یہ تو اب ہونے ہی لگا ہے کہ بحث و مباحثہ کے بغیر بل منظور ہوجاتے ہیں ۔ حالیہ اجلاس میں بھی یہ ہوا۔ اس مضمون میں تین بلوں کی مثال اُن کی تفصیل کے ساتھ سے دی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: August 14, 2023, 2:41 PM IST | P. Chidambaram | Mumbai
یہ تو اب ہونے ہی لگا ہے کہ بحث و مباحثہ کے بغیر بل منظور ہوجاتے ہیں ۔ حالیہ اجلاس میں بھی یہ ہوا۔ اس مضمون میں تین بلوں کی مثال اُن کی تفصیل کے ساتھ سے دی گئی ہے۔
آمریت، حکومت نہیں ، اس کی ضد ہے۔ یہ مَیں نہیں کہتا، قانون کہتا ہے۔ آمریت میں قانون کی بالادستی کم ہوجاتی ہے، عوام کی مرضی و منشا کا دخل برائے نام رہ جاتا ہے، طاقت کی مرکزیت بڑھ جاتی ہے اور اکثریت کی رائے سب پر تھوپی جاتی ہے جو عموماً ایک فرد یا شخص (آمر) کی رائے ہوتی ہے۔ آمریت کے دور میں پارلیمنٹ کی حیثیت عضو معطل یا رَبر اسٹیمپ کی سی ہوجاتی ہے، وہ اِس طرح کہ پارلیمنٹ کی تمام سیٹوں پر برسراقتدار محاذ ہی کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایسی پارلیمنٹ قوانین بھی وضع کرتی ہے۔
بدقسمتی سے اُن پارلیمانوں نے بھی، جن کے اراکین عوام چنتے ہیں ، آمرانہ پارلیمانوں کی نقل شروع کردی ہے چنانچہ ان کے ذریعہ ایسے قوانین وضع کئے جارہے ہیں جو قانونی تقاضوں کی کسوٹی پر پورا نہیں اُترتے۔ میرے خیال میں ایسے قوانین جوازِ قانون کی کسوٹی پر بھی نہیں ٹھہر پاتے۔ اس کی تازہ مثال اسرائیلی پارلیمنٹ کے منظور کردہ اُس مسودۂ قانون کی ہے جسے قانونی جواز حاصل نہیں ہے۔ اس کا تعلق پارلیمنٹ کے بنائےہوئے قوانین پر عدالتوں کے حق ِ نظر ثانی کو محدود کرنے سے ہے۔ اس مثال کو سامنے رکھیں تو یہ اندیشہ سر اُبھارتا ہے کہ کیا ہمارا ملک بھی اُسی راستے پر چل نکلا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان بہت پیچھے نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ہمیشہ ایمرجنسی کے دور کی مثال دی جاتی ہے جو ۲۵؍ جون ۱۹۷۵ء سے ۲۱؍ مارچ ۱۹۷۷ء تک جاری تھی۔ اس لئے مَیں کسی تردد کے بغیر یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ اس دوران منظور ہونے والی کئی ترامیم اور وضع کئے جانے والے کئی قوانین ، قانونیت اور جوازِ قانون کی کسوٹی پر پورا نہ اُترنے والے تھے۔ اُس تناظر میں ، حالیہ دِنوں میں پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے قوانین کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ کم از کم تین قوانین ہیں جو آئینی حدود کو پھلانگتے ہیں :
(۱) جنگلات (کے تحفظ) کا ترمیمی بل: ۲۰۰۱ء اور ۲۰۲۱ء کی درمیانی مدت میں جنگلات کا رقبہ ۶؍ لاکھ ۷۵؍ ہزار ۵۳۸؍ مربع کلومیٹر سے بڑھ کر ۷؍ لاکھ ۱۳؍ ہزار ۷۸۹؍ مربع کلومیٹر ہوگیا۔ اس میں زمین اور درختوں کی گھنی چھتری کا تناسب ۴۰:۱۰؍ فیصد تھا۔ ایسے جنگلات جن میں درختوں کا ۴۰؍ فیصد سے زیادہ گھنا پن تھا اُن کا رقبہ صرف ۳۷؍ ہزار ۲۵۱؍ مربع کلومیٹر تھا۔ پارلیمنٹ میں جو ترمیمی بل منظور کیا گیا ہے اس میں ایسی دفعات ہیں جو ہمیں پیچھے کی طرف لے جاتی ہیں اور اس طرح ہم اپنے ۴۰؍ سال کے فائدہ پر پانی پھیرنے کے درپے ہیں ۔ وہ زمین جس کا اندراج جنگلات کے طور پر ہے مگر جنہیں ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۸۰ء کو نامزد (نوٹیفائی) نہیں کیا گیا اور وہ زمین جو ۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۶ء کو غیر جنگلاتی استعمال میں لائی گئی، اُسے حذف کردیا جائیگا۔ اسی طرح وہ قدرتی جنگلات جو نامزد نہیں کئے گئے اُنہیں بھی حذف کردیا جائیگا۔ یہ جو اخراج ہوگا وہ ۲۰۰۶ء کے فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت سنے گئے ایک کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے۔
یہ، فاریسٹ (کنزرویشن) ایکٹ ۱۹۸۰ء سے انحراف تو ہے ہی، جس انداز میں ترامیم کی گئی ہیں وہ آمرانہ طرز عمل ہی کی غمازی کرتی ہیں ۔ مزید برآں ، یہ بل جو منظور کیا گیا، وہ پارلیمنٹ کی متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی کو نہیں بھیجا گیا بلکہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو بھیجا گیا تھا۔ جے پی سی نے اکثریتی ووٹوں سے کسی بھی تبدیلی کا مشورہ نہیں دیا جبکہ اپوزیشن کے چھ اراکین نے شدید مخالفت کی تھی۔ مزید صلاح و مشورہ کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور اپوزیشن کے اراکین کے نقطۂ نظر کو سمجھے بغیر بل منظور کر لیا گیا۔ متعلقہ زمینوں کے باشندوں، ماہرین، ماحولیات کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے اعتراضات کو بھی قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ بل پر کوئی بامعنی مباحثہ بھی نہیں ہوا۔
(۲) کثیر ریاستی کوآپریٹیو سوسائٹی (ترمیمی) بل: مرکزی حکومت کا تشکیل دیا ہوا انتخابی عملہ، جسے الیکشن اتھاریٹی کہا گیا ہے، کثیر ریاستی کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے انتخابات کرائے گا۔ اب ان سوسائٹیوں میں حکومت کے حصص کو پیشگی منظوری کے بغیر ریڈیم نہیں کیا جاسکے گا جس کا معنی یہ ہے کہ سوسائٹیوں میں حکومت کی موجودگی یا عمل دخل کبھی ختم نہیں ہوسکے گا۔ سوسائٹیوں کے ممبران کی شکایات کو حکومت کا مقرر کردہ عہدیدار سنے گا۔ جن سوسائٹیوں میں حکومت کے حصص ہیں یا جنہیں حکومت نے لون دیا ہے وہاں کے بورڈ کی بالادستی بے اثر ہوسکتی ہے۔ یہ بل بھی بامعنی مباحثہ کے بغیر شوروغل کے درمیان منظور کیا گیا۔
(۳) جی این سی ٹی ڈی (ترمیمی) بل: آرٹیکل ۲۳۹؍ اے اے دہلی کے تعلق سے ایک خاص گنجائش پیدا کرتا ہے۔ اس کے ضمنی آرٹیکل (۴) میں تاریخی الفاظ درج ہیں : ’’وزیر اعلیٰ سربراہ ہوگا جو لیفٹننٹ گورنر (ایل جی) کو صلاح و مشورہ دے گا۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئین نے دہلی کیلئے ایک ایسی حکومت کی تائید کی ہے جو عوامی ہو اور جس کا پارلیمانی مزاج ہو۔ حکومت نے ہر ممکن کوشش کی کہ جی این سی ٹی ڈی یعنی گورنمنٹ آف نیشنل کیپٹل ٹیریٹری آف دہلی کو میونسپلٹی یا اس سے بھی نیچے کی سطح پر لے آئے۔ اس کے باوجود یہ کوشش دو مرتبہ ناکام ہوئی تو اب حکومت بمعنی مرکزی حکومت ایک ایسا بل لے آئی جس کے تحت سرکاری افسروں کی تقرری کا اختیار دہلی حکومت یا اس کے وزیرو ں کو نہیں رہ جائیگا بلکہ ایل جی اور اُس کے افسران کو ہوگا۔ یہ بل منظور ہوچکا ہے جیسا کہ آپ نے خبروں میں پڑھا ہے، چنانچہ اب سپریم کورٹ فیصلہ کریگا کہ یہ بل جو آرڈیننس کی شکل میں تھا، قانونی ہے یا نہیں ۔ جہاں تک میری رائے ہے اس کو جوازِ قانون حاصل نہیں ہے کیونکہ اس طرح ایل جی مرکزی حکومت کے وائسرائے کے طور پر کام کریگا جبکہ وائسرائے کا عہدہ اُسی وقت ختم کردیا گیا تھا جب انگریزوں نے ہندوستان چھوڑا تھا۔
ان تین بلوں کی مثال سے قارئین اچھی طرح جان لیں گے کہ کس طرح پارلیمنٹ میں غیر پارلیمانی طریقہ اختیار کرکے ان بلوں کو منظور کیا گیا، بحث نہیں کرائی گئی، اُن کی منظوری کا جو صحیح طریقہ تھا اسے بالائے طاق رکھ دیا گیا وغیرہ۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ یہ طرزِ عمل جمہوریت کو آمریت کے قریب تر کررہا ہے؟