Inquilab Logo Happiest Places to Work

دینی مدارس کے فارغین جدید ٹیکنالوجی کو اپناکر تقریباً سارے اہم کریئرس کو اپنا سکتے ہیں

Updated: August 10, 2026, 1:33 PM IST | Mubark Kapdi | Mumbai

آج ہم ان کالموں میں بریج کورس کے مشمولات اور اُنھیں دستیاب کریئرکے مختلف مواقع پر غور و فکر کریں گے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
آج ہم ان کالموں میں بریج کورس کے مشمولات اور اُنھیں دستیاب کریئرکے مختلف مواقع پر غور و فکر کریں گے:
(۱)حکمت: بریج کورس میں یہ نیا مضمون متعارف کیا جانا ضروری ہے اس میں (الف) بین المذاہب اور (ب) بین المسالک مفاہمت نیز صبر و اعراض کے تمام پہلوؤں پر ذہنی تربیت ہو۔ مذاہب اور مسالک کے درمیان اختلافات اور تنازعات کی ایک مکمل فہرست تیار کی جائے اور پھر ان فارغینِ دینی مدارس کو ہر ہر معاملے میں اعراض کے فن سے آشنا کرایا جائے۔ اُنہیں اس حکمت کی خصوصی تربیت دی جائے کہ اختلاف کے باوجود اتحاد اور اشتعال کے باوجود خاموشی کیسے اختیار کی جائے۔ اس مضمون کیلئے بہت ہی احسن طریقے سے نصاب مرتّب کیا جائے اور’ حکمت‘ نامی اس مضمون کو اتنی اہمیت دی جائے کہ اِس کیلئے روزانہ آدھے گھنٹے کا پریڈ مختص کیا جائے۔ 
 
 
(۲) فنِ تقریر و مباحثہ: بریج کورس میں (الف) فن تقریر میں واقفیت اور مہارت کی تربیت دی جائے۔ کلاس روم کے بجائے عوامی اسٹیج سے تقریر کرنے کی تربیت دی جائے۔ کلاس روم میں تدریس۔ خطاب ہر کسی کیلئے ممکن ہو سکتا ہے کیوں کہ وہاں موجود طلبہ کیلئے کوئی آپشن نہیں سوائے اس کے کہ وہ استاد کے سامنے ہاتھ باندھے بیٹھے رہیں۔ سنتے رہیں۔ عوامی اسٹیج سے خطاب کرتے وقت البتہ آپ کو یہ یاد رکھنا ہے کہ وہاں موجود سامعین کے سامنے یہ راستہ یا آپشن کھلا ہے کہ اگر آپ کی تقریر معلومات افزاء یا مؤثر نہیں ہے تو وہ اُٹھ اُٹھ کر جا سکتے ہیں۔ انھیں بتایا جائے کہ چیخنے چلّانے سے تقریر یاد گار نہیں بن جاتی۔ جذباتی۔ جوشیلی باتیں کر کے تقریر مؤثر نہیں بنتی۔ بے محل۔ بے تُکے اور جو شیلے اشعار سے تقریر میں حُسن نہیں آتا۔ اُنہیں سکھایا جائے کہ با مقصد۔ پُر مغز اور تحریک دینے والی تقریر کیسے کی جائے۔ آپ کے پاس دینے کیلئے واقعی کچھ ہوناچاہئے ورنہ سطحی اور جذباتی باتوں سے کوئی ایک آدھ بارکسی مجمع کومتاثر کر بھی سکتا ہے البتہ ہر بار آپ انہیں بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ اُنہیں سکھایا جائے صرف اپنے عمیق مطالعے۔ مشاہدے۔ تجربے اور ہر معاملے پر اپنی گہری فکر سے ہی علم۔ تربیت و تعلیم جیسے خشک موضوع پر بھی آپ گھنٹوں اظہارِ خیال کر سکتے ہیں اور لوگ ان باتوں کو قبول بھی کر لیں گے۔
 
 
( ب ) مباحثہ : مدارس کے فارغین کو بریج کورس کے ذریعے تربیت دی جائے کہ اب وہ ان موضوعات پر بحث و مباحثہ اور ڈبیٹ کریں گے (۱) وقت کی تنظیم یعنی ٹائم مینجمنٹ (۲) کسی کمپنی میں قائدانہ صلاحیت یعنی لیڈر شِپ کیسے؟ (۳) جدید ذرائع ابلاغ کتنے مفید۔ مضر (۴) مغربی ممالک سے ہم کن اچھائیوں کو اپنا سکتے ہیں (۵) خود اعتمادی میں بہتری کیسے؟ (۲) موجودہ تعلیمی نظام: خوبیاں اور کمیاں (۷) آپ کا رویہ کیسے طے کرتا ہے زندگی کی سمت (۸) کیا ووٹ دینا لازمی قرار دیا جائے؟ (۹) عالم کاری۔ نج کاری: فائدے اور نقصانات وغیرہ وغیرہ۔ 
ہمیں یقین ہے کہ اس قسم کا یہ بریج کورس دینی مدارس سے فارغین کو انتہائی احسن طریقے سے زندگی سے جڑنے میں انتہائی اہم بلکہ انقلابی کردار ادا کرے گا۔ 
فارغینِ دینی مدارس کیلئے اب مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب ہر جگہ بے شمار مواقع دستیاب ہیں۔ اب جامعۃ الفلاح بلریا گنج سے لے کر جامعہ الاسلامیہ ملا پور ( کیرالا) تک اور جامع محمد یہ مالیگاؤں سے لے کر مدرسہ عالیہ کلکتہ تک عا لمیت کے کورس کو ایس ایس سی کے مساوی اور فضیلت کے کورس کو بار ہویں تک کی قبولیت حاصل ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ جامعہ ہمدرد۔ مولانا آزاد اردو نیشنل یونیورسٹی۔ حیدرآباد۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی۔ انٹی گرل یونیورسٹی۔ محمد علی جو ہر یو نیورسٹی اور نہ جانے کتنی ہی یو نیورسٹیوں نے ان تمام عالم۔ فاضل اور حافظ طلبہ کیلئے اپنے کئی کورسیز میں داخلے کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ آئیے اب ایک سرسری نظر ڈالیں کہ ہمارے فارغینِ دینی مدارس کیا کیا کر سکتے ہیں :
(۱) ہوٹل مینجمنٹ: دینی مدارس سے فارغ طلبہ ہوٹل مینجمنٹ کا تین سالہ ڈگری کورس کر سکتے ہیں اور قرآنی عربی میں تو وہ ماہر ہیں ہی۔ بول چال کی عربی میں مہارت حاصل کرنے میں انھیں بمشکل دو تین ماہ درکار ہوں گے۔ اور اس صورت میں وہ ہوٹل اور ٹورزم انڈسٹری میں بے حد کامیاب ہوں گے۔ اُن ممالک میں جہاں ہوٹلوں میں شراب ممنوع ہے وہاں تنخواہیں بھی زبردست ہیں اور عربی زبان پر مہارت ہونے کی بنا پر انھیں مواقع بھی بے شمار ہیں۔ 
 
 
(۲) تدریس : دینی مدارس سے فارغین گریجویشن کے بعد بی ایڈ کر کے تدریس سے جُڑ سکتے ہیں۔ تاریخ۔ جغرافیہ۔ انگریزی اور اُردو مضامین کے ساتھ گریجویشن انھیں کرنا ہے۔ یعنی ان مضامین کے ساتھ جو اسکولی سطح پر پڑھائے جاتے ہیں۔ ان میں گریجویشن کرنا۔ اُنھیں کار آمد ثابت ہوگا۔ یہ طلبہ سائیکالوجی ( نفسیات ) سوشیالوجی ( سماجیات ) اور پالیٹیکل (سیاسی) سائنس میں گریجویشن کرنے کی غلطی نہ کریں کیوں کہ بی ایڈ ہونے کے باوجود انہیں کئی ریاستوں میں ملازمت کیلئے منظوری نہیں ملے گی۔ پھر انہیں کالج کی سطح پر پڑھانے کے مواقع تلاش کرنے ہوں گے جو بہت محدود ہوتے ہیں۔ 
(۳) اسلامی بینکنگ: دینی مدارس سے فارغین کو بریج کورس میں عام ریاضی پڑھائی جاتی ہے جس سے وہ کامرس کے گریجویٹ بھی بن سکتے ہیں۔ اور وہ کمپیوٹرائزڈ اکاؤنٹنگ کا چھ ماہ کا کورس کرتے ہیں تو اسلامی ممالک کی بینکوں اور مالیاتی اداروں میں بڑے عہدے حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلامی بیکنگ پر مبنی مالیاتی اِدارے آج دنیا کے کئی ملکوں میں قائم ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ اسلامی یا غیر سودی بینکنگ نظام میں بھی مسلمان منیجر۔ اکائونٹنٹ اور پروگرامر دستیاب نہ ہوں ؟ 
(۴)تبلیغ بذریعہ
 جدید ٹیکنالوجی: دینی مدارس سے فارنین کا ایک واضح ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی تبلیغ میں جُٹ جائیں۔ فی زمانہ دین کے پھیلاؤ کا کام کتابوں۔ رسائل۔ جرائد یا محلّوں میں گشت تک محدود نہیں رہا۔ اب غیر مسلموں تک پہنچنے کا کام جدیدٹیکنالوجی نے آسان کر دیا ہے۔ آج سبھوں کے پاس سیٹیلائٹ ٹی وی کا نیٹ ورک ہے نیز ان کی جیب میں اتنا ہی مؤثر اسمارٹ فون ہے۔ دینی مدارس کے فارغین ان سیٹیلائٹ یا نجی چینلوں سے جُڑ سکتے ہیں اور بجلی کی رفتار سے تیز اس میڈیاسے دین کی تبلیغ کا کام کر سکتے ہیں۔ 
 
 
(۵) مترجم : دنیا کے سارے ممالک میں اُن کی قومی زبان سے عربی اور عربی سے قومی زبان میں مترجم کی سخت ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ اس بناء پر آج غیر مسلم بھی عربی بول چال اور کارو باری عربی زبانیں سیکھ رہے رہیں۔ عربی مدارس کے فارغین گریجویشن کے بعد صرف ایک سال عربی سے انگریزی یا چینی یا ہندی یا جرمن وغیرہ زبان میں ترجمہ کرنے کے ماہر بن سکتے ہیں اور یہیں سے اُن کے ایک روشن مستقبل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ دنیا کے سارے سفارت خانے۔ ایئر پورٹ اور سرکاری دفاتر میں مترجم کیلئے ہمیشہ ملازمت کے مواقع دستیاب رہتے ہیں۔ 
(۶)وکالت : موجودہ حالات میں اب ہمیں اچھے قانون داں اور وکلاء کی سخت ضرورت ہے۔ دوسرے وکیل صرف قانون جانتے ہیں۔ دینی مدارس سے فارغین ملّت کا۔ سلاخوں کے پیچھے سسک رہے بے گناہ نو جوانوں اور ان کے والدین کا درد بھی سمجھتے ہیں لہٰذا ملّت کیلئے ان سے زیادہ کارآمد وکیل کون ہو سکتے ہیں ؟ کرنا کیا ہے۔ مدرسے سے فراغت کے بعد تین سال کا کورس کر کے لاء کی ڈگری حاصل کرنی ہے اور قانون کے پیچ وخم سمجھنے میں مزید دو تین سال کھپانے ہیں۔ 
(۷)سِوِل سروسیز : دینی مدارس سے دو تین فارغین نے حال ہی میں سوِل سروسیز کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے دینی مدارس کیلئے پیغام دے دیا ہے کہ یہ ان کیلئے ممکن ہے اور وہ ملک کی پالیسی مرتّب کرنے کے عمل کا ایک حصہ بن سکتے ہیں۔ کیا ہماری کوئی فلاحی تنظیم اس انتہائی اہم اور تاریخ ساز کام کیلئے سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے؟ دینی مدارس کے فارغین کی ذہنی استطاعت۔ اہلیت۔ لیاقت اور کمٹمنٹ پر آپ شک مت کیجئے۔ اس امتحان کے آخری مرحلے یعنی انٹرویو میں اگر وہ داڑھی وٹوپی کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ تب بھی انھیں دشواری نہیں آئے گی۔ ہمارے ان طلبہ کو اگر ہم تمام تر جدید معلومات سے باخبر کراتے ہیں۔ ان میں خود اعتمادی کو کوٹ کوٹ کر بھرتے ہیں۔ تو ہمیں یقین ہے تعصب دھرا کے دھرا رہ جائے گا۔ اس سے بڑی خوش بختی اس قوم کی کیا ہوگی کہ مدرسے کا مولوی ملک کی پالیسیاں مرتّب کرے گا!
(۸) مینجمنٹ : درجنوں مدارس میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ داخلہ دروازے پر ان طلبہ کے چپل۔ جوتے بڑی ترتیب سے رہتے ہیں۔ ان کی قیام گاہ میں جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ اُن کی کتابیں۔ کپڑے۔ بستر سب ترتیب سے ملیں گے۔ مہاراشٹر کے ایک مدرسے میں ۱۴؍ ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ دو پہر ایک بجے وہ ۱۴؍ ہزار بچّے کھانا شروع کرتے ہیں۔ دو بجے تک کھانے کا سیشن کامیابی سے ختم۔ رات۸؍ بجے اُسی تعداد میں طلبہ کھانا کھانے جمع ہوتے ہیں اور۹؍ بجے تک سب طلبہ کھانے سے فارغ۔ یہ سارا نظم۔ یہ انتہائی احسن انتظامی صلاحیت اِن مدارس کے طلبہ میں خود بخود آجاتی ہے۔ آپ کو نہیں لگتادینی مدارس کے یہ فارغین دنیا کا کوئی بھی مینجمنٹ کا کورس انتہائی کامیابی کے ساتھ کر سکتے ہیں ؟ آج ان کے لئے کئی کل/جُز وقتی مینجمنٹ کے کورسیز دستیاب ہیں۔ 
غرض یہ کہ تھوڑی سی محنت و لگن سے ہمارے دینی مدارس کے فارغین جدید ٹیکنالوجی کو اپناکر موجودہ سارے کریئرس سے جُڑ سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK