ایک صاحب نہایت نزاکت سے سفید فیرنی، غزال کے آنکھوں جیسی پرئی میں انڈیل رہے تھے۔ کلائی ایسے گھماتے جیسے سرجری کر رہے ہوں۔ آدھا ڈونگا انڈیلتے اور پرئی رکھ دیتے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 3:12 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
ایک صاحب نہایت نزاکت سے سفید فیرنی، غزال کے آنکھوں جیسی پرئی میں انڈیل رہے تھے۔ کلائی ایسے گھماتے جیسے سرجری کر رہے ہوں۔ آدھا ڈونگا انڈیلتے اور پرئی رکھ دیتے۔
رمضان المبارک میں روزہ داروں کے صبر کی بھی داد دینی پڑے گی۔ افطار کیلئے کھانے پینے کی سیکڑوں لذیذ اشیاء کے درمیان گھومتے رہتے ہیں، پکوانوں کی خوشبوئیں ناک پر ڈانس کرتی رہتی ہیں مگرمجال ہے کہ وقت مقررہ سے پہلے کچھ چکھ لیں، یا کہہ دیں کہ کاش میں اسے ابھی کھا سکتا۔ پورے صبر کے ساتھ تمام چیزیں خریدتے ہیں اور پھر مغرب کی اذان ہی پر ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن نہ جانے باقی کاموں اور دنوں میں یہ صبر کہاں غائب ہوجاتا ہے۔ اگر امت مسلمہ ہر اعتبار سے صابر اور شاکر ہوجائے تو شاید حالات بھی یو ٹرن لے لیں۔
افطار مارکیٹ میں جب ضوران اور مَیں نے یوٹرن لیا تو اچانک ایک اور صدا آئی:
’’آ لے جام، آلے جام!‘‘
’’افطار میں جام کون کھاتا ہے؟‘‘ ہم نے سوالیہ نظروں سے ضوران کی طرف دیکھا۔
’’ارے چاچو،‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا، ’’ یہ وہ والا جام نہیں، خربوزہ ہے۔‘‘
خربوزہ کب سے جام ہوگیا؟ مجھے لگا تھا وہ شخص جیم بیچ رہا ہے۔
پھر شاعری نما دوسری صدا آئی:
’’آتی ہے یوپی سے، بھاتی ہے سب کو۔‘‘
مَیں نے سوچا اب یہ کیا بلا ہے۔ تبھی دو نوجوان قریب سے گزرے، شاید انہوں نے بھی یہ ’’شاعری نما‘‘ فقرہ سنا تھا، ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا ’’بھائی! قافلہ تو ملا نہیں۔‘‘
دوسرے نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا اور کہا ، ’’ارے یار! وہ قافلہ نہیں قافیہ ہے۔ اور ملے نہ ملے، اسے گاہک تو خوب مل رہے ہیں۔‘‘ یقیناً امرتی کے ٹھیلے پر زبردست بھیڑ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۴): ’’یہ شامی کباب نہیں، شام کے کباب ہیں، شام ہی میں بنتے ہیں‘‘
ہم ان باتوں پر مسکراتے اور غور کرتے بازار سے نکل ہی رہے تھے کہ وہی آواز پھر آئی: ’’فیرنی میں آؤ۔‘‘ ’’چلو، ضوران! فیرنی میں چلے ہی جاتے ہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے ہم اس دکان کی طرف بڑھنے لگے، تبھی ضوران نے کہا، ’’چاچو! ایوب بھائی جیسی فیرنی کسی کی نہیں۔‘‘
یہ تو درست ہے۔ ایوب بھائی مٹھائی والے جیسی فیرنی تو آج تک نہیں کھائی لیکن ایک شخص روزہ رکھ کر، کرخت آواز میں اتنی دیر سے فیرنی میں بلا رہا تھا تو جاکر دیکھنا لازمی تھا۔ قریب پہنچے تو ایک صاحب نہایت نزاکت سے سفید فیرنی، غزال کے آنکھوں جیسی پرئی میں انڈیل رہے تھے۔ کلائی ایسے گھماتے جیسے سرجری کر رہے ہوں۔ آدھا ڈونگا انڈیلتے اور پرئی یوں رکھتے جیسے ذرا سی لغزش قیامت برپا کر دے گی۔
انہوں نے پورے اعتماد سے پوچھا:
’’کتنی باندھ دوں، حضرت؟‘‘
اُف بلا کا اعتماد۔ اسے یقین تھا کہ ہم فیرنی لے ہی لیں گے۔ اتنا اعتماد تو ایوب بھائی مٹھائی والے اور اسرار بھائی مٹھائی والے کے ہاں کام کرنے والے افراد میں بھی نہیں ہے کہ گاہک کو دیکھتے ہی ’’باندھ دوں‘‘ پوچھ لیں۔
ہم دونوں نے بیک وقت ’’ناں‘‘ میں گردن ہلائی اور بازار سے نکلنے لگے۔ اس وقت مَیں یہی سوچ رہا تھا کہ اتنا شور، اتنی اشیاء اور اس قدر بھیڑ ہے مگر مغرب کا وقت ہوتے ہوتے سب کچھ اچانک تھم جائے گا اور پھر چند منٹوں میں یہ سارا نظارہ غائب۔ دکاندار ہوں گے نہ خریدار۔ نماز مغرب کے فوراً بعد اس سڑک پر پہنچیں تو محسوس ہی نہیں ہوگا کہ ابھی چند گھنٹوں قبل اس قدر بھرا پرا بازار تھا کہ چلنے کیلئے بھی جگہ نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۳): بچی نے سوال کیا: ’’ابو! آپ روزہ کیوں نہیں رکھتے؟‘‘
چند دنوں میں ماہ مبارک ختم ہوجائے گا اور اس کے ساتھ ہی غائب ہوجائینگی یہ رونقیں۔ سحری کے وقت گلیوں سے پکوانوں کی خوشبوئیں بلند ہوں گی نہ افطار بازار کی شاعری نما صدائیں، دلچسپ فقرے اور تبصرے۔ دکانداروں اور خریداروں میں نوک جھونک ہو گی نہ روشنیاں۔ اور نہ ہی ہوگا فجر اور مغرب کی اذان پر اچانک تھم جانے والا شور۔ افطار بازار کے بعد سجتے ہیں شاپنگ بازار۔ ان کا رُخ کریں تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ اتنے بیچنے والے کہاں سے آگئے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ رزق سب کا چل رہا ہے۔ اس کے باوجود بھیونڈی واسیوں کی یہی شکایت ہے کہ’مندی‘ ہے۔ بھیونڈیکرز کے اس رویے نے نان بھیونڈیکرز کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ ’’بے حال‘‘ بھیونڈی اب ہر وقت ’’بدحال‘‘ بھی رہتا ہے۔
گھر لوٹتے وقت والد مرحوم کی ایک بات یاد آگئی۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ’’پڑھا لکھا ہو یا جاہل، کمزور ہو یا مضبوط، یہ شہر ہر کسی کو سمیٹ لیتا ہے، ہر کسی کو دیتا ہے، ہر کسی کو نوازتا ہے۔‘‘