• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

پانچ ریاستی اسمبلی انتخابات اور’’انڈیا‘‘ کی حکمت عملی

Updated: November 09, 2023, 12:19 PM IST | Dr Mushtaq Ahmed | Mumbai

جمہوریت میں ہر ایک سیاسی جماعت کا مقصد اولین اکثریت حاصل کرنا ہوتا ہے لیکن اپوزیشن اتحاد میں جوش وہوش کی کمی کی وجہ سے اکثر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

حال ہی میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک عوامی جلسے میں اظہار خیال کرتے ہوئے غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کے اتحاد ’’انڈیا‘‘کے تعلق سے یہ بات کہی کہ ان دنوں کانگریس پارٹی پانچ ریاستوں کے انتخاب میں مصروف ہے اور اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی حکمت عملی پر کوئی گفتگو نہیں کر رہی ہے۔ نتیش کمار کے اس بیان کے آتے ہی کانگریس صدر کھرگے نے نتیش کمار سے نہ صرف ٹیلی فون پر گفت وشنید کی بلکہ پارٹی کی مصروفیات کی وضاحت بھی کی اورانہیں یقین دلایا کہ کانگریس اپوزیشن اتحاد کے استحکام کے لئے نہ صرف فکر مند ہے بلکہ عملی طورپر فعال بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان دنوںپانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی وجہ سے کانگریس کی مصروفیت بڑھی ہوئی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔
 بہر کیف! اس وقت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں۔  ان میں راجستھان،مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم شامل ہیں۔راجستھان کے بارے میں یہ مثل مشہور ہے کہ’’ایک بار ہماری تو دوسری بار تمہاری ‘‘لیکن اس بار کانگریس گہلوت کی قیادت میں نہ صرف اپنی واپسی چاہتی ہے بلکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابل اس بار خود کو مستحکم طورپر واپس ہونا چاہتی ہے جب کہ بی جے پی پُر امید ہے کہ راجستھان میں حسب روایت اس کی واپسی ہوگی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کئی ممبر پارلیمنٹ کو اسمبلی انتخاب میں اتارا ہے ظاہر ہے کہ نریندر مودی اور امیت شاہ کی جوڑی پارلیمانی انتخاب سے لے کر اسمبلی انتخابا ت ہی نہیں بلکہ میونسپل اور بلدیاتی انتخابات کو بھی بڑی سنجیدگی سے لیتی ہے اور اپنی کامیابی کیلئے وہ تمام حربے کا استعمال کرتی ہے جس سے انہیں اکثریت حاصل ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت میں ہر ایک سیاسی جماعت کا مقصد اولین یہی ہوتا ہے کہ وہ اکثریت حاصل کرے۔ لیکن اپوزیشن اتحاد میں جوش وہوش کی کمی کی وجہ سے اکثر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ حال ہی میں کرناٹک اسمبلی انتخاب میں کانگریس نےبی جے پی کے تمام تر شطرنجی چالوں کو ناکام کرکے کامیابی حاصل کی ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اپنے زمینی پارٹی کارکنوں کی بدولت کسی بھی انتخاب کے نتائج کو اپنے حق میں کر نے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے ساتھ ساتھ تلنگانہ میں وہ واپسی چاہتی ہے۔ مگر سچائی یہ ہے کہ راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں نہ صرف بی جے پی کیلئے باغی امیدوار دردِ سر ہیں بلکہ کانگریس کیلئے بھی اندرورنی رسہّ کشی مضر ثابت ہو سکتی ہے۔ راجستھان میں گہلوت اور پائلٹ کی گروپ بازی جگ ظاہر ہے اور ٹکٹ تقسیم میں بھی جس طرح ان دونوں کے درمیان زور آزمائی رہی ہے وہ بھی خسارے کا سودا ہو سکتاہے۔اب تک کے جو اشارے ہیں اس کے مطابق گہلوت کی صاف وشفاف شبیہ اور مفادِ عامہ کی پالیسی کی وجہ سے گہلوت کے حق میں فضا سازگار ہے مگر باغیوں کے تیور سے ان کا کھیل بگڑ بھی سکتا ہے۔ گہلوت حکومت کے ایک وزیر نے تو ٹکٹ ملنے کے بعد انتخاب لڑنے سے انکار کردیا ہے کہ ان کے حلقے کے لوگ ان کے خلاف صف بند ہو رہے ہیں۔ کانگریس کیلئے یہ منفی اشارہ ہے۔لیکن بی جے پی کو بھی اپنے باغیوں سے خطرہ کم نہیں ہے اور جن حلقوں میں ممبر پارلیمنٹ کو ٹکٹ دیا گیا ہے ان حلقوں میں قدرے زیادہ ہی رسہ کشی کا ماحول ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گہلوت اپنی ساکھ بچا پاتے ہیں کہ راجستھان کے عوام’’ ایک بار ہماری اور ایک بار تمہاری‘‘کے ضرب المثل کو صحیح ثابت کرتے ہیں۔ جہاں تک مدھیہ پردیش کا سوال ہے تو وہاں کانگریس کے حق میں فضا سازگار ہے۔ وہاں کانگریس کو اپنے باغیوں سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا بی جے پی کو ہے ۔بالخصوص ممبرپارلیمنٹ کو اسمبلی انتخابات میں میدان میں اتارنا خطرہ پیدا کر رہا ہے کہ ویسے امیدوار جو اسمبلی انتخابات کی تیاری میں لگے ہوئے تھے اور آخر وقت میں ان کا ٹکٹ کٹ گیا ہے وہ اپنی پارٹی کے خلاف مہم میں لگ گئے ہیں۔ کانگریس کو ایک بڑا فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں اسے حکومت سے بے دخل کیا گیا تھا اس کے باوجود کمل ناتھ کی قیادت میں پارٹی عوامی مسائل کے حل کیلئے سرگرم رہی اور اپوزیشن کا فرض نبھاتی رہی۔ اگرچہ کانگریس میں بھی ٹکٹ کی تقسیم کو لے کر افراتفری کا ماحول رہا ہے لیکن سب سے مشکل کانگریس کیلئے حال میں اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کے ضابطے کی خلاف ورزی ہے کہ مدھیہ پردیش میں جنتا دل متحدہ نے بھی اپنے امیدوار اتارے ہیں۔جب کہ ’’انڈیا‘‘ کے تمام سیاسی جماعتوں نے یہ طے کیا تھا کہ ریاستی اسمبلی انتخابات ہوں یا پارلیمنٹ ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف وہ متحد ہو کر میدان میں اتریں گے لیکن اس نئی سیاسی صف بندی کے بعد ان پانچ ریاستوں میں یہ پہلا الیکشن ہے لیکن اپوزیشن اتحاد اپنے ہی بنائے ضابطوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں اگر نتیش کی قیادت والی جنتا دل متحدہ نے اپنے امیدوار اتار دیئے ہیں تو چھتیس گڑھ میں اروند کیجریوال کی قیادت والی آپ پارٹی نے ایک درجن امیدوار کھڑا کیا ہے۔ یوں تو بہوجن سما ج پارٹی نے بھی مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں لیکن وہ ’’انڈیا ‘‘ کا حصہ نہیں ہے اور مایاوتی کے بارے میں یہ حقیقت عیاں ہے کہ وہ ان دنوںبی جے پی کیلئے معاون ثابت ہو رہی ہیں۔ جہاں تک تلنگانہ کا سوال ہے تو وہاں بھی کانگریس پورے دم خم سے میدان میں ہے۔میزورم ایک چھوٹی ریاست ہے اور وہاں مقامی لیڈروں کی بدولت ہی کوئی سیاسی جماعت اپنی شناخت مستحکم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اس لئے اس کے متعلق ابھی کچھ بھی کہنا مشکل ہے کہ وہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے اور منی پور کے واقعات کے بعد شمال مشرق کی ریاستوں کی فضا قدرے مکدر ہے اور اس کا فائدہ کس کو ملے گا یہ کہنا مشکل ہے۔
مجموعی طورپر کانگریس کو راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ سے بڑی امیدیں ہیں کہ راجستھان میں گہلوت، مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ اور چھتیس گڑھ میں بگھیل اپنے دم خم پر نہ صرف پارٹی کارکنوں کو متحد کرنے میں کامیاب نظر آرہے ہیں بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت مقابلہ دینے کی بھی قوت رکھتے ہیں۔ البتہ اپوزیشن اتحاد نے اپنے امیدواروں کو کھڑا کر کے کانگریسکیلئے بھی مشکل پیدا کردی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر وقت تک اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کوئی حتمی فیصلہ لے کر اپنے امیدواروں کو واپس لیتے ہیں یا پھر کھڑے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK