Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ارون نہرو نے ہندوستانی سیاست میں ایسے کھیل کھیلے جن کے مضر اثرات ملک آج تک بھگت رہا ہے‘‘

Updated: August 10, 2026, 12:31 PM IST | Ghulam Arif | Mumbai

سینئر صحافی شاہد صدیقی کی یادداشتوں پر مشتمل انگریزی کتاب’آئی وٹنیس‘ کا ایک جائزہ، جس میںتقسیم ہند کے بعد مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور نفسیاتی کیفیت پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے، یہ مصنف کے طویل صحافتی تجربے، سماجی مشاہدات اور فکری اضطراب کا نچوڑ ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
گزرے زمانے کا اُردو ہفت روزہ ’نئی دنیا‘ آپ کو یاد ہوگا۔ اس کے مدیر، شاہد صدیقی نے اپنی انگریزی کتاب ’آئی۔ وٹنیس‘ میں اپنی یادوں کو قرطاس پر اتار کر پڑھنے والوں کو بیتے دور کی جھلکیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ کتاب کا عنوان بظاہر سادہ مگر معنوی اعتبار سے گہرا ہے۔ اس کا ترجمہ ’ میں شاہد ہوں ‘ محض مصنف کے نام یا ذاتی موجودگی کا اظہار نہیں بلکہ اُس عہد کے ظلم، ناانصافی، تعصب، سیاسی اتھل پتھل اور سماجی تغیرات پر ان کے گواہ ہونے کا بیان ہے۔ کتاب ان کے طویل صحافتی تجربے، سماجی مشاہدات اور فکری اضطراب کا نچوڑ ہے۔ اس میں ذاتی یادداشتیں بھی ہیں، قومی واقعات کا تجزیہ بھی اور اقلیتی وجود کے کرب کی بازگشت بھی۔ 
ایک زمانے میں نئی دُنیا اردو کا مقبول ترین ہفت روزہ تھا۔ شاہد صدیقی کا شمار ان چند ممتاز ہندوستانی اردو صحافیوں میں ہوتا ہے جنہیں ملک کی طاقتور ترین شخصیات سے براہِ راست ملاقات اور گفتگو کا موقع ملا۔ وہ اردو کے واحد صحافی ہیں جنہیں نریندر مودی نے اُس وقت انٹرویو دیا تھا، جب وہ گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے۔ شاہد صدیقی راجیہ سبھا کے رکن رہے اور کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سے ان کی وابستگی رہی۔ وہ عہدِ گزشتہ کے معروف صحافی عبدالوحید صدیقی کے فرزند ہیں۔ ۱۹۷۴میں پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کرنے کے بعد انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے دیش بندھو کالج میں طویل عرصے تک لیکچرار کے فرائض انجام دیے۔ 
 
 
کتاب میں تقسیمِ ہند کے بعد مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور نفسیاتی کیفیت پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔ شاہد صدیقی اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان نہ تو باہر سے آئے ہیں، نہ ہی عارضی مہمان ہیں ؛ وہ اسی مٹی کا حصہ اور اسی تہذیب کی پیداوار ہیں، اس کے باوجود انہیں بار بار اپنی وفاداری ثابت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعی تجربے پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ نہ رومانویت کا شکار ہوتے ہیں اور نہ محض نوحہ گری کرتے ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام، گجرات۲۰۰۲ء کے فرقہ وارانہ فسادات اور حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کو وہ محض الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل ذہنی اور سماجی عمل کے طور پر دیکھتے ہیں، جو مسلمانوں کو بتدریج حاشیے پر دھکیل رہا ہے۔ 
اگرچہ مصنف نے آزادی کے بعد سے اب تک کے سیاسی حالات پر مجموعی طور پر روشنی ڈالی ہے، تاہم اندرا گاندھی کی ایمرجنسی اور راجیو گاندھی کے دورِ اقتدار کو خاص باریکی سے پیش کیا ہے۔ ایمرجنسی کی نمایاں شخصیت سنجے گاندھی اپنے طرزِ عمل کے باعث شدید عوامی نفرت کا نشانہ بنے۔ اندرا گاندھی کی آمرانہ شبیہ کی تشکیل میں سنجے، ان کے جارحانہ طریقِ کار اور بے پناہ اقتدار کی خواہش کا بڑا دخل تھا۔ ان کی ایما پر بڑے پیمانے پر زبردستی نس بندی کے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کیلئے ایک بدنما داغ تھے۔ ایمرجنسی کے بعد ایک ملاقات کے دوران شاہد صدیقی نے جبری نس بندی کے متعلق سنجے گاندھی سے سوال کیا تھا۔ سنجے اپنے موقف پراڑے رہے اور یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا گیا تھا، جس کے باعث لوگ ان سے بدظن ہوئے۔ شاہد اس دلیل سے مطمئن نہیں تھے، کیونکہ وہ خود اور ان کا اخبار ایمرجنسی کی سختیوں کا شکار رہ چکے تھے۔ اس کے باوجود شاہد، افراد کو پرکھتے وقت مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو دیکھنے کے عادی ہیں، چنانچہ انہوں نے سنجے گاندھی کی شخصیت کے اُن پہلوؤں کا بھی ذکر کیا ہے جو عموماً نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔ سنجے خاموشی اور تحمل کے ساتھ مخاطب کی بات سنتے۔ کم گو تھے، مگر بلا لاگ لپٹ اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتے۔ واضح خیالات رکھتے اور اپنے ارادوں پر مضبوطی سے قائم رہتے۔ انہیں ہوائی جہاز اڑانے کا شوق تھا۔ روزانہ ہوابازی کرتے۔ ۳۰ جون ۱۹۸۰ءکی صبح انہوں نے اپنے چھوٹے طیارے سے اُڑان بھری، مگر کچھ ہی دیر بعد وہ حادثے کا شکار ہو ئے اور ہلاک ہو گئے۔ ان کے قریبی دوست اکبر ڈمپی کے مطابق یہ جہاز سنجے کو دھیرندر برہمچاری نے تحفے میں دیا تھا۔ ڈمپی کو شبہ تھا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ تخریب کاری تھی، اور اس کے پیچھے سوویت خفیہ ادارے کے جی بی کی سازش کارفرما تھی کیونکہ سنجے، اندرا گاندھی کو سوویت یونین سے دوری اور امریکہ سے قربت پر آمادہ کر رہے تھے۔ 
 
سنجے گاندھی کی موت کے بعد اندرا گاندھی پہلے جیسی نہ رہیں۔ وہ تنہا پڑ گئیں اور ان کے گرد سازشی ذہن رکھنے والے شاطر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ انہی حالات میں ارون نہرو کے ہاتھ غیرمعمولی طاقت آ گئی۔ پسِ پردہ رہتے ہوئے انہوں نے چند برسوں میں ہندوستانی سیاست میں ایسے کھیل کھیلے جن کے مضر اثرات آج تک ملک بھگت رہا ہے۔ کانگریس عموماً کھلی فرقہ وارانہ پوزیشن لینے سے گریز کرتی رہی تھی مگر مصنف کے مطابق ارون نہرو کے دور میں وہ سابقہ جن سنگھ سے بھی زیادہ ہندو نواز ہو گئی۔ کشمیر اور پنجاب میں حالات کے بگاڑنے میں ارون نہرو کا کردار اہم رہا۔ شاہد، کانگریسی لیڈر ایچ کے ایل بھگت کے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں :’’ارون کہتا ہے، کشمیر پنجاب کی آگ بھڑکنے دو، پھر ہم اسے بجھا کر دیش کا دل جیت لیں گے۔ ‘‘
اکتوبر۱۹۸۴ءمیں مسز گاندھی کو خود ان کے سکھ محافظوں نے گولیوں سے بھون دیا۔ اس سے چند ہفتوں قبل اندر کمار گجرال جو بعد میں ایک مختصر عرصے کیلئے وزیر اعظم بھی بنے، مصنف کے والد ماجد سے ملنے آئے اور یہ بات بتائی کہ ارون نہرو اور ان کے خاص دوستوں ذیل سنگھ اور بوٹا سنگھ نے پنجاب کی حقیقی صورتحال کے متعلق وزیراعظم اندرا گاندھی کو گمراہ کیا تھا۔ ہرمندر صاحب پر فوج کے آپریشن بلیواسٹار کو سکھوں نے اکال تخت پر براہ راست حملہ جانا۔ سکھوں کو دلی صدمہ پہنچا۔ اندرا کی موت کے بعد سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے، جن کے پسِ پشت بھی شاہد، ارون نہرو کا ذہن کارفرما دیکھتے ہیں۔ راجیو گاندھی کو سیاست میں دلچسپی نہ تھی لیکن مجبوراً انھیں اس دلدل میں قدم رکھنا پڑا۔ 
 
 
شاہد نے شاہ بانو کیس کا تفصیلی جائزہ تحریرکیا ہے۔ مسلم لیڈرشپ اس مسئلے کو سڑکوں پر لے آئی۔ ملک بھر میں بہت بڑے بڑے جلسے منعقد کئے گئے۔ جلوس نکالے گئے۔ مسلم رائے عامہ کے مخالف عارف محمد خان نے پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی حمایت میں تقریر کی۔ یہ بات مشہور ہوئی کہ وزیراعظم راجیو بھی فیصلے سےمتفق ہیں۔ کانگریس کے دیگر مسلم لیڈروں میں بے چینی پھیلی۔ وزیر ضیاء الرحمان انصاری نے راجیو گاندھی سے ملاقات کر کے مسلمانوں کے غم و غصے سے آگاہ کیا۔ یہ کیس ملک میں ایک بھونچال کا سبب بن رہا تھا۔ بالآخر ۱۹۸۶ء میں مسلم ویمن (پروٹیکشن آف رائٹس آن ڈائیورس) قانون منظور کیا گیا، جس نے عملی طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو بدل دیا۔ اس موقع کا بی جے پی نے فرقہ وارانہ خلیج کو مزید گہرا کرنے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پسِ پردہ ایک اور سیاسی بساط بچھائی جا رہی تھی۔ ارون نہرو، صدر ذیل سنگھ کے تعاون سے خود وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے تھے، مگر راجیو گاندھی نے انہیں حاشیے پر دھکیلنا شروع کر دیا۔ اب ارون نہرو نے رام جنم بھومی تحریک چلانے والی وی ایچ پی کو شہ دینی شروع کی۔ نتیجتاً مسلمانوں کو مطمئن کرنے کیلئے بنائے گئے قانون کے توازن کے نام پر بابری مسجد کا تالا کھلوا کر پوجا پاٹھ کا راستہ ہموار کیا گیا۔ بظاہر یہ فیض آباد کے ضلع مجسٹریٹ کا حکم تھا، مگر سب جانتے تھے کہ چند ہی گھنٹوں میں ٹی وی کیمروں کے سامنے اس پر عمل درآمد کیسے ممکن ہوا۔ 
شاہد صدیقی کی تحریر کا نمایاں وصف ان کی داستان گوئی ہے۔ وہ واقعات کو محض خبروں کی صورت میں پیش نہیں کرتے بلکہ پس منظر، کردار اور عہد کے تناظر کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ ان کی نثر میں بے تکلفی اور خود اعتمادی نمایاں ہے۔ وہ نہ طاقت کے مراکز سے مرعوب دکھائی دیتے ہیں، نہ اپنی قربتوں کو چھپانے کی غیر معمولی کوشش کرتے ہیں۔ یہی صاف گوئی ایک طرف ان کی تحریر کو قوت بخشتی ہے تو دوسری طرف شکوک کے دروازے بھی کھولتی ہے۔ ان کی شخصیت متنازع ضرور ہے، مگر ان کی بات میں تاثیر ہے۔ وہ اردو صحافت کے اس دور کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں مدیر خبر سنانے کے ساتھ ساتھ اپنی موجودگی کا اعلان بھی کرتا تھا۔ ان کی زندگی، صحافت اور سیاست میں اس طرح باہم پیوست ہے کہ انہیں الگ الگ دیکھنا ممکن نہیں۔ یہی باہمی الجھاؤ ان کی شناخت بھی ہے اور ان پر ہونے والی تنقید کی بنیاد بھی۔ ’آئی وٹنیس‘ قارئین کیلئے ایک ایسی دستاویز ہے جسے پڑھتے ہوئے کسی دلچسپ داستان کے مطالعے جیسا لطف حاصل ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK