• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فتاوے: فتاویٰ میں استعمال ہونے ناموں کی حقیقت اور مفتی کیسے بنتے ہیں؟، سجدۂ سہو کرنا بھول گئے

Updated: October 23, 2026, 4:36 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai

شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) فتاویٰ میں استعمال ہونے ناموں کی حقیقت اور مفتی کیسے بنتے ہیں؟ (۲) سجدۂ سہو کرنا بھول گئے۔

If students possess an aptitude for jurisprudence, they can attain proficiency in issuing legal rulings (fatwas). Picture: INN
طلباء میں فقہی ذوق ہو تو فتویٰ نویسی میں مہارت حاصل ہوسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

(۱) فتاویٰ میں اکثر آنے والے اِن الفاظ کے بارے میں بتائیے جن کا معنی تو سمجھ میں آتا ہے مگر یہی الفاظ کیوں استعمال ہوتے ہیں یہ ہمیں معلوم نہیں ہے: فدوی ، زید، بکر، عمرو، خالد، ہندہ، زینب، عمرہ، شیخ فانی، شیخ کبیر، عجوزہ وغیرہ۔ اس نوعیت کے اور کتنے نام ہیں؟

(۲) مفتی کیسے بنتے ہیں؟ ہندوستان کے مدارس میں اس کا کورس کتنے سال کا ہوتا ہے اور نصاب میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے نام کیا ہیں؟

(۳) غسل میں وضو شامل ہے تو نماز کے لئے علاحدہ وضو کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ابن عبدالحمید، ممبئی

باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: (۱) فتویٰ سوال کا جواب ہوتاہے کہیں لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ سوال میں جس کا نام ہے یہ اس کے خلاف فیصلہ ہے۔ اس وجہ سے عمومی نوعیت والے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں تاکہ یہ شبہ نہ پیدا ہو سکے۔ فدوی عام لفظ ہے جیسے خاکسار وغیرہ ،زید، بکر، خالد، عمرو، ہندہ، زینب وغیرہ بھی عام نام ہیں جو کسی اشتباہ سے بچنے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ شیخ فانی اسے کہتے ہیں جو بڑھاپے وغیرہ کے سبب اپنی طاقت کھوچکا ہو اور روزہ نہ رکھ سکے۔ شیخ کبیر کا بھی تقریباً یہی مفہوم ہے۔ عجوز کے معنی ہیں بوڑھا اور عجوزہ کے معنی ہیں بڑھیا۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے:کیا نبی کریمؐ سے زیادہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو کسی نے پہچانا؟

(۲)اس سلسلے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ فتویٰ لکھنے کا حق اعتماد اور اجازت پر موقوف ہے۔ جب مدارس کا موجودہ نظام نہیں تھا علماء اپنے اپنے مقام پر تعلیم دیتے اور تلامذہ کی علمی تربیت اور رہنمائی فرمایا کرتے تھے اس وقت کوئی خاص کورس نہیں تھا۔ اساتذہ جن طلباء میں فقہی ذوق دیکھتے ان کی مناسب تربیت کرتے اور جب یہ سمجھ لیتے کہ یہ فتویٰ لکھنے کا اہل ہے تو اسے اجازت دے دیتے بلکہ بسا اوقات فتویٰ لکھنے پر مامور کردیتے۔ انگریزی تسلط کے بعد جب دینی علوم  کے ضائع ہونے کا اندیشہ پیدا ہو تا نظر آیا اور اس سے بچنے کے لئے عمومی مدارس قائم ہوئے اس وقت بھی فتوی کا معاملہ اعتماد اور اجازت پر ہی موقوف تھا چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے پہلے مفتی حضرت مفتی عزیزالرحمٰن دیوبندی نیز مفتی محمد شفیع صاحب وغیرہم نے نہ تو کوئی کورس کیا تھا نہ ان حضرات کوایسی کوئی ضرورت تھی۔ اساتذہ کو ان کی صلاحیتوں پر اعتماد تھا اس لئے انہیں یہ ذمے داری سونپی گئی۔ جہاں تک مجھے علم ہے حضرت مفتی نظام الدین صاحب اور حضرت مفتی محمود حسن صاحب وغیرہم کو بھی کسی خاص کورس کی ضرورت نہیں پڑی تھی ،بعد میں جب ملک کے کونے کونے سے طلباء کی آمد ورفت شروع ہوئی اور ہر طرف سے فتاویٰ بکثرت آنے لگے تو علاقائی طلباء کی تربیت اور رہنمائی کی غرض سے باصلاحیت طلباء کے لئے ایک نصاب مرتب کرکے ان کو اس مقصد کے لئے تیار کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی مگر اس کا اہم جز فتاویٰ کی مشق اور اس کی نگرانی کے ساتھ ساتھ اصل فقہی کتب اور ان کے دلائل واصول کے مطالعہ کا ذوق پیدا کرنا تھا جو اب بھی ہے ۔ نصاب میں جزوی کمی بیشی بھی ممکن ہے  تاہم در مختار،الاشباہ والنظائر، رسم المفتی قواعد الفقہ اور بطور خاص سراجی اورمسائل میراث کی مشق فتویٰ نویسی کی مشق نصاب کی بنیادی ضرورت ہیں۔ اس سب کا مقصد صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے صحیح تربیت اور آزمائش ہی ہے مگر اساتذہ کی اجازت آج بھی اہم عنصر ہے۔ بعض اداروں نے تدریب کے عنوان سے اپنی نگرانی میں کم از کم دوسال کی تربیت کا بھی نظم کیا ہے اور یہ تاکید بھی کی جاتی ہے کہ مزید کچھ عرصہ کسی کی زیر نگرانی فتویٰ نویسی کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ آج کل جو آن لائن کورس سننے میں آتے ہیں علمی لحاظ سے ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔واللہ اعلم  وعلمہ اتم

یہ بھی پڑھئے: عہدِ وفا: مومن کا امتیازی وصف

(۳)مسنون طریقہ یہ ہے کہ غسل سے پہلے وضو کیا جائے، حضورؐ کا یہی معمول تھا۔ تاہم اگر کسی نے غسل سے پہلے وضو نہ کیا مگرغسل کرتے ہوئے پورے  بدن میں ہر جگہ پانی پہنچ گیا تب بھی غسل کے ساتھ وضو بھی ہو جائےگا؛ بشرطیکہ غسل جنابت ہو تو مضمضہ اور استنشاق بھی کیا ہو (یعنی کلی کیاہو  اور ناک میں پانی بھی ڈالا ہو) حضورؐ سے غسل کے بعد وضو ثابت نہیں اس لئے اس کی ضرورت نہیں جب تک حدث نہ لاحق ہو جائے غسل کے وضو سے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ و اللہ اعلم وعلمہ اتم

سجدۂ سہو کرنا بھول گئے

ہمیں چوتھی رکعت میں سجدۂ سہو کرنا تھا ہم نے التحیات کے بعد پھر بھولے سے درودشریف پڑھ لی اور پھر درود شریف کے بعد سجدۂ سہو کر لیا تو کیا  نماز ہوجائے گی یا لوٹا نی پڑے گی؟محمد علی ،ممبئی

باسمہ تعالیٰ ۔ھوالموفق:سجدۂ سہو کے وجوب کی صورت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد (سہو کے) دو سجدےکرنے سے بعد ازسر نو تشہد درود شریف اور دعائے ماثورہ سے فارغ ہوکر سلام پھیردیا جائے۔ صورت مسئولہ میں سائل نے تشہد کے بعد درود شریف بھی پڑھ لیا، اس کے بعد سجدۂ سہو کرکے نماز مکمل کی ،اگر واقعے کی یہی نوعیت تھی تو اس صورت میں بھی نماز ادا ہوگئی دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔واللہ اعلم وعلمہ اتم

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK