جمہوریت کی بقا کیلئے میڈیا کی اشتعال انگیزی پر نکیل لازم

Updated: January 10, 2021, 6:44 AM IST | Dr Mushtaque Ahmed

تبلیغی جماعت کے حوالے سے سہارنپور(یوپی)ا ور نوح(ہریانہ) کی مقامی عدالتوں نے الیکٹرانک میڈیا کی افواہ کو ملک کیلئے خطرہ قرار دیا، اسی طرح کرناٹک اور دہلی ہائی کورٹ نے بھی تبلیغی جماعت سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے لوگوں کو ہراساں کرنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا لیکن بامبے ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بنچ نے اس تعلق سے جو فیصلہ دیا ہے وہ ملک کی تاریخ کا ایک اہم فیصلہ ثابت ہوگا

Tablighi Jamaat
تبلیغی جماعت

ہمارا وطنِ عزیز ہندوستان، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور جمہوریت میں صحافت کو چوتھا ستون قرار دیا گیاہے ۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب کبھی مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ اپنے آئینی فرائض سے منحرف ہوگی تو صحافت اس کی خبر گیری کرے گی تاکہ ہماری جمہوریت کو کوئی نقصان نہ پہنچےلیکن حالیہ ۲؍ دہائیوں میں ہمارے ملک کی صحافت بالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے جس غیر ذمہ داری اور غیر آئینی رویے کا مظاہرہ کیا ہے اس سے ملک میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور عوام الناس کو یہ اندیشہ ہے کہ حالیہ الیکٹرانک میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ صحافت اور جذباتیت سے لبریز اوراشتعال انگیز و بے بنیاد خبریں ملک کی سا  لمیت کیلئے خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔یوںتو پرنٹ میڈیا کے معیار میں بھی پستی آئی ہے اور زرد صحافت کا داغ اس پر بھی لگا ہے لیکن حال کے دنوں میں الیکٹرانک میڈیا کے معیار ووقار میں بے پناہ پستی آئی ہے۔
 ملک کے مختلف علاقوں میں الیکٹرانک میڈیا کی اشتعال انگیز اوربے بنیاد خبروں کی وجہ سے فسادات بھی رونما ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سماجی بھائی چارگی کو نقصان پہنچا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں الیکٹرانک میڈیا کے خلاف غم وغصہ بڑھتا جا رہا ہے اور مختلف چینلوں کی خبروں کو لوگ سنسنی پھیلانے والی خبروں تک محدود کر رہے ہیں ۔ غرض کہ اس کے تئیں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔حال ہی میں جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ عدالتِ عظمیٰ اور مختلف ہائی کورٹس میں عرضی داخل کی گئی تھی کہ کورونا وبا کو پھیلانے میں مبینہ طورپر تبلیغی جماعت کے ملوث ہونے کی افواہ پھیلائی گئی ، جس کی وجہ سے پورے ملک میں کشیدگی پیدا ہوئی اور تقریباً چار ہزار بے قصور تبلیغی جماعت کے لوگوں کی مختلف ریاستوں میں گرفتاریاں بھی  عمل میں آئیں۔ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونےپر سب سے زیادہ ظلم اتر پردیش میں ڈھایا گیا۔یہاں  ان کے خلاف سب سےزیادہ مقدمے درج کئے گئے۔ ان میں سے بہت سارے اب بھی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔اترپردیش کے سہارنپورا ور ہریانہ میں نوح کی مقامی عدالتوں نے بھی الیکٹرانک میڈیا کی افواہ کو ملک کیلئے خطرہ قرار دیا اور تبلیغی جماعت کے لوگوں کو راحت دی۔ اسی طرح کرناٹک اور دہلی ہائی کورٹ کے معزز ججوں نے بھی تبلیغی جماعت سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور انہیں راحت دی لیکن گزشتہدنوںبامبے ہائی کورٹ کے اورنگ آباد بنچ نے جو فیصلہ تبلیغی جماعت کے حق میں دیا ہے وہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم فیصلہ ثابت ہوگا اور اس فیصلے سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ ہماری عدلیہ اپنی شناخت کو قائم رکھنے میں کس قدر سنجیدہ ہے جب کہ عدالتِ عظمیٰ میں پرشانت بھوشن کے کنٹمپٹ معاملے کو لے کر پوری دنیا میں عدالتی نظام پر سوال کھڑا کیا جا رہاہے....ایسے میں  اورنگ آباد کی عدالت نے اپنے فیصلے سے یہ ثابت کردیا ہے کہ آج بھی ہماری عدالتیں ملک کی جمہوریت اور آئین کی پاسدار ہیں۔ 
 واضح ہو کہ ملک میں کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد دہلی میں واقع تبلیغی جماعت مرکز کو سیل کردیا گیا تھا اور مرکز سے مختلف ریاستوں میں گشت کرنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی تھی۔ ان میں چار ہزار سے زائد غیر ملکی شہری بھی شامل تھے کہ وہ ہندوستان میں تبلیغی جماعت کے وفد میں شامل تھےلیکن قومی میڈیا کی زہر افشانی نے ان لوگوں کے خلاف ایک ماحول پیدا کردیا  اور ملک کے عام شہریوں کو مشتعل کرنے لگے کہ انہی  جماعتی افراد کی وجہ سے ملک میں وبا پھیل رہی ہے جبکہ میڈیکل سائنس کے ماہرین نے شروع ہی میں اسے افواہ قرار دیا تھا اور سیاسی مبصرین نے بھی اسے ایک سیاسی سازش کہا تھا۔
  اب جبکہ بامبے ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آیا ہے تو یہ ثابت ہوگیا ہے کہ تبلیغی جماعت کے ممبران کے خلاف واقعی ایک بڑی سازش تھی اور اس میں قومی میڈیا کا اہم کردار تھا۔ سند رہے کہ مہاراشٹر کے ضلع احمد نگر سے ۲۹؍ غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ  اور غیر ملکی ویزا ایکٹ کے علاوہ آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت انہیں گرفتار کیاگیا تھا اور جیل میں ڈال دیا گیا تھا لیکن بامبے ہائی کورٹ کے فاضل معزز جج جسٹس ٹی بی نلواڈے اور جسٹس ایم جی سولکر کے بنچ نے ۵۸؍ صفحات پر مشتمل اپنے تاریخی فیصلے میں ان غیر ملکی شہریوں کے خلاف درج مقدموں کو منسوخ کردیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہماری قومی میڈیا کا کردار بہت ہی غیر ذمہ دارانہ رہاہے اور اس کی وجہ سے ملک میں نہ صرف تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کے خلاف بلکہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلایا گیاہے۔ فاضل ججوں نے کہا کہ ہمارا ملک مختلف مذاہب کے لوگوں کا گہوارہ ہے اور ہندوستان تہذیبی اعتبار سے امن وسکون کا ملک ہے۔ ہم پوری دنیا کو اپنا خاندان مانتے ہیں او راپنے مہمانوں کو دیوتا قرار دیتے ہیں کیوں کہ ہم روز ’اتیتھی دیوو بھوو‘ کا گان کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں غیر ملکی شہریوں کو افواہوں کی آڑ میں گرفتار کرنا اور ان کے خلاف مقدمات درج کرنا ہمارے ملک کی تاریخی وتہذیب شناخت کو مسخ کرتا ہے۔
 بلا شبہ کئی الیکٹرانک چینلوں کا یومیہ پروگرام ملک کی قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہاہے کہ وہ صبح وشام پروپیگنڈے کو فروغ دیتے ہیں لیکنیہاں اس حقیقت کا ذکر بھی ضروری ہے کہ کہیں نہ کہیں ان بے بنیاد خبروں کو پھیلانے کے پسِ پردہ حکومت کا بھی ہاتھ ہے کیوں کہ حکومت ان سے انجان نہیں ہے ۔یہاں ایک مثال دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ حال ہی میں مہاراشٹر کے پال گھر میں دو سنتوں کو آدیواسیوں کے ذریعہ قتل کیا گیا لیکن پہلے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ سنتوں کا قتل اقلیتی طبقے کے لوگوں نے کیا ہے اور پھراس حوالے سے سونیا گاندھی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اگر بر وقت مہاراشٹر کی حکومت پریس کانفرنس کے ذریعہ اس بہیمانہ قتل کی حقیقت کو ملک کے سامنے پیش نہیں کرتی تو ممکن ہے کہ ایک خاص طبقہ کے تئیں اکثریت طبقے کا غصہ پھوٹ پڑتا اور ملک کی تباہی کا سامان پیدا ہو جاتا ۔ اس طرح کی سینکڑوں وارداتیں ہوئی ہیں اور مختلف تنظیموں کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ بھی کیا جاتا رہاہے کہ اظہارِ آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جائے اور ملک میں گمرہی پھیلائی جائے ۔ مگر حکومت خاموش رہی ہے۔جمیعۃ العلماء ہند نے ملک کی سا  لمیت اور ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کی حفاظت کے لئے عدالتِ عظمیٰ کابھی دروازہ کھٹکھٹایا ہے ، سماعت بھی ہوئی ہے اور معزز ججوں نے اپنے تاثر کا اظہار بھی کیا ہے کہ ملک کی میڈیا کا کردار مشتبہ ہوتا جا رہاہے۔یہاں اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ اس ماحول میں بھی بہت سے ایسے صحافی ہیں اپنی صحافتی ذمہ داریوں کا احساس ہے اور تقاضائے صحافت کی لاج رکھے ہوئے ہیں ان میں سینئر صحافی ونود دوااور رویش کمار شامل ہیں جن کی صحافت کو بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی ہے۔ رویش کمار کو تو ان کی بے باک اورحقیقت پسندانہ صحافت کے لئے میکسیسے ایوارڈبھی دیا گیاہے ۔ 
 مختصر یہ کہ ہماری جمہویت کی پاسداری اور آئینی عظمت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں بے لگام ہو رہی میڈیا پر نکیل کسا جائے کہ ہم نے اپنی آزادی بہت قربانیوں کے بعد پائی ہے اور ہمارے اکابر مجاہدینِ آزادی نے ہمیں جو آئین دیا ہے وہ ہم تمام شہریوں کے لئے زندگی جینے کا بیش بہا سامان ہے۔ آئین اور جمہوری تقاضوں کو پورا کرنا ہم سبھی شہریوں کا اخلاقی فرض ہے کہ اس کے بغیر ہمارا ملک اپنی تہذیبی شناخت قائم نہیں رکھ سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK