بھاری بھرکم ڈگریاں رکھنےوالا چنئی کا ایک معلم ۳۰؍ ہزار روپے ماہانہ پر ایک کالج میں تعلیم دیتا ہے اور پھر اپنی ضروریات کی تکمیل کیلئے رکشا چلاتا ہے۔
ڈاکٹر ای ٹی راجا جو ٹیکسی بھی چلاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
انگریزی ادب میں ایم فل اور پی ایچ ڈی۔ سائیکلوجی میں ایم ایس سی۔ بی ایڈ اور ٹیچر ایجوکیشن میں ڈپلومہ کرنے والا شخص ڈاکٹر ای ٹی راجا چنئی کے پریسیڈنسی کالج میں معاہدہ پر مبنی انگلش لیکچرر کی ملازمت کر رہا ہے۔ اس ملازمت میں بطور تنخواہ ڈاکٹر راجا کو۳۰؍ہزار روپے ملتے ہیں۔ یہ قلیل سی تنخواہ ان کے اہل خانہ کی روزمرہ ضرورتوں کو پورا نہیں کر پاتی لہٰذا کالج میں پڑھانے کے بعد جو وقت ملتا ہے اس میں وہ ٹیکسی چلاتے ہیں۔ وہ گزشتہ تقریباً ۶؍ برسوں سے کنٹریکٹ ٹیچر کے طور پر اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ چنئی کے ممتاز تعلیمی ادارے پریسیڈنسی کالج سے قبل انھوں نے کچھ دنوں تک نمکّل میں ۲۰؍ ہزار روپے ماہانہ پر پڑھایا ہے۔ ان اداروں میں انھیں صرف تدریس ہی کی ذمہ داری نہیں دی گئی بلکہ آئی کیو اے سی۔ اگزام سیل۔ طلبہ کی شکایات کا ازالہ کرنے والی کمیٹی اور ویب سائٹ کمیٹی کا کوآرڈی نیٹر بھی بنایا گیا۔ ڈاکٹر راجا نے کئی قومی اور بین الاقوامی سمیناروں میں مقالے۔ کلیدی خطبات اور کئی سمیناروں میں صدارت کے فرائض بھی انجام دیئے ہیں۔ تدریس کے علاوہ ایسی ادبی تقاریب میں ان کی فعال شرکت یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ ایک اچھے استاذ اور شعبۂ تعلیم کے انتظامی امور سے آگہی رکھنے کے ساتھ ہی زبان و ادب کے منظر نامہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ایسی گوناگوں صلاحیتوں کے حامل ڈاکٹر راجا کی داستان گزشتہ دنوں ایک انگریزی جریدے کی معرفت منظر عام پر آئی تھی۔
ڈاکٹر راجا کی تعلیمی اہلیت و تدریسی صلاحیت اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کی تفصیل بیان کرنے والی اس داستان میں اس کا ذکر نہیں تھا کہ آیا انھوں نے یوجی سی کا وہ امتحان پاس کیا ہے جو ڈگری سطح پر تدریس کیلئے لازمی ہے؟ بالفرض انھیں اس امتحان (نیٹ) میں کامیابی نہ ملی ہو تو ایسی صورت میں معاہدے پر بھی ان کا تقرر کیوں کر ممکن ہوا کیوں کہ ڈگری کالج یا یونیورسٹی میں پڑھانے کیلئے یوجی سی /نیٹ پاس کرنا لازمی ہے۔ اگر بعض اداروں میں کوئی استثنائی صورت پیدا ہوتی ہے توبھی اتنی قلیل تنخواہ پر تقرری نہیں ہوتی بلکہ ملازم کو کل تنخواہ کی وہ مقدار جسے بنیادی تنخواہ (بیسک پے) کہتے ہیں۔ دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر راجا کا معاملہ واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ ادارے کے ذریعہ ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈاکٹر راجا یا ان جیسے اکا دکا معاملات ہی ایسے ہیں یا کہ اعلیٰ تعلیمی سطح پر اساتذہ کے استحصال کا دائرہ اس قدر وسیع ہے جو سیکڑوں بلکہ ہزاروں کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے؟ ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی حقیقی صورتحال سے واقفیت رکھنے والوں کو یہ بخوبی پتہ ہے کہ ملک گیر سطح پر کالج اور یونیورسٹی میں مستقل تقرری کے عوض کنٹریکٹ اساتذہ کی تقرری نظام تعلیم کا جزو بن گئی ہے۔
ملک گیر سطح پر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تقرری کا معاملہ انتہائی تشویش ناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ اس ضمن میں حکومتی اعداد و شمار وہ حقیقت بیان کرتے ہیں جو ’وشو گرو‘ بننے کے دعوؤں کی قلعی کھول دیتی ہے۔ ملک کے ممتاز مرکزی تعلیمی اداروں بشمول آئی آئی ٹی۔ آئی آئی ایم۔ این آئی ٹی۔ میں مجموعی طور پر تقریباً ۲۹؍ فیصد اسامیاں خالی ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی سطح کے تعلیمی اداروں کے حالات مزید دگرگوں ہیں ۔ ان میں اکثریت ایسے اداروں کی ہے جہاں معاہدہ پر مبنی اساتذہ کے ذریعہ تدریسی امور انجام دئیے جارہے ہیں اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ ان اساتذہ کو تنخواہ کی شکل میں قلیل سی رقم اور بعض معاملات میں ۴؍ سو تا ۸؍ سو فی لیکچر دیئے جاتے ہیں۔ معاہدہ پر مبنی ملازمت کرنے والے ٹیچروں کا صرف مالی استحصال ہی نہیں ہوتا بلکہ انھیں تدریس کے علاوہ کئی ایسے اضافی کاموں کی بھی ذمہ داری دے دی جاتی ہے جن کی تکمیل مستقل اساتذہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سماج میں سفید پوش بنے رہنے کی خواہش سے مجبور اساتذہ یہ سب کام کرتے ہیں تب بھی نہ تو ان کی ملازمت یقینی ہوتی ہے اور نہ ہی انھیں مستقل اساتذہ کی طرح چھٹیاں۔ میڈیکل سہولیات اور پنشن کے فائدے ملتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایسی تشویش ناک صورتحال کے باوجود تدریسی امور کو بہتر بنانے کے بجائے ارباب اقتدار نے ان اداروں کو ایسا سیاسی پلیٹ فارم بنا دیا ہے جس کے ذریعہ اقتدار کی مدح سرائی کی جا سکے۔ نصاب میں تعصب اساس تبدیلی۔ ایک خاص مذہب و فکر کے حامل افراد کی تقرری اور مذہب کی بنیاد پر طلبہ کے ساتھ امتیازی رویہ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ ایسے حقائق ہیں جو ان اداروں کے معیار کو از خود عیاں کر رہے ہیں۔ ان اداروں کو تعلیم و تدریس کے معیار پر بہتر بنانے کے بجائے انتقامی سیاست کی خلش دلوں میں پالنے والے ارباب اقتدار پہلے سے قائم اداروں کے انہدام پر راضی نظر آتے ہیں۔ ارباب اقتدار کا یہ رویہ واضح کرد یتا ہے کہ ان کی نظروں میں تعلیم و تعلم کی کیا حیثیت ہے؟ جہاں تک چنئی کے ڈاکٹر راجاکا معاملہ ہے تو ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے پی ایچ ڈی کیلئے جو موضوع ’ہندوستان کے انگریزی مصنفوں کی تصانیف میں سیاہ طربیہ (Black Humour )۔ منتخب کیا تھا۔ ان کی زندگی خود سیاہ طربیہ کی ایک مثال بن گئی ہے۔ ڈاکٹر راجا جیسے ہزاروں افراد ہیں جو کہنے کو کسی کالج یا یونیورسٹی میں استاذ ہیں لیکن اقتدار کی ناقص تعلیمی پالیسیاں ان کی زندگیوں کے ساتھ سیاہ طربیہ کا کھیل مسلسل کھیل رہی ہیں ۔ ایسے اساتذہ کی حیثیت تعلیمی سرکس کے اس مسخرے کی مانند ہو گئی ہے جو اپنے آنسوؤں کو ضبط کر کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر ناظرین کو مسلسل ہنسائے جا رہا ہے۔