پہلی سائنسی کہانی اوراُس کی کہانی

Updated: March 01, 2021, 12:05 PM IST | Shahid Nadeem

میری شیلی کی یہ کہانی سائنس کے علاوہ انسانی جذبات ، تنہائی اور اس کے اثرات کا متاثر کن بیان ہے

Enriched Classic
پہلی سائنسی کہانی

 امریکی سائنسی کہانی کار آئزک اسی مون کے مطابق میری شیلی کی کہانی’ فرینک اسٹائن آردی ماڈرن پرومے تھیس‘، کو دنیا کی پہلی سائنسی کہانی کا اعزاز حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے بھی پہلے بھی کئی کہانیاں لکھی گئی تھیں جن میں آندھی طوفان، پرندوں یا خواب میں سفر کا ذکر ملتا ہےلیکن انہیں سائنسی فکشن میں شامل نہیں کیاجاسکتا۔ سائنسی فکشن کے مورخ بائرن ایلڈس بتاتے ہیں کہ میری شیلی کی فرنیک  اسٹائن ، گیارہ مارچ ۱۸۱۸ء کو  پہلی بار بے نام شائع ہوئی تھی، اس کہانی کی تخلیق بھی بہت دلچسپ تھی۔ ۱۷۱۷ء میں اٹلی کے ایک جراح لوئی گی گیل وانی  نے تجربہ کیا کہ مَرے ہوئے مینڈک کے پیر کو کسی دھات سے مَس کردیاجائے تو وہ  حرکت کرنے لگتا ہے ، یہ ریفلیکشن ایکشن  کا ردعمل ہے ۔ اٹھارہویں صدی میں اٹلی کے ہی ایک اور سائنس داں کائونٹ ایلساندھ بولٹان نے دو مختلف دھاتوں کو مَس کرنے سے بجلی  پیدا کرنے کا انکشاف کیا تھا، شیلی یہ جانتی تھی۔
  ۱۸۱۶ء کی ایک شام جب اپنے دور کے ممتاز شاعرلارڈ بائرن اپنے عزیز دوست پرسی بِشی شیلی اوران کی اٹھارہ برس کی محبوبہ اور مستقبل کی بیوی میری ویسٹونکرائٹ گارڈن اور معالج  پول ڈوری کے ساتھ جینوا جھیل کے کنارے پکنک منارہے تھے کہ تاریکی ، سردی اور مسلسل   بارش کی وجہ سے باہر نکلنا ممکن نہیں تھا، وہ اپنے کمرے تک ہی محدود ہوکررہ گئے، گپ شپ کرتے ، پراسرار کہانیاں پڑھتے وقت گزار رہے تھے ۔ گوتھک طرز کی قدیم عمارتوں سے گھرا ماحول تھا۔ یکایک بائرن کو سوجھا کہ کیوں نہ مل کر سبھی سائنسی رومانی کہانی  لکھیں، دیکھیں کس کی کہانی بہتر ہے، شرط لگ گئی ۔ سب  مصروف ہوگئے لیکن کامیابی صرف گائوڈن کو حاصل ہوئی۔ اس نے رات بھر میں فرینک اسٹائن ناول لکھ ڈالا۔ پولی ڈوری نے ’دی ویمپائر‘ لکھی جس سے متاثر ہوکر  براہم اسٹوکر نے مشہور زمانہ’ ڈراکیولا‘ تحریر کیا۔ میری شیلی کی یہ کہانی سائنس کے علاوہ انسانی جذبات ، تنہائی اور اس کے اثرات کا متاثر کن بیان ہے ۔ ناول کے تین اہم کردار ہیں، ڈالٹن، فرینک اسٹائن اور دیتے جو قطب شمالی کا سفر کررہے ہیں۔ ان کے رویے ، تجربات اور خیالات کے ذریعہ کہانی آگے سفرکرتی ہے۔
 دراصل اس کی ایک ممکنہ  وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ میری شیلی ان دنوں ذاتی زندگی کے مسائل اور حادثات سے دوچار تھی۔ ناول لکھنے سے کچھ عرصہ پہلے ہی اس کی پہلی اولاد کلیرا پیدا ہونے کے کچھ دنوں بعد ہی مرگئی تھی۔  میری نے ایک جگہ لکھا بھی ہے کہ وہ اکثر خواب دیکھتی ہے کہ اس کی اولاد دوبارہ زندہ ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے رشتہ کی ایک بہن نے خودکشی کرلی تھی۔ ذاتی زندگی کے یہ دکھ اور رشتوں کو کھونے  کا احساس اور تجربات اس کہانی کے ذریعہ باہر نکلنے کا راستہ تلاش کررہے تھے۔
 کہانی خطوط کے اسلوب میں بیان ہوئی ہے۔ والٹن قطب شمالی جانے کا راستہ تلاش کررہا ہے تاکہ علم حاصل کرسکے ۔اپنی بہن کو خط میں لکھتا ہے کہ وہ جس حوصلہ اور ہمت کےساتھ نکلا تھا اب وہ سفر بے لطف اور بے کیف ہوتا جارہا ہے ۔ تنہائی نے اسے مایوس کردیا ہے۔ کچھ عرصہ بعد والٹن کی کشتی برف میں پھسل جاتی ہے ۔ چند دوسرے مسافر گاڑی چلانے والوں کو ایک پراسرار بھوت نما  ہیولا دکھائی دیتا ہےجو کتوں کی سواری  سیلج گھسیٹ رہا تھا۔  اس دوران مسافر گاڑی بانوں کو وکٹر فرینک اسٹائن  بھوک سے بے حال کمزور حالت میں ملتا ہے ، جو خود بھی اسی بھوت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ والٹن کی مدد سے فرینک اسٹائن کی طبیعت ٹھیک ہوجاتی ہے اور وہ والٹن کو آگاہ کرتا ہے کہ انسان کی لا محدود خواہشات کے بُرے نتائج بھی ہوسکتے ہیں اوراپنی آپ بیتی سناتا ہے۔
  اپنے بچپن  کے بارے میں وہ بتاتا ہے کہ فرینک امیرخاندان میں پیدا ہوا تھا، اسے اپنے آس پاس کی دنیا کو جاننے سمجھنے اور سائنس سے دلچسپی تھی،  اپنی ایک رشتہ دار الزبیتھ زانے سے محبت کرتا تھا جو اس کی ماں کی موت کے بعد فرینک کے خاندان کے پاس آگئی تھی۔ فرینک کی دلچسپی قدیم سائنسی اصولوں سے تھی لیکن جرمنی کے پروفیسروں نے اسے سمجھایا کہ سائنس کے قدیم اصول اب بے کار ہوچکے ہیں ۔ اسے قدیم اصولوں سے نکل کر جدید سائنسی اصولوں اور کیمسٹری  کا علم حاصل کرنا چاہئے۔
 اُن دنوں گولو نزم تکنیک کا زورتھا، جو بے جان چیزوں میں زندگی پیدا کرنے کا علم ہے، اسے اس میں کشش محسوس ہوئی۔ یہاں بھی اسے اپنی ماں کی موت اور اس کا غم پوشیدہ نظر آتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے تجربے کی وضاحت نہیں کرتا۔ لیکن اتنا ضرور بتاتا ہے کہ اس نے مردہ گھروں سے انسانی اعضا ی یکجا کئے اوراسے دوبارہ زندہ کرنے کا راز سمجھا۔ اس تحقیق کے لئے اس نے زیادہ تر سامان قصاب خانوں اور دیگر جگہوں سے حاصل کیا اور عام انسانوں سے زیادہ جسم اور ڈیل ڈول والا عفریت بنانے پر مجبور ہوا کیوں کہ انسانی اعضاء کے باریک اورنازک خلیوں کوازسرنو بنانے میں دقت تھی۔  اپنی اس تخلیق کو وہ کوئی خاص نام نہیں دیتا بلکہ بھوت پریت اور عفریت کہتا ہے۔
  اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لئے یہ بدروح فرینک کو ایک ساتھی  کی تخلیق پر آمادہ کرلیتا ہے، اوراس کی تخلیق کام بھی شروع کردیتا ہے لیکن پھر اسے خیال آتا ہے کہ فی الحال یہی ایک کافی ہے اگراسے ساتھی مل گیا تو بدروحوں کی ایک جماعت تیار ہوجائے گی۔ وہ اس کام کو ادھورا چھوڑ دیتا ہے۔ بدروح اسے دغا بازی سمجھتا ہے اور مزید خونخوار ہوجاتا ہے۔ فرینک کو دھمکی دیتا ہے کہ وہ شادی کی رات تک اس کا پیچھے نہیں چھوڑے گا ۔ اس کے بعد وہ غائب ہوجاتا ہے۔ ناول میں فرینک اور بدروح کے ملنے اور چھپنے کا کھیل چلتا رہتا ہے اور یہ سلسلہ قطب شمالی تک جاری رہتا ہے۔ کیپٹن والٹن ، اپنی بہن کو خط کے ذریعہ ، فرنیک کے حوالے سے یہ سارا واقعہ بیان کرتا ہے اورآخر میں فرینک کی موت کی خبر آتی ہے اپنی جسمانی بناوٹ اوراکیلے پن سے پریشان بدروح کے دل میں ایک انسانی خاندان سے دوستی اور یگانگت کا خیال آتا ہے۔ وہ اس خاندان سے تعلق بنانے کی کوشش کرتا ہے مگر اس کے لئے لوگوں کا خوف یہ ہونے نہیں دیتا۔ 
  مسلسل توہین اور بے عزتی سے اس کے دل میں مزید نفرت اور غصہ پیدا ہوجاتا ہے، اپنے بھائی ولیم کی موت کی خبر سن کر فرینک واپس آتا ہے اور بدروح کو دیکھ کر سمجھ جاتا ہے کہ اس قتل کا وہی ذمہ دار ہے، دونوں میں شدید جھگڑا ہوتا ہے۔ بدروح اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ شروع سے قاتل اور تشدد پسند نہیں تھا۔ انسانوں کے برتاؤ اور سلوک نے اسے تشدد پر مجبور کردیا  اور درخواست کرتا ہے کہ کوئی انسان کا اس کا دوست بننا نہیں چاہتا۔ اسے بھی خوش رہنے کا حق ہے ، وہ بالکل اکیلا ہے ۔ اپنے گھر والوں کی حفاظت کے خاطر فرینک بادل نخواستہ اس کی بات مان لیتا ہے  اور اپنا تحقیقی کام پورا کرنے انگلینڈ چلا جاتا ہے۔ اس کا عزیز دوست کا رول ساتھ ہے۔ جو اسکاٹ لینڈ میں اس سے جدا ہوجاتا ہے۔ بدروح کے ساتھی کی تخلیق کے دوران فرینک کو ایک بار پھر خیال ستانے لگتا ہے  اس نے انسانی وجود سے الگ ایک اور بدروح تیارکردیا تو نسل آدم کے لئے خطرناک صورت حال پیدا ہوجائے گی۔
  فرینک کے آئرلینڈ واپس آنے سے پہلے بدروح اس کے دوست کا رول کو ختم کردیتا ہے جس کے الزام میں اسے ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ جیل میں وہ سخت بیمار پڑ جاتا ہے۔ رہائی کے بعد صحت یاب ہونے کے لئے والد کے ساتھ گھر آجاتا ہے۔ الزبیتھ سے شادی کرلیتا ہے اور بدروح کے حملے کے پیش نظر اس سے نبرد آزما ہونے کی تیاری شروع کردیتا ہے مگراسے اندازہ نہیں تھا کہ اس بار بدروح کا نشانہ وہ نہیں بلکہ اس کی بیوی ہے۔ اپنا ساتھی نہ ملنے کا انتقام وہ فرینک سے لینا چاہتا ہے ۔ اوراس کی بیوی کو مار ڈالتا ہے۔ اپنی بیوی، ولیم، کا رول اور الزبیتھ کی ناگہانی موت کے صدمے سے اداس فرینک فیصلہ کرتا ہے کہ اب وہ بدروح کا تعاقب کرے گا اور جب تک  دونوں میں سے کوئی ایک اپنے انجام کو  نہیں پہنچتا، چین سے نہیں  بیٹھے گا۔ مہینوں بعد دونوں کی ملاقات قطب شمالی میں ہوتی ہے   اور فرینک مارا جاتا ہے۔  بدروح  ، فرینک کے پرانے دوست والٹن کو یقین دلاتا ہے کہ فرینک اس کا آخری نشانہ تھا۔ اس کی تدفین کے بعد وہ اپنی بدقسمت  زندگی کا خاتمہ کرلے گا۔
  شیلی نے جس دور میں یہ کہانی لکھی ، صنعتی انقلاب کا آغاز ہوچکا تھا، نئی ایجادات اور نظریے وجود میں آنے لگے تھے۔ جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے علاوہ ایک سائنسی ادیب کی اور بھی ذمہ داری ہوتی ہے۔ شیلی کی یہ تخلیق اس پر پوری اترتی ہے۔ اس نے دنیا کو یہ پیغام دینے کی بھی کوشش کی کہ سائنس کا سہارا لے کر قدرت کے خلاف نہیں جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK