• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار، مسافر امام کی اقتداء، ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا

Updated: September 04, 2026, 3:57 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار  (۲) مسافر امام کی اقتداء (۳) ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار 

والد کی وفات کے بعد ترکہ کی تقسیم کے وقت دو مساوی رقبے کی زمینوں کی تقسیم میں کافی بحث وتکرار ہوئی۔ بڑے بھائی نے جو زمین اپنے لئے پسند کی وہ اس وقت  زیادہ قیمت والی تھی جب کہ دوسری زمین یکساں رقبہ ہونے کے باوجود کم قیمت رکھتی تھی تاہم چھوٹے نے بڑے بھائی کی رعایت کرتے ہوئے اپنے لئے یہ کم قیمت والی زمین قبول کرلی۔ خاندان کے بزرگوں اور معززین کے سامنے تحریر تیار ہوئی جس پر فریقین سمیت تمام حضرات نے دستخط کئے۔ یہ واقعہ آج سے ۱۵؍سال پہلے کا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بڑے بھائی والی زمین کی قیمت دوگنا ہوئی تو چھوٹے کی زمین کی قیمت اس سے کئی گنازیادہ ہوچکی ہے۔ تب سے اب تک دونوں کا ابنی اپنی زمینوں بر قبضہ بھی ہے لیکن بڑے کا کہنا ہے کہ میری زمین کی قیمت کم ہونےکی وجہ سے اب میں سراسر گھاٹے میں ہوں اس لئے میں سابقہ تقسیم پر راضی نہیں ہوں۔ شرعاً اس کا کیا حل ہے ؟ فہیم الدین ،ایم پی 

باسمہ تعالیٰ۔  ھوالموفق: تقسیم جائیداد کے وقت اگر کسی فریق کو اس کے حصے میں آنے والی جائیداد کی حقیقی مالیت سے بے خبر رکھ کر اس کو فریب دیا گیا ہو یا بےجا دباؤ ڈالتے ہوئے اس کی مرضی کے خلاف تقسیم قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہو  (وغیرہ) ان صورتوں میں تقسیم کو فسخ کیا جاسکتا ہے لیکن فریقین کے ساتھ نہ فریب کیاگیاہو نہ قبول کر نے پر مجبور کیا گیا ہو بلکہ ہر فریق نے بخوشی اسے قبول کیا ہو اس صورت میں سابقہ تقسیم حتمی سمجھی جائےگی اور فریقین کے اپنے اپنے حصے پر قابض ومتصرف رہنے کے بعد، قیمتوں کی کمی زیادتی کو بنیاد بناکر تقسیم کو نہ فسخ کیا جاسکتا ہے نہ کسی فریق کی طرف سے ایسا مطالبہ کیا جاسکتا ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں سابقہ تقسیم سے کسی فریق کا انکار صحیح نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

مسافر امام کی اقتداء

ایک امام نے  بھول سے حالت ِسفر میں پوری نماز پڑھا دی ۔ ایسی صورت میں مقتدیوں کی نماز کا کیا ہوگا؟  عبد اللہ ممبئی

باسمہ تعالیٰ ھوالموفق: مسافر تنہا نماز پڑھے یا امامت کرے (عندالاحناف)اس کے لئے قصر واجب ہے، اگر وہ قصر نہ کرتے ہوئے  سہوًا اتمام کرے (یعنی پوری چار رکعتیں پڑھے) تو اس کی دوصورتیں ہیں: قعدہ اولیٰ کیا ہو (دو رکعت پر بیٹھا ہو)یا نہ کیا ہو اگر اس نے قعدہ اولیٰ کے بعد سہواً مزید دو پڑھ لیں مگر بعد میں سجدۂ سہو کرلیا تو امام اور اس کی اقتداء کرنے والے مسافر مقتدیوں کی نماز ہو جائےگی لیکن جو مقیم حضرات اس کی اقتدا کررہے تھے ان کی نماز نہیں ہوئی کیونکہ مسافر کی آخری دو رکعتیں نفل ہیں جبکہ جو مقیم ہیں ان کی چاروں رکعتیں فرض ہیں اور متنفل (نفل پڑھنے والے کے) پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز درست نہیں۔ مسافر نے چار رکعتیں پوری کیں لیکن قعدہ اولیٰ میں نہیں بیٹھا اس صورت میں نہ اس کی نماز ہوئی نہ اس کی اقتداء کرنے والے مسافروں کی کیونکہ قعدہ اولیٰ اس کے لئے فرض تھا اور فرض کا ترک نماز کو فاسد کردیتا ہے ۔ یہ واقعہ کتنا پرانا ہوچکا ہے، آپ جانتے ہوں گے، امام کو اگر تاریخ اور وقت معلوم ہے تو جن مقتدیوں کے متعلق علم ہو ان کو باخبر کردے، علم نہ ہو تو مقتدیوں سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا، خود توبہ استغفار کرے ۔ واللہ اعلم  وعلمہ اتم

ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا 

ایک مسئلہ عرض کرنا ہے ۔اگر انسان فرض نماز پڑھ رہا ہے اس نے گلے میں لیڈ لٹکا رکھی ہے یعنی ایئر فون تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟ اس مسئلے کا حل ضرور بتلائیے۔محمد نواز ،ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: نماز میں یکسوئی ضروری ہے۔ نمازی کے لئے حکم ہے کہ مکمل یکسوئی اور خشوع خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے۔ دوران نماز کوئی ایسا عمل جو خشوع و خضوع میں مخل ہو، شرعاً مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ ایئر فون کان میں ہو تو اندیشہ ہے کہ فون کی آوازیں وغیرہ آنا شروع ہو جائیں۔ یہ صورت جہاں نماز کی اہمیت کے خلاف ہے وہیں نماز کے فساد کا اندیشہ بھی ہے اس لئے کان سے تو دور ہی رکھنا چاہئے (البتہ بہرے لوگ جو آلۂ سماعت کے بغیر امام کی تکبیرات بھی نہ سن  سکتے ہوں ان کے لئے گنجائش ہوگی)۔ گلے میں ایئر فون لٹکانا بھی مناسب نہیں لیکن خارجی آواز کے سننے کا امکان نہیں اس لئے نماز میں خلل پیدا نہ ہوگا،تاہم بہتر یہی ہے کہ الگ کہیں رکھ لے۔  واللہ اعلم وعلمہ اتم

 نمازی کے لئے حکم ہے کہ مکمل یکسوئی اور خشوع خضوع کے ساتھ نماز ادا کرے، دوران نماز کوئی ایسا عمل جو خشوع و خضوع میں مخل ہو، شرعاً مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK