نبی کریم ؐ ایک ایسے محبت کرنے والے شوہر تھے ، جو نہ صرف بیویوں کی دلداری کا خیال رکھتے تھے ؛ بلکہ ان کے کاموں میں مدد بھی فرماتے تھے، حضرت عائشہ ؓسے دریافت کیا گیا کہ آپ جب اپنے گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : گھر کے کاموں میں مدد فرماتے۔ (بخاری ، حدیث :۲۷۶)
آپؐ کا ارشاد گرامی ہے : بہترین صدقہ وہ دینار ہے، جو تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو۔ تصویر: آئی این این
نبی کریم ؐ ایک ایسے محبت کرنے والے شوہر تھے ، جو نہ صرف بیویوں کی دلداری کا خیال رکھتے تھے ؛ بلکہ ان کے کاموں میں مدد بھی فرماتے تھے، حضرت عائشہ ؓسے دریافت کیا گیا کہ آپ جب اپنے گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا : گھر کے کاموں میں مدد فرماتے۔ (بخاری ، حدیث :۲۷۶)
بیویوں کے ساتھ وقت گزارنا
یہ بھی معمول مبارک تھا کہ روزانہ دو دفعہ تمام ازواج مطہرات کے یہاں تشریف لے جاتے، ان کی خیریت دریافت کرتے اور کچھ وقت ان کے ساتھ گزارتے۔ ایک تو عصر کے بعد آپ کی تشریف آوری ہوتی۔ (بخاری ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۴۹۱۸) چنانچہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے، یہاں تک کہ آخری گھر تک پہنچتے، اورجن کی باری ہوتی، ان کے یہاں قیام فرماتے۔(ابوداؤد ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۲۱۳۵) دوسرے: فجر کے بعد مسجد میں تشریف فرما ہوتے اور صحابہ استفادہ کے لئے آپؐ کے گِرد بیٹھ جاتے، پھر جب سورج طلوع ہوجاتا تو ایک ایک بیوی کے پاس تشریف لے جاتے ، ان کو سلام کرتے، انہیں دُعا دیتے اور جس کی باری ہوتی ، ان کے پاس مقیم ہوجاتے۔ (فتح الباری : ۱۵؍۹۶)
یہ بھی پڑھئے:دعوت و ضیافت میں اسوۂ نبویؐ اپناکر تقریب کو بابرکت بنائیے
جذبۂ آرائش کی رعایت
عورتوں میں زینت و آرائش کا جذبہ بمقابلہ مردوں کے زیادہ ہوتا ہے؛ اسی لئے شریعت میں انہیں سونا اور ریشم کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ عورتوں کے اس فطری جذبہ کا بھی آپؐ پورا خیال رکھتے تھے۔ حضرت جابر ؓسے روایت ہے کہ ہم لوگ سفر میں حضورؐ کے ساتھ تھے، جب ہم واپس ہوئے اور مدینہ میں داخل ہونا چاہا تو آپؐ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ، رات ہوجانے دو؛ تاکہ جن کے بال بکھرے ہوئے ہوں ، وہ کنگھی وغیرہ کرلیں۔ (ابوداؤد ، کتاب الجہاد، حدیث نمبر : ۲۷۷۸) ۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: کیا تم نے اس کی زکوٰۃ ادا کی ہے؟ اگر تم نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تو یہ آگ کے کنگن ہیں، (ابوداؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، حدیث نمبر : ۱۵۶۵ ) یعنی آپ نے کنگن پہننے کو ناپسند نہیں کیا؛ بلکہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر ناگواری ظاہر فرمائی۔ اس سے ہم نے جانا کہ آپؐ کی زندگی نہایت سادہ تھی اورازواج مطہرات کے یہاں تعیش کا کوئی تصور نہیں تھا؛ لیکن عورتوں میں زیب و زینت کا جو فطری جذبہ ہوتا ہے، آپؐ نے اپنی ازواج مطہرات کے لئے اس کا لحاظ رکھا ؛ تاکہ اُمت کے لئے نمونہ ہو ۔
سفر میں رفاقت
مرد ہوں یا عورت، ان میں ایک جذبہ تفریح کا بھی رکھا گیا ہے۔ آدمی جب نئے مقامات کو دیکھتا ہے تو اس کو نشاط حاصل ہوتا ہے، آپؐ اپنی ازواج کے معاملے میں اس کو بھی ملحوظ رکھتے تھے اور سفر میں ان کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ پھر اپنی طرف سے کسی ایک زوجہ کا انتخاب کرنے کے بجائے قرعہ اندازی کیا کرتے تھے؛ قرعہ میں جن کا نام نکل آیا، ان کو ساتھ لے جاتے تھے، کبھی ایک ساتھ دو ازواج ہمراہ ہوتی تھیں۔ (بخاری، حدیث نمبر : ۵۲۱۱ ، مسلم ، حدیث نمبر: ۲۴۴۵) سفر کا رفیق بنانے میں جہاں اپنے تعاون کا پہلو ہے، وہیں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جیسے مرد تفریح کیلئے جاتے ہیں، جائز حدود میں بیویوں کیلئے بھی اس کا اہتمام ہونا چاہئے ۔
دُکھ سُکھ میں شرکت
مخلص شریک ِزندگی وہی ہے جو سُکھ کے ساتھ ساتھ دُکھ میں بھی شریک ہو۔ آپؐ نے اپنی ازدواجی زندگی میں اس کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔ جس سال اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی، آپؐ نے اس سال کو ’ عام الحزن ‘ ( غم کا سال ) قرار دیا۔ اسی طرح جب اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ منافقین کے تہمت لگانے کے صدمہ سے بیمار ہوگئیں تو آپؐ ہمیشہ ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے، اور جب وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئیں، تب ان کے گھر جاکر عیادت کی ۔ آپؐ خبر گیری کرنے کے ساتھ ساتھ اہل خانہ میں سے بیماروں کو دُعا پڑھ کر دم بھی فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ جب آپؐ کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ اس پر معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے۔ (مسلم ، کتاب السلام ، حدیث نمبر : ۲۱۹۲)
یہ بھی پڑھئے:ڈیجیٹل تنہائی میں اللہ کی یاد ہی گناہوں سے بچاتی ہے!
مالی ذمہ داریاں
بیوی کا ایک اہم حق اس کی مالی ذمہ داریاں ہے، جس کو اسلام نے شوہر پر لازم قرار دیا ہے، عام طورپر لوگ اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کو ثواب کا کام نہیں سمجھتے، آپؐ نے اس کی نفی کی اور ارشاد فرمایا: بہترین صدقہ وہ دینار ( سونے کا سکہ ) ہے، جو تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو۔ (مسلم، حدیث نمبر : ۲۳۱۱) اسی طرح آپؐنے فرمایا: کوئی شخص اپنی بیوی کو پانی پلائے تو اس میں بھی اجر ہے۔ (مسند احمد ، حدیث نمبر : ۱۷۱۹۵) آپؐ کا معمول مبارک تھا کہ جب فدک کے باغات سے کھجوریں آتیں تو آپؐ تمام ازواج مطہرات کو ان کی ضرورت کے بقدر نفقہ عطا فرماتے لیکن چوںکہ آپ کو اپنی زندگی میں ان لوگوں کے لئے بھی عملی نمونہ پیش کرنا تھا ، جو معاشی اعتبار سے کمزور ہوں؛ اسلئے آپؐ کی زندگی بہت سادہ ہوتی تھی اور ازواج مطہرات پوری خوشدلی کے ساتھ اس میں آپؐ کا تعاون کرتی تھیں۔
اہم اُمور میں مشورہ
آپؐ ازواج مطہرات سے بعض اہم اُمور میں مشورے بھی فرماتے تھے اور ان کے مشوروں کو اہمیت دیتے تھے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کو احساس تھا کہ یہ صلح مشرکین مکہ کی شرطوں پر ہوئی ہے، اور ایک طرح سے مسلمانوں نے اپنی شکست کو تسلیم کرلیا ہے۔ اس لئے دینی حمیت کے تحت ان کا حال یہ تھا کہ آپؐ کے یہ اعلان کردینے کے باوجود کہ ’ احرام کھول دیا جائے ‘ صحابہ نے احرام نہیں کھولا، وہ چاہتے تھے کہ عمرہ کرکے ہی واپس ہوں۔ آپؐ نے اس موقع پر اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ سے صورت حال بیان کی۔ حضرت اُم سلمہؓ نے عرض کیا: آپؐ کسی سے کچھ کہیں نہیں؛ بلکہ خود باہر نکل کر اپنے جانور کی قربانی کر دیں اور بال منڈا لیں۔ آپؐ نے اس مشورہ کو پسند فرمایا اور اسی پر عمل کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ نے بھی اپنے جانوروں کی قربانی کردی، بال منڈالیا اور احرام کھول دیئے ۔ (بخاری ، باب الشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اہل الحرب وکتابۃ الشروط ،حدیث نمبر : ۲۵۸۱)
عدل و انصاف
عدل و انصاف کے معاملے میں احتیاط کا حال یہ تھا کہ حضرت عائشہؓ کی ذہانت و صلاحیت کی وجہ سےان کی طرف آپؐکی زیادہ رغبت تھی، تو اگرچہ ظاہری سلوک میں آپؐ اس کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے لیکن قلبی جھکاؤ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میں جس چیز کا مالک ہوں، یہ اس میں میری (مساویانہ ) تقسیم ہے؛ لیکن خدا وندا ! جس چیز کے آپ مالک ہیں، میں مالک نہیں ہوں، اس کے بارے میں آپ گرفت نہ فرمائیے۔ (ترمذی حدیث نمبر : ۱۱۴۰)
دینی تربیت
جیسے آپؐ ازواج مطہرات کی ضروریات اور ان کی دل داری کا خیال رکھتے تھے، اسی طرح آپؐ ان کی تربیت پر بھی متوجہ رہتے تھے۔ رمضان المبارک کے اخیر عشرے میں ازواج مطہرات کو آخر شب میں بیدار کرتے تھے ؛ تاکہ وہ عبادت میں شامل ہوں۔ (ترمذی ، کتاب الصوم ، حدیث نمبر : ۷۹۵) حضرت عائشہؓ کو شب قدر کی دُعا سکھائی : اللّٰہم إنک عفو تحب العفو فاعف عنی (سنن ابن ماجہ ، حدیث نمبر: ۳۸۵۰) ایک موقع پر حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ گن کر خرچ نہ کرو؛ تاکہ تم کو بھی اللہ کی طرف سے حساب کتاب سے گن کر نہ ملے، یعنی خوب خرچ کرو تاکہ اللہ کی طرف سے خوب ملے۔ (بخاری، کتاب الہبۃ ، حدیث نمبر : ۲۴۵۱)
غرض کہ اللہ کے نبیؐ جیسے زندگی کے دوسرے شعبوں میں انسانیت کے لئے آئیڈیل تھے ، اسی طرح اپنی ازدواجی زندگی میں بھی ایک محبت کرنے والے شفیق و کریم، قدردان اور مزاج شناس شوہر تھے؛ چوںکہ آپؐ پوری انسانیت کیلئے نمونہ تھے اور زندگی کے ہرشعبہ میں آپؐ کا عمل تمام انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے؛ اس لئے آپؐ کی نجی زندگی کا ریکارڈ بھی اللہ کی طرف سے محفوظ ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ بے حد رحمتیں نازل فرمائے ازواج مطہرات پر کہ انہوںنے قیامت تک آنے والے صاحب ایمان بیٹوں اوربیٹیوں کے لئے حضورؐکے مبارک اُسوہ کو پیش فرمایا اور نجی زندگی کی جو باتیں نقل کی جاسکتی تھیں، ان کو بھی ذکر کرنے میں کسی تکلف سے کام نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھئے:سیرتِ نبویؐ: عہدِ اضطراب میں چراغِ رہنمائی
جب ازواجِ مطہرات کی ایک بے ضرر خواہش پر آیت نازل ہوئی!
جب وسعت پیدا ہوئی، خوش حالی آئی اور لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوا تو ازواج مطہرات کو بھی خیال ہواکہ اب ہمارے گھر میں بھی اس خوش حالی کا اثر آنا چاہئے؛ چنانچہ انہوںنے اجتماعی طورپر آپ سے اس کا مطالبہ کیا۔ آپ اس پر ناراض نہیں ہوئے؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کی گئی اور ان کو اختیار دیا گیا کہ اگر چاہیں تو آپؐ کی رفیقۂ حیات ہونے سے مشرف رہیں یا الگ ہوجائیں۔ ازواج مطہرات کا یہ مطالبہ خدا نخواستہ اس لئے نہیں تھا کہ انہیں حضورؐ کی رفاقت عزیز نہیں تھی بلکہ انہوں نے گنجائش دیکھتے ہوئے ایک جائز حق کا مطالبہ کیا تھا؛ اس لئے تمام ہی ازواج اپنے مطالبہ سے دستبردار ہوگئیں اور انہوںنے آپؐ کی رفاقت کو ترجیح دی۔ آپؐ کی حیاتِ طیبہ میں اس طرح کے واقعات اللہ کی طرف سے اس لئے پیش آئے کہ جو مسائل آئندہ پیش آئیں ، اللہ کے رسولؐ کی حیاتِ طیبہ میں ان کا نمونہ موجود ہو۔