تب بچے کو بچپن کیلئے، جوان کو جوانی کیلئے اور والدین کو اپنی ذمہ داریوں کیلئے الگ الگ نمونے تلاش نہیں کرنے پڑیں گے۔ ایک ہی روشن زندگی کے مختلف پہلو مختلف عمر اور مختلف ضرورتوں کے لئے رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے اور گھر کا ماحول خود ایک خاموش مدرسہ بن جائے گا۔
بچہ جو کچھ سنتا ہے، اس سے زیادہ وہ دیکھتا ہے؛ اور جو کچھ دیکھتا ہے، اس سے زیادہ اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این
ہر طرف ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر شخص اپنی مصروفیات کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ زندگی کی رفتار کچھ اور تیز ہوتی جا رہی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی کام کی فکر، دن بھر ذمہ داریوں کا بوجھ اور شام کو تھک ہار کر گھر واپسی؛ پھر اگلی صبح اسی چکر کی تجدید۔ انسان گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر کے درمیان گردش کرتے کرتے اس قدر مشغول ہو چکا ہے کہ اپنے ہی گھر والوں کے لئے اس کے پاس وقت نہیں۔
اس مسلسل مصروفیت کا نقصان صرف وقت کی کمی تک محدود نہیں رہتا، رفتہ رفتہ اس کے اندر ٹھہر کر سوچنے، اپنے حالات کا جائزہ لینے اور اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی صلاحیت بھی کمزور ہونے لگتی ہے۔ جو شخص دوسروں کے مسائل حل کرنے، معاشی ضروریات پوری کرنے اور مستقبل محفوظ بنانے میں ساری توانائی صرف کر دیتا ہے، وہ کبھی کبھی یہ دیکھنا بھی بھول جاتا ہے کہ خود اس کی شخصیت کس سمت جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں بچوں کی تربیت ایک اضافی ذمہ داری محسوس ہونے لگتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بچے صرف نصیحت سے نہیں، ماحول اور کردار سے تربیت پاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:دنیا لالچ دِلاتی ہے اور انسان آخرت کو بھولنے لگتا ہے
بچہ جو کچھ سنتا ہے، اس سے زیادہ وہ دیکھتا ہے؛ اور جو کچھ دیکھتا ہے، اس سے زیادہ اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ والدین اسے سچ بولنے کا درس دیں لیکن وہ انہیں معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بولتا دیکھے، تو درس نہیں، منظر اس کی تربیت کرے گا۔ اسے نماز کی پابندی کی تلقین کی جائے لیکن گھر میں نماز کے وقت ہر شخص اپنی مصروفیت کو ترجیح دیتا دکھائی دے، تو بچے کے ذہن میں الفاظ نہیں، عمل محفوظ ہوگا۔ اسی لئے اصل سوال یہ نہیں کہ بچوں کو کیا پڑھایا جائے بلکہ یہ ہے کہ انکے سامنے زندگی کا کون سا نمونہ رکھا جائے؟
یہاں ایک ایسے رول ماڈل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کی زندگی محض چند خوبیوں کا مجموعہ نہ ہو، بلکہ انسانی زندگی کے مختلف مراحل اور شعبوں کے لئے مکمل رہنمائی پیش کرتی ہو۔ ایسا نمونہ جو صرف بچے کے لئے مفید نہ ہو بلکہ جوان بھی اس سے رہنمائی لے سکے اور بوڑھا بھی؛ طالب علم بھی اس میں اپنے لئے راستہ پائے اور استاد بھی؛ تاجر بھی اس سے اصول سیکھے اور والد بھی؛ شوہر بھی اور سربراہ بھی۔ مزید یہ کہ اس نمونے کی زندگی محض چند واقعات تک محدود نہ ہو، بلکہ اس کے کردار، عادات، فیصلوں، معاملات، تعلقات اور مشکلات سے نمٹنے کے طریقے ہمارے سامنے محفوظ ہوں، تاکہ محض دعویٰ نہیں بلکہ عملی زندگی کی روشنی میں اس کی پیروی کی جا سکے۔
قرآن مجید کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے اپنے انبیاء بھیجے اور ان کی زندگیاں اپنی قوموں کے لئے عملی نمونہ تھیں۔ لیکن ان میں سے کسی نبی کی پوری زندگی، بچپن سے آخری عمر تک، ہر واقعے اور ہر شعبے کی تفصیل کے ساتھ محفوظ نہیں۔ مگر جب نبوت کا سلسلہ اپنے آخری مرحلے تک پہنچا تو ایک ایسی ہستی دنیا میں تشریف لائی جس کی زندگی نہ صرف انسانیت کے لئے آخری ہدایت کا سرچشمہ بنی بلکہ جس کی سیرت کا غیر معمولی حصہ تفصیل کے ساتھ محفوظ بھی ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: مواخاتِ مدینہ: ایثار اور خود کفالت کا حسین امتزاج
یہ ہستی حضرت محمد مصطفیٰؐ کی ہے۔ آپ ؐ کسی ایک زمانے، علاقے یا طبقے کیلئے نمونہ نہیں، بلکہ قیامت تک پوری انسانیت کے لئے اسوہ ہیں۔ قرآن نے آپؐ کی زندگی کو اہلِ ایمان کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا اور آپؐ کی سیرت اس حقیقت کی عملی تفسیر بن کر سامنے آتی ہے۔ آپؐ کی زندگی کا حسن یہی ہے کہ اس میں انسانی زندگی کا کوئی اہم پہلو نظر انداز نہیں ہوتا۔ آپؐ بچپن سے گزرے، جوانی دیکھی، تجارت کی، ازدواجی زندگی گزاری، اولاد کی تربیت فرمائی، خاندان کے ساتھ تعلقات قائم کیے، معاشرے کی اصلاح کی، تعلیم دی، قیادت کی، مخالفین کا سامنا کیا، صلح بھی کی اور ضرورت پڑنے پر میدانِ جنگ میں قیادت بھی فرمائی۔ ایک تاجر آپؐ کی زندگی میں دیانت اور امانت کا عملی نمونہ دیکھ سکتا ہے۔ ایک معلم کے لئے آپؐ کا اندازِ تعلیم رہنمائی کا خزانہ ہے۔ ایک والد کے لئے اولاد کے ساتھ محبت، شفقت اور تربیت کا اسوہ موجود ہے۔ ایک شوہر کے لئے ازواج کے ساتھ حسنِ معاشرت کا روشن نمونہ ہے۔ ایک پڑوسی، دوست، سربراہ، سپہ سالار اور مصلح، ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق آپؐ کی سیرت میں اپنے لئے رہنمائی تلاش کرسکتا ہے۔ آپؐ نے صرف اصول ہی بیان نہیں فرمائے، بلکہ ان اصولوں کو انسانی زندگی میں عملاً برت کر دکھایا۔
یہی وجہ ہے کہ مصروف زندگی کے اس دور میں بچوں کے لئے الگ الگ رول ماڈل تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر گھر کا ماحول نبویؐ سیرت سے وابستہ ہو جائے تو بچے کو بچپن کے لئے، جوان کو جوانی کے لئے اور والدین کو اپنی ذمہ داریوں کے لئے الگ الگ نمونے تلاش نہیں کرنے پڑیں گے۔ ایک ہی روشن زندگی کے مختلف پہلو مختلف عمر اور مختلف ضرورتوں کے لئے رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔ والدین اگر خود سیرتِ نبویؐ کو پڑھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی میں اتارنے کی کوشش کریں تو بچوں کی تربیت صرف نصیحتوں کا سلسلہ نہیں رہے گی؛ گھر کا ماحول خود ایک خاموش مدرسہ بن جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: نوافل میں قعدہ اولیٰ، عقیقہ کا سوال، دوسرے کی کمپنی کا نام استعمال کرنا
ضرورت صرف یہ ہے کہ سیرت کو محض عقیدت کے باب میں پڑھنے کے بجائے زندگی کی رہنمائی کے طور پر پڑھا جائے۔ دیکھا جائے کہ آپؐ نے خوشی میں کیسے برتاؤ کیا، غم میں کیسے صبر کیا، اختلاف میں کیا رویہ اختیار کیا، کمزوروں کے ساتھ کیسا معاملہ کیا، بچوں سے کیسے پیش آئے، گھر والوں کو کیسے وقت دیا، مخالفین کے ساتھ کہاں نرمی کی اور کہاں اصول پر مضبوطی دکھائی۔ جب سیرت اس نظر سے پڑھی جائے گی تو معلوم ہوگا کہ یہ ماضی کی ایک عظیم داستان نہیں، بلکہ آج کے بے سکون انسان کے لئے زندہ رہنمائی ہے۔
آج انسان کے پاس وقت کم ہے، مگر رہنمائی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسے میں سب سے محفوظ راستہ یہ ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر اس ہستی کی طرف دیکھا جائے جس کی زندگی کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لئے نمونہ بنایا اور جس کے کردار کا چراغ صدیوں گزرنے کے باوجود روشن ہے۔ دنیا کامیابی کے بے شمار نمونے پیش کرسکتی ہے، مگر ایسا جامع نمونہ کہاں ملتا ہے جو بچے کی معصومیت سے لے کر قائد کی بصیرت تک، گھر کی محبت سے لے کر میدانِ عمل کی جرأت تک، عبادت کی گہرائی سے لے کر معاشرت کی نزاکت تک، زندگی کے تقریباً ہر گوشے میں مکمل رہنمائی دے سکے۔ اگر ایک گھر واقعی اپنے ماحول کو بدلنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے نئی نصیحتیں تلاش کرنے کے بجائے ایک روشن زندگی کو گھر کا مرکز بنانا ہوگا کیونکہ جس گھر میں اسوۂ نبویؐ پر عمل ہونے لگے وہاں تربیت صرف الفاظ سے نہیں، کردار سے ہونے لگتی ہے۔