Inquilab Logo Happiest Places to Work

تنازعات میں بہترین رویے کی جستجو

Updated: August 29, 2026, 4:29 PM IST | Muhiuddin Ghazi | Mumbai

کسی بھی اجتماعیت کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ ہر طرح کے تنازعات سے محفوظ رہے۔ خاندان میں بھی تنازعات ہوتے ہیں اور پڑوسیوں کے درمیان بھی۔ خوبی اور کمال یہ ہے کہ تنازعات کے ساتھ ہمارا تعامل اس طرح ہو کہ تنازعات کی شدت میں کمی آئے، تنازعات کا تصفیہ جلد ہوتا رہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تنازعات کے باوجود تعلقات اچھے اور اخلاق بلند رہیں۔

A neighbor is an enduring blessing. Do not deprive yourself of this lasting blessing for the sake of some temporary gain. Picture: INN
پڑوسی ایک مستقل نعمت ہے۔ کسی وقتی مفاد کی خاطر اس مستقل نعمت سے خود کو محروم نہ کریں۔ تصویر: آئی این این

کسی بھی اجتماعیت کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ ہر طرح کے تنازعات سے محفوظ رہے۔ خاندان میں بھی تنازعات ہوتے ہیں اور پڑوسیوں کے درمیان بھی۔ خوبی اور کمال یہ ہے کہ تنازعات کے ساتھ ہمارا تعامل اس طرح ہو کہ تنازعات کی شدت میں کمی آئے، تنازعات کا تصفیہ جلد ہوتا رہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تنازعات کے باوجود تعلقات اچھے اور اخلاق بلند رہیں۔ ہم اس مضمون میں تنازعات کے ساتھ بہتر تعامل کے حوالے سے کچھ نکات برائے غور و فکر پیش کریں گے:

تعلقات کو اتنا اچھا رکھیں کہ تنازعات راہ نہ پائیں : بہت سے تنازعات اس وقت سر اٹھاتے ہیں، جب تعلقات میں خرابی آجاتی ہے۔ جب تک تعلقات پر دوستی اور گرم جوشی کا رنگ چھایا رہتا ہے، تنازعات کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ پڑوسی میرے گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کردیتا ہے، میں یہ کہہ کر ٹال دیتا ہوں کہ ارے اپنا دوست اور اپنا یار ہی تو ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: زوال کا وقت، تکبیر تحریمہ سے قبل ہاتھ باندھنا، اسلامی تقریبات میں غیر اسلامی اعمال

تنازع کے باوجود تعلقات برقرار رکھیں : اگر پڑوسی کے ساتھ کوئی تنازع ہوگیا ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پڑوسی کے گھر تحفے بھیجنا بند کردیں۔ تنازع ہو یا نہ ہو، پڑوس کا رشتہ ہر حال میں باقی رہنا چاہئے۔ جس طرح تنازع سے پہلے ایک دوسرے کی خبرگیری کرتے تھے، تنازع کے بعد بھی بڑی فکر کے ساتھ خبر گیری کا فریضہ انجام دیں۔ 

ہر مسئلے کوتنازع نہ بننے دیں : ضروری نہیں کہ ہر مسئلے کو تنازع کی شکل دی جائے۔ بہتر یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل کو نظر انداز کرتے رہیں۔ 

سخت اقدام سے پہلے نرم نصیحت سے کام لیں : پڑوسی کے کسی رویے سے اگر آپ کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اس کے خلاف فوری کوئی بڑا قدم اٹھادیں۔ اسے نرمی اور حکمت سے سمجھائیں۔ بار بار سمجھائیں۔ 

انا کو بیچ میں نہ آنے دیں : تنازعات اس وقت ناقابل حل ہوجاتے ہیں جب فریقین اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں۔ اگر کوئی فریق بے نفسی سے کام لے تو بڑے بڑے مسائل آسانی سے حل ہوجاتے ہیں۔ اس کا تجربہ کرکے دیکھیں، فائدہ ہوگا۔ 

انا رشتوں کی دشمن ہے: تنازع کو حل کرنے کی بہترین شکل پر خود غور کریں۔ نزاعات کے تصفیے کے لئے جو لوگ ثالث مقرر ہوتے ہیں، ان کی ذمے داری ہوتی ہے کہ تنازعے کے بہترین حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ اگر فریق خود اس طرح سوچے تو شاید ثالث مقرر کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ 

مسائل کا قابل قبول حل ڈھونڈیں : جب آپ مسئلہ کا ایسا حل تجویز کرتے ہیں جو صرف آپ کو راس آتا ہو اور دوسرے فریق کو راس نہ آتا ہو، تو معاملات الجھ جاتے ہیں۔ خیر خواہی کے جذبے سے ایسا حل سوچیں جو دونوں کو راس آجائے اور جس میں دونوں کا بھلا ہو۔ ایسا اس وقت ہوگا جب آپ مسئلے کو فریق کی حیثیت سے نہیں بلکہ ثالث کی حیثیت سے دیکھیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جب گھر کا ماحول سیرت ِ نبویؐ سے وابستہ ہو جائے

تنازع بڑھنے نہ دیں : اگر دو افراد کا تنازع ہے تو اسے بڑھا کر دو خاندانوں کا تنازع نہ بنائیں۔ عورتوں کے معاملات مردوں تک نہ پہنچیں اور مردوں کے معاملات عورتوں تک نہ پہنچیں۔ ایسا بھی نہ ہو کہ دو افراد کے جھگڑے میں محلہ دو فریقوں میں تقسیم ہوجائے۔ 

چھوٹے مسئلے پر بڑا ردعمل ظاہر نہ کریں : بسا اوقات ہماراشدید ردعمل چھوٹے مسئلے کو بڑا بنادیتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ذرا سی بات پر بڑا ہنگامہ برپا ہوگیا اور بات تھانے کچہری تک پہنچ گئی۔ 

تنازع ہو جائے تب بھی بات چیت (کمیونیکیشن) جاری رکھیں : ایسا نہ ہو کہ کوئی مسئلہ پیش آیا اور فریقین میں بات چیت کا سلسلہ ہی ٹوٹ گیا۔ اس سے مسائل کے حل میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ بات چیت ہوتی رہے تو مسائل کا حل جلد نکل آتا ہے۔ 

حسن اخلاق سے بھی تنازعات حل ہوجاتے ہیں : جب آپ تنازع کے باوجود حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں تو دوسرا فریق نرم پڑتا ہے اور مسئلہ حل کرنے میں زیادہ سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ 

بچوں کے معاملات کو بڑوں کا تنازع نہ بنائیں : بچے آپس میں جھگڑتے ہیں، مار پیٹ بھی کرلیتے ہیں، مگر تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ ساتھ کھیلنے لگتے ہیں لیکن انہی بچوں کا معاملہ جب بڑوں تک پہنچتا ہے تو ان کے درمیان لمبی لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ میرا بچہ ہمیشہ درست ہے، اس غلط خیال سے بچیں۔ یہ خیال بہت سے فتنوں کو جنم دیتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ پڑوسی کی شکایت لے کر آپ کے پاس پہنچا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ غلطی پڑوسی کی یا صرف پڑوسی کی ہو۔ 

اپنی غلطی کا ادراک کریں : اپنی غلطی کا ادراک کرتے ہی آپ حل کے بہت نزدیک پہنچ جاتے ہیں۔ مسائل اس وقت زیادہ الجھ جاتے ہیں جب آدمی اپنی غلطی کو نہیں دیکھتا اور یک طرفہ اعلان کردیتا ہے کہ ساری غلطی دوسرے کی ہے۔ 

پڑوسی کی غلطی کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھیں : کیا پتہ جسے ہم غلطی سمجھ رہے ہیں وہ اس کی مجبوری ہو۔ ایسی صورت میں اس کی مدد کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے: حیات ِ نبویؐ سے سادگی اور اعتدال کا درس حاصل کرلیں

اگر معافی مانگنے سے تنازع حل ہوجائے تو دیر نہ کریں۔ معافی مانگنا نفس پر شاق گزرتا ہے، لیکن یہ بڑے بڑے مسائل کو فوری حل کردیتا ہے۔ 

جلتی پر تیل نہیں پانی چھڑکیں : اگر دو پڑوسیوں کے درمیان تنازع ہوگیا ہے تو باقی پڑوسیوں کی ذمے داری ہے کہ وہ لگائی بجھائی کے ذریعے آگ کو اور زیادہ نہ بھڑکائیں یا کسی ایک فریق کی طرفداری نہ کریں، بلکہ حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ مسئلے کے بہتر حل میں مدد کریں۔ 

پارٹی بندی سے دور رہیں : بعض لوگوں کو پارٹی بندی کا ایسا چسکہ لگا ہوتا ہے کہ وہ خود اپنی بستی میں ایک پارٹی بناکر باقی لوگوں کے خلاف محاذ آرائی شروع کردیتے ہیں۔ یہ شوق بہت ضرر رساں ہے، اس کی وجہ سے بستی کا ماحول ہمیشہ خراب رہتا ہے۔ آپ کی خواہش اور کوشش یہ رہنی چاہیے کہ بستی میں گروپ بندی نہ ہو اور سب لوگ مل جل کر میل محبت کے ساتھ رہیں۔ 

ذاتی تنازع کو فرقہ واریت کا رنگ نہ دیں : جب دو پڑوسیوں کے درمیان کوئی مسئلہ ہو تو یہ دیکھیں کہ غلطی کس کی ہے اور یہ سوچیں کہ مسئلے کا صحیح حل کیا ہے۔ فریقین کی برادری، ان کا مسلک اور ان کا مذہب دیکھ کر اپنا موقف طے نہ کریں۔ ہمیشہ حق بات کہیں۔ کوئی فریق اگر اپنے ذاتی مسئلے کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش کرے تو اس کی کوشش کامیاب نہ ہونے دیں۔ 

آخری بات

پڑوسی ایک مستقل نعمت ہے۔ کسی وقتی مفاد کی خاطر اس مستقل نعمت سے خود کو محروم نہ کریں۔ ہر موقع پر یہ ضرور سوچیں کہ جس چیز پر تنازع ہے کیا وہ پڑوسی کے ساتھ بہتر تعلقات سے زیادہ اہم ہے۔ تنازع کتنا ہی بڑا ہو، بہرحال آپ کے اخلاق کی دولت اس سے کئی گنا زیادہ قیمتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ ہار جیت کے چکر میں اپنی اس دولت سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اپنے آپ کو اخلاقی حدود کا پابند رکھیں۔ عام حالات میں تو ہر آدمی با اخلاق نظر آتا ہے، اخلاق کی اصل پرکھ نزاعات یعنی کسی تنازع کے موقع پر ہوتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK