Inquilab Logo Happiest Places to Work

آزادی کے احساس کا دِن

Updated: August 15, 2023, 12:28 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مرحوم فضیل جعفری کے اس شعر کا مفہوم سمجھانے کی ضرورت نہیں ۔ ہر وہ چیز جو بہت آسانی سے، کسی محنت اور جدوجہد کے بغیر، تحفے میں ، وراثت میں اور بغیر مانگے مل جائے انسان اُس کی قدر نہیں کرتا۔

Photo. INN
تصویر:آئی این این

سر صحرائے دُنیا پھول یوں ہی تو نہیں کھلتے=دلوں کو جیتنا پڑتا ہے تحفے میں نہیں ملتے
مرحوم فضیل جعفری کے اس شعر کا مفہوم سمجھانے کی ضرورت نہیں ۔ ہر وہ چیز جو بہت آسانی سے، کسی محنت اور جدوجہد کے بغیر، تحفے میں ، وراثت میں اور بغیر مانگے مل جائے انسان اُس کی قدر نہیں کرتا۔ یہی بات آزادی جیسی نعمت کے تعلق سے بھی کہی جاسکتی ہے۔ اب وہ نسل ہمارے درمیان نہیں ہے جس نے آزادی کی جدوجہد کا بچشم خود مشاہدہ کیا تھا۔ جس نے انگریزوں کے جبر کو دیکھا یا اُسے سہا تھا۔ جس نے آزادی کا خواب دیکھا اور اُسے شرمندۂ تعبیر کرنے کیلئے جو کچھ بھی ممکن تھا، کیا۔ خدا رکھے، خال خال ہی سہی چند ایک لوگ ہر جگہ مل جائینگے جن کے ذہن میں جدوجہد آزادی کے نقوش جاوداں ہیں ۔ ان لوگوں کو استثنیٰ قرار دے لیں تو بقیہ تمام شہری جو اِس وقت نوجوان ہیں ، جوان ہیں ، جوانی کی دہلیز کو پار کررہے ہیں یا کرچکے ہیں ، بزرگ ہوچکے ہیں یا ہورہے ہیں ، ان سب نے داستان ِ جدوجہد ِ آزادی کو بزرگوں سے سنا ہے اور کتابوں میں پڑھا ہے۔ کسی جدوجہد کو دیکھنے اور اس کا حصہ ہونے میں اور اُس کے بارے میں پڑھنے اور سننے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کو غیر معمولی نعمت سمجھنے اور اپنے پورے وجود کے ساتھ محسوس کرنے کا جذبہ کم سے کم تر ہوتا جارہا ہے۔اکثر لوگ ایسے ملیں گے جنہیں اپنے اسلاف کی قربانی کا علم تو دور کی بات، قربانی دینے والوں کے ناموں تک سے آگاہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے ثمرات سے لطف اندوز ہونے والوں میں آزادی کی قدر و منزلت کا جذبہ شاید برائے نام ہی ہے۔ ملک میں اچھے اور ذمہ دار شہری پیدا کرنے کیلئے اس جذبے کی نشوونما ازحد ضروری ہے جسے ایک مصنوعی نہیں بلکہ فطری عمل ہونا چاہئے۔
  ہمارے خیال میں یہ جذبہ پیدا کرنے کا بہترین دور بچپن اور ابتدائی دورِ تعلیم ہے جب بچہ بیک وقت بہت سی باتیں سیکھ رہا ہوتا ہے۔ مگر، اب نہ تو گھروں میں اسلاف کی باتیں ہوتی ہیں نہ ہی اسکولوں میں ۔ اسکولوں میں اگر کچھ ہوتا ہے تو ’’رسم ِدُنیا، موقع اور دستور‘‘ کے مطابق ہوتا ہے یا محکمۂ تعلیم کے فرمان کے پیش نظر، آزادی کی حفاظت کے اعلیٰ و ارفع مقصد سے نہیں ہوتا۔ ایک کے بعد دوسری نسل آئی اور رسماً چند باتیں سن کر آگے بڑھ گئی چنانچہ حال یہ ہے کہ جس طرح غلام ہندوستان میں پیدا ہونے اور اُسی ہندوستان میں فوت ہوجانے والوں نے آزادی نہیں دیکھی، اُسی طرح آزاد ہندوستان میں پیدا ہونے والے خوش نصیبوں نے بھی آزادی نہیں دیکھی کیونکہ وہ جس ماحول میں تھے اُسی ماحول میں زندگی بسر کرنے لگے، آزادی اُن کا منہ تکتی رہی اور وہ اُس سے غافل رہے۔
  آزادی کا حق ہے کہ اُسے پورے وجود اور شعور کے ساتھ محسوس کیا جائے اور اس کی حفاظت کو روزمرہ کے معمولات میں شامل کیا جائے۔ آزادی کو محسوس کرنے اور برتنے کا معنی یہ ہے کہ ہر شہری ذمہ دار شہری کے طور پر اپنے شب و روز گزارے اور ہر اُس رجحان اور عادت سے گریز کرے جو آزادی کو متاثر کرتی ہے۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ غیر محسوس طریقے سے آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے، بھلے ہی وہ نقصان اُسے دکھائی نہ دے۔ جب بہت سارے لوگ غیر شعوری یا غیر محسوس طریقے سے آزادی کو تھوڑا تھوڑا سا نقصان پہنچاتے ہیں تو طویل عرصہ کے بعد یہ نقصان دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس کے برعکس، ذمہ دار شہری آزادی کو مستحکم کرتا ہے بھلے ہی وہ اپنے عمل کو اس نقطۂ نظر سے نہ دیکھے۔ آج کا دن انہی باتوں پر غور کرنے کا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK