اسلام نے عہد (وعدہ) کو محض معاشرتی اخلاق کا ایک جزو نہیں بنایا۔ قرآن مجید فرماتا ہے:’’عہد پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ وعدہ زبان سے نکلنے کے بعد ختم نہیں ہوجاتا، اس کے ساتھ ایک ذمہ داری بندھ جاتی ہے ، پھر وہی ذمہ داری اللہ کے سامنے جواب دہی کا حصہ بن جاتی ہے۔
عہد انسان کے قول اور کردار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے۔ آدمی جب کسی بات کا وعدہ کرتا ہے تو اپنے مستقبل کے عمل کو اپنے موجودہ لفظ کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔ تصویر: آئی این این
انسان کی شخصیت کا اصل وزن اس کے دعوؤں سے، انداز ِ گفتار سے، معیار زندگی سے اور سماجی مناصب سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے نبھائے ہوئے وعدوں سے معلوم ہوتا ہے۔ زبان سے کوئی بات کہہ دینا آسان ہے، ارادہ باندھ لینا بھی دشوار نہیں، مگر اپنے کہے ہوئے الفاظ کے ساتھ اس وقت تک قائم رہنا کردار کی اصل آزمائش بن جاتا ہے جب حالات بدل جائیں، دل پر بوجھ اتر آئے یا سامنے والے کے رویے سے آدمی کو تکلیف پہنچے۔ موافق حالات میں ساتھ دینا آسان ہوتا ہے؛ وفا کی قدر تب کھلتی ہے جب آدمی کے پاس پیچھے ہٹنے کے لئے معقول جواز موجود ہوں پھر بھی وہ اپنے قول کی حرمت کو مقدم رکھے اور اپنا وعدہ پورا کرنے کی فکر کرے۔
اسلام نے عہد کو محض معاشرتی اخلاق کا ایک جزو نہیں بنایا۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ’’عہد پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔‘‘ وعدہ زبان سے نکلنے کے بعد ختم نہیں ہوجاتا، اس کے ساتھ ایک ذمہ داری بندھ جاتی ہے اور وہ ذمہ داری اللہ کے سامنے جواب دہی کا حصہ بن جاتی ہے۔ آدمی کسی انسان سے وعدہ کرتا ہے تو بظاہر مخاطب سامنے والا ہوتا ہے، مگر اس قول کا علم اللہ کو بھی ہوتا ہے۔ مومن کے لئے یہی احساس اس کے لفظ کو وزن دیتا ہے۔
عہد صرف بڑے وعدوں کا نام نہیں۔ وقت پر پہنچنے کا وعدہ، قرض کو حسب وعدہ واپس کرنے کا وعدہ، کسی کا راز محفوظ رکھنے کا وعدہ یا کسی ذمہ داری کو پورا کرنے کا وعدہ، زندگی انہی چھوٹی ذمہ داریوں سے بنی ہے۔ شخصیت کا اعتبار بھی انہی معمولی دکھائی دینے والے معاملات سے بنتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے وعدہ خلافی کو نفاق کی علامات میں شمار فرمایا۔ اس حدیث کو سمجھتے ہوئے یہ فرق ملحوظ رہنا چاہئے کہ ہر وعدہ خلافی کرنے والے مسلمان کو منافق کہنا درست نہیں۔ اہلِ علم نے نفاقِ اعتقادی اور نفاقِ عملی کے درمیان فرق بیان کیا ہے۔ حدیث کا تربیتی پہلو یہ ہے کہ قول و عمل کا مستقل تضاد انسان کے کردار کو کمزور کرتا ہے۔ بار بار وعدہ کرنا اور بار بار اسے توڑنا آدمی کی زبان سے وہ اعتبار چھین لیتا ہے جو کسی بھی تعلق کی بنیاد ہوتا ہے۔
اعتماد برسوں میں بنتا ہے۔ مسلسل سچائی، چھوٹی ذمہ داریوں کی پابندی اور مشکل وقت میں قول پر قائم رہنے سے کسی شخص کی زبان معتبر بنتی ہے۔ بدعہدی اس اعتبار کو ایک لمحے میں مجروح کرسکتی ہے، پھر اچھے الفاظ بھی اسے بحال نہیں کر پاتے۔
یہ بھی پڑھئے:بچوں کی بہترین تربیت اُن کا حق ہے، اس میں غفلت خسارہ ہے
وفا کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان ہر وعدہ ہر حال میں پورا کرے، خواہ وہ کسی ناجائز کام کا ہو یا حالات نے اسے ناممکن بنادیا ہو۔ اللہ کی نافرمانی میں کسی وعدے کی پابندی نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح اگر کسی عہد کو پورا کرنا دوسرے کے حق کو پامال کرتا ہو تو معاملے کو عدل اور شریعت کی روشنی میں دیکھنا ہوگا۔ عہدِ وفا اندھی وابستگی نہیں، حق کے ساتھ وفاداری ہے۔ مومن کے لئے سب سے بڑا عہد اپنے رب کے ساتھ ہے۔ بندہ اللہ کو اپنا رب مانتا ہے تو اس اقرار کے تقاضے بھی قبول کرتا ہے۔ عبادت، حلال و حرام کی پابندی، حقوق العباد اور اخلاقی ذمہ داری اسی تعلق کے عملی مظاہر ہیں۔ جو شخص اپنے رب کے سامنے جواب دہی کو محسوس کرتا ہے، وہ بندوں کے حقوق کو معمولی سمجھنے سے بھی بچتا ہے۔
دل کی کیفیت، نفس کی کشمکش اور وفا کی آزمائش
انسان صرف اصولوں سے نہیں چلتا۔ اس کے اندر خواہشات، جذبات، خوف، غصہ، محبت اور دکھ سب موجود ہیں۔ کبھی کسی شخص سے دل بہت خوش ہوتا ہے اور کبھی اسی کی ایک بات اندر تک چبھ جاتی ہے۔ کسی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے، پھر حالات بدلتے ہیں اور وہی ذمہ داری بوجھ لگنے لگتی ہے۔ آدمی روٹھتا ہے، غمگین ہوتا ہے، دل برداشتہ ہوتا ہے، کسی بات کو بار بار سوچتا ہے اور بعض اوقات ایک معمولی واقعے سے ایسی تعبیر بنا لیتا ہے جو اصل واقعے سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔
یہ انسانی کیفیتیں فطری ہیں۔ خرابی جذبات کے پیدا ہونے میں نہیں، وہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آدمی اپنی کیفیت کو اپنے عمل کا واحد حاکم بنا لیتا ہے۔
دل دکھا ہو تو دکھ حقیقی ہے، مگر ہر وہ کام درست نہیں ہوجاتا جو دکھ کی شدت میں آدمی کو تسلی دے۔ ناراضی اپنی جگہ رہ سکتی ہے اور دوسرے کا حق اپنی جگہ۔ کسی سے اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اس کی امانت میں خیانت جائز نہیں ہوجاتی۔ کسی کے رویے سے دل ٹوٹ سکتا ہے، لیکن اس کا راز افشا کرنے کی اجازت نہیں مل جاتی۔ جذبات ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے، مگر ان کے تحت کیا جانے والا عمل بڑی حد تک ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔
تکلیف پہنچتی ہے تو ذہن فوراً واقعے کی تعبیر شروع کردیتا ہے۔ کسی نے دیر سے جواب دیا، دل نے بے اعتنائی سمجھ لی۔ کسی نے مجلس میں توجہ کم دی، ذہن نے تعلق کی قدر متعین کردی۔ کسی نے سخت جملہ کہا، ہم نے اس کی نیت بھی طے کرلی۔ اصل واقعہ پیچھے رہ جاتا ہے اور ہماری بنائی ہوئی تعبیر رویے کو چلانے لگتی ہے۔ غم پر غصہ چڑھتا ہے، غصے سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے، پھر پرانے واقعات بھی اسی بدگمانی کے حق میں گواہی دینے لگتے ہیں۔
قرآن مجید نے بدگمانی سے بچنے کی تعلیم دے کر انسانی نفس کی اسی کمزوری کی اصلاح کی ہے۔ جو چیز معلوم نہیں، اسے معلوم سمجھ کر فیصلہ نہ کیا جائے۔ کسی کے ارادے کا علم نہ ہو تو اپنے اندیشے کو حقیقت کا درجہ نہ دیا جائے۔ بہت سے تعلقات کسی بڑی خیانت سے نہیں ٹوٹتے؛ وہ اس لئے کمزور ہوجاتے ہیں کہ دونوں فریق اپنے اپنے دل میں ایک واقعے کی الگ کہانی بنا لیتے ہیں اور پھر اسی کہانی کو حقیقت سمجھ کر ایک دوسرے سے برتاؤ کرتے ہیں۔
غصے کے لمحے میں نفس ایک آسان جواز پیش کرتا ہے: جس نے تمہیں دکھ دیا، اسے جواب ملنا چاہئے، جس نے تمہاری قدر نہیں کی، تم اس کی قدر کیوں کرو، جس نے وعدہ توڑا تمہیں اس کے ساتھ اپنا وعدہ نبھانے کی کیا ضرورت ہے۔ بدلہ بعض اوقات انصاف جیسا محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایمان انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دوسرے کی غلطی نے تمہارے لئے کون سا نیا حق پیدا کیا ہے اور کون سا حق ختم نہیں کیا۔
کسی کی بدسلوکی ہمیں بدسلوکی کا اختیار نہیں دیتی۔ کسی کی خیانت ہمیں خیانت کا جواز نہیں دیتی۔ انسان اپنے عمل کی ذمہ داری دوسرے کے رویے کے حوالے نہیں کرسکتا۔ توقعات بھی وفا کو کمزور کرتی ہیں۔ ہم کسی کے لئے کچھ کرتے ہیں اور دل کے کسی کونے میں اس کے بدلے کی امید رکھ لیتے ہیں۔ جب سامنے والا ہماری توقع کے مطابق جواب نہیں دیتا تو محبت میں حساب شامل ہوجاتا ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ میں نے اتنا کیا، اس نے میرے لئے کیا کیا؟ یہ حساب کبھی جائز شکایت بنتا ہے اور کبھی خاموش بدگمانی اور ناراضی۔
اسلام نیکی کو تجارت بننے سے روکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان مسلسل استحصال برداشت کرتا رہے۔ حقوق کی حفاظت اور حدود قائم کرنا ضروری ہے، مگر ہر نیکی کا فوری بدلہ اسی شخص سے ملے جس کے ساتھ نیکی کی گئی ہو، یہ لازم نہیں۔ مومن کسی کا حق اس لئے ادا کرتا ہے کہ وہ حق ہے۔ اس کی نیکی کا اصل تعلق اللہ کے ساتھ ہے، بندے کے ردِعمل کے ساتھ نہیں۔وعدہ ہمیشہ خوش گوار کیفیت میں نہیں نبھایا جاتا۔ بعض وعدے ایسے ہوتے ہیں جن کے وقت دل خوش ہوتا ہے، مگر کچھ عرصے بعد وہی ذمہ داری دشوار لگنے لگتی ہے۔ اگر ہر وعدہ صرف موجودہ جذبات کے مطابق نبھایا جائے تو کوئی عہد یا وعدہ دیرپا نہیں رہ سکتا۔
یہ بھی پڑھئے:غیبت ایک خاموش باطنی روگ ہے
کبھی انسان کو عہد نبھانے کیلئے دوسرے شخص سے زیادہ اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے، اپنی انا، جلد بازی، بدگمانی اور انتقام کی خواہش سے۔ یہ لڑائی کسی مجلس میں دکھائی نہیں دیتی، مگر اخلاق کی تعمیر اسی خاموش کشمکش میں ہوتی ہے۔
کبھی آدمی اس کشمکش میں ناکام بھی ہوتا ہے۔ زبان سے غلط بات نکل جاتی ہے، وعدہ ٹوٹ جاتا ہے اور کبھی کسی کا حق رہ جاتا ہے۔ ایمان کی روشنی یہ ہے کہ آدمی اپنی لغزش کو اپنی آخری شناخت نہ بنائے۔ وہ معذرت کرسکتا ہے، حق ادا کرسکتا ہے، توبہ کرسکتا ہے اور اصلاح کی کوشش کرسکتا ہے۔
یہی عہد کی پاسداری ہے، اسی کو وعدہ وفا کرنا کہتے ہیں، یہی کردار کی پختگی ہے اور یہی مومن کا طریقہ ہے۔
قرآن نے عہد کی پاسداری کو جوابدہی کے ساتھ جوڑا ہے
عہد انسان کے قول اور کردار کے درمیان ایک مضبوط رشتہ ہے۔ آدمی جب کسی بات کا وعدہ کرتا ہے تو اپنے مستقبل کے عمل کو اپنے موجودہ لفظ کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔ وقت کے ساتھ حالات بدل سکتے ہیں، ترجیحات تبدیل ہوسکتی ہیں، خواہشات نئی صورت اختیار کرسکتی ہیں، مگر عہد کا تقاضا یہ ہے کہ بدلتے حالات میں بھی انسان اپنے قول کی ذمہ داری کو یاد رکھے۔
قرآن نے عہد کی پاسداری کو جواب دہی کے ساتھ جوڑا ہے۔ انسان بھول سکتا ہے، دوسرا شخص بھول سکتا ہے، مجلس میں موجود لوگ بھول سکتے ہیں، مگر اللہ کے علم سے کوئی قول باہر نہیں۔ مومن کے لئے یہی احساس اس کے لفظ کو سنجیدگی دیتا ہے۔
سورۂ مؤمنون میں امانتوں اور عہد کی حفاظت کو اہلِ ایمان کی صفت قرار دینا بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ عبادت اور معاملات ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ نماز، روزہ اور دوسری عبادات انسان کو اللہ سے جوڑتی ہیں، جبکہ امانت، وعدہ، عدل اور حسنِ معاملہ اس تعلق کا عملی اثر ظاہر کرتے ہیں۔ کسی شخص کی دینداری کا اندازہ صرف اس کی عبادت و ریاضت سے نہیں، اس کے معاملات سے بھی ہوتا ہے۔
سورۂ مؤمنون میں اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے امانتوں اور عہد کی حفاظت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان دل میں محفوظ عقیدہ ہی کی حیثیت نہیں رکھتا، انسانی معاملات میں بھی اپنا اثر دکھاتا ہے۔ کسی نے امانت ہمارے سپرد کی، کسی نے ہمارے قول پر اعتماد کیا، کسی ذمہ داری کو ہم نے قبول کیا، ہمارے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان ہماری شخصیت میں کس حد تک اترا ہے۔