ابھی چند دنوں قبل تک ہر چوراہے۔ ہر کھیت اور ہر چوپال پر ایک ہی شکایت سنائی دے رہی تھی کہ’’اس بار ساون روٹھ گیا ہے۔ ‘‘ کسان پریشان تھے۔
بارش ہوتی ہے تو پیڑ پودوں اور فصلوں پر بہار آجاتی ہے لیکن پانی بھرنے سے سانپ وغیرہ باہر آجاتے ہیں اور خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تصویر: آئی این این
ابھی چند دنوں قبل تک ہر چوراہے۔ ہر کھیت اور ہر چوپال پر ایک ہی شکایت سنائی دے رہی تھی کہ’’اس بار ساون روٹھ گیا ہے۔ ‘‘ کسان پریشان تھے۔ دھان کی روپائی متاثر ہو رہی تھی۔ نہریں اور تالاب خشک پڑے تھے اور مویشیوں کیلئےچارے کی فکر الگ تھی۔ لوگ آسمان کی طرف دیکھ کر کہتے تھے کہ آخر وہ ساون کہاں گیا جس کی آمد پر زمین سبز چادر اوڑھ لیتی تھی...مگر قدرت کے فیصلے بھی نرالے ہوتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتےاِدھر کئی دنوں سے بادلوں نے ایسی کروٹ لی کہ یوپی کے اکثراضلاع جل تھل ہو گئے موسلا دھار بارش سے کئی جگہ سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ گنگا خطرے کے نشان سے اوپر بہنے لگی۔ چھوٹی چھوٹی ندیاں بھی بپھر گئیں۔ پگڈنڈیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ کچی سڑکوں پر چلنا مشکل ہو گیا ہے... بانس کے عارضی پل پھر سے یاد آنے لگے۔ جنہیں کبھی گائوں والے مل جل کر بنایا کرتے تھے۔
اِس وقت موسم کے کیا کہنے... آم اور نیم کے درختوں سے ٹپکتے قطرے۔ کھیتوں سے گزرتا پانی۔ مینڈکوں کی ٹرٹر۔ جھینگروں کی آوازیں اور بچوں کی پانی میں کھیلتی ٹولیاں ... یہ سب ساون کی وہ تصویریں ہیں جو دل کو خوش کر دیتی ہیں۔ لیکن جب یہی بارش حد سے بڑھ جائے تو خوشی آہستہ آہستہ فکر میں بدل جاتی ہے کیونکہ اسی بارش میں اکثر مکان گر جاتے ہیں۔ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پرتاپ گڑھ میں پیش آنے والا المناک حادثہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دلاتا ہے۔ مسلسل بارش نے ایک پرانے مکان کو اس طرح اپنی زد میں لیا کہ ایک ہی خاندان کی چھ زندگیاں چند لمحوں میں ملبے تلے دب گئیں۔ گھر کے ایک کمرے میں اے سی لگا ہوا تھا۔ اسلئے گرمی اور حبس سے بچنے کی خاطر گھر کے زیادہ تر افراد اُسی کمرے میں سوئے تھے۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہی کمرہ ان کی آخری آرام گاہ بن جائے گا۔ رات کو سب اپنے معمول کے مطابق سوئے لیکن رات میں ہونے والی موسلا دھار بارش سے گھر کی چھت گر گئی اور سب ملبے تلے دب گئے۔ چھت گرنے کی تیز آواز سن کر مقامی لوگ دوڑے ملبے تلے دبے لوگوں کو جلدی جلدی نکالا گیا لیکن اُس وقت تک چھ افراد کی موت ہو چکی تھی۔
ساون میں سب کچھ ہرا ہرا ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ مہینہ گائوں والوں کیلئے مشکل اور خطروں بھرا بھی ہوتا ہے۔ گائوں کے لوگ برسوں سے ایسے خطروں سے دوچار ہیں۔ بارش کا پانی جب بلوں میں بھر جاتا ہے تو سانپ خشک اور محفوظ جگہ کی تلاش میں کھیتوں۔ کھلیانوں۔ مویشیوں کے باڑوں بلکہ گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ساون اور بھادوں کے مہینوں میں سانپ کے ڈسنے کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چند روز قبل جھانسی سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی۔ دو کمسن بھائی سانپ کے ڈسنے کا شکار ہو گئے۔ ایک بچے نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ دوسرا اسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہا ہے۔ گاؤں میں اس واقعے کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ چند روز قبل گھر والوں نے ایک سانپ کو مار دیا تھا اور لوگ اسے اس کا بدلہ قرار دے رہے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد اس طرح کی باتیں اکثر گائوں میں سننے کو ملتی ہیں۔ اگرچہ اس کی سائنسی تصدیق موجود نہیں ہے لیکن ایک حقیقت سب مانتے ہیں کہ بارش کے موسم میں سانپوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
پرانے زمانے میں گاؤں کے بزرگ بچوں کو ننگے پاؤں کھیتوں میں جانے سے روکتے تھے۔ رات کے وقت لالٹین یا ٹارچ کے بغیر باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ گھاس۔ لکڑی یا بھوسہ اٹھانے سے پہلے ڈنڈے سے اسے ہلا کر دیکھ لیا جاتا تھا۔ چارپائی پر سونے سے پہلے بستر اچھی طرح جھاڑ لیا جاتا تھا۔ یہ احتیاطی تدابیر کسی وہم کی نہیں بلکہ ان کا برسوں کا تجربہ تھیں کیونکہ کئی بار بستر میں سانپ بیٹھے ہوتے تھے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ بارش کے موسم میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی جائے۔ اگر خدانخواستہ کسی کو سانپ ڈس لے تو جھاڑ پھونک یا ٹونے ٹوٹکے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے فوراً قریبی اسپتال پہنچایا جائے کیونکہ بروقت علاج ہی جان بچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
ساون کی وہ راتیں بڑی خوفناک ہوا کرتی تھیں۔ جب صحن میں کوئی ٹیڑھی لکڑی پڑی دکھائی دیتی تو بچے چیخ اٹھتے۔ سانپ... سانپ... پورا گھر جاگ جاتا۔ کوئی ڈنڈا لے کر دوڑتا۔ کوئی لالٹین اونچی کرتا۔ کوئی بچوں کو پیچھے ہٹاتا۔ جب قریب جا کر دیکھا جاتا تو معلوم ہوتا کہ وہ تو کسی درخت کی سوکھی ٹہنی یا رسی کا ٹکڑا ہے۔ پھر سب ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگتے۔ مگر چند لمحے پہلے تک سب کے دل زور زور سے دھڑک رہے ہوتے تھے۔ کئی بار تو ایسا بھی ہوتا کہ بکری کی رسی اندھیرے میں سانپ معلوم ہوتی اور صبح سورج نکلنے پر اس ’سانپ‘ کی حقیقت سامنے آتی تو بچوں کی خوب کھنچائی ہوتی۔ گھاس یا لکڑی اٹھانے سے پہلے ڈنڈے سے ہلانا۔ چارپائی پر سونے سے پہلے بستر جھاڑنا۔ دروازے کے پاس جمع پانی صاف کرنا اور رات میں ٹارچ یا لالٹین کے بغیر باہر نہ نکلنا۔ ہمارے بزرگوں نےاسی احتیاط سے نہ جانے کتنی جانیں بچائی ہوں گی۔