Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی کا اثر، ملک میں ڈر کا ماحول ختم

Updated: August 10, 2026, 1:36 PM IST | Mumbai

جواہر لال نہرو نے ’دی ڈسکوری آف انڈیا‘ میں مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک بات لکھی تھی۔ انہوں نے اس احساس کو الفاظ دئیے جسے بہت سے لوگوں نے محسوس تو کیا تھا لیکن اتنی صاف طرح سے کبھی نہیں کہاتھا۔

Students and youth have shown the country that through struggle and perseverance, one can achieve one`s goals. Picture: INN
طلبہ اور نوجوانوں نے ملک کو بتا دیا کہ جدوجہد اور ثابت قدمی سے اپنی بات منوائی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این
جواہر لال نہرو نے ’دی ڈسکوری آف انڈیا‘ میں مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک بات لکھی تھی۔ انہوں نے اس احساس کو الفاظ دئیے جسے بہت سے لوگوں نے محسوس تو کیا تھا لیکن اتنی صاف طرح سے کبھی نہیں کہاتھا۔ نہرو کی بات کو تھوڑا آسان کرکے کہیں تو برطانوی حکومت کے دوران ہندوستان میں سب سے بڑا احساس خوف کا تھا۔ ہر جگہ پھیلا ہوا اور گلا گھونٹنے والا ڈر۔ پولیس کا ڈر۔ افسران کا ڈر۔ عوام کو دبانے کیلئےبنائے گئے قوانین اور جیل کا ڈر۔ اور پھر گاندھی آئے توایسا لگا جیسے اچانک لوگوں کے سر سے ڈر کے سیاہ بادل چھٹ گئے۔ 
میں شروعات اس طرح نہیں کر رہا ہوں کہ بی جے پی کے دور اقتدار کا موازنہ برطانوی آبادیات سے کیا جائے۔ آخر کار برطانوی حکمرانوں کو ہندوستان کے عوام نے منتخب نہیں کیا تھا۔ نہ ہی میرا مقصد گاندھی اور سونم وانگ چک کے درمیان کوئی مماثلت بتانا ہے۔ میں نہرو کے اس بیان کو ایک سیاسی تمثیل کے طور پر استعمال کر رہا ہوں۔ یہ بات اچھی طرح سے جانی جاتی ہے کہ منتخب سرکاریں بھی اختلاف رائے کو دباکر۔ مخالفت کرنے والوں کو دھمکا کر۔ ہر جگہ نگرانی بڑھاکراور ہر قیمت پر اپنا دبدبہ بنانے کی کوشش کرکے ڈر اور خوف کا ماحول بنا سکتی ہیں۔ گزشتہ قریب ایک دہائی میں بی جے پی کی حکومت میں یہ تمام باتیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ انتخابی جیت کو سماج اور غیر منتخب اداروں پر پوری طرح کنٹرول حاصل کرنےکے لائسنس کے طور پر پیش کیا گیا۔ 
 
 
دہلی کے جنتر منتر اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی طلبہ کی تحریک نے ڈر کا ماحول ختم کیا ہے۔ حالانکہ یہ احتجاج شروعات سے تعلیمی اصلاحات کے تعلق سے تھا لیکن بعد میں یہ مودی حکومت کے کام کرنے کے طریقے پر ایک شدید تنقید بن گئی۔ حکومت نے اس احتجاج کو اپنے لئے خطرے کے طور پر دیکھا اور شروع ہی سے اسے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا لیکن پیلٹ گن اور کیٖل لگی لاٹھیاں بھی طلبہ کو خاموش کرنے میں ناکام رہے۔ احتجاج کرنے والوں کی تعداد لگاتار بڑھتی گئی اور احتجاج لگاتار جاری رہے۔ آخرکار حکومت میں ملک کے نوجوانوں پر مزید طاقت استعمال کرنے کی ہمت نہیں رہی اور اسے ان کے سامنے جھکنا پڑا۔ 
جس دور میں ہم رہ رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے طلبہ کے حوصلے اور ہمت کے ایک اور رخ پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ ان احتجاج اور مظاہروں کے دوران زمینی سطح پردکھائی دینے والی جرأت کے ساتھ ساتھ آن لائن پر بھی کسی قسم کا کوئی خوف نظر نہیں آیا۔ گزشتہ کچھ برسوں میں بی جے پی کا سوشل میڈیا پرکافی دبدبہ رہا ہے۔ طلبہ نے اس صورتحال کو بدل کررکھ دیا۔ طنز اورمذاق جو کافی بےباک تھے۔ ان سب کو انہوں نے اپنی تنقید کے ساتھ جوڑا۔
 
 
ٹھیک اسی طرح جیسے ہندو تواوادی گروہ کئی برسوں سے آن لائن اس طریقوں کا استعمال کرتے آئے ہیں۔ آخر میں سوشل میڈیا پر بی جے پی کی مضبوط طاقت بے اثر ہوگئی۔ مظاہرین کو بدنام کرنے کے پرانے طریقے۔ انہیں ملک دشمن قرار دینا۔ ان کے احتجاج کو غیر ملکی فنڈنگ ملنے کی بات کہنا اور ان کی زبان کو ہندوستانی ثقافت کی توہین قرار دینا۔ کچھ بھی کام نہیں آیا۔ یہاں تک کہ نام نہاد’گودی میڈیا‘ کے ٹی وی اینکر اور رپورٹر بھی۔ جو لگاتار بی جے پی حکومت کی تاریخی عظمت کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ طلبہ کے غصے سے بچ نہیں سکے۔ بیانئے پر کنٹرول۔ جو کہ ہندوستانی قوم پرست سیاسی حکمت عملی کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ پوری طرح سے کمزور پڑ گیا ہے۔ 
لیکن کیا ڈر اور خوف کا ماحول ہمیشہ کیلئےختم ہوگیا ہے۔ ایسا کہنا بالکل صحیح نہیں ہوگا۔ جب حالات بدلیں گے تو بی جے پی کے پلٹ کر جواب دینے کا پورا خدشہ ہے۔ وہ اظہار رائے کی آزادی میں یقین نہیں کرتی۔ اس کے بجائے دنیا بھر کی دائیں بازوں کی پاپولسٹ پارٹیوں کی طرح۔ موجودہ بی جے پی بھی اظہار رائے کی آزادی کو اپنے لئے رکھنا چاہتی ہے جبکہ اپنے مخالفین اورتنقید کرنے والوں کی آزادی کو محدود کرنا چاہتی ہے اور بہت سختی سے ایسا کرتی ہے لیکن فی الحال اختلاف رائے کیلئےضروری جگہیں یقینی طور پر کھلی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK