سورہ کہف کی آیت ۱۳۔۱۴؍ کا ترجمہ ہے: ’’ہم اُن کے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی، اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔‘‘
اردن میں واقع وہ مقام جو اصحاب کہف سے منسوب ہے۔ تصویر: آئی این این
سورہ کہف کی آیت ۱۳۔۱۴؍ کا ترجمہ ہے: ’’ہم اُن کے حالات تم سے صحیح صحیح بیان کرتے ہیں۔ وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی، اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔‘‘
اس کا عنوان اگر اس زمانہ کے اسلوب اور اسٹائل میں مقرر کروں تو کہوں گا ’’قصہ سات جواں مردوں کا۔‘‘ (قرآن مجید میں آتا ہے کہ کسی نے کہا چار تھے پانچواں ان کا کتا تھا، کسی نے کہا چھ تھے ساتواں ان کا کتا تھا، کسی نے کہا سات تھے آٹھوں ان کا کتا تھا ، اس کے بعد قرآن مجید نے آگے کوئی ہندسہ نہیں بتایا، مفسرین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وہ تعداد میں سات ہی تھے)
یہ بھی پڑھئے:تعلیمات ِنبویؐ کی روشنی میں تدریسی و اخلاقی ذمہ داریاں
نوجوانوں کے لئے خصوصی پیغام
اس قصہ میں نسل انسانی کے نوجوان طبقہ کے لئے خصوصی پیغام اور ایک اعلیٰ نمونہ ہے جو ہر زمانہ میں کام دے سکتا ہے، اور جو دل و دماغ پر ہی نہیں بلکہ صلاحیتوں، حوصلوں اور عزائم پربھی ایک تازیانہ کا کام دے سکتا ہے۔ وہ کبھی شبنم ٹپکاتا ہے، کبھی پھول کی جھڑیاں لگاتا ہے۔ مجھے بھی آج نوجوانوں کا قصہ سنانا ہے اور میں کیا سناؤں گا، قرآن مجید سناتا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جن کو قرآن نے ان کا تذکرہ کرکے لافانی بنا دیا ہے۔ یہ تذکرہ ہر دور کے نوجوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ اور آئیڈیل ہے۔ اس میں کہی گئی بات بڑی مختصر ، بڑی سادہ لیکن بڑی عمیق اور سبق آموز ہے۔
قصہ یہ ہے کہ رومن امپائر کے ایک حصہ میں جو شام و فلسطین کہلاتا ہے، ایک دعوت پیدا ہوئی جس کے لانے والے سیدنا مسیح علیہ الصلاۃ والسلام تھے، جو ہم مسلمانوں کے نزدیک بھی پیغمبر برحق ہیں۔ انہوں نے توحید کی دعوت دی، اس وقت ساری دنیا میں شرک پھیلا ہوا اور ہر طرف گھٹاٹوپ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ اس اندھیرے میں ایک روشنی چمکی۔ حضرت عیسیٰؑ نے شرک، نسل پرستی، رسم پرستی، توہم پرستی، ظاہر پرستی اور انسانیت کے استحصال کے خلاف ایک آواز بلند کی جس کی اصل اساس توحید اور سچی خداپرستی تھی۔ اس دعوت کو کچھ لوگوںنے تسلیم کیا اور وہ اس کے حامل و داعی بن گئے۔ انہوں نے اپنے اس قلمرو سےباہر قدم نکالا اور رومی شہنشاہیت کے مرکز کے قریب جا کر دعوت پیش کی۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سن رسیدہ اور پختہ کار لوگوں کے مقابلہ میں (جن کے پاؤں میں تجربات، مفادات، رسم و رواج اور خوف و امید کی بھاری بیڑیاں پڑی ہوتی ہیں جو اُن کو کسی نئے تجربے اور انقلابی اقدام سے باز رکھتی ہیں) نوخیز اور جواں سال (جن کے پاؤں میں یہ بیڑیاں نہیں ہوتیں) اور ان کی وابستگیاں اور ان کا اٹیچمنٹ ان چیزوں کے ساتھ نہیں ہوتا جن کے ساتھ عموماً بڑی عمر والوں کا ہوا کرتا ہے، نئی اور صالح دعوت کو جلد قبول کرلیتے ہیں۔ قرآن مجید ان نوجوانوں کی عمر کا تعین نہیں کرتا، اور یہی قرآن مجید کا طریقہ ہے۔ اگر وہ کہتا کہ ۱۸۔۲۰؍ سال کے نوجوان تھے ، تو اس سے اوپر اور اس سے نیچے کی عمر والوں کو بہانہ مل جاتا کہ ہمارا قصہ نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے ’’انھم فتیۃ‘‘ وہ چند نوجوان تھے ۔ جو حضرات عربی کا ذوق رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ’’فتیۃ‘‘ کے لفظ میں عمر کی جوانی کے ساتھ دل و دماغ اور حوصلوں اور عزم و ارادہ کی جوانی کی طرف بھی اشارہ آگیا ہے، اس لئے اس کے ترجمہ میں مَیں نے ’’جواںمرد‘‘ کا لفظ اختیار کیا ہے۔
مسئلہ ربوبیت کا تھا
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنیٰ اور صفات میں سے ’’رب‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا ہے إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ ۔ یہ بات بہت معنی خیز ہے، اسلئے کہ حکومتوں کو اپنے یہاں کے باشندوں کار ازق ہونے کا بھی (کبھی زبان قال سے اور کبھی زبان حال) دعویٰ ہوتا ہے اور ان کے ساتھ اس طرح کے خیالات اور عقیدے وابستہ ہوجاتے ہیں کہ اگر اپنی پرورش کا سامان کرنا ہے اور عزت و راحت کی زندگی گزارنی ہے تو ان حکومتوں سے اپنے کو متعلق کرنا پڑے گا، ان کا حاشیہ بردار ہوکر رہنا اور ان کی رکاب میں چلنا پڑے گا، اس کے بغیر رزق اور خوشحالی و فارغ البال زندگی کے دروازے یکسر بند ہیں۔ قرآن جو لفظ کہتا ہے وہ اپنی جگہ پر انگوٹھی میں نگینہ کا کام دیتا ہے، پوری پوری کتابوں کا مضمون ایک لفظ میں آجاتا ہے۔ یہ جواں مرد انسانوں کے اس جنگل میں کھڑے ہوگئے جہاں اس رومن امپائر کا جھنڈا لہرا رہا تھا، جو اس وقت دنیا کی سب سے منظم، سب سے متمدن، دُنیا کو اس وقت کا سب سے ترقی یافتہ قانون دینے والی اور دنیا کے سب سے وسیع خطہ پر حکومت کرنے والی شہنشاہی تھی۔ انگریزی محاورہ کے مطابق اس حکومت کی ناک کے نیچے اور بالکل آنکھوں کے سامنے چند نوجوان کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس دعوت کو قبول کرکے اس کا اعلان کرتے جو اس وقت کا صحیح مذہب اور اس عہد کا اسلام تھا۔ اس وقت تک مسیحیت میں رد و بدل یا تحریف نہیں ہوئی تھی، اس کے وہ داعی وہاں پہنچے تھے جو حضرت عیسیٰؑ کے پیغام کے صحیح علمبردار تھے۔
یہ بھی پڑھئے:دعوت و ضیافت میں اسوۂ نبویؐ اپناکر تقریب کو بابرکت بنائیے
انہوں نے کہا کہ ہمارا رازق اور ہماری پرورش کی ذمہ دار حکومت نہیں ہے ، ہمارا رازق اور پروردگار خدا ہے اور وہی ہماری پرورش کا ذمہ دار ہے۔ رَبُّنَا رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ہماری پرورش کرنے والا وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے۔
یہ بات اس منظم سلطنت میں کہی گئی تھی جس نے وسائل معیشت پر قبضہ کررکھا تھا، گویا وہاں کے باشندوں کی قسمت و روزی کی مالک بن گئی اور بظاہر نفع و ضرر کی ساری طاقتیں اس کے ہاتھ میں آگئی تھیں۔ اس وقت دانشمندی اور حقیقت پسندی کا ایک ہی ثبوت تھا کہ حکومت کے دامن سے وابستہ ہوکر حکومت کے عقیدے کو اختیار کرکے کم سے کم اس عقیدہ پر سکوت اختیار کرلے اور اس قلمرو میں زندگی گزاری جائے۔ لیکن انہوں نے پوری یونانی اور رومی دیومالا کا بیک زبان انکار کیا اور کہا :
’’ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی، ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ ‘‘
آپ کا رب آپ سے مخاطب ہے: یہاں قرآن مجید نے ایک اور حقیقت بیان کردی، و ہ یہ کہ پہلا قدم آدمی کی طرف سے اٹھتا ہے، پہلے ہمت اس کی طرف سے ہونی چاہئے، اس کے بعد اللہ کی طرف سے ہوگی۔ جب انہوں نے یہ منزل طے کرلی تو ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی معرفت ہے۔ ہدایت وہاں سے ملتی ہے ، اپنی ذہانت سے، تحریروں سے، محض مطالعہ سے ، کتب خانہ کے علمی ذخیرہ سے نہیں ملا کرتی۔
یہ نوجوان گنتی میں بہت تھورے تھے اور بعض قرائن و قیاسات کی بناء پر سات سے زیادہ ان کی تعداد نہیں تھی لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ کئی سو آدمیوں کی قسمت وابستہ تھی۔ ہر ایک کے ساتھ پورا پورا خاندان اور برادری کا سلسلہ تھا اور وہ سب ان کے اس اقدام کی وجہ سے خطرہ میں پڑ گئے تھے اور شک کی نگاہوں سے دیکھے جانے لگے تھے ۔وہ کتنے خاندانوں کی آرزوؤں کا مرکز تھے اور کتنے گھروں کی ترقیاں اور خوشحالیاں ان سے وابستہ تھیں اس کی طرف لوگوں کی کم نظر جاتی ہے۔