ کیا وہ صرف وہی عمل کرتے ہیں جو نص سے ثابت ہو۔ میں تو اس بحث برائے بحث کا مشورہ نہیں دوں گا، اہل سنت کے نزدیک ایصال ثواب برحق ہے ایک مسلمان اپنے کسی بھی نیک عمل کے ثواب کی نیت کسی اور کے لئےکرسکتا ہے چاہے وہ مالی عبادت ہو یا بدنی۔ ذخیرۂ احادیث میں اس سلسلے کی متعدد روایات موجود ہیں۔ ایصال ثواب اور دعائے مغفرت کے وہ بھی قائل ہیں اور جب روایاتِ میں دیگر نیک اعمال کے ایصال ثواب کا ذکر موجود ہے تو کیا قرآن پڑھنا نیک عمل نہیں ہے؟ واللہ اعلم وعلمہ اُتم
ملی ہوئی رقم کا تصرف
 مجھے کچھ رقم ملی ہے، کئی دن ہو گئے مجھے معلوم کرتے ہوئے لیکن کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ پیسے اُس کے ہیں۔ اب مجھے ان پیسوں کا کیا کرنا چاہئے اور کس کو دینا چاہئے؟ سمیع اللہ، نئی دہلی
 باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: رقم جسے ملی ہے وہ اس کا مالک نہیں بلکہ اس کے پاس یہ رقم ایک طرح سے مالک کی امانت ہے اس لئے رقم کو حفاظت کے ساتھ رکھ کر مالک کو اس وقت تک تلاش کرنا ہوگا جب تک اس کے ملنے سے مایوسی نہ ہوجائے۔ رقم کے کم زیادہ ہونے کے مدنظر تلاش کی مدت کے متعلق مختلف اقوال منقول ہیں۔ رقم بقدر نصاب ہو تو امام صاحب سے ایک سال تک انتظار اور تلاش کا حکم بھی منقول ہے، معمولی رقم کی صورت میں اس کی مقدار کے اعتبار سے ایک ماہ ایک ہفتہ اور بہت معمولی رقم ہو تو تین دن کا انتظار بھی کافی ہوسکتا ہے۔ رقم کہاں ملی ہے، جنگل میں، عام راستے وغیرہ پر، کہیں گھر یا دکان وغیرہ میں، ان صورتوں میں صورت حال کے مطابق انتظار کا حکم ہوگا۔ تفصیلات سے قطع نظر اس وقت تک مالک کو تلاش کریں جب تک مایوسی نہ ہوجائے۔ جب کوئی امید نہ رہ جائے تو مالک کی طرف سے صدقہ کردیں مگر یہ نیت ہو کہ وہ آگیا تو رقم اسے دےدینگے۔ اس صورت میں (رقم دے دینے کی) صدقہ آپ کی طرف سے ہو جائیگا۔ علماء کے مطابق مفلس ہے تو مالک کے ملنے سے ناامیدی کی صورت میں خود استعمال کر سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔ 
وضو خانے کی ٹنکی میں گلہری کا گرنا 
 ہمارے وضو خانے کی ٹنکی میں تین ہزار لیٹر پانی آتا ہے، اس میں گلہری گر کر مر گئی اور پھول کرپھٹ بھی گئی۔ اب ان نمازوں کا کیا حکم ہے جو اس پانی کے وضو سے پڑھی گئی ہیں ؟ قرین قیاس ہے کہ گلہری کو گرے تین دن ہو گئے ہوں گے۔ محمد ہارون، ہریانہ
 باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: وضو خانے کی ٹنکی میں تین ہزار لیٹر سےزیادہ پانی آتا ہو تب بھی یہ بڑے حوض کے حکم میں نہیں ہے، اس لئے بصورت مذکورہ حکم یہ ہوگا کہ گلہری یا اس جیسا کوئی جانور گرکے مر جائے لیکن پھولے پھٹے نہیں تو ایک دن رات کی نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا جبکہ پھولنے پھٹنے کی صورت میں تین دن رات کی نمازیں دوبارہ پڑھنی پڑیں گی۔ واللہ اعلم وعلمہ اُتم
 قربانی میں دوسرے شخص کا نام لینا
  ایک صاحب نے ایک آدمی کو قربانی کرانے کا وکیل بنایا اور نام بھی دیا لیکن غلطی سے اس کے جانور میں دوسرے لوگوں کا نام لے لیا، تو قربانی موکل کی طرف سے ہوگی یا نہیں ؟عبد اللہ، ممبئی 
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: قربانی کرانے والے نے جسے قربانی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہے اسے کسی بےجا تصرف کا اختیار نہیں، چاہے خود ذبح کرے یا قصائی وغیرہ سے ذبح کرائے۔ جانور کو ذبح کرنے کے لئے مالک نے جو نام دیئےہیں جانور انہیں کی طرف سے ذبح کیا جائے گا، غلطی سے کوئی اور نام لےلیا گیا تو مالک نے جو نام دیئے تھے، قربانی انھیں کی طرف سے ہوگی۔ واللہ اعلم وعلمہ اُتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK