غلام نبی ڈار نے اپنے بیٹے کو ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کئے جانے پرخوشی کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 11:45 AM IST | Srinagar
غلام نبی ڈار نے اپنے بیٹے کو ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کئے جانے پرخوشی کا اظہار کیا۔
لوگ میرے پاس آتے ہیں، مجھے گلے لگاتے ہیں اور کہتے ہیں،یہ عاقب کے والد ہیں۔ یہ میرے لئے بے حد فخر کی بات ہے۔ یہ الفاظ جموں کشمیر کے کرکٹر عاقب نبی کے والد غلام نبی ڈار کے ہیں، جن کے بیٹے نے ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا کر اپنے خاندان اور پورے خطے کے لئے تاریخ رقم کردی ہے۔
۲۹؍ سالہ آل راؤنڈر عاقب نبی کو سری لنکا کے خلاف ۱۵؍ اگست سے شروع ہونے والی ۲؍ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کیلئے جسپریت بمراہ کی جگہ ہندوستانی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح وہ جموں کشمیر کے پہلے کرکٹر بن گئے ہیں جنہیں ہندوستان کی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ ملی ہے۔
عاقب کے والد غلام نبی ڈار ایک اسکول ٹیچر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ چاہتے تھے کہ عاقب تعلیم پر توجہ دیں اور ڈاکٹر بنیں کیونکہ انہیں کرکٹ میں کوئی مستقبل نظر نہیں آتا تھا۔ انہوں نے کہاکرکٹ میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ کھیل میں وقت ضائع ہوتا ہے، اس لئے میں عاقب پر تعلیم پر توجہ دینے کے لئے زور دیتا تھا۔ تاہم عاقب کی کرکٹ سے محبت اور مسلسل محنت نے ان کی سوچ بدل دی۔
یہ بھی پڑھئے: یشسوی کی نصف سنچری، گل نصف سنچری سے محروم، ہندوستان کی فتح
بی بی سی رپورٹ کے مطابق غلام نبی نے کہا ’’اس کی کرکٹ سے محبت دیکھنے کے بعد میں نے اسے قبول کرلیا۔ مجھے احساس ہوا کہ والد اور استاد کی حیثیت سے مجھے اسے کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے جو وہ نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے اس کی حمایت شروع کردی۔غلام نبی نے کہا’’جب آپ اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن آپ کو پہچان نہیں ملتی تو تکلیف ہوتی ہے لیکن ہمیں کبھی امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔ امید ہی دنیا کو قائم رکھتی ہے۔ مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ اس کا وقت ضرور آئے گا۔‘‘
سفرآسان نہیں تھا
بارہمولہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پرورش پانے والے عاقب نے محدود سہولیات کے باوجود کرکٹ میں اپنا سفر جاری رکھا۔ ان کے کزن بلال احمد ڈار نے بتایا کہ عاقب تقریباً ۱۰؍ سال تک روزانہ صبح جم جاتے اور اس کے بعد دن بھر کرکٹ کی مشق کرتے تھے۔عاقب بہت محنتی اور مستقل مزاج ہیں۔ وہ رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا اور اپنے لئے راستہ بنانا جانتے ہیں۔‘‘عاقب کو کرکٹ کی بہتر سہولیات حاصل کرنے کیلئے باقاعدگی سے تقریباً ۷۰؍ کلومیٹر دور سری نگر جانا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے پہلی بار ٹرائلز میں حصہ لیا تو ان کے پاس اسپائک جوتوں کا جوڑا بھی نہیں تھا۔