جب باغ والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور وہ کہہ اٹھے: ’’ہائے ہماری کم بختی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے۔‘‘
EPAPER
Updated: October 23, 2026, 4:48 PM IST | Aziz Zubaidi | Mumbai
جب باغ والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور وہ کہہ اٹھے: ’’ہائے ہماری کم بختی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے۔‘‘
قرآن مجید کی سورہ القلم میں باغ والوں کا قصہ بیان کیا گیا ہے:
(ترجمہ) ’’(اے پیغمبر!) جس طرح ہم نے (ایک) باغ والوں کو آزمایا تھا اسی طرح ہم نے (کفار مکہ) کوبھی آزمایا ہے، کہ ان باغ والوں نے قسمیں کھا کھا کر کہاکہ صبح ہوتے ہی ہم اس کےپھل ضرور توڑ لیں گے او ران شاء اللہ بھی نہ کہا، تو یہ سوتے کے سوتے ہی رہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بلائے ناگہانی نازل ہوئی (اور اس سرے سے اُس سرے تک) باغ پر پھر گئی اور صبح ہوتے ہوتے وہ ایسا (خالی) رہ گیا جیسے کوئی سارے پھل توڑ کر لے گیا ہو اور (ادھر) ان لوگوں نے صبح ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو آواز دی کہ اگر تم کو پھل توڑنے ہیں تو صبح سویرے اپنے باغ میں جاپہنچو، چنانچہ وہ (سب لوگ) روانہ ہوئے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھےکہ (دیکھنا) آج کوئی محتاج تم تک باغ کے اندر نہ آنے پائے (ورنہ اس کو کچھ دینا پڑے گا۔ غرض اپنے تئیں) یہ سمجھ کر کہ بس اب جاتے ہی پھل تور لیں گے ، بڑے اہتمام کے ساتھ بہت سویرے جا پہنچے، چنانچہ جب انہوں نےباغ کو (جاکر) دیکھا تو ایسا اجڑا پڑا تھا کہ اسے پہچان نہ سکے (اور) لگے کہنے کہ ہو نہ ہو ہم (راستہ)بھول گئے (پھر سوچے تو بولے:نہیں! راستہ نہیں بھولے)بلکہ ہماری تقدیر پھوٹ گئی، ان میں سے جو بہتر آدمی تھا، لگا کہنے کہ : کیا میں تم سے نہیں کہا کرتا تھا کہ خدا (کا شکر اور اس کی ) تسبیح ( و تقدیس)کیوں نہیں کرتے؟ (سو وہ اب) بول اٹھے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی قصور وار تھے، پھر ایک دوسرے کو کوستے ہوئے،ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے ، (اور پھر سب) بول اٹھے کہ ہائے ہماری کم بختی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے ، عجب نہیں کہ ہمارا رب اس سے (بھی) بہتر باغ عنایت فرمائے۔ اب ہم اپنے رب کی طرف رجوع ہوئے (اے پیغمبر!جو ناشکری کرتے ہیں ان پر دنیا میں) ایسا ہی عذاب (نازل ہوتا ہے) او رآخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ا ےکاش! وہ سمجھتے ہوتے۔‘‘ (سورہ القلم : ۱۷؍تا ۳۳)
ملک سبا (یمن) باغوں کا ملک تھا۔ سدمآرب (مآرب ڈیم) کے ذریعے ان کی زرعی پیداوار اپنا جواب آپ تھی، جب لوگ گھروں سے نکلتے تو دو طرفہ باغات کی قطاروں سے گزرتے، کھانے کو پھل، سونگھنے کو عطر بیز فضائیں اور نظارہ کے لئے نظر نواز گل ولالہ کی ایک وسیع دنیا سامنے ہوتی۔کہتے ہیں یہ بند ۵۴۲ء کے لگ بھگ کہیں جاٹوٹا او راللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی پانی کی لہروں نے ان کی قبریں بن کر ان کا قصہ تمام کیا۔
ابن کثیر کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ : یہ بھی یمن کے ایک خاندان کا واقعہ ہے جو صنعاء سے تقریباً تین کوس کے فاصلے پر آباد تھا۔ موجودہ افراد خانہ کےوالد صالح انسان تھے۔ وہ باغ اور کھیتی سے متعلقہ حقوق شرعی، اپنے حالات کے مطابق ادا کیاکرتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اولاد وارث بنی، انہوں نے سوچا کہ باپ اتنی دولت لٹا کر آمدنی کا ایک بڑا حصہ ضائع کردیا کرتا تھا ۔ اب ہمیں چاہئے کہ اسے بچائیں۔ چنانچہ صبح اندھیرے منہ گھر سے نکل پڑے تاکہ کسی محتاج نادار اور غریب کو پتہ نہ چلے۔ لیکن رب العالمین نے ان کے پہنچنے سے پہلے باغ اور کھیتی کو ٹھکانے لگا دیا اور اِس سرے سے لےکر اُس سرے تک ، ویرانی چھا گئی۔ آنکھیں مَل کر غور سے دیکھنے لگے کہ شایدہم راستہ بھول گئے، پھر یکدم عقل ٹھکانے آگئی اور بولے! نہیں نہیں! باغ کا راستہ نہیں بھولے! راہ ِحق بھول گئے ، یہ ساری اس کی سزا ہے۔
ان میں سے جو صالح شخص تھا، اس نے اس بات پر ان کو ملامت کی ، کہ میں نے بارہا سمجھایا کہ یہ تمہاری ذات کا کوئی کرشمہ نہیں، یہ ذات ِبرحق کی کرشمہ سازیاں ہیں، اسی کے گیت گایا کرو! مگر میری بات تمہاری سمجھ میں نہ آئی! اس پر وہ ایک دوسرے کو کوسنے لگے! پھر سب یک زبان ہوکر بولے! دراصل ہم حدسے بڑھ گئے تھے۔ اب ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، امید ہے کہ وہ پھر ہم پر مائل بہ کرم ہوگا اور اس باغ سے بھی بہتر عنایت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ : ناشکری کی سزا کے یہ دنیوی نمونے ہیں، باقی رہا عذاب ِآخرت؟ سو وہ تو اس سے بھی کہیں بڑا ہوگا۔ کیونکہ طغیان اور سرکشی کے مطابق پوری پوری سزا وہاں ہوگی، یہاں نہیں۔
ہم آج کل جس دور سے گزر رہےہیں، بلا استثنا، عرب ہو یا عجم، مغرب ہویا مشرق، وہ آج ابتلاء کی اسی سان پر آکر کھڑا ہوگیا ہے جس کے بعد کسی قوم کے مستقبل کے لئے نئے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ زمین و آسمان بندوں سے سرگرداں ہورہے ہیں، شمس و قمر کی تابانیاں اور ضیا باریاں کچھ مہنگی ہوچلی ہیں، ہماری اپنی سوچیں، خود ہمیں ہولناک اورمہلک غاروں کی طرف دھکیلنے میں مصروف نظر آتی ہیں، ہمارے اپنے قدم تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہمارے اپنے ہاتھ خود ہمارے لئے قبریں کھودنے میں شب و روز مصروف کار ہیں، ہمارے رہنما ہماری راہ مارنے پر تلے ہوئے ہیں اور ہمارے افراد خود کشی پرمائل ہیں۔ کیوں؟
صرف اس لئے کہ: حق تعالیٰ نے انسان کو آسمانوں اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا یارا بخشا، ابرو باد اور برق و باراں کی تسخیر کا اس کو حوصلہ عطا کیا، پہاڑوں نے ان کی ہمتوں کے آگے اپنی سپر ڈال دی، زمین نے اپنے دفینے اُگل ڈیئے، توانائیوں نے ابن آدم کے قدموں کو چوما، خوشحالی اور انواع و اقسام کی نعمتوں سے ان کی مہمانی کی گئی۔ مگر آہ! خدا کا شکرگزار بندہ بننے کے بجائے اس نےجانور اور درندہ بننے کوترجیح دی۔ اس لیے وہی وسائل جو ان کے اشارۂ ابرو پررقص کناں ہونے کیلئے تھے اب وہ اپنی مٹھی میں لے کر ان کویوں بھینچے ہوئے ہیں کہ : اب فراوانیٔ عیش کے باوجودموت کو آوازیں دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بچے کی پرورش کرنے والی خاتون گھر کی روح ہوتی ہے!
جان لیجئے باغ والوں کے قصے سے ملنے والا درس
قارئین جانتے ہیں کہ یہ قصہ یا واقعہ سورہ قلم (۲۹؍ واں پارہ) آیات ۱۷؍ تا ۳۳؍ میں بیان ہوا ہے۔ یہا ںیہ جانئے کہ ان آیات سے کون سا درس ملتا ہے:
آزمائش: دھن دولت اور خوشحالی جہاں اللہ کی دین اورعنایت ہوتی ہے وہاں وہ سراپا ابتلاء ، آزمائش اور امتحان بھی بن جاتی ہے، جوقومیں یا افراد اس سلسلے کے حقوقِ خالق او رحقوقِ مخلوق سے بے پروا رہتے ہیں،ان کامستقبل دنیوی یا اخروی یا دونوں بہرحال خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔
متعلقہ حقوق: ہر ذاتی ملکیت سے حقوق اللہ او رحقوق العباد ضرور متعلق ہوتے ہیں۔ وہ حقوق جن کا تعلق سرکار سے ہے، اگر کوئی شخص وہ ادا نہ کرے تو ان کے خلاف قانونی طاقت استعمال کی جاسکتی ہے مگران کو حقوق ملکیت سےمحروم نہیں کیا جاسکتا، جیسا کہ باغ والوں کے واقعہ سے مترشح ہوتا ہے کہ سرکاری عشر ادا کرنے سے گریز کرنے کی پاداش میں ان کو دھر لیا گیا۔
اللہ سے بے خو ف نہ ہوجانا چاہئے: غلط طرزحیات اور اعمال کے سلسلے میں خدا کی گرفت سے بے پروا نہیں ہوجانا چاہئے، کچھ پتہ نہیں کہ کب وہ دھر لے، اس لئےجلدی توجہ کرنی چاہئے جب گرفت کے آثار نمایاں ہوجائیں تو پھر خدا کے حضور گڑگڑانے میں سستی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ بعض اوقات سزا کے باوجود مہلت باقی ہوتی ہے۔ خدا کو ابھی تنبیہ اور تادیب منظو رہوتی ہے۔
خدا کی تادیبی گرفت کوبسا اوقات لوگ ’’اتفاقات‘‘ تصور کرلیتے ہیں یا کسی ٹیکنیکل لغزش کا نتیجہ، اس لیے ایسے لوگ اصلاح حال کی توفیق سے محروم ہوجاتے ہیں، جس کے بعد وہ وقت بھی آجاتا ہے،جب مہلت کی میعاد ختم ہوجاتی ہے۔ یہ مرحلہ خاص خطرناک ہوتا ہے بہرحال اب صحیح دوا گڑگڑانا ہوتا ہے۔ معصیت سے خوشحالی متاثر ہوتی ہے: باغ والوں کے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاصی یعنی گناہ اور خدا سے غفلت کی وجہ سے انسان کی آسودگی،طمانیت، سکونِ قلب اور روزی ضرور متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:زندگی کوئی خواب یا اتفاق نہیں ہمارے روزمرہ کے اعمال کا نتیجہ ہے
تبلیغ: جب گناہوں کی پاداش میں انسان آفات کی زد میں آجاتا ہے، اس وقت ان کو ان کے مسرفانہ کرتوت کے نتائج سے آگاہ کرنا مناسب ہوتا ہے تاکہ وہ اب سنبھل کر خدا کی طرف رخ کریں۔
اعتراف: جب انسان کے سر پر و بال آجاتا ہے تو وہ عموماً اس کی ذمہ داری اپنے بجائے دوسروں کے سر پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ گویا کہ ایک غلطی کے بعد ایک دوسری غلطی کا اضافہ کردیتا ہے، اسلئے اسے چاہئے کہ وہ دوسروں کو کوسنے یا لڑنے بھڑنے پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور پھر خدا سے تجدید عہد کرتے ہوئے مانگ لے۔
عبرت پذیری: عبرت پذیری خدا کی طرف سے بہت بڑی ’’توفیق ‘‘ ہے۔ جو اس سے محروم ہوجاتے ہیں وہ غالباً کسی شدید تر گرفت کو دعوت ِمبارزت دینے کا التزام کرتے ہیں۔
حیلہ سازی: احکام الہٰی سے فرار کرنے کے لئے جو بھی چارہ سازی یا حیلہ سازی اختیار کی جائے اس کی وجہ سے تعمیل حکم کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی بلکہ لینے کے دینے بھی پڑ جاتے ہیں۔
یہ باغ کہاں واقع تھا؟
علمائے کرام بتاتے ہیں کہ مذکورہ آیات میں جس باغ کی مثال دے کر اس کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اس کا نام ضردان تھا جو یمن کے شہر صنعاء سے دو فرسنگ(یعنی ۶؍ میل) کے فاصلے پر سر ِراہ واقع تھا۔ اس باغ کا مالک ایک نیک مرد تھا جو باغ کے پھل کثرت سے فقراء کو دے دیا کرتا یااُن میں تقسیم کردیتا تھا۔ اس نیک مرد کے انتقال کے بعد اس کے تین بیٹوں کو محسوس ہوا کہ اگر وہ باپ کی فراخدلی یا فقراء نوازی پر قائم رہے تو تنگ دست ہوجائینگے۔