• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا نبی کریمؐ سے زیادہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو کسی نے پہچانا؟

Updated: October 23, 2026, 4:28 PM IST | Dr. Mouhammed Hamidullah | Mumbai

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی بھی اہم کام کے لئے نوجوانوں کی طرف توجہ نہیں کی جاتی اور یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کا ذہن پختہ نہیں ہے، انہیں تجربہ نہیں ہے۔ لیکن سیرت ِ نبویؐ کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ نے نہ صرف نوجوانوں کی بہترین تربیت فرمائی بلکہ اُن پر بھروسہ کیا، ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں ذمہ داریاں سونپیں، خواہ وہ نماز کی امامت ہو یا کسی لشکر کا امیر بنانا ہو۔

In light of the principles of education and upbringing taught by the Holy Prophet (PBUH), excellent and talented youth can emerge within our society. Photo: INN
نبی کریمؐ نے تعلیم و تربیت کے جو اصول بتائے ہیں ان کی روشنی میں ہمارے معاشرے میں بہترین اور باصلاحیت نوجوان سامنے آسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

سیرتِ نبویہؐ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ داری کا کام اکثر نوجوانوں ہی کے سپرد کیا جاتا تھا۔ اس کی متعدد نظیریں تاریخ نے صراحت سے مہیا کی ہیں۔ چنانچہ جب کسی قبیلے نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ذہین و فطین نوجوان کو اس کا سردار مقرر کیا۔ 

اصل میں معیار یہ تھا کہ اسلامی اصول و شریعت سے کون زیادہ واقف ہے؟ نماز پڑھانے کیلئے قرآن کی سورتیں کس کو زیادہ یاد ہیں؟ کون اپنے نئے دین سے زیادہ جوش اور دلچسپی کا اظہار کرتا ہے؟ یہ صفتیں عموماً نوجوانوں میں پائی جاتی ہیں۔ عموماً نوجوان مدینہ آکر زیادہ تیزی سے قرآنی سورتیں حفظ کرلیتے تھے۔ دیگر اُمور، مثلاً مال و دولت، اور جاہت و تجربہ زیادہ پیش نظر نہیں رہتا تھا۔ 

ایک صحابی عمرو بن سلمہ الجرمی کا بیان ہے کہ ان کے والد سلمہ الجرمی اور ان کے قبیلے کے کچھ لوگ نبی پاکؐ کے پاس آئے، اسلام قبول کیا اور قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کی۔ تب انھوں نے کہا: ’’یارسولؐ اللہ! ہمیں نماز کون پڑھائے گا؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’جس نے سب سے زیادہ قرآن یاد کیا ہو، وہ نماز پڑھائے‘‘۔ جب سارے لوگ واپس آئے تو انھیں مجھ سے زیادہ قرآن یاد کرنے والا نہیں ملا، چنانچہ مَیں نے نماز پڑھانی شروع کر دی‘‘۔ (ابوداؤد، نسائی، ترمذی)

یہ بھی پڑھئے: عہدِ وفا: مومن کا امتیازی وصف

باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی 

مدینہ ہجرت کرکے آتے ہی آنحضرت ؐ نے اپنے گھر کے سامنے ایک چبوترہ بنا دیا، جس پر سائبان بھی تھا، اُسے صفہ کہتے تھے۔ دن کو یہ مدرسہ (بلکہ جامعہ) بن جاتا تھا اور رات کو دارالاقامہ اور بورڈنگ۔ یہاں اعلیٰ تعلیم تو خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیا کرتے تھے، لیکن ابتدائی تعلیم اور لکھنا پڑھنا، سکھانا، یہ کام نوجوان رضاکاروں کے سپرد تھا۔ ہجرت کے ڈیڑھ ہی سال بعد بدر کی جنگ پیش آئی اور مکہ کے قیدیوں کا فدیہ رسول مقبول، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مقرر فرمایا کہ ہرشخص مدینے کے دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا سکھائے۔ 

حضرت زید بن ثابتؓ نے اسی طرح لکھنا سیکھا، اور ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ فارسی، حبشی، یونانی اور عبرانی زبانیں بھی اپنے شوق سے مدینے آنے والے مسافروں سے چند روز میں سیکھ لیں۔ اور جب آنحضرتؐ نے انھیں عبرانی سیکھنے کا حکم دیا تو ۱۵؍ دن میں اس میں مہارت پیدا کرلی، تاکہ یہودیوں سے خط کتابت میں اسلامی محکمۂ خارجہ کسی غیرمسلم یہودی کا محتاج نہ رہے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کے علاوہ دیگر کاتب بھی اکثر نوعمر تھے۔ حضرت علیؓ، حضرت معاویہؓ، حضرت ابن مسعودؓ وغیرہ سب نوجوان لوگ تھے۔

اس سے بڑھ کر، اہم اور ذمہ داری کے کام بھی کثرت سے نوجوانوں کے سپرد کئے جاتے تھے۔ حضرت اسامہؓ بن زید کو بارہا فوج کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ جنگ ِ خیبر میں حضرت علیؓ کی عمر مشکل سے ۲۵؍ سال کی ہوگی۔ انہیں ایک بہت بڑے معرکے کا افسر بنایا گیا۔ بعد کے برسوں میں انھیں گورنر اور قاضی جیسے عہدے بھی دیئے گئے۔ 

حضرت عمروؓ بن حزم اور حضرت معاذؓ بن جبل بھی بہت نوعمر صحابہؓ تھے۔ انہیں تین کے اہم صوبے کا علی الترتیب گورنر اور انسپکٹر جنرل تعلیم بنایا گیا۔ حضرت معاذؓ کے متعلق مؤرخ طبری نے لکھا ہے کہ ’’ان کا یہ کام تھا کہ گائوں گائوں اور ضلع ضلع دورہ کریں اور وہاں تعلیم کی نگرانی اور بندوبست کریں۔‘‘  آپؐ   نے ذاتی صلاحیتیں دیکھ کر مختلف نوجوانوں کو ایک فنی تخصیص کا موقع دیا۔ چنانچہ حضرت زید بن ثابتؓ حساب کے بھی ماہر تھے۔ اس لئے انھیں تقسیم ترکہ کے ریاضیاتی فن کا امام قرار دیا۔ کسی کو فن تجوید اور قرأت کا ماہر، کسی کو عام مسائل اور فقہ کا مستند عالم قرار دیا اور حکم دیا کہ جس کسی کو ان فنون کے متعلق کچھ پوچھنا ہو تو ان ماہرین سے دریافت کرلیا کرے اور اس کی باریکیاں سیکھ  لے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: سنت کی رکعت میں سورۃ، سلام کا جواب، طلاق کا سوال، قرآن پاک اور فدیہ

مشیروں کا تقرر اور مشاورت 

نبیؐ کریم کے مشیرانِ خاص بھی اکثر نوجوان تھے۔ ایک حضرت ابوبکرؓ کو چھوڑ کر، جو آنحضرتؐ کے تقریباً ہم عمر تھے، باقی تمام اکابر صحابہ حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت ابن مسعودؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابن الجراحؓ سب ہجرت کے وقت نوعمر تھے۔ حضرت ابن عمرؓ، حضرت ابن عباسؓ ، حضرت زید بن ثابتؓ وغیرہ تو محض بچّے تھے۔

آنحضرت ؐ  حسب ِ احکامِ قرآن ہر امر میں مشورہ فرمایا کرتے تھے، جس کا منشا نوجوانوں کی تربیت تھا۔ وہ واقعات اور گتھیوں سے واقف ہوتے اور آپؐ کے فیصلے کو آخر میں سنتے اور اسطرح آئندہ اہم کاموں کیلئے تیار ہوتے جاتے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے:  ’’میں نے رسولؐ اللہ سے بڑھ کر کسی شخص کو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرتے نہ پایا۔‘‘  (امام شافعیؒ نے حسن بصریؒ کا قول نقل کیا ہے) اور یہ بھی کہا ہے کہ آپؐ  مشورے سے مستغنی تھے لیکن حضوؐر کا منشا تھا کہ اپنے بعد آنے والے حاکموں کیلئے ایک سنت چھوڑ جائیں۔

انتظامِ مملکت اور سیاست ِ مدن کیلئے جہاں بہت سے عام ادارے (گورنری، عدالت، تحصیل مال گزاری وغیرہ) قائم ہوئے، وہیں شہروں اور قبیلوں کا اندرونی نظام بھی درست کیا گیا۔ ہرگائوںیا بڑے شہر کے محلے میں ہر دس دس آدمیوں پر ایک ’عریف‘ مقرر ہوا تھا اور جملہ مقامی ’عریفوں‘ کا ایک نقیب ہوتا جو براہِ راست عامل (گورنر) کے پاس جواب دہ ہوتا۔ عریف کا کام عموماً نوجوانوں کو دیا جاتا اور وہ بڑی مستعدی اور پھرتی سے اپنے فرائض بجالاتے۔ ہوازن کے قیدیوں کی رہائی کے متعلق ہزاروں ہی آدمیوں سے راے لینی تھی۔ یہ کام عریفوں نے دیکھتے ہی دیکھتے انجام دے دیا۔ اور نتیجہ آکر آپؐ کو سنا دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: غیبت ایک خاموش باطنی روگ ہے

قیادت کی تیاری 

حوصلہ افزائی کے لیےنوجوانوں کو شاباشی اور انعام و اِکرام کی بھی کمی نہ تھی۔ اور نوجوانوں کی تربیت پر توجہ کرنا ہی وہ راز معلوم ہوتا ہے کہ وہ قوم جس نے ابتدائے آفرینش سے کبھی حکومت کا نام نہ سنا تھا، وہ ۱۵، ۲۰؍ سال ہی میں جب تین براعظموں کی مالک بن جاتی ہے تو ایسے اچھے مدبر اور سپہ سالار اور منتظم افسر بھی مہیا کرنے کے قابل ہوجاتی ہے جن پر تاریخِ انسانیت فخر کرسکتی ہے۔ آج تہذیب و تمدن کے دعویداروں اور کمالاتِ انسانی کے مالکوں میں سے کون سی گوری سے گوری قوم ہے جو اس اسلامی نظریے کا جواب پیش کرسکتی ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں جب ایک شہر پر قبضہ ہوا اور حسب ِ معمول شہریوں سے حفاظتی ٹیکس وصول کیا گیا لیکن جلد ہی جنگی ضرورت سے شہر کا تخلیہ کرکے اسلامی فوج کو وہاں سے ہٹ کر آنا پڑا، تو جملہ حفاظتی ٹیکس شہریوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ اب ہم تمہاری حفاظت کے قابل نہیں ہیں اور ہمیں یہ رقم رکھنے کا کوئی حق نہیں۔ 

اصل میں اعلیٰ تعلیم اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی اعلیٰ تعمیل۔ اسلام نے کبھی دکھاوے کی خوش نما مگر ناقابلِ عمل تعلیم نہ دی کہ کوئی ایک طمانچہ لگائے تو دوسرا گال بھی ضرور ہی پیش کردو۔ کوئی کوٹ چھین لے تو قمیص بھی ضرور ہی اُتار کر دے دو۔ اسلام نے اوسط انسانوں کی قابلیت کا لحاظ کرکے قواعد بنائے اور ان کی انتہائی تعمیل ادنیٰ اور اعلیٰ سب سے کرائی۔ ان احکام کا بادشاہِ وقت بھی اتنا ہی پابند ہے جتنا کوئی غلام یا کوئی ادنیٰ شہری۔ ایثار اور سیرتِ اعمال کی تعریف تو کی، مگر ویسا کرنا کسی پر واجب نہیں کر دیا۔ یہ اصول اسلامی تعلیم کے ہرجز میں نظر آئے گا۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی کوئی خواب یا اتفاق نہیں ہمارے روزمرہ کے اعمال کا نتیجہ ہے

جسمانی کھیلوں کی حوصلہ افزائی 

مردانگی اور چُستی پیدا کرنے کیلئےجہاں ذہنی تربیت کی ضرورت پڑتی ہے، وہیں جسمانی ریاضت بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ اسی لئے یہ سوال دلچسپ ہے کہ عہد نبویؐ میں اسپورٹس کی کس حد تک سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

عالم کی آقائی چاہنے والوں کے لیے نشانہ اندازی اور شہ سواری کی جتنی ضرورت ہے وہ ظاہر ہے ۔ اس لیے ہمیں کوئی تعجب نہ ہونا چاہیے۔ جب ایک حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہو کہ ہرکھیل کود بُرا ہے سوائے شہ سواری، نشانہ اندازی اور اہل و عیال کو خوش کرنے والی باتوں کے۔ یہ بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ جب تک موٹر، ریل اور ہوائی جہاز نہیں تھے تو شہ سواری سے مراد صرف گھوڑے کی سواری ہوتی تھی۔ اور اسی طرح جب تک توپ اور بندوق اور سرنگیں اور تارپیڈو نہیںبنے، نشانہ بازی سے مراد صرف تیراندازی ہوتی رہی۔ عرب میں خاص کر حجاز میں تیرنے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اس کے باوجود خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کم عمری میں اپنی ننھیال کے کنویں میں تیرنا سیکھا تھا اور  آئندہ اس کی ترغیب اوروں کو بھی دیتے رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK