معاشی استحکام پر اولین توجہ ضروری

Updated: August 10, 2020, 8:31 AM IST | Editorial

دکانیں اور بازار کھل جانے کے باوجود گاہکوں اور صارفین میں جوش و خروش کا فقدان وہ آئینہ ہے جس میں معیشت کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ اس فقدان کے پس پشت صرف وباء کا خوف نہیں ہے بلکہ وباء سے پیدا شدہ حالات اور ان حالات کے تئیں تشویش، مایوسی اور بے یقینی کی تلخ حقیقت ہے۔

Market - Pic : PTI
مارکیٹ ۔ تصویر : آئی این این

دکانیں اور بازار کھل جانے کے باوجود گاہکوں اور صارفین میں جوش و خروش کا فقدان وہ آئینہ ہے جس میں معیشت کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ اس فقدان کے پس پشت صرف وباء کا خوف نہیں ہے بلکہ وباء سے پیدا شدہ حالات اور ان حالات کے تئیں تشویش، مایوسی اور بے یقینی کی تلخ حقیقت ہے۔
 آر بی آئی کے سروے برائے اعتمادِ صارفین میں کہا جاچکا ہے کہ کووڈ۔۱۹؍ کی وجہ سے گزشتہ چند مہینوں میں صارفین کا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ بلاشبہ لازمی اشیاء کی خریداری میں کمی نہیں آئی کیونکہ ان کے بغیر تو زندہ رہنا ہی ممکن نہیں مگر اختیاری اخراجات جنہیں مؤخر کیا جاسکتا تھا، اُنہیں لاک ڈاؤن اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے پس پشت ڈالا گیا۔ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری نے ۲۰۱۲ء میں اندازہ پیش کیا تھا کہ ہندوستان میں صارفین کے ذریعہ خرچ کی جانے والی سالانہ رقم جو ۲۰۱۰ء میں ۹۹۱؍ ارب ڈالر تھی، ۲۰۲۰ء میں بڑھ کر ۳ء۶؍ کھرب ڈالر ہوجائے گی۔ معیشت کو زبردست سپورٹ دینے والی یہ صورتحال یقیناً پیدا ہوتی اگر معاشی سرگرمیوں کا گراف نیچے نہ آتا اور صارفین کا اعتماد بحال رہتا۔ ۲۰۱۶ء کی نوٹ بندی کے فیصلے اور اقدام کے بعد، پرانی کرنسی ہی پر روک نہیں لگی، معیشت کی توانائی بھی سلب ہوگئی۔ اس نے خاص طور پر اُن کا روباریوں کو زیادہ نقصان پہنچایا جن سے صارفین کا روزانہ کا رابطہ ہے۔ صارف تو پریشان ہوا ہی تھا، صنعت و تجارت کا ہر شعبہ اور طبقہ بھی متاثر ہوا بلکہ پورا معاشی ڈھانچہ ہی لڑکھڑا گیا۔ اس کے بعد جی ایس ٹی کے عاجلانہ نفاذ نے رہی سہی کسر نکال دی۔ یکے بعد دیگرے یہ دو تباہ کن ضربوں سے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے معیشت کی روح فنا ہورہی ہو۔ تب ہی سے ملک کے حالات ایک سہ ماہی کے بعد دوسری سہ ماہی اور پھر تیسری سہ ماہی میں خراب سےخراب تر ہونے لگے۔ ابھی صنعتی پیداوار سنبھلی نہیں تھی، مارکیٹس میں پہلے جیسا جوش و خروش لوٹا نہیں تھا، روپے کی طاقت اور برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا تھا اور روزگار کی کمی سے پنڈ نہیں چھوٹا تھا کہ کووڈ۔۱۹؍ کی دستک سے دورونزدیک ہر جگہ سناٹا چھا گیا۔ وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا اور تمام معاشی سرگرمیاں ٹھپ پڑ گئیں۔ 
 قصہ مختصر یہ کہ بوسٹن کنسلٹنگ گروپ اور کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری نے صارفین کے اخراجات (کنزیومر اسپینڈنگ) سے متعلق جو اندازہ پیش کیا تھا وہ یقیناً درست ثابت ہوتا اگر معیشت کو ایک کے بعد دوسری ضرب نہ لگتی۔ آج عالم یہ ہے کہ ’’کے پی ایم جی‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا کے دوران ۷۸؍ فیصد صارفین نے اپنے اخراجات میں تخفیف کی۔ ایک دیگر سروے سے پتہ چلا کہ جون ۲۰ء میں اعتمادِ صارفین ۳۰ء۵؍ فیصد کم ہوا۔ اگر لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو کورونا کے باوجود اخراجات کم کرنے والے صارفین کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہوتی۔ 
 اب سوال یہ ہے کہ صارفین کا اعتماد بحال کیسے ہو؟ ا س کیلئے حکومت کو مختلف عوامی طبقات کیلئے مالی امداد کا اعلان کرنا ہوگا، بڑے پروجیکٹوں میں رقم لگانی ہوگی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں، معاشی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے موافق ماحول پیدا کرنا ہوگا، تجارتی، کاروباری اور صنعتی اداروں کو بھی پیکیج اور سہولتیں دینی ہوں گی اور لاک ڈاؤن اور شٹ ڈاؤن کے بجائے عوام کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ روزمرہ کی زندگی میں لوٹنے اور پہلے سے زیادہ فعال ہونے کی ترغیب دینی ہوگی۔ گزشتہ دنوں آر بی آئی کے سابق گورنر اور معاشیات کے ماہر رگھو رام راجن نے جو مشورہ دیا ہے اُس پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت مزید معاشی پیکیج کا اعلان کرتے وقت یہ سوچ کر بخل اور تاخیر سے کام نہ لے کہ ریٹنگ ایجنسیاں کیا کہیں گی۔ حکومت کو بسروچشم یہ مشورہ قبول کرتے ہوئے ضروری امدادی اعلانات کرنے ہوں گےکہ وقت کا یہی تقاضا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK