شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) زوال کا وقت (۲) تکبیر تحریمہ سے قبل ہاتھ باندھنا (۳) اسلامی تقریبات میں غیر اسلامی اعمال (۴) مسجد کی منتقلی کے تعلق سے ایک سوال۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 4:17 PM IST | Mufti Azizurrehman Fatehpuri | Mumbai
شریعت کی روشنی میں اپنے سوالوں کے جواب پایئے۔ آج پڑھئے: (۱) زوال کا وقت (۲) تکبیر تحریمہ سے قبل ہاتھ باندھنا (۳) اسلامی تقریبات میں غیر اسلامی اعمال (۴) مسجد کی منتقلی کے تعلق سے ایک سوال۔
زوال کا وقت
زوال کا درست وقت کیا ہے؟آج کل جو جنتریاں ہیں ان میں، مثال کے طور پر ۱۲ بجکر ۳۷؍ منٹ سے لے کر ۱۲؍ بج کر ۴۲؍ منٹ تک زوال کا وقت لکھا گیا ہے، مگر ایک صاحب کاکہنا ہے کہ جنتریوں میں لکھا گیا وقت غلط ہے، اصل زوال کا وقت آج کل ۴۲۔ ۱۲؍کے بعد شروع ہوتا ہے۔ درست صورت حال کیا ہے ؟کیا اس کا کوئی ضابطہ، بھی ہے؟علی احمد، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: کسی بھی طلوع اور غروب کے درمیان کے مجموعی وقت کے نصف کے وقت سورج انتہائی بلندی پر پہنچ رہا ہوتا ہے اسے نصف النہار حقیقی کہا جاتا ہے، اسی کو استواء شمس بھی کہتے ہیں۔
اصل مکروہ وقت یہی استواء شمس کا وقت ہے اسی کو عام طور سے زوال کا وقت کہہ دیتے ہیں جبکہ زوال کا وقت استواء کے معاً بعد آتا ہے جو ظہر کا ابتدائی وقت ہوتا ہے۔ نماز منع استواء کے وقت ہے نہ کہ اس کے بعد اور استواء کا وقفہ بہت کم ہوتا ہے جس میں ایک نماز ادا نہیں کی جاسکتی مگر علماء بطور احتیاط یہ کہتے ہیں کہ عین استواء سے چند منٹ پہلے اور بعد تک نماز پڑھنے میں احتیاط کی جائے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
تکبیر تحریمہ سے قبل ہاتھ باندھنا
میرا سوال یہ ہے کہ لوگ اقامت کے وقت جب کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہونے کی کیا کیفیت ہونا چاہئے، کچھ لوگ تو سیدھے کھڑے رہتے ہیں مگر کچھ لوگ اقامت کے وقت ہی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیا امام کی تکبیر سے قبل ہاتھ باندھ کر کھڑے رہنا درست عمل ہے؟ محبوب اللہ، بہار
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: اقامت کے وقت محض قیام (یعنی کھڑے ہونے )کا ذکر ہے اس وقت ہاتھ باندھنے کا نہ کوئی ذکر ہے نہ موقع بلکہ جب امام کانوں تک ہاتھ اٹھاکر تکبیر تحریمہ کہے (جو نماز کا رکن بھی ہے) اس وقت امام اور مقتدی سب لوگ ہاتھ باندھیں گے۔ تکبیر تحریمہ سے پہلے کھڑے ہوتے ہی ہاتھ باندھنے کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ جو لوگ ایسا کرتے یہ ان کی کم علمی ہے یا محض غفلت ہے؛ نماز کے صحیح طریقے کا علم اور اس پر عمل ہو تو شاید وہ حضرات اس غفلت کے مرتکب نہ ہوں۔ واللہ اعلم
اسلامی تقریبات میں غیر اسلامی اعمال
متعدد تقریبات اوردیگر مختلف پروگراموں کے موقع پر مدارس اور اسکولوں میں جو پروگرام پیش کیا جاتا ہے جس میں موبائل پر حمد نعت ترانے وغیرہ چلا کر بچیاں مختلف اشارے کرتی ہیں۔ اس بارے میں جاننا ہے کہ :
(۱) اس کی شرعی حیثیت کیا ہے خاص طور سے جب اس کو بڑی اور سمجھ دار لڑکیوں کے ذریعے کرایا جائے۔
(۲) نیز جب یہ ایکشن نعت یا حمد پر کی جائے تو کیا حمد ونعت کے ادب کے خلاف نہیں ؟ اور
(۳) کیا یہ ناچ اور ڈانس کی طرف نہیں لے جاتا ؟ عبد الکبیر، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: بچوں اور بچیوں کا کوئی بھی پروگرام ہو، اس میں سنجیدگی برقرار رکھی جانی چاہئے نیز بڑی بچیوں کو عوامی پروگرام میں بے پردہ سامنے لانا اسلامی تمدن کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ حمد ونعت جو بھی پڑھے وقار اور سنجیدگی کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ جہاں یہ ضروری ہے کہ حمد ونعت میں افراط وتفریط نہ ہو وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے آداب کی مکمل رعایت کی جائے، بلاوجہ کے ایکشن اور گانوں کی دھن کا حمد باری اور نعت ِ نبیؐ سے کوئی جوڑ اور جواز نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
مسجد کی منتقلی کے تعلق سے ایک سوال
ہمارے علاقے میں ایک جگہ ہے جو مسجد کی طرح استعمال ہوتی ہے۔ وہ جگہ بی ایم سی کی ملکیت ہے اور مسجد بی ایم سی کے ایک کرایہ دار کی طرح ہے۔ بی ایم سی کا قانون ہے کہ جب اُسے اس جگہ کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے بدلے دوسری جگہ دیتی ہے۔ جس جگہ مسجد ہے وہ زمین ڈیولپمنٹ کے لئے جا رہی ہے جس میں مسجد بھی ایک ٹیننٹ ہے۔ شرعی اعتبار سے مسجد وقف ہوتی ہے چونکہ زمین مسجد کی پراپرٹی نہیں ہے تو کیا یہ شرعی مسجد کہلائے گی اور ڈیولپمنٹ میں اس مسجد کو دوسری جگہ شفٹ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ محمد نواز، ممبئی
باسمہ تعالیٰ۔ ھوالموفق: شرعی مسجد کی شرط یہ ہے کہ زمین کا مالک یا مالکان اپنی مملوکہ اراضی کو حدبندی کرکے مسجد کے لئے وقف کردیں یا کوئی ادارہ (جیسے مسجد ٹرسٹ وغیرہ)مسجد کیلئے زمین خرید کر نماز شروع کرا دے۔ ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ زمین کا مالک کسی شخص یا ٹرسٹ کو اپنی زمین میں مسجد بنانے کی غیر مشروط اجازت دے دے۔ مسجد چونکہ تاقیامت مسجد رہتی ہے مالک کی طرف سے وقف یامسجد بنانے کے لئے زمین دے دینےکے بعد شرائط وقف کی تکمیل کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لئے مسجد ہوجائیگی لہٰذا اسے وہاں سے دوسری جگہ منتقل کرنا صحیح نہ ہوگا۔ کرائے کی جگہ جسے نہ مالک نے وقف کیا ہو نہ ہی مسجد بنانے کی غیرمشروط اجازت دی ہو، وہ نہ شرعی مسجد ہوتی ہے نہ اس پر مسجد شرعی کے احکام جاری ہوتے ہیں۔ آپ کے علاقے میں یہ دیکھنا پڑےگا کہ زمین کس کی ہے، کیا مالک یا مالکان نے خود مسجد بنا ئی یا مسجد کے لئے زمین وقف کی تھی اور اگر مالک کوئی اور ہے تو کیا اس نے وہاں مسجد بنانے کی غیر مشروط اجازت دی تھی، وغیرہ امور کی تحقیق کے بعد ہی صحیح جواب ممکن ہے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم
کرائے کی جگہ جسے نہ مالک نے وقف کیا ہو نہ ہی مسجد بنانے کی غیرمشروط اجازت دی ہو، وہ نہ شرعی مسجد ہوتی ہے نہ اس پر مسجد شرعی کے احکام جاری ہوتے ہیں۔