• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نائن الیون پر افسوس کیجئے اور کچھ سوچئے بھی!

Updated: September 06, 2026, 1:34 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

امریکہ کی خصلت یہ ہے کہ جنگ اسے بہت پسند ہے۔ و ہ جنگ کے بہانے تلاش کرتا ہے۔ بھلے ہی اُن جنگوں میں پھنس جاتا ہے مگر جنگوں سے باز نہیں آتا۔ اسکے اسباب ہیں۔ نائن الیون قریب آنے پر اس بابت سوچنا چاہئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

نائن الیون (۱۱؍ ستمبر) کے حملوں کی ۲۵؍ ویں برسی جلد ہی آنے والی ہے۔ امریکی عوام سوگ منائیں گے اور اس دوران کچھ وقت نکال کر پیٹرول کی بڑھتی قیمت کا شکوہ کرینگے جو ایک اور جنگ کے نتیجے میں ان پر مسلط ہوئی ہے۔ امریکی میڈیا کا جائزہ لینے سے آپ یہ اندازہ لگا پائینگے کہ بیرونِ ملک اپنی فوجی طاقت کے استعمال میں احتیاط برتنے کی بنیادی وجہ وہاں کے عوام کی اخلاقی اقدار نہیں ہیں۔ یقیناً، یہ ان لوگوں کے اخلاقی اصول بھی نہیں ہیں جو ملک کا انتظام چلاتے ہیں۔ جب ان کے طیارہ بردار بحری جہاز دور دراز علاقوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ دوسروں پر بمباری کر کے انہیں ہلاک اور املاک کو تباہ کریں، تو ان کے ذہنوں میں یہ سوال رہتا ہے کہ امریکیوں پر اس کا کوئی منفی اثر تو نہیں پڑےگا!
وینزویلا کے تیل پر قبضہ جارحیت تو ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ لوٹ مار بھی ہے مگر اس پر کسی کو اعتراض نہیں البتہ ( اس کے برعکس)، ایران کے خلاف اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی ان کے یعنی امریکیوں کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ 
اس ماہ امریکہ نے اعلان کیا کہ ایک امریکی کمپنی کو وینزویلا میں تیل کے ۱۷؍ ایسے ذخائر (آئل فیلڈز) کیلئے ۱۰۰؍ سال کا ٹھیکہ یا اجازت نامہ دیا جائے گا جن میں مجموعی طور پر ۶۵؍ بلین بیرل خام تیل موجود ہے۔ ٹرمپ، جنہیں امریکی صدور میں سب سے زیادہ ’کھرا‘ اور صاف گو مانا جاتا ہے، نے کہا کہ اس ملک کا انتظام خود امریکہ چلائے گا۔ اس خبر سے متعلق بی بی سی کی سرخی کچھ یوں تھی: ’’امریکہ کا تیل کا غیر معمولی معاہدہ: تجزیہ کار ششدر، وینزویلا کے باشندے برہم‘‘۔ البتہ، آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ اس پر ناراض ہونے والے امریکیوں کی تعداد بہت کم تھی۔ 
سامراجیت کو سمجھنا ہو تو عراق ایک نمایاں مثال ہے۔ صدام حسین کو ۲۰؍ سال قبل پھانسی دی گئی تھی۔ اُن کے ملک پر اُس وقت حملہ کیا گیا جب امریکی عوام کو اِس جھوٹ کا یقین دلایا گیا کہ ایک ایسا جوہری پروگرام تیار کیا جا رہا ہے جو اُن کیلئے خطرہ بن سکتا ہے یا عراق میں عام تباہی کے ہتھیار ہیں۔ اب ایرانیوں کے خلاف بھی ایسا ہی جھوٹ آزمایا جارہا ہے مگر امریکیوں کو اس پر اعتراض نہیں ؛ اُن کی بنیادی فکر صرف یہ ہے کہ ایران اُن کی زندگیوں میں مداخلت نہ کرے۔ ایک خبر کی سرخی میں کہا گیا: ’’ڈیزل معیشت کا خون ہے: امریکہ میں اس کی قیمت ۵ء۸۴۸؍ ڈالر فی گیلن کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی‘‘۔ اس سرخی میں لفظ ’خون‘ کا استعمال کیا گیا مگر کسی نے اس کو نہ تو طنز سمجھا نہ ہی تضاد، یقیناً، اس پر شرمندگی بھی محسوس نہیں کی گئی۔ 
عراق ایک درمیانی کیفیت یا ’’مڈل گراؤنڈ‘‘ کی بہترین مثال کیوں ہے؟ اگرچہ اس پر ہونے والی چڑھائی (حملہ) خونریز تھی، لیکن آج بھی امریکہ وہاں کسی فوجی طاقت کے استعمال کے بغیر مکمل غلبہ رکھتا ہے۔ امریکہ عراق کی تیل کی آمدنی کو کنٹرول کرتا ہے، جسے نیویارک فیڈرل ریزرو میں موجود عراقی بینک اکاؤنٹ میں جمع کروانا لازمی ہے۔ یہ صورتحال ۲۰۰۳ء سے چلی آ رہی ہے، یعنی ۲۳؍ سال سے۔ خام تیل عراق کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہے اور ملکی بجٹ کا تقریباً ۹۰؍ فیصد اسی سے ملتا ہے۔ ۱۱؍ جنوری ۲۰۲۰ء کو ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے ایک خبر شائع کی جس کی سرخی یہ تھی: ’’امریکہ کی عراق کو تنبیہ: اگر فوجیوں کو نکلنے کا کہا گیا تو اہم بینک اکاؤنٹ تک رسائی کھونے کا خطرہ ہے۔ ‘‘ اس بات کو سمجھنے کیلئے مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں، لیکن ہر خاص و عام کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ عراقی حکام پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے امریکہ سے اپنی فوج واپس بلانے کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ 
 کیا اس سے امریکیوں یا ان کی سیاست پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ امریکی، عراق اور افغانستان میں ہلاک ہونے والے پانچ لاکھ افراد کی موت کا جتنا غم کرسکتے ہیں اُس سے بھی کم افسوس اُنہیں اس صورت حال پر ہوگا۔ براؤن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر ۹؍ لاکھ افراد براہِ راست جنگی تشدد میں اور ۴۵؍ لاکھ افراد بالواسطہ طور پر فوت ہوئے۔ افغانستان، پاکستان، عراق، شام، لیبیا، یمن، صومالیہ اور فلپائن کی جنگوں کے نتیجے میں تقریباً چار کروڑ افراد بے گھر ہوئے۔ اگر سیاسی بحث میں ان جنگوں اور ان کے اثرات کا ذکر کیا بھی جاتا ہے، تو عموماً، ان پر ضائع شدہ سرمائے کا ہی حوالہ دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں ہے: ’’عراق، افغانستان، پاکستان، شام اور دیگر مقامات پر نائن الیون کے بعد لڑی جانے والی جنگوں کا مجموعی خرچ تقریباً ۸؍ کھرب ڈالر ہے۔ اس میں جنگوں کی خاطر لئے گئے قرض پر مستقبل میں اداکی جانے والے سود کی رقم شامل نہیں ہے۔ ‘‘  اس بیان میں اموات کا ذکر نہیں ہے۔ 
جو امریکی سیاستداں جنگوں کا معاملہ اٹھاتے ہیں، مثلاً نیویارک کے نوجوان میئر(ممدانی)، انہیں اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ ’جتنا ہونا چاہئے اُتنے سامراجی‘ نہیں ہیں۔ جس وقت مَیں یہ سطور لکھ رہا ہوں، انہیں دباؤ میں لیا جا رہا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں نیویارک میں ہونے والی نائن الیون کی تقریب میں شریک نہ ہوں۔ ان کے مخالفین کی جانب سے پیش کی جانے والی وجوہات مبہم ہیں، لیکن عام تاثر یہی ہے کہ اس کی وجہ اُن کا مسلمان ہونا ہے۔ اس دباؤ کے ساتھ، جیسا کہ اکثر ایسے معاملات میں ہوتا ہے، یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ درحقیقت متعصب وہ خود ہیں۔ امریکی میزائلوں نے ایران میں اسکول کی طالبات کو شہید کیا، ایک ایسی حقیقت جسے خود امریکی میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے، لیکن فوج کو اس کے اقدامات پر کوئی نہیں ٹوکتا۔ ایسا کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ 
یقیناً، تعزیتی تقریب میں ان باتوں کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔ یہ تقریب محدود اور یک رخی ہوگی جس میں صرف ایک متاثرہ فریق کو پیشِ نظر رکھا جائے گا: امریکہ۔ امریکہ دوسروں کے ساتھ کیا کر رہا ہے، یہ ایک الگ معاملہ ہے اور اس کا نائن الیون اور اس کے متاثرین کی یاد منانے کے عمل سے کوئی تعلق نہیں جوڑا جا سکتا۔ 
 ایک سال قبل ٹرمپ نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر محکمہ جنگ رکھ دیا۔ شاید اس لئے کہ امریکی فوج کا وجود محض اپنے دفاع کیلئے نہیں ہے؛ اس کا بنیادی مقصد دوسروں پر جنگ تھوپنا ہے۔ بہرکیف نائن الیون کی ۲۵؍ ویں برسی پر، باقی دنیا کو بھی سوچنا چاہئے۔ نہ صرف اُن لوگوں کی بابت جو فوت ہوئے، بلکہ اس بارے میں بھی کہ یہ واقعہ یا سانحہ کیوں پیش آیا، اس کے حقیقی اسباب کیا تھے اور اس کے بعد کیا کچھ ہوا۔ اندرونی دباؤ کے بغیر امریکہ خود کو درست نہیں کرتا۔ یہ بات ہم سب کو ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK