جدہ میں قائم تنظیمِ اسلامی تعاون نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں مسلم مخالف واقعات اور نفرت انگیز بیانیہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 5:17 PM IST | Riyadh
جدہ میں قائم تنظیمِ اسلامی تعاون نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں مسلم مخالف واقعات اور نفرت انگیز بیانیہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
تنظیمِ اسلامی تعاون (او آئی سی) نے اتوار کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور امتیازی رویوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔ تنظیم نے کہا کہ اسلامو فوبیا نہ صرف مسلمانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ انسانی وقار، مذہبی آزادی اور تکثیریت کے اصولوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ عالمی دن ۲۰۱۹ء میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس حملے میں ایک مسلح شخص نے دو مساجد میں نماز جمعہ کے دوران فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ۵۱؍ نمازی شہید اور ۸۹؍ افراد زخمی ہو گئے تھے۔
OIC Group at UNESCO celebrates the International Day against Islamophobia
— OIC (@OIC_OCI) March 14, 2026
On 13 March 2026, UNESCO Headquarters hosted the Organisation of Islamic Cooperation (OIC) Group to mark the International Day against Islamophobia.
The high-level roundtable, held under the theme… pic.twitter.com/ytEefwdwrR
تنظیمِ اسلامی تعاون کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’اسلامو فوبیا صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ انسانی وقار، تکثیریت اور ہر فرد کے لیے مذہب یا عقیدے کی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے عالمی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا کہ وہ مضبوط قانونی تحفظات، ذمہ دار ڈجیٹل گورننس اور بین المذاہب مکالمے کے ذریعے اسلامو فوبیا کے خلاف عملی اقدامات کریں۔ طحہٰ نے خبردار کیا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلم مخالف واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سیاسی مباحثوں میں اسلامو فوبک بیانیہ تیزی سے معمول بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز اور خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد کو بھی نفرت انگیز بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اسی سلسلے میں تنظیمِ اسلامی تعاون نے جمعہ کو پیرس میں یونیسکو کے ہیڈکوارٹرس میں ایک اعلیٰ سطحی گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں اسلامو فوبیا کے اسباب اور اس کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کانفرنس کے شرکاء نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ اسلامو فوبیا کا خواتین پر غیر متناسب اثر پڑتا ہے، خصوصاً ان خواتین پر جو مذہبی لباس پہنتی ہیں۔ مقررین نے تعلیم، ثقافت اور مکالمے کو غلط معلومات کے مقابلے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے اہم ذرائع قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کی جدید میزائلوں سے اسرائیل میں تباہی
اسلامو فوبیا سے متعلق او آئی سی کے خصوصی ایلچی سفیر محمد باشگی نے بھی خطاب کیا اور عالمی سطح پر بیداری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ تقریب کا اختتام رمضان کے موقع پر ایک مشترکہ افطار سے ہوا جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ تنظیمِ اسلامی تعاون نے ۲۰۰۷ء میں اسلامو فوبیا کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی آبزرویٹری قائم کی تھی جو اس حوالے سے رپورٹیں تیار کرتی ہے۔ اس ادارے نے اب تک اسلامو فوبیا سے متعلق ۱۸؍ سالانہ اور ۲۱۶؍ ہفتہ وار رپورٹس جاری کی ہیں۔ ان رپورٹس کا مقصد مسلم مخالف واقعات کو دستاویزی شکل دینا، عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنا اور میڈیا میں پھیلنے والے منفی دقیانوسی تصورات کا جواب دینا ہے۔