آپؐ جانتے تھے کہ انسان کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ کیا غلط ہے؛ اسے اس مقام تک پہنچانا بھی ضروری ہے جہاں وہ خود غلط اور درست میں امتیاز کرکے درست راستے کو اختیار کرسکے۔
EPAPER
Updated: September 04, 2026, 4:19 PM IST | Dr. Ahmed Urooj Mudassir | Akola
آپؐ جانتے تھے کہ انسان کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ کیا غلط ہے؛ اسے اس مقام تک پہنچانا بھی ضروری ہے جہاں وہ خود غلط اور درست میں امتیاز کرکے درست راستے کو اختیار کرسکے۔
تاریخ کے بڑے انقلاب عموماً آنکھوں کو دکھائی دیتے ہیں، کہیں تخت الٹتے ہیں، کہیں تاج بدلتے ہیں، کہیں سلطنتوں کی سرحدیں سمٹتی اور پھیلتی ہیں، کہیں نئے قوانین جنم لیتے ہیں اور کہیں پرانے نظام زمین بوس ہوجاتے ہیں۔ لیکن انسانی تاریخ کا سب سے گہرا انقلاب وہ ہوتا ہے جو آنکھوں کے سامنے نہیں، انسان کے اندر برپا ہوتا ہے، جب اس کی سوچ کا مرکز بدل جائے، اس کی ترجیحات نئی ہوجائیں، خواہشات کو نئی سمت ملے، غصہ ضبط میں ڈھل جائے، طاقت ذمہ داری بن جائے، تعلقات مفاد سے نکل کر اخوت میں داخل ہوجائیں اور زندگی کا مقصد اپنی ذات سے بلند کسی حقیقت سے وابستہ ہوجائے۔ رسول اکرم ﷺ کا انقلاب اسی نوع کا انقلاب تھا۔ آپؐ نے سب سے پہلے انسان کو بدلا اور پھر انہی بدلے ہوئے انسانوں سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جس نے دنیا کے فکری، اخلاقی اور اجتماعی نقشے کو بدل دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس انقلاب کے محض ناظر نہیں تھے؛ وہ اس کے پہلے مخاطب، پہلے تربیت یافتہ اور پھر اس کے امین بنے۔ ان میں سے ہر شخص اپنی فطرت، مزاج، صلاحیت، سابقہ زندگی اور انسانی کمزوریوں کے ساتھ آیا، مگر نبوی صحبت نے ان کے اندر موجود قوتوں کو ایسی سمت عطا کردی کہ ان کی ذات اپنے زمانے سے بلند ہوگئی۔ کسی کی شجاعت عدل کی محافظ بن گئی، کسی کی دولت سخاوت کا وسیلہ، کسی کی زبان دعوت کا ذریعہ، کسی کی نرمی رحمت کی علامت اور کسی کی سخت طبیعت حق پر استقامت کا مظہر۔ آپؐ نے انسانوں کو ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھالا؛ مختلف طبیعتوں کو ایک ہی مقصد کے گرد جمع کرکے ایک ایسی جماعت پیدا کی جس کی شخصیتوں میں تنوع تھا، اور اقدار میں وحدت۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیمات ِنبویؐ کی روشنی میں تدریسی و اخلاقی ذمہ داریاں
نبوی تربیت کی بنیاد انسان کو سمجھنے پر تھی۔ قرآن مجید نے اللہ کے رسولؐ کے اسی اسلوب کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی رحمت سے آپ ؐ ان کے لئے نرم ہوگئے، اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہوجاتے؛ پھر انہیں معاف کرنے، ان کیلئے مغفرت مانگنے اور معاملات میں ان سے مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ (آل عمران:۱۵۹) یہ آیت صرف ایک اخلاقی خوبی کی تعریف نہیں کرتی بلکہ تربیت کے ایک عظیم اصول کو سامنے لاتی ہے: انسان کی اصلاح اس کی عزت باقی رکھتے ہوئے کی جائے۔ غلطی کو غلطی کہا جائے، مگر انسان کو اس کی غلطی کے برابر نہ کردیا جائے؛ اسے حکم دیا جائے، مگر اس کی شخصیت کو بے وقعت نہ بنایا جائے؛ اس کی کمزوری کو دیکھا جائے، مگر اس کے اندر موجود امکان کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اللہ کے رسولؐکی تربیت اسی شعور پر قائم تھی۔ آپؐ جانتے تھے کہ انسان کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ کیا غلط ہے؛ اسے اس مقام تک پہنچانا بھی ضروری ہے جہاں وہ خود غلط اور درست میں امتیاز کرکے درست راستے کو اختیار کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ؐکی صحبت میں رہنے والا شخص محض احکام کا حافظ نہیں بنتا تھا، اس کی طبیعت آہستہ آہستہ ان احکام کے مطابق ڈھلنے لگتی تھی۔
انسانی مزاج کی سب سے مشکل اصلاح جذبات کے میدان میں ہوتی ہے، کیونکہ جذبات دلیل سے پہلے حرکت کرتے ہیں۔ آدمی خوشی میں اپنے آپ کو سنبھال لے تو یہ آسان ہے، لیکن غصے کے وقت زبان روک لینا، طاقت ہوتے ہوئے انتقام نہ لینا اور اشتعال کے باوجود عدل سے نہ ہٹنا ایک تربیت یافتہ شخصیت کی علامت ہے۔ ایک شخص نے آپؐ سے نصیحت طلب کی تو آپؐ نے فرمایا: ’’غصہ نہ کرو۔‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا اور آپؐ ہر مرتبہ یہی فرماتے رہے۔ (صحیح بخاری) یہ مختصر نصیحت انسانی شخصیت کے ایک بڑے مرض کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ غصہ انسان کو چند لمحوں کے لئے اپنے ہی فیصلوں کا غلام بنا دیتا ہے۔ آپؐ نے اسے یہ نہیں سکھایا کہ جذبات ختم کردو؛ یہ سکھایا کہ جذبات تمہارے فیصلوں کے مالک نہ بن جائیں۔ اسی حقیقت کو ایک دوسری حدیث میں اس طرح بیان فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسرے کو کشتی میں پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) یوں قوت کا معیار ہی بدل گیا۔ جاہلی معاشرے میں طاقت کا اظہار غلبے سے ہوتا تھا؛ نبوی تربیت نے بتایا کہ سب سے پہلی فتح اپنے نفس پر ہے۔ یہ تبدیلی صرف ایک اخلاقی نصیحت نہ تھی؛ اس نے صحابہ کی شجاعت کو ایک نئی روح عطا کی۔ ان کے اندر قوت باقی رہی، مگر قوت خواہش کی غلام نہ رہی؛ غیرت باقی رہی، مگر غیرت عصبیت میں نہ ڈھلی؛ غصہ باقی رہا، مگر غصہ عدل کی حدود سے باہر نہ نکلا۔
جذبات کی تہذیب کے بعد انسانی تعلقات کی اصلاح خود بخود سامنے آتی ہے، کیونکہ آدمی دوسروں کے ساتھ وہی برتاؤ کرتا ہے جو اس کے اندر کی دنیا اسے سکھاتی ہے۔ عرب معاشرے میں قبیلہ انسان کی شناخت، وفاداری اور تحفظ کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ آدمی اپنے قبیلے کے ساتھ کھڑا ہوتا، خواہ حق اس کے ساتھ ہو یا باطل۔ اسلام نے اس انسانی وابستگی کو محض توڑا نہیں بلکہ اسے ایک وسیع تر اخلاقی رشتے میں تبدیل کردیا۔ ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان جو اخوت قائم ہوئی، وہ اسی تبدیلی کی عملی تصویر تھی۔ قرآن نے انصار کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ان کے پاس ہجرت کرکے آئے، ان کے دلوں میں ان کے لئے کوئی تنگی نہیں اور اپنی ضرورت کے باوجود انہیں اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں۔ (الحشر:۹) یہاں ایک معاشرتی حکم سے زیادہ ایک قلبی انقلاب دکھائی دیتا ہے۔ انسان کی فطری ترجیح اپنی ذات، اپنے گھر، اپنے مال اور اپنے قریبی لوگوں سے شروع ہوتی ہے؛ نبوی تربیت نے اس دائرے کو وسیع کیا اور انسان کو یہ سکھایا کہ دوسرے کی ضرورت بھی میرے اخلاقی شعور کا حصہ ہے۔ انصار نے مہاجرین کیلئے اپنے گھر اور وسائل کھولے، مہاجرین نے اپنے وطن، کاروبار اور آسائشیں چھوڑیں، اور یوں دو مختلف پس منظر رکھنے والے گروہ ایک ایسی اخوت میں بندھ گئے جس کی بنیاد خون، زمین اور قبیلہ نہیں بلکہ ایمان، محبت اور مقصد تھا۔ یہ وہ تبدیلی تھی جس نے ایک منتشر معاشرے کو جماعتی شعور عطا کیا۔
یہ بھی پڑھئے:فتاوے: تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار، مسافر امام کی اقتداء، ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا
اسی جماعتی شعور کے ساتھ حضورؐنے صحابہ کی شخصی صلاحیتوں کو بھی محفوظ رکھا۔ آپؐ نے سب کو ایک جیسا نہیں بنایا، بلکہ ہر شخص کی نمایاں خوبی کو خیر کے میدان میں استعمال کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نرم دلی اور صدق نے انہیں وفاداری اور قربانی کی مثال بنایا؛ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قوت اور جلال عدل کی قوت بن گئے؛ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا اور سخاوت امت کی خدمت کا ذریعہ بنیں؛ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے علم اور شجاعت نے انہیں امت کی علمی و عملی تاریخ کا روشن کردار بنایا؛ حضرت بلالؓ کی استقامت نے ثابت کردیا کہ ظاہری کمزوری ایمان کی قوت کو شکست نہیں دے سکتی؛ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے جوانی، حسن اور آسائش کے باوجود مقصد کے سامنے دنیا کو چھوڑ دینے کی مثال قائم کی۔ رسولؐ اللہ کی تربیت نے ان کی فطری قوتوں کو ختم نہیں کیا بلکہ ان کی سمت درست کی۔ یہ انسانی شخصیت کی اصلاح کا نہایت اہم پہلو ہے: صلاحیت کو دبانا تربیت نہیں؛ صلاحیت کو صالح مقصد دینا تربیت ہے۔
اسی لئے نبوی تربیت میں دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ درست تعلق پیدا کرنا مطلوب تھا۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس توازن کو نہایت خوب صورتی سے سامنے لاتا ہے۔ حضرت سلمانؓ نے ابو الدرداءؓ کو عبادت میں اس قدر انہماک کے ساتھ دیکھا کہ انہیں یاد دلایا: تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے اہل کا بھی تم پر حق ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اس بات کی تصدیق فرمائی: ’’سلمان نے سچ کہا۔‘‘ (صحیح بخاری) اس واقعے میں انسانی زندگی کے کئی پہلو ایک ساتھ متوازن ہوجاتے ہیں۔ عبادت انسان کی روح کو بلند کرتی ہے، مگر جسم کی ضرورت بھی حق ہے؛ خاندان ذمہ داری ہے، مگر عبادت سے غفلت بھی درست نہیں۔ نبوی تربیت انسان کو یک رُخا نہیں بناتی بلکہ اس کی زندگی کے مختلف تقاضوں میں عدل پیدا کرتی ہے۔ یہی توازن بعد میں صحابہ کی اجتماعی زندگی میں نمایاں ہوا۔ وہ تاجر بھی تھے اور عابد بھی، مجاہد بھی تھے اور گھر والے بھی، حکمراں بھی تھے اور طالبِ علم بھی؛ مگر ان تمام حیثیتوں کے اوپر بندگی اور جواب دہی کا شعور قائم تھا۔ (جاری)
یہ بھی پڑھئے: یاد رہے، وقت دراصل زندگی ہے، اور زندگی دوبارہ نہیں ملتی!
نبوی تربیت کی روشن مثال حضرت انسؓ بن مالک
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی دس سالہ رفاقت اس تربیتی مزاج کی نہایت روشن شہادت ہے۔ وہ کم عمری میں حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور دس برس آپؐ کے ساتھ رہے۔ ایک بچے سے بھول چوک کا امکان ہر لمحہ رہتا ہے، لیکن حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے ان دس برسوں میں کبھی انہیں ’’اُف‘‘ تک نہیں کہا، نہ کسی کام کے کرنے پر یہ پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور نہ کسی کام کے چھوڑنے پر یہ کہا کہ تم نے اسے کیوں نہیں کیا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس روایت کی عظمت اس کے الفاظ سے زیادہ اس مدت میں پوشیدہ ہے جس کا یہ احاطہ کرتی ہے۔ دس برس کسی شخصیت کو بنانے کیلئے کم نہیں ہوتے۔ اگر تربیت خوف، تحقیر اور مسلسل سرزنش کے ذریعے کی جائے تو انسان شاید حکم ماننے لگے، لیکن اس کے اندر اعتماد، محبت اور ذمہ داری کی وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جو اسے آگے بڑھنے کے قابل بنائے۔ اللہ کے رسولؐ نے حضرت انسؓ کی شخصیت کو ڈانٹ کے بوجھ تلے نہیں دبایا؛ انہیں صحبت، اعتماد اور حسنِ معاملہ کے ذریعے پروان چڑھایا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ یہی انسؓ آگے چل کر علمِ حدیث کے عظیم راوی بنے اور امت نے ان کے ذریعے نبوی زندگی کے بے شمار پہلو محفوظ کیے۔ یہ تربیت کی وہ صورت ہے جس میں مربی اپنے زیرِ تربیت شخص کو اپنے خوف کا اسیر نہیں بناتا بلکہ اسے اپنی صلاحیت پہچاننے کا موقع دیتا ہے۔