تعلیم کا بنیادی مقصد طلبہ کی جسمانی، فکری، سماجی، اخلاقی و روحانی نشوونما ہے۔ اس ہمہ جہت نشوونما میں اگرچہ اور بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں لیکن اس پورے عمل میں سب سے اہم اور کلیدی کردار استاد کا ہوتا ہے جو اپنی محنت، اخلاص اور لگن سے طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے، ان کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے انہیں پروان چڑھاتا ہے۔
تدریس کی بنیادی چیز یہ ہے کہ استاد کو اپنے مضمون پر مکمل دسترس حاصل ہونی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
تعلیم کا بنیادی مقصد طلبہ کی جسمانی، فکری، سماجی، اخلاقی و روحانی نشوونما ہے۔ اس ہمہ جہت نشوونما میں اگرچہ اور بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں لیکن اس پورے عمل میں سب سے اہم اور کلیدی کردار استاد کا ہوتا ہے جو اپنی محنت، اخلاص اور لگن سے طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے، ان کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے انہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ وہ اپنی اصل صلاحیت کی شناخت کرکے سماج میں اپنا حقیقی کردار ادا کرسکیں، انہیں سماجی و معاشرتی ذمہ داریوں اور حقوق و فرائض سے بھی آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ ایک صالح ، متوازن اور صحت مند معاشرہ کی تشکیل میں موثر کردار ادا کر سکیں۔
سوال یہ ہے کہ وہ بنیادی صلاحیتیں اور ذمہ داریاں کیا ہیں جو ایک استاد کو مثالی اور کامیاب بناتی ہیں؟ اس تعلق سے ہر معلم کو چاہئے کہ وہ اس کا جواب معلم ِ انسانیت محمدؐ کی ذات ِ مبارکہ اور آپؐ کی تعلیمات میں تلاش کرے، آپؐ کو آئیڈیل تسلیم کرکے آپؐ کی تعلیمات سے تدریسی و تعلیمی اصول و ضوابط، اوصاف اورطریقہ ہائے تدریس اخذکرے کیونکہ آپؐ بحیثیت ِ معلم ساری انسانیت کے لئے رہبر و راہنما ہیں۔ آپؐ منصب نبوت پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عظیم معلم و مربی بھی ہیں جس کے بارے میں خود آپؐ نے اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمایا کہ’’مجھے معلم بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:جتنا آپ سوچتے ہیں ChatGPT اس سے کم پانی استعمال کرتا ہے: سیم آلٹ مین کا دعویٰ
بحیثیت معلم آپؐ کی شخصیت مبارکہ اور آپؐ کی تعلیمات کا جائزہ لیا جائے اور تعلیمی و تدریسی عمل اور اس کے بنیادی مقاصد کو سامنے رکھا جائے تو استاد کے اندر مطلوب صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ جن کا تعلق تدریس سے ہے ، دوسرے وہ جن کا تعلق معلم کی شخصیت سے ہے جنہیں اخلاقی ذمہ داریاں کہا جاسکتا ہے۔ مؤثر تعلیم و تدریس کے لئے ضروری ہے کہ یہ دونوں پہلو استاد کی شخصیت میں متوازن طور پر جلوہ گر ہوں۔
تدریسی صلاحیتیں
سب سے پہلی اور بنیادی چیز جو تدریس کیلئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ استادکو اس مضمون پر مکمل دسترس حاصل ہو جس کی وہ تعلیم دے رہا ہے، زیر ِ درس مضمون کا وسیع مطالعہ اور اس کا گہرا ادراک ہو؛ تاکہ طلبہ کو ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے سمجھا سکے اور ان کی جانب سے ہونے والے کسی بھی قسم کے سوالات و اعتراضات کے، ذہن نشین ہونے والے اطمینان بخش جواب دے سکے۔ اس کے بر عکس، اگر مدرس کا مطالعہ محدود ہے اور تصورِ مضمون واضح نہیں ہے تو وہ طلبہ کو مطمئن کرنے سے قاصر رہے گا۔ مزید برآں، اس مضمون کی تعلیم کیلئے مناسب طریقہ تدریس سے بھی پوری طرح آشنا ہو کیونکہ ہر مضمون کی فطرت و نوعیت کے پیش نظر اس کیلئے ایک مخصوص طریقہ تدریس ناگزیر ہوتا ہے ۔ آپؐ جس مضمون کا درس صحابہ کرام کو دیتے اس پر کامل دسترس رکھتے تھے اور مضمون و مواد کی فطرت و نوعیت کے اعتبار سے موزوں طریقہ تعلیم کا انتخاب بھی کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؐ کی تعلیم میں طریقہ تعلیم کا تنوع پایا جاتا ہے ۔ کبھی آپؐ نے موقع محل کے اعتبار سے پہلے سوال قائم کیا تاکہ ذہن میں تجسس پیدا ہو جائے، پھر مسئلہ کو سمجھایا تو کبھی آپؐ نے تشبیہ دے کر مسئلہ کو واضح کیا اور کبھی قصہ سنا کر تربیت فرمائی۔
مضمون میں مہارت و دسترس تعلیم و تربیت کا پہلا تقاضا ہے لیکن محض علمی دسترس کامیاب تدریس کیلئے کافی نہیں۔ استاد کے اندر اس مضمون کو طلبہ تک منتقل کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے۔ استاد ابلاغ و ترسیل کے اصولوں سے واقف ہو، زبان و بیان پر اس طرح قدرت حاصل ہو کہ طلبہ کی ذہنی سطح و علمی استعداد کے اعتبار سے گفتگو کرسکے؛ کیونکہ استاد خواہ کتنا ہی باصلاحیت ہو اگر علمی مواد کو موثر، منظم اور سلیقہ مند انداز سے پیش نہ کرسکے تو اس کا درس موثر اور دلنشیں نہ ہوسکے گا؛ کیونکہ معلم کااندازِ گفتگو، الفاظ کا انتخاب، آواز کا زیر و بم، حرکات و سکنات، چہرے کے تاثرات اور اشاروں کا درست استعمال بھی تدریس کو مؤثر اور دل نشیں بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ آپؐ اس طرح جامع، صاف اور واضح انداز میں گفتگو فرماتے اور اندازِ تکلم ایسا دلنشیں ہوتا تھا کہ ہر ایک کو اچھی طرح سمجھ میں آجاتا تھا جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓبیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسولؐ کی گفتگو تم لوگوں کی طرح لگاتار جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی بلکہ آپؐ واضح اور صاف صاف گفتگو فرماتے، جو بھی آپؐ کے حضور بیٹھا ہوتا اس گفتگو کو یاد کر لیتا تھا۔ (ترمذی)
یہ بھی پڑھئے:فتاوے: تقسیم پہ رضامندی کے بعد انکار، مسافر امام کی اقتداء، ایئر فون لگاکر نماز پڑھنا
آپؐ اتنا واضح اور ٹھہر ٹھہر کر گفتگو فرماتے تھے کہ اگر کوئی شخص آپؐ کے الفاظ گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔ (بخاری) آپؐ کے طریقۂ کلام پر غور کرنا چاہئے کہ بعض مرتبہ بات کو حسب ضرورت تین تین مرتبہ دہراتے تھے تاکہ سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں۔(ترمذی)
اسی کے ساتھ ساتھ طلبہ کی نفسیات سے آگہی بھی موثر تدریس کا ایک بنیادی نقاضا ہے ؛کیونکہ ہر طالب علم کا مزاج، ذہنی سطح، دلچسپی، اور سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے ۔ تعلیماتِ نبویؐ ؐمیں نفسیات کی مکمل رعایت موجود ہے۔ حدیث میں اس طرح کے واقعات موجود ہیں کہ آپؐنے دورانِ تعلیم، مزاج اور ذہنی سطح کی رعایت کرتے ہوئے مختلف لوگوں کو ایک ہی سوال کے مختلف جوابات دیئے ہیں ۔
اسی طرح آپؐ کی تعلیم و تربیت میں حوصلہ افزائی کی مثالیں بھی خوب ملتی ہیں۔ جیسا کہ حضرت سالم ؓ کی عمدہ تلاوت سن کر آپ ؐنے ان الفاظ میں ان کی حوصلہ افزائی فرمائی تھی: ’’ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کئے ۔‘‘ (مسند)
سرکار دو عالمؐ متعدد طریقوں سے ان کے اندر تحریک پیدا کیا کرتے تھے۔ کبھی ترغیب و ترہیب کا سہارا لے کر تو کبھی جنت کی خوشخبری اور جہنم کی وعید سنا کر۔
اخلاقی ذمہ داریاں
علمی دسترس، ابلاغ و ترسیل کی صلاحیت اور طلبہ کی نفسیات سے واقفیت ، یہ وہ بنیادی صلاحیتیں ہیں جو مؤثر تدریس کے لئے لازمی ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ استاد پر متعدد اخلاقی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں جن سے عہدہ بر آ ہونا منصب ِتدریس کا لازمی تقاضا ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ معلم کی نیت خالص ہو؛ کیوں کہ نیت ہی ایک ایسا محرک ہے جو کسی بھی عمل کی صحیح سمت کا تعین کرتا ہے۔ اسی لئے آپؐنے ارشاد فرمایا کہ ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔‘‘(بخاری) اگر استاد کی نیت زیر ِتعلیم طلبہ کی محض تعلیم و تربیت ہوگی تو وہ علم کی ترسیل و تبلیغ میں کسی بھی قسم کی خیانت یا کوتاہی کے ارتکاب سے محفوظ رہے گا، کسی بھی طرح کے مبنی بر تعصب فکرو خیال طلبہ تک منتقل کرکے ان کے قلوب و اذہان کو آلودہ نہیں کرے گا اور علم کو چھپائے بغیر پوری امانت و دیانت کے ساتھ طلبہ کو زیور علم سے آراستہ کرے گا۔
استادکی اخلاقی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ طلبہ کے ساتھ شفقت و محبت، حسن ِسلوک اور عدل و انصاف کا معاملہ کرے کیونکہ کسی بھی قسم کی نفرت ، سختی و امتیازی سلوک تعلیم و تعلم کی فطرت کے خلاف ہے۔ شفقت و محبت سے استاد اور طلبہ کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور نتیجہ خیز تعلیم کے لئے استاد اور طلبہ کے رشتوں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ آپؐ کی سب سے نمایاں خوبی یہی تھی کہ سب کے ساتھ شفقت و محبت، نرمی اور منصفانہ برتاؤ فرمایا کرتے تھے، کسی بھی قسم کی سختی کے قائل نہ تھے۔ آپؐ کا فرمانِ مبارک ہے کہ’’ آسانی پیدا کرو، سختی نہ کرو۔‘‘ اس لئے استاد کو چاہئے کہ تمام طلبہ کے ساتھ شفقت و برابری کا سلوک کرے۔ کسی طالب علم کے ساتھ ذاتی پسند و ناپسند ، تعصب یا معاشی حیثیت کی بنیاد پر امتیاز نہ برتے۔
تعلیم کا مقصد محض معلوما ت کا حصول نہیں بلکہ فکرو عمل میں مثبت تبدیلی ہے ۔ اسی لئے استاد کی ایک بنیادی ذمہ داری طلبہ کی کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی ہے۔ آپؐکی بعثت کا بنیادی مقصد ہی انسانوں کی کردار سازی تھا ۔بہر کیف، یہ وہ بنیادی تدریسی و اخلاقی ذمہ داریاں ہیں جن کو اپنائے بغیر نہ تو استاد کامیاب ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کی تدریس مؤثر و دلنشیں ہوسکتی ہے ۔
اسی تناظر میں اگر عصر حاضر کے تعلیمی و تدریسی مسائل پر غور کیا جائے تو ان کا حل انہیں بنیادی صلاحیتوں و ذمہ داریوں میں نظر آئے گا ۔ حقیقی استاد وہی ہوسکتا ہے جس کی شخصیت میں دونوں خوبیاں توازن کے ساتھ موجود ہوں کیونکہ استاد کی ذمہ داری محض معلومات فراہم کرنا نہیں؛ بلکہ زیر تعلیم طلبہ کی فکری و علمی رہنمائی کے ساتھ ان کی اخلاقی و روحانی تربیت اور کردار سازی بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ خلاصہ یہ کہ جب ایک استاد ، معلم انسانیت ؐ کو اپنا آئیڈیل مان کر اور آپؐ کی تعلیمات کی روشنی میں اپنےتدریسی سفر کا آغاز کرتا ہے تبھی وہ ایک کامیاب اور مؤثر استاد بن سکتا ہے۔ آپؐ کے طریقۂ تدریس میں اساتذہ کیلئے بہت کچھ ہے بشرطیکہ اساتذہ سیکھنا چاہیں اور عمل میں لانا چاہیں۔