مصیبت میں فائدہ تلاش کرنا انتہائی غیر انسانی اورغیر اخلاقی عمل ہے

Updated: May 30, 2021, 4:36 PM IST | Jamal Rizvi

ارباب سیاست سے لے کر وہ تمام شعبے جو اس وبا پر قابو پانے کیلئے مصروف ہیں، نے اس بیماری کو ایسا وسیلہ تصور کر لیا ہے جواُن کیلئے فائدے کی نوید لے کر آیا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

کورونا کی وبا کے سبب انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کئی تبدیلیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان میں بعض ایسی ہیں جو زندگی کو نظم و ضبط کا پابند اورروزمرہ کے معمولات اور معاملات کو ان طریقوں سے ادا کرنے پر زور دیتی ہیں جو انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو تحفظ عطا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات بھی مختلف صورتوں میں معاشرے پر ظاہر ہونے لگے ہیں۔ ایک طرف جہاں اس وبا کا خوف انسان کو نفسیاتی اور جذباتی سطح پر مختلف قسم کے خدشات میں مبتلا کررہا ہے وہیں دوسری جانب اس کے سبب انسانوں کے طرز حیات میں پیدا ہونے والی یہ تبدیلیاں اس کی صحت اور جان کی حفاظت کو کسی حد تک یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ ان تبدیلیوں نے انفرادی انسانی رویے اور اس کے اجتماعی معاملات کی نوعیت بھی تبدیل کر دی ہےلیکن اس کے ساتھ ہی بعض ایسی تبدیلیاں بھی اس وبا کے سبب پیدا ہوئی ہیں جو انسانی فکر و عمل کے اس منفی پہلو کو نمایاں کرتی ہیں جس کے سبب معاشرے میں خوشحالی اور امن کی فضا بڑی حد تک مکدر ہو جایا کرتی ہے۔ 
 اس وبا نے عالمی انسانی برادری کو جس طرح مجبور و بے بس بنا دیا ہے اس سے یہ توثابت ہو گیا کہ اپنی ایجادات اور اختراعات پر اترانے والا انسان ابھی خود مختاری کے اس درجے تک نہیں پہنچ سکا ہے کہ حیات و موت کے مابین بسر ہونے والی زندگی کے تمام معاملات پر اسے کامل قدرت حاصل ہو سکے۔اس وبا نے عالمی سطح پر رنگ و نسل اور قوم و مذہب کے اس تعصب کو بھی پوری طرح نمایاں کر دیا ہے جو دنیا میں امن اور خوشحالی کے سازگار ماحول کی تعمیر میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ارباب سیاست نے بھی اس وبا کے بہانے اپنے مفاد کو تلاش وحاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوایا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایک طرف یہ وبا عام انسانوں کی جان ومال کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے وہیں دوسری جانب بیشتر ارباب سیاست ایسے پر سوز حالات سے بے نیا ز رہ کر صرف اپنے مفاد کی راہ ہموار کرتے نظر آ رہے ہیں۔  ان  کی یہ سنگدلی اور عا م انسانوں کی تکلیفوں سے مسلسل عدم توجہی برتنے والا ان کا رویہ عہد حاضر کی سیاست سے وابستہ ایسی تلخ حقیقت ہے جو اگر چہ باعث افسوس و تشویش ہے لیکن اس وقت دنیا کے بیشتر سیاستداں یہی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔
 اس وبا کے سبب عالمی سطح پر پیدا ہونے والے پریشان کن حالات کے سبب انسانی زندگی کئی طرح کے مسائل میں مبتلا ہو گئی ہے۔ وہیں دوسری جانب کچھ ایسی سوچ رکھنے والے لوگ بھی نظر آتے ہیں جو اس مصیبت کی گھڑی میں فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔ اس وقت کورونا کے مریضوں کو اپنے علاج کے دوران جس طرح کے حالات و مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہی سوچ ہے جو ان حالات میں بھی اپنا مفاد تلاش کرتی ہے۔گزشتہ برس جب اس وبا کے سبب زندگی کے معمولات کا طرز کئی سطحوں پر بگڑ گیا تھا تو اقتدار کی جانب سے بڑے پرکشش انداز میں یہ نعرہ دیا گیا تھا کہ ’ آپدا میں اَوسر‘ تلاش کیا جائے اور اس ’اَوسر‘ کے ذریعہ کورونا کی وبا پر قابو پانے کی کوشش کی جائے۔اقتدار کے اس نعرے کو میڈیا اور عوام دونوں نے بڑے زور و شور سے مشتہر کرنا شروع کر دیا تھا اور اب بھی جبکہ ملک کا بڑا حصہ اس وبا سے جوجھ رہا ہے۔ اس نعرے کی تشہیر کے ذریعہ مبینہ طور پر ان کا حوصلہ بڑھایا جارہا ہے جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ محض کورونا نامی وائرس کے خلاف نہیں ہے بلکہ سسٹم کے اس جابرانہ رویے سے بھی ہے جو ایک عام انسان کو مفلس و نادار بنانے کے درپے ہیں۔سسٹم کا یہ جابرانہ رویہ بہت کچھ اسی فکر کا پرور دہ ہے جو مصیبت میں فائدہ تلاش کرنے پر مبنی ہے۔ اس فکر کو عام کرنے کے پیچھے شاید اقتدار کا مقصدیہ تھا کہ ایسی مصیبت کی گھڑی میں روزمرہ زندگی کے معمولات کو پوری طرح ٹھپ ہونے سے بچانے کیلئے عوام کو نفسیاتی سطح پر وہ تقویت عطا کی جائے جو کورونا کی وبا سے مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کی جد و جہد میں ان کے حوصلوں کو برقرار رکھ سکےلیکن اس کی تشہیر جس انداز میں کی گئی اس کے سبب یہ مقصد( اگر چہ رہا ہو تو) بھی برعکس صورت اختیار کر چکا ہے ۔ اب ہر کوئی اس مصیبت کی گھڑی میں اپنے حسب استطاعت فائدہ تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ یہ کوشش ہر سطح پر نظر آتی ہے۔ ارباب سیاست سے لے کر وہ تمام شعبے جو اس وبا پر قابو پانے کے عمل میں پیش پیش ہیں، ان شعبوں سے وابستہ اراکین نے کورونا متاثرین کو ایسا وسیلہ تصور کر لیا ہے جو مصیبت کے وقت ان کیلئے فائدے کی نوید لے کر آیا ہے۔
 اس فکر نے انسانی رویے کو اس حد تک غیر انسانی پیکر میں ڈھال دیا ہے کہ اب اپنے اعزا و اقربا اور ہمسایہ کا مصیبت زدہ ہونا اس کے دل میں ہمدردی پیدا کرنے کے بجائے اس کیلئے وہ موقع ہوتا ہے جس سے وہ کچھ فائدہ حاصل کر سکے۔ کورونا کے علاج میں مفید اور کارگر ثابت ہونے والی ادویات اور دیگر اشیا و وسائل کی جمع خوری اور کالا بازاری کو بڑھاوا دینے میں اس فکر کا بڑا ہاتھ ہے۔ جو لوگ اس طرح کی جمع خوری اور کالا بازاری میں ملوث ہیں وہ اس فکر کو اپنے صحیح ہونے کے جواز کے طور پر پیش کر  رہے ہیں۔جب خود اقتدار نے ایسی غیر انسانی فکر عام کرنے میں انتہائی فعالت کا ثبوت دیا ہو تو پھر یہ شکوہ بیجا ہو جاتا ہے کہ کورونا متاثرین کے ساتھ ان کے علاج کے دوران غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔اس فکر کے سبب سماج میں تفریق و تعصب کا جو ماحول بنتا جارہا ہے وہ مستقبل میں معاشرے کی سالمیت کیلئے پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ 
 اس ضمن میں اب تک یہ تصور عام طور سے رائج تھا کہ مصیبت کے وقت لوگوں کی خدمت کی جائے اور ان کی پریشانی کو دور کرنے کے جو اسباب و وسائل انھیں مہیا کرائے جا سکیں، وہ بے لوث اور بے غرض ہو کر مہیا کروائے جائیں تاکہ ان کی مصیبت اور پریشانی دور ہو سکے۔ اب اس تصور میں خد مت کی جگہ فائدے نے لی ہے اور ظاہر ہے کہ جب نظر اپنے فائدے پر ہو تو پھر عموماً یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس فائدے کے حصول کی راہیں کیا ہیں ؟ اور اسے حاصل کرنے کے عمل میں دوسروں کو کیا تکلیفیں اور پریشانیاں اٹھانی پر سکتی ہیں؟ فکر و عمل کی سطح پر پیدا ہونے والی یہ تبدیلی وسیع پیمانے پر انسانی معاشرہ کیلئے نقصان کا سبب بن سکتی ہے جس کے ابتدائی مظاہر ابھی سے نظر آنے لگے ہیں۔ مصیبت میں خدمت کرنا اور مصیبت میں فائدہ تلاش کرنا، دونوں بالکل مختلف تصور پیش کرتے ہیں۔ انسانی فضیلت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اگر کوئی انسانی کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہو تو بے لوث اس کی مدد اور خدمت کی جائے کیوں کہ زندگی کا یہ دور کسی کو بھی درپیش ہو سکتا ہے۔ اگر اس تصور کی جگہ مصیبت میں فائدہ تلاش کرنے کو عام انسانی رویہ کی حیثیت حاصل ہو جائے تو معاشرے سے وہ تمام قدریں معدوم ہو جائیں گی جو انسانیت کی بقا میں کلیدی کردار کی حامل ہیں۔
 اس وقت انسانی معاشرہ جن مسائل سے دوچار ہے ان میں ایک بڑا مسئلہ انسانی فکر و عمل میں پیدا ہونے والی اس طرز کی تبدیلی ہے جو ایثار، محبت اور ہمدردی کی جگہ خود غرضی، نفرت اور تشدد کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ خصوصاً کورونا کی وبا کے سبب عالمی انسانی برادری جن مسائل سے جوجھ رہی ہے، اس میں ’مصیبت میں فائدہ‘ تلاش کرنے والی فکر کو عام کرنا کئی طرح کے مسائل کا سبب بن گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طرز کی فکر کی تبلیغ و تشہیر کرنے والوں کی نیت اور مقصد کو سمجھا جائے اور مصیبت میں خدمت کے تصور کو نہ صرف برقرار رکھا جائے بلکہ اس تصور کو تقویت عطا کرنے میں حسب استطاعت تعادن کیا جائے۔ یہ بہرحال ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بعض مخصوص اغراض و مقاصد کے حصول کیلئے انسانی فکر و عمل میں اس طرز کی تبدیلی کی حمایت کرنے والے صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہیں اور انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس کے عوض میں معاشرہ کن مسائل اور پریشانیوں سے دوچار ہوگا لہٰذا مصیبت میں فائدہ تلاش کرنے کے بجائے مصیبت زدہ لوگوں کی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھانے اور معاشرے میں اس فکر کو مقبول بنانے کیلئے حتی الامکان کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK