• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایران کے کوہ کلنگ‌گزلا کو نشانہ بنا سکتا ہے، خارگ کے قریب ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملے

Updated: September 05, 2026, 9:40 PM IST | Washington/Tehran

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج پورے ایران میں ہونے والی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس مقام پر کسی بھی خطرے کا پتہ چلنے پر بھرپور جواب دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم بہت جلد کوہ کلنگ‌گزلا پر حملہ کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم کوہ کلنگ‌گزلا پر حرکت کرنے والے ہر شخص کو جانتے ہیں؛ ہم پورے ایران میں ہر جگہ حرکت کرنے والے ہر فرد کو جانتے ہیں۔ اور اگر کچھ بھی غلط ہوا تو ہم ان پر حملہ کریں گے؛ ہم ان پر شدید وار کریں گے۔“

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے دن ایران کو دھمکی دی کہ مستقبل قریب میں ایران کے زیرِ زمین قلعہ بند مقام، کوہ کلنگ‌گزلا (پِک ایکس ماؤنٹین) کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وہاں ہونے والی سرگرمیوں کی قریبی انٹیلی جنس نگرانی کا حوالہ دیا۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج پورے ایران میں ہونے والی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس مقام پر کسی بھی خطرے کا پتہ چلنے پر بھرپور جواب دیں گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ”ہم بہت جلد کوہ کلنگ‌گزلا پر حملہ کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم کوہ کلنگ‌گزلا پر حرکت کرنے والے ہر شخص کو جانتے ہیں؛ ہم پورے ایران میں ہر جگہ حرکت کرنے والے ہر فرد کو جانتے ہیں۔ اور اگر کچھ بھی غلط ہوا تو ہم ان پر حملہ کریں گے؛ ہم ان پر شدید وار کریں گے۔“

یہ بھی پڑھئے: ایران کی شادی کی تقریب پر حملے کو امریکی نائب صدر نے ’حادثہ‘ قرار دیا

واضح رہے کہ کوہ کلنگ‌گزلا ایران کی نطنز تنصیب کے قریب واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میں انتہائی گہرے سرنگوں کے دو نظام موجود ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ ایران نے ہزاروں سینٹری فیوجز کو اس مقام پر منتقل کر دیا ہے، جس کی زیرِ زمین تعمیر کو سطحی تنصیبات کے مقابلے میں روایتی فضائی حملوں کے خلاف کہیں زیادہ مزاحم سمجھا جاتا ہے۔

ریڈار پر حملے اور جوہری دعوے

ٹرمپ نے ایرانی ریڈار تنصیبات پر حالیہ امریکی حملوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی افواج نے دو الگ الگ مواقع پر جدید ریڈار سسٹمز کو اس وقت تباہ کیا جب ایران نے پہلے حملے میں ناکارہ ہونے والے آلات کو تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریڈار کی نئی سرگرمیوں کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران مزید نقصانات سے محتاط ہو چکا ہے: ”میرے خیال میں وہ انہیں نصب کرنے اور پھر اڑائے جانے سے تنگ آ چکے ہیں۔“ ٹرمپ نے اپنے اس موقف کو ایک بار پھر دہرایا کہ ۵ ماہ کی امریکی فوجی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی اخبار کی انوکھی تجویز، مقروض امریکیوں کے قرضے معاف کر کے انہیں ایران پر حملے کیلئے بھیج دو

امریکی فوج کا ایرانی آئل ٹینکروں پر حملہ

علیحدہ طور پر، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بیان دیا کہ امریکی افواج نے تین ایرانی خام تیل بردار بحری جہازوں پر اس وقت حملہ کیا۔ یہ حملہ، علاقائی پانیوں میں گشت کرنے والے دو امریکی جنگی جہازوں پر سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کی جانب سے بیلسٹک میزائل فائر کئے جانے کےجواب میں کیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر بریڈ کوپر نے آئی آر جی سی کو براہِ راست انتباہ جاری کیا کہ ”اگر آپ ہمارے دو جہازوں پر گولی چلائیں گے، تو ہم اس سے بھی زیادہ معاشی قیمت وصول کریں گے۔“ یہ حملے ایرانی میڈیا کی ان سابقہ اطلاعات کے بعد سامنے آئے جن میں کہا گیا تھا کہ جزیرہ خارگ کے قریب ایک ٹینکر کو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK