سورۂ نمل میں حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں ہُدہُد کا بیان ہے، جو اس نے ملک سبا کے دورے سے واپس آنے پر دیا۔ اس نے ایک ایسی قوم کا حال سنایا جس کی ایک ملکہ ہے اور وہ اور اُس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 31, 2024, 4:53 PM IST | Dr. Muhammad Iqbal Khalil | Mumbai
سورۂ نمل میں حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں ہُدہُد کا بیان ہے، جو اس نے ملک سبا کے دورے سے واپس آنے پر دیا۔ اس نے ایک ایسی قوم کا حال سنایا جس کی ایک ملکہ ہے اور وہ اور اُس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتی ہے۔
آٹھواں سجدہ (۱۹؍واں پارہ)
(ترجمہ) ’’اور وہ اللہ ہے جو عبادت کا مستحق ہے اور عرشِ عظیم کا مالک ہے۔ ‘‘ (النمل ۲۷: ۲۶)
اس آیت سجدہ سے پہلے والی آیت ہے: ’’ اس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔ ‘‘(النمل ۲۷: ۲۵)
سورۂ نمل میں حضرت سلیمان ؑ کے دربار میں ہُدہُد کا بیان ہے، جو اس نے ملک سبا کے دورے سے واپس آنے پر دیا۔ اس نے ایک ایسی قوم کا حال سنایا جس کی ایک ملکہ ہے اور وہ اور اُس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کو سجدہ کرتی ہے۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے خوش نما بنا دیئے اور انہیں شاہراہ سے روک دیا۔ اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے کہ اس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔
یہاں اللہ کی دو صفات کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، یعنی جو ہر آن نئی چیزوں کو ظہور میں لارہا ہے جو پوشیدہ تھیں۔ اس کا علم ہرچیز پر حاوی ہے، اس کے لئے ظاہر اور مخفی سب یکساں ہیں۔
[یہاں ] اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کو بطورِ نمونہ بیان کرنے سے مقصود دراصل یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ اگر وہ لوگ شیطان کے دھوکے میں نہ آتے تو یہ سیدھا راستہ انہیں صاف نظر آسکتا تھا کہ آفتاب نامی ایک دہکتا ہوا کرہ ّجو بے چارہ خود اپنے وجود کا ہوش بھی نہیں رکھتا، کسی عبادت کا مستحق نہیں ہے بلکہ صرف وہ ہستی اس کا استحقاق رکھتی ہے جو علیم و خبیر ہے اور جس کی قدرت ہرلحظہ نئے نئے کرشمے ظہور میں لارہی ہے۔ اس مقام پر سجدہ واجب ہے۔ یہ قرآن کے ان مقامات میں سے ہے جہاں سجدۂ تلاوت واجب ہونے پر فقہا کا اتفاق ہے۔ یہاں سجدہ کرنے سے مقصود یہ ہے کہ ایک مومن اپنے آپ کو آفتاب پرستوں سے جدا کرے اور اپنے عمل سے اس بات کا اقرار و اظہار کرے کہ وہ آفتاب کو نہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا مسجود و معبود مانتا ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۳، ص ۵۷۰۔ ۵۷۱)
نواں سجدہ (۲۱؍واں پارہ)
(ترجمہ) ’’ ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ ‘‘
(السجدہ ۳۲:۱۵)
اس آیت سجدہ سے پہلے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی منظرکشی کی ہے: ’’کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سرجھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے (اس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے) اے ہمارے رب، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا، اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین ہوگیا ہے۔ ‘‘ (اس کے جواب میں ارشاد ہوگا) ’’اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہرنفس کو اس کی ہدایت دے دیتے۔ مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ پس اب چکھو مزا اپنی اس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کردیا ہے۔ چکھو، ہمیشگی کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں۔ ‘‘ (السجدہ ۳۲:۱۲۔ ۱۴)
اس کے بعد آیت سجدہ میں اہلِ ایمان کی شان بیان کی گئی ہے کہ ’’وہ اپنے غلط خیالات کو چھوڑ کر اللہ کی بات مان لینے اور اللہ کی بندگی اختیار کر کے اس کی عبادت بجا لانے کو اپنی شان سے گری ہوئی بات نہیں سمجھتے۔ نفس کی کبریائی انہیں قبولِ حق اور اطاعت ِرب سے مانع نہیں ہوتی۔ ‘‘ (تفہیم القرآن، ج۴، ص۴۵)۔ لہٰذا جب وہ قرآن سنتے ہیں اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس مقام پر سجدہ کر کے اپنے آپ کو بھی مؤمنین کے اس گروہ میں شامل کریں۔
دسواں سجدہ (۲۳؍واں پارہ)
(ترجمہ) ’’ داؤد ؑ نے جواب دیا: ’’اِس شخص نے اپنی دُنبیوں (بھیڑ ی، بھیڑ کا مونث، جمع کا صیغہ) کے ساتھ تیری دُنبی ملا لینے کا مطالبہ کرکے یقیناًتجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایکدوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں ‘‘… ’’(یہ بات کہتے کہتے) داؤد ؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدہ میں گر گیا اور رجوع کرلیا۔ ‘‘(صٓ۳۸:۲۴)
یہاں پر یہ ممکن نہیں کہ اس واقعے کی تفصیل میں جایا جائے جو حضرت داؤد ؑ کے ساتھ پیش آیا اور جو قرآن میں مذکور ہے۔ اس کیلئے تفاسیر سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے لئے اتنا کافی ہے کہ حضرت داؤد ؑ سے کوئی قصور سرزد نہیں ہوا تھا جو دُنبیوں والے واقعے سے مماثلت رکھتا تھا۔ اسی لئے فیصلہ سناتے ہوئے معاً ان کو یہ خیال آیا کہ یہ میری آزمائش ہوئی ہے لیکن اس قصور کی نوعیت ایسی شدید نہ تھی کہ اسے معاف نہ کیا جاتا۔ جب انہوں نے سجدے میں گر کر توبہ کی تو [نہ صرف] یہ کہ انہیں معاف کردیا گیا بلکہ دُنیا اور آخرت میں ان کو جو بلند مقام حاصل تھا اس میں بھی کوئی فرق نہ آیا۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ اس مقام پر سجدۂ تلاوت واجب ہے یا نہیں۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں کہ یہاں سجدہ واجب نہیں بلکہ یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔ اور امام ابوحنیفہ وجوب کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت ابن عباسؓ سے تین روایتیں محدثین نے نقل کی ہیں۔ عکرمہؓ کی روایت یہ ہے کہ ابن عباسؓ نے فرمایا: ’’ یہ ان آیات میں سے نہیں ہے جن پر سجدہ لازم ہے مگر مَیں نے اس مقام پر نبیؐ کو سجدہ کرتے دیکھا ہے‘‘ (بخاری)۔ سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ سورۂ صٓ میں نبی کریمؐ نے سجدہ کیا اور فرمایا: ’’داؤد ؑ نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔ ‘‘ (نسائی)۔ حضرت ابوسعید خدریؓ کا بیان یہ ہے کہ نبی ؐ نے ایک مرتبہ خطبے میں سورۂ صٓ پڑھی اور جب آپؐ اس آیت پر پہنچے تو آپؐ نے منبر سے اُتر کر سجدہ کیا اور تمام حاضرین نے سجدہ کیا (ابوداؤد)۔
اس سے اگرچہ وجوبِ سجدہ کی قطعی دلیل نہیں ملتی مگر یہ ضرور ثابت ہے کہ نبی کریم ؐ نے اس مقام پر اکثر سجدہ فرمایا ہے، اور سجدہ نہ کرنے کی بہ نسبت یہاں سجدہ کرنا بہرحال افضل ہے۔ (تفہیم القرآن، ج۴، ص۳۲۵۔ ۳۲۶)