• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچے کی پرورش کرنے والی خاتون گھر کی روح ہوتی ہے!

Updated: October 23, 2026, 4:28 PM IST | Muhammad Toqeer Rahmani | Mumbai

اکثر اوقات ماں، مگر وہ خاتون بڑی بہن بھی ہوسکتی ہے، بڑی امی، چاچی یا دادی بھی ہوسکتی ہے۔ وہی بچے کی شخصیت سنوارتی ہے، سنوار سکتی ہے۔

A woman’s true greatness lies in the fact that she does not merely manage a household; she also shapes human beings. Photo: INN
ایک خاتون کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ صرف گھر نہیں سنبھالتی ، انسان بھی سنوارتی ہے۔ تصویر: آئی این این

باہر سردی ہے، فضا میں خاموشی ہے اور ابھی فجر کی اذان میں کچھ وقت باقی ہے۔ ماں اسے بیدار کرتی ہے، وضو کے لئے پانی تیار کرتی ہے، اس کی ننھی انگلی تھام کر مسجد کی طرف لے جاتی ہے۔ بچے کے لئے یہ شاید روزمرہ کا معمول ہے؛ مگر ماں جانتی ہے کہ تربیت بڑے بڑے خطبوں سے نہیں، ایسے ہی چھوٹے چھوٹے معمولات سے شخصیت میں اترتی ہے۔ جس ہاتھ نے وضو کا پانی تیار کیا ہے، وہ دراصل  ایک ایسے انسان کی بنیاد رکھ رہا ہے جس کے کردار سے ایک پورا معاشرہ متاثر ہوگا۔
امام احمد بن حنبلؒ اپنی والدہ کی تربیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کی محنت اور دینی مزاج کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ان کی والدہ نے کم عمری ہی سے قرآن اور عبادت کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی۔ یہ محض ایک بچے کو عبادت کا عادی بنانے کی کوشش نہیں تھی؛ یہ اس حقیقت کی تصویر ہے کہ ماں بچے کے شعور میں وہ نقوش ثبت کرسکتی ہے جو عمر بھر مٹتے نہیں ہیں۔
انسان کی پہلی درس گاہ کسی مدرسے، اسکول یا یونیورسٹی کا نام نہیں؛ ماں کی گود ہے۔ پہلی کتاب اکثر ماں کا کردار ہوتا ہے، پہلا سبق اس کا طرزِ عمل، پہلی زبان اس کی گفتگو اور پہلی تربیت اس کا برتاؤ ہے۔ بچہ دنیا کو ابتدا میں ماں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ وہ جس چیز سے ماں کو محبت کرتے دیکھتا ہے، اسے اہم سمجھنے لگتا ہے؛ جس چیز سے اسے خوف زدہ دیکھتا ہے، اس سے خوف سیکھتا ہے؛ اور جس قدر ماں کے کردار میں اطمینان، شرافت، صبر اور مقصدیت دیکھتا ہے، اتنا ہی وہ ان اوصاف کو اپنے اندر جگہ دینے لگتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عہدِ وفا: مومن کا امتیازی وصف

ایک ماں اگر بچے کو ہر مشکل سے پہلے ہی بچاتی رہے تو ممکن ہے وہ سہولت پسند بن جائے؛ اگر ہر ناکامی پر اسے ذلیل کرے تو اس کے اندر احساسِ کمتری پیدا ہوسکتا ہے؛ اگر غلطی پر سمجھائے اور دوبارہ کوشش کا حوصلہ دے تو اس کے اندر استقامت پیدا ہوسکتی ہے۔ اسی طرح سچائی، امانت، شائستگی، رحم، صبر، خود اعتمادی اور ذمہ داری جیسے اوصاف محض نصابی اسباق سے نہیں آتے، بلکہ گھر کے ماحول میں سانس لیتے ہوئے بچے کے وجود کا حصہ بنتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ عورت کی تعلیم کا مسئلہ صرف ایک فرد کی تعلیم کا مسئلہ نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور عورت اپنے علم کو ایک فرد تک محدود نہیں رکھتی؛ اس کے علم کا اثر گھر کے ماحول، بچوں کی فکر اور آنے والی نسلوں کے مزاج تک پہنچتا ہے۔
یہاں تعلیم سے مراد محض ڈگری نہیں۔ علم کے ساتھ شعور، شعور کے ساتھ کردار اور کردار کے ساتھ مقصد ضروری ہے۔ ایک ماں اگر خود کتاب سے رشتہ رکھتی ہے تو بچے کے لئے کتاب اجنبی نہیں رہتی؛ اگر وہ نماز کو زندگی کا حصہ سمجھتی ہے تو عبادت بچے کے لئے محض ایک حکم نہیں رہتی؛ اگر وہ گفتگو میں تہذیب اور اختلاف میں شائستگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو بچہ اختلاف کو دشمنی سمجھنے کے بجائے ایک انسانی ضرورت کے طور پر سیکھتا ہے۔
ابن حجر عسقلانیؒ نے بھی بچپن میں والدین کے سائے سے محرومی کا سامنا کیا، اور ان کی پرورش میں ان کی بہن کا اہم کردار بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں عورت کا کردار ماں کے روایتی تصور سے آگے بڑھ کر سامنے آتا ہے: کبھی بہن ماں کا کردار ادا کرتی ہے، کبھی دادی، نانی یا کوئی دوسری مربی خاتون۔ اصل چیز رشتہ نہیں، تربیت کا وہ جذبہ ہے جو ایک انسان کو بنانے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ایک درخت کی شاخیں جتنی بھی بلند ہوجائیں، اس کی اصل قوت ان جڑوں میں ہوتی ہے جو زمین کے اندر خاموشی سے اپنا کام کررہی ہوتی ہیں۔ معاشرہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اس کے بڑے ادارے، بلند عمارتیں، جامعات اور علمی مراکز اس کی ظاہری شاخیں ہیں؛ مگر اس کی حقیقی جڑیں گھر کے اندر پروان چڑھتی ہیں۔ اور اس گھر کی روح اکثر ایک عورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:بچوں کی بہترین تربیت اُن کا حق ہے، اس میں غفلت خسارہ ہے

ایک نیک عورت صرف کھانا تیار نہیں کرتی؛ وہ ذوق کی آبیاری کرتی ہے۔ صرف لباس نہیں سنوارتی؛ شخصیت سنوارتی ہے۔ صرف بچے کو بڑا نہیں کرتی؛ اس کے اندر بڑا مقصد پیدا کرسکتی ہے۔ وہ اسے صرف دنیا میں جینا نہیں سکھاتی، بلکہ یہ بھی سکھا سکتی ہے کہ دنیا میں کس مقصد کے لئے جینا ہے۔اسی لئے عورت کی تعلیم کو صرف روزگار کے تناظر میں دیکھنا اس کے اصل مقام کو محدود کردینا ہے۔ ایک باشعور عورت کا علم اس وقت کئی گنا بڑھ جاتا ہے جب وہ اسے اپنی اولاد کی تربیت میں منتقل کرتی ہے۔ اس کی کتاب ایک بچے کا ذہن بناتی ہے، اس کا کردار ایک بچے کا کردار بناتا ہے اور اس کی ترجیحات آنے والی نسل کی ترجیحات پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
مرد اگر معاشرے کی تعمیر میں ایک فعال کردار ادا کرتا ہے تو عورت اس تعمیر کی ابتدائی بنیاد مضبوط کرتی ہے۔ تاریخ کے صفحات پر اکثر مردوں کے نام نمایاں ہوتے ہیں، مگر ان ناموں کے پیچھے موجود خاموش ہاتھ سامنے نہیں آتے اور تاریخ میں درج نہیں ہوتے۔ وہ ہاتھ کبھی ماں کا ہوتا ہے، کبھی بہن کا، کبھی استادہ کا، کبھی دادی یا نانی کا۔اس لئے عورت کی عظمت کو صرف اس بات سے نہ ناپیے کہ وہ گھر کے کتنے کام انجام دیتی ہے۔ اس سوال سے ناپیے کہ وہ گھر کے اندر کس طرح کے انسان تیار کررہی ہے۔ کیونکہ گھر میں پرورش پانے والا بچہ صرف ایک خاندان کا فرد نہیں رہتا؛ وہ آنے والے کل کے معاشرے کا شہری، کسی ادارہ کا ذمہ دار، کسی خاندان کا سربراہ، اپنے  بیٹے کا باپ اور ایک نسل کا مربی بن سکتا ہے۔
اگر عورت نے اس کے ہاتھ میں صرف سہولتیں نہیں بلکہ اصول دیے ہوں، صرف تعلیم نہیں بلکہ شعور دیا ہو، صرف کامیابی کی خواہش نہیں بلکہ مقصد دیا ہو، تو اس کی تربیت گھر کی چار دیواری سے نکل کر معاشرے کی تعمیر میں شامل ہوجاتی ہے۔یہی عورت کی اصل عظمت ہے۔ وہ صرف گھر نہیں سنبھالتی؛ وہ انسان سنوارتی ہے۔ وہ صرف نسل کو آگے نہیں بڑھاتی؛ وہ نسل کے مزاج اور سمت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی ایک ماں کی گود میں خاموشی سے پروان چڑھنے والا ایک بچہ، آنے والی صدیوں کی تاریخ لکھنے کے قابل ہوجاتا ہے۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK