اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم دیا اور فرمایا:’’ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو‘‘ (النساء)۔ آپؐ کی حیاتِ طیبہ بیویوں کے ساتھ اس مثالی طرز عمل کی عملی شکل پیش کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2026, 4:39 PM IST | Maulana Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم دیا اور فرمایا:’’ ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو‘‘ (النساء)۔ آپؐ کی حیاتِ طیبہ بیویوں کے ساتھ اس مثالی طرز عمل کی عملی شکل پیش کرتی ہے۔
میزبان کا مہمان کے ساتھ، تاجر کا گاہک کے ساتھ، ملازم کا افسر کے ساتھ اور ایک دوست کا دوسرے دوست کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا دشوار نہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ بھی خوش اخلاقی کا ثبوت دینا آسان ہے، جن سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی ہو؛ لیکن شوہر اور بیوی کا رشتہ ایسا رشتہ ہے، جس میں ہر وقت کا ساتھ ہے، خلوت میں اور جلوت میں، دن کی روشنی اوررات کی تاریکی میں، صبح و شام اور شب و روز، اس ہمہ وقتی رفاقت میں خوشی کے لمحات بھی آتے ہیں، رنج و غم کی ساعتیں بھی آتی ہیں اور غصہ و ناراضگی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ؛ اس لئے انسان دوسروں کے ساتھ تو مصنوعی خوش اخلاقی برت کر کام چلا سکتا ہے لیکن شوہر اور بیوی کا تعلق چونکہ ہر سرد و گرم میں ہوتا ہے؛ اس لئے یہاں مصنوعی اخلاق کے ذریعے اپنے اصل اخلاق کو چھپایا نہیں جاسکتا: اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے بہترین شخص اس کو قرار دیا، جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں بہتر شخص وہ ہے، جس کا رویہ اس کے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو، اور یہ کہ میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہوں۔ (سنن ترمذی، بہ سند صحیح، حدیث نمبر : ۳۸۹۵، ابن ماجہ، حدیث نمبر : ۱۹۷۷۱) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسولؐ اللہ کی حیاتِ طیبہ اپنی بیویوں یعنی ازواج مطہرات کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین نمونہ ہے !
آپؐ کا ازواج مطہرات کے ساتھ ہمیشہ اعلیٰ درجے کا سلوک رہا، اور کیوں نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم فرمایا:’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو‘‘ (النساء : ۱۹)۔ یہ ایک جامع تعبیر ہے، جس میں خوش اخلاقی، مروت اور پاس و لحاظ کی تمام صورتیں داخل ہیں اور حیاتِ طیبہ بیویوں کے ساتھ اس مثالی طرز عمل کی عملی شکل پیش کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تنازعات میں بہترین رویے کی جستجو
خوبیوں کا اعتراف
بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں کا ذکر کیا جائے اور اس سے محبت کا اظہار ہو۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اس کی تعریف کی جائے یا اس سے محبت کا اظہار کیا جائے تو اس کو خوشی ہوتی ہے؛ لیکن خاص کر اگر شوہر اپنی بیوی کی تعریف کرے تو یہ اس کے لئے سب سے قیمتی سوغات ہوتی ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ اس کی محنت وصول ہوگئی؛ چنانچہ آپؐ اپنی بیویوں کے لئے تعریفی کلمات بھی فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کے بارے میں فرمایا: جیسے تمام کھانوں میں ثرید عمدہ ہوتا ہے، اسی طرح حضرت عائشہؓ تمام عورتوں میں بہترین عورت ہے۔ (بخاری، عن ابی موسیٰ الاشعریٰ، کتاب الانبیاء، حدیث نمبر : ۳۲۳۰، مسلم، باب من فضل عائشہ : ۲۴۴۶ )
اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد بھی آپؐ ہمیشہ ان کا ذکر خیر فرماتے تھے؛ اسی لئے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حالاں کہ میں نے حضرت خدیجہؓ کو نہیں دیکھا؛ لیکن مجھے ان ہی پر سب سے زیادہ رشک آتا تھا۔ آپؐ ان کا بار بار تذکرہ فرماتے، بکرا ذبح کرتے تو خود سے اس کے ٹکڑے کرتے اور حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھیجتے۔ ایک موقع پر آپؐ نے ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا: جب لوگوں نے انکار کیا، اس وقت وہ ایمان لائیں، جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، اس وقت انہوں نے میری تصدیق کی، جب لوگوں نے مجھے محروم کرنا چاہا، اس وقت انہوں نے اپنے مال سے میری غمگساری کی اور اللہ نے ان کے ذریعے مجھے اولاد عطا فرمائی۔ ( مسند احمد، حدیث نمبر : ۲۴۹۰۴)۔ اکثر جب کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہوجاتا ہے اور وہ دوسرا نکاح کرتا ہے تو اپنی پہلی بیوی کی خدمات اور اس کی قربانیوں کو فراموش کردیتا ہے، آپؐ نے اپنے اس ارشاد سے اس بات کا سبق دیا کہ نئے رشتے کی وجہ سے پرانے رشتے کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
اظہارِ محبت
آپؐ ازواجِ مطہرات سے اپنی محبت کا اظہار بھی فرماتے تھے اور اس میں تکلف سے کام نہیں لیتے تھے؛ چنانچہ آپؐ نے حضرت خدیجہؓ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو ان کی محبت عطا فرمائی گئی ہے۔ (مسلم، کتاب الفضائل، حدیث نمبر: ۲۴۳۵) حضرت عمرو بن عاصؓ نے ایک موقع پر دریافت فرمایا کہ آپؐ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ سے۔ (دیکھئے : اللؤ لؤ والمرجان، حدیث نمبر : ۱۵۲۴)
پھر آپؐ اپنے سلوک کے ذریعے بھی محبت کا احساس دلاتے تھے؛ چنانچہ آپؐ بعض دفعہ اپنی زوجۂ مطہرہ کو پیار سے ’’ یا عائش‘‘ کہتے تھے۔ (مسلم، کتاب الفضائل، حدیث نمبر : ۲۴۴۷) ایک موقع پر حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا کہ آپ کی مجھ سے کیسی محبت ہے؟ یعنی آپ مجھ سے کس درجہ محبت فرماتے ہیں ؟ آپؐ نے فرمایا: رسی کی گرہ کی طرح، یعنی گرہ جیسی مضبوط ہوتی ہے اور کھولے نہیں کھلتی، اسی طرح۔ ( حلیۃ العلماء : ۲؍۴۴)
نبی کریمؐ نے نہ صرف خود ازواج مطہرات کے ساتھ محبت اور خلوص کا اظہار کیا؛ بلکہ اُمت کو بھی اس کی تلقین فرمائی؛ چنانچہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: تم جو بھی خرچ کروگے، اس پر اجر پاؤگے، یہاں تک کہ جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں رکھوگے، اس میں بھی اجر ہے۔ (نسائی، کتاب عشرۃ النساء، حدیث نمبر : ۹۱۸۶) اس میں یوں تو انفاق کی ترغیب دینا مقصود ہے؛ لیکن ایک لطیف اشارہ بیوی کے ساتھ اظہار محبت کا بھی ہے کہ شوہر اپنے ہاتھوں سے بیوی کو لقمہ کھلائے جو پیٹ ہی کی نہیں دل کی بھی غذا بن جاتا ہے۔
عمر کا لحاظ
آپؐ قدم قدم پر ازواج مطہرات کی دل داری کا لحاظ رکھتے تھے یہاں تک کہ سِن وسال کے تقاضوں کا بھی خیال فرماتے تھے۔ حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انہیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے۔ ایک دفعہ عید کے موقع سے حضرت ابوبکرؓ حاضر خدمت ہوئے، دیکھا کہ دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انہیں چھوڑ دو، یہ عید کا دن ہے۔ حبشی لوگ ایسے خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے، حضرت عائشہؓ کو ان کے دیکھنے کی خواہش ہوئی تو آپؐ کھڑے ہوگئے، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں، آپؐ ان کی رعایت میں کھڑے رہے۔ (مسلم)
ایک مرتبہ اُم المومنین حضرت صفیہؓ کو اونٹ پر بیٹھنا تھا، تو آپؐ نے اپنا گھٹنے کا سہارا دیا تاکہ حضرت صفیہؓ اونٹ پر چڑھ سکیں۔ (بخاری، کتاب المغازی، حدیث نمبر : ۳۹۷۴) ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا، آپؐ نے فرمایا: انجشہ! آہستہ آہستہ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو۔ (بخاری، کتاب الادب، حدیث نمبر : ۵۸۰۹)
یہ بھی پڑھئے: دنیا لالچ دِلاتی ہے اور انسان آخرت کو بھولنے لگتا ہے
آپؐ اعتکاف میں تھے، حضرت صفیہؓ آپؐ سے ملاقات کے لئے تشریف لائیں، جب واپس ہونے لگیں تو آپؐ ان کو رُخصت کرنے مسجد کے دروازے تک آئے (بخاری، حدیث نمبر : ۱۹۳۰ ) یہ بھی اظہار محبت کا ایک انداز تھا۔ ازواج مطہرات میں کبھی کبھی چشمک بھی ہوجاتی تھی۔ یہ فطری بات ہے اور اللہ کے رسولؐ کی زندگی میں ایسی تمام باتوں کا پیش آنا ضروری تھا، جن سے اُمت کو سابقہ پیش آسکتا ہو؛ چنانچہ ایک بار حضرت حفصہؓ نے حضرت صفیہؓ کو یہودی کی بیٹی کہہ دیا، حضورؐ تشریف لائے تو حضرت صفیہؓ رورہی تھیں، آپؐ نے رونے کا سبب پوچھا، انہوں نے حضرت حفصہؓ کی بات نقل کی۔ آپؐ نے ان سے فرمایا: تم ایک نبی (حضرت ہارون ؑ) کی بیٹی ہو، ایک نبی (حضرت موسیٰ ؑ) کی بھتیجی ہو، اور ایک نبیؐ کی بیوی ہو، تمہارے مقابلہ کیسے کوئی فخر کرسکتا ہے، پھر آپؐ نے حضرت حفصہؓ سے فرمایا: اللہ سے ڈرو، (سنن ترمذی، باب فضل ازواج النبیؐ، حدیث نمبر : ۳۸۹۴، بہ سند صحیح) ایک سفر میں حضرت صفیہؓ آپ کے ساتھ تھیں اور اس دن ان ہی کی باری تھی، اتفاق سے سست رفتار سواری پر ان کا سفر ہوا، جب آپؐ نے ان کا استقبال کیا تو وہ رورہی تھیں اور کہہ رہی تھیں : آپؐ نے مجھے ایک سست رفتار سواری پر بیٹھا دیا۔ آپؐ نے اپنے ہاتھوں سے ان کے آنسو پونچھے اور چپ کرایا۔ (أسد الغابۃ : ۱؍۱۳۷۶)
ناز برداری
آپؐ اپنی ازدواجی زندگی میں اُمہات المومنین کو روٹھنے کا حق دیتے تھے؛ تاکہ خواتین کی فطرت میں ناز کرنے کا جو وصف پایا جاتا ہے، یا وہ سمجھتی ہیں کہ ان کو شوہر سے سوال و جواب کا حق ہے، اس کی رعایت ہو اور اُمت کے لئے نمونہ مہیا ہو؛ چنانچہ حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ اپنی بیوی پر غصہ کا اظہار کیا تو اہلیہ نے بھی پلٹ کر جواب دے دیا۔ حضرت عمرؓ نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کیا کہ تم میری بات کا جواب دیتی ہو؟ زوجۂ محترمہ نے عرض کیا: آپ میرے اس عمل پر کیوں نکیر کرتے ہیں جبکہ حضورؐ کی ازواج آپ کو (حضورؐ کو) جواب دیتی ہیں۔ (سیرت ابن حبان : ۱؍۳۶۰، امیر المومنین عمر الخطاب : ۱؍۷۶، حیات الصحابہ : ۴؍۶۵) پھر اگر کوئی بیوی ناراض ہوجاتیں تو آپؐ کا رویہ نہایت مشفقانہ، کریمانہ اور دلدارانہ ہوتا، آپ ان کے مونڈھے پر دست مبارک رکھتے اور دُعائیہ کلمات ارشاد فرماتے: اے اللہ ! ان کو معاف فرما دیجئے، ان کے دل کے غصے کو دُور کردیجئے اور ان کو فتنوں سے محفوظ رکھئے۔ (کنز العمال، حدیث نمبر : ۱۸۴۰۹)
تفریح طبع
ازواج مطہرات کے ساتھ بے تکلفی اور زنانہ ناز و انداز کے پاس و لحاظ کا ایک لطیف مظہر حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ ایک بار سرکار دوعالمؐ نے مجھ سے فرمایا: جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو، دونوں کو میں اچھی طرح سمجھ لیتا ہوں، میں نے پوچھا : آپ کیسے سمجھ لیتے ہیں ؟ آپؐ نے ارشاد فرمایا: جب تم خوش رہتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو: محمدؐ کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: حضرت ابراہیم ؑکے رب کی قسم! میں نے کہا: اللہ کے رسولؐ! خدا کی قسم میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔ (بخاری، کتاب النکاح، حدیث نمبر : ۴۹۳۰) یعنی یہ صرف زبان سے ہوتا ہے؛ لیکن دل میں ہمیشہ آپؐ کا ذکر خیر بسا رہتا ہے۔
کبھی کبھی آپؐ ازواج مطہرات سے مزاح بھی فرماتے تھے، ایک زوجۂ مطہرہ نے ایسا کپڑا پہنا، جو بہت ڈھیلا ڈھالا تھا، آپؐنے فرمایا : پہنو اور اللہ کا شکر ادا کرو، اور فرمایا کہ تمہارا دامن ایسے گھسٹ رہا ہے، جیسے لباس عروسی کا دامن ہو۔ (کنزالعمال حدیث نمبر : ۱۸۶۴۶) حضرت عائشہ ؓنے ایک بار ایک گھوڑا بنایا اور اس میں پَر بھی لگا دیا، آپؐ دیکھ کر مسکرائے اور ارشاد فرمایا: اس گھوڑے کے پر بھی ہیں ؟ حضرت عائشہؓ بھی بڑی ذہین تھیں، کہنے لگیں : حضرت سلیمان ؑکے گھوڑوں کے تو پَر ہوتے تھے۔ (ابوداؤد، حدیث نمبر : ۴۹۳۲)