Inquilab Logo Happiest Places to Work

ونوبا بھاوے کی ایک اہم کتاب’’زندگی اور تعلیم‘‘

Updated: August 10, 2026, 11:29 AM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

آج نہ تو وِنوبا بھاوے کا یوم ولادت ہے نہ ہی یوم وفات مگر مضمون نگار کا کہنا ہے کہ اُنہیں بھاوے جی کی ایسی کتاب مل گئی جو اُن کی تقاریر کا مجموعہ ہے۔ ایسی کتابیں اب نہیں پڑھی جاتیں اس لئے، کم از کم، ان کا خلاصہ مل جائے تو پڑھنا چاہئے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
اِن دنوں ہماری علمی اور تہذیبی دنیا میں نوجوانوں کا ذکر ایک رجحان کے طور پر جاری ہے۔ ان حالات میں کسی ایسی کتاب کے مل جانے کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے جو نئی نسل کیلئے خاص طور پر پیش کی گئی ہو۔ یہ کتاب نہ جانے کہاں چھپی ہوئی تھی لیکن اس کے نمودار ہونے کی کہانی حیرت میں ڈالتی ہے۔ کچھ کتابوں کو دیکھتے ہوئے یہ کتاب نکل آئی کہ جیسے یہی وقت اس کے پردہ سے باہر آنے کا تھا۔ موجودہ وقت رفتہ رفتہ ایک تاریخ بنتا جا رہا ہے اور اس کا بڑا سبب نوجوانوں کا اپنے مسائل کے تئیں حساس اور بیدار ہو جانا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بیداری کی یہ صورت پیدا ہوئی ہو ، لیکن کہا یہی جا رہا ہے کہ اس کی اپنی ایک منطق اور ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو جس تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہے اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہیں گے کہ بے شک تعلیم اور تربیت ہماری بنیادی ضرورت ہے مگر تعلیم اور تربیت کا مطلب سننا اور خاموش رہنا نہیں ہے۔ ہماری الجھنیں بہت مختلف ہیں جن الجھنوں کی زبان بھی ہماری اپنی ہے۔
 
 
یہ کتاب مختلف تقریروں کا مجموعہ ہے جس میں چالیس  تقریریں شامل ہیں۔ یہ کتاب جو میرے پیش نظر ہے وہ  ۱۹۶۵ء میں شائع ہوئی اور یہ کتاب کا پانچواں ایڈیشن ہے۔ کسی تقریر کے نیچے کوئی تاریخ درج نہیں ہے۔ ۱۹۱۶ء میں ونوبا بھاوے کی گاندھی جی سے پہلی ملاقات ہوئی جس کے بعد وہ گاندھی جی کے ساتھ ہو گئے۔ انہیں کئی اعتبار سے گاندھی جی کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے۔  زندگی کی سادگی اور سچائی کا جو عملی نمونہ انہوں نے پیش کیا وہ بھی گاندھی جی کی روایت کا ایک اہم حوالہ ہے۔ چھوٹی بڑی یہ تقریریں زندگی کی عام باتوں سے متعلق ہیں اور ان کا رشتہ اپنے دور کی سیاست سے بھی ہے اور ریاست سے بھی۔ غریبوں میں زمین تقسیم کرنے کی تحریک   ونوبھاوے کی زندگی کا ایک اہم حوالہ ہے۔ یہ موضوع مستقل ایک کالم کا متقاضی ہے جس پر آنے والے وقت میں کچھ لکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس وقت تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نوجوانوں کے لئے انہوں نے جو نسخے تجویز کئے تھے کیا ان کی ضرورت ہمارے وقت کے نوجوانوں کو بھی ہے؟ اور یقینی طور پر یہ نسخے اپنی ثقافتی زمین میں اس قدر پیوست ہیں کہ ان کی اہمیت ہمیشہ باقی رہے گی۔
ونوبا بھاوے کی پہلی تقریر کا عنوان زندگی اور تعلیم ہے جس کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے: ’’اے خدا مجھے غیر سچائی میں سے سچائی میں لے جا، اندھیرے میں سے روشنی میں لے جا، موت میں سے بے موت میں لے جا۔‘‘ یہ سادہ سے اور عام سے جملے بظاہر بہت پرانے معلوم ہوتے ہیں۔ بلاشبہ یہ خیالات پرانے ہیں مگر زندگی کو  آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہر طرف سچائی کا دعویٰ ہے اور روشنی کا بھی۔ تو سوال یہ ہے کہ جھوٹ کہاں ہے اور اندھیرا کہاں ہے۔ اور اگر کہیں جھوٹ اور اندھیرا نہیں ہے تو یہ دنیا ایسی تو نہیں ہو سکتی جیسی کہ دکھائی دیتی ہے۔ اس دنیا کو بدصورت کہتے ہوئے اپنی اور دنیا کی توہین معلوم ہوتی ہے مگر ونو بھاوے نے جو دعا کی تھی اُس کے الفاظ کو آج پھر دہرانے کی ضرورت ہے۔
 
 
مذکورہ دعا کے بعدونوبا بھاوے سوال کرتے ہیں کہ اس میں ہم  کہاں ہیں۔ ہماری زندگی کی صورت کیا ہے اور ہمیں کہاں جانا ہے۔ وہ اپنے عقیدے کے مطابق خود کو عمل کا پابند بتاتے ہیں اور نتیجے کو خدا سے منسوب کر دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں راستہ اور منزل کی مثال دیتے ہوئے وہ مسافر کی کوشش کو اہم قرار دینے کے باوجود، خدا کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ سفر عملی بھی ہے اور روحانی بھی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں: ’’ آج کے مختلف تعلیمی طریقہ ہائے کار کے سبب زندگی کے دو ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ زندگی کے پہلے پندرہ بیس سال میں  آدمی جینے کی جھنجھٹ میں نہ پڑ کر صرف تعلیم کو حاصل کرے اور بعد کو تعلیم کو بستے میں لپیٹ کر مرنے تک جیے۔ یہ روش قدرت کے منصوبے کے خلاف ہے۔‘‘ ونوبا بھاوے خواب کا ذکر کرتے ہیں جو ہر نوجوان دیکھتا ہے یا اسے دیکھنا چاہئے۔ وہ بہت عام فہم انداز میں بڑھتی ہوئی عمر کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب نوجوان سے پوچھا جاتا کہ تم میٹرک کے بعد کیا کرو گے تو وہ جواب دیتا ابھی سوچا نہیں ہے۔ انہوں نے ایک نوجوان کا مکالمے کی صورت میں ذکر کیا ہے کہ وہ ہمیشہ یہی کہتا کہ ابھی سوچا نہیں ہے کہ کیا کرنا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار ہیں۔ ونوبا بھاوے زندگی کو ذمہ داری کا نام دیتے ہیں۔ موت بھی ان کے نزدیک ایک بڑی سچائی کے ساتھ ساتھ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ وہ اپنے وقت کے لڑکوں اور نوجوانوں کو مشکل اور مصیبت کی گھڑی سے خبردار کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی لڑکوں کے یہاں اتنی طاقت نہیں آئی ہے کہ وہ مشکل حالات کا سامنا کر سکیں۔  دھیرے دھیرے ان کے یہاں مضبوطی آئے گی۔
 
 
ونوبا بھاوے تعلیم کو ایک پھل قرار دیتے ہیں۔ نوجوان لڑکوں سے اور بچوں سے ان کی یہ ہمدردی فطری ہے مگر اب نوجوانوں کی دنیا ویسی نہیں رہی جیسی اس کتاب میں دکھائی دیتی ہے۔ کچی عمر بہرحال کچی عمر ہے لیکن اطلاعات کی کثرت نے عمروں کے فرق کو بڑی حد تک مٹا دیا ہے۔ ونوبا ماں اور باپ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی قدردانی کو تعلیم کا سب سے بڑا نتیجہ کہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ ماں بیمار ہے اس کی خدمت کرنے میں مجھے خوب تعلیم ملے گی۔ مگر اس تعلیم کے  لالچ سے مجھے ماں کی خدمت نہیں کرنی ہے۔ خدمت تو میرا فرض ہے اس جذبے سے مجھے ماں کی خدمت کرنی چاہئے اور ماں بیمار ہے اور اس کی خدمت کرنے سے میری دوسری چیز جسے میں تعلیم سمجھتا ہوں وہ جاتی ہے تو اس تعلیم کے برباد ہونے کے ڈر سے مجھے ماتا کی سیوا نہیں ڈالنی چاہئے۔‘‘ تعلیم و تربیت کا یہ تصور ہماری علمی اور تہذیبی زندگی میں موجود تو ہے لیکن موجودہ تیز رفتار زندگی میں خدمت کا جذبہ بھی آگے آگے بھاگتا جاتا ہے اور فرض کہیں پیچھے چھوٹ جاتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنے مستقبل کی بابت برابر سوچنا چاہئے تاکہ اچانک کوئی مشکل صورتحال نہ آن پڑے۔ ونوبا نے زندگی اور عمل پر بلکہ نظریے پر غور کرتے ہوئے کئی اہم باتیں لکھی ہیں۔ نظریے اور خیال کو وہ زندگی سے وابستہ کر کے دیکھتے ہیں ورنہ ان کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں: ’’ انسان گھر میں جیتا ہے اور مدرسے میں وچار سیکھتا ہے اس لئے زندگی اور خیال کا میل نہیں بیٹھتا۔‘‘ پڑھنے اور پڑھانے والا ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں یہ کتاب کئی طرح سے غور کرنے کی تحریک پیدا کر سکتی ہے۔ ایک پڑھانے والا کوئی دوسرا کام نہیں کر سکتا یہ اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم و تربیت اس کا بنیادی مسئلہ ہو ورنہ ایک شخص کئی کام کرنا چاہتا ہے اور کسی کے ساتھ انصاف نہیں کرتا۔
features Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK