فریڈا بیدی : وطن میں اجنبی

Updated: August 31, 2020, 2:15 PM IST | Shahid Nadeem

وہ پہلی یورپین خاتون تھی جسے ستیہ گرہ میں حصہ لینے کے جرم میں لاہور میں عورتوں کی جیل میں تین مہینے قید رکھا گیا، معروف اداکار کبیر بیدی ان ہی کے فرزند ہیں

Freda Bedi
فریڈا بیدی

 ممتاز مورخ اور صحافی اینڈریووہائٹ اپنی پہلی کتاب ’اے مشن اِن کشمیر‘ کے سلسلے میں تحقیق کررہے تھے، اخبارات او ر دستاویزات کی چھان بین  کے دوران ان کی  نظر ایک تصویر پر ٹھہرگئی۔ جس میں سنہرے بالوں اورنیلی آنکھوں والی ایک خوبصورت غیر ملکی خاتون رائفل لئے کھڑی تھی۔ کشمیر پر کتاب مکمل کرنے کے بعد انہوں نے خاتون کے بارے میں مزید جاننے کا فیصلہ کیا ۔معلوم ہوا کہ فریڈا، بیدی (ہوسٹن)  پہلی انگریز طالبہ تھی جس نے ۱۹۳۳ء میں ہندوستانی طالب علم سے  آکسفورڈ میں شادی کی تھی۔ اُن دنوں نسلی تضاد والی اس شادی کا خاصہ مذاق بناتھا۔اینڈریو فری لانس صحافی  اور لیکچرر ہیں۔ 
 ’ دی لائیوس آف فریڈابیدی‘ ۲۰۱۹ء میں شائع ہوئی۔ دیباچے میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ ’ کتاب  اتنی تفصیلی نہ فراہم کرپاتی اگر خاندان اپنے والد اوروالدہ کے بارے میں معلومات نہ دیتا اور ان کے خطوط، تصاویر اور دیگر دستاویز نہ مہیا کرتا۔ فریڈا  کے تینوں بچوں رنگا، کبیر اور گل ہما کو اپنی ماں پر فخر ہے ۔ رنگاان میں سب سے بڑے ہیں اوراپنے والدین کے دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ میں ہیں۔ فلم اداکار کبیر بیدی ۱۶؍ جنوری ۱۹۴۶ء کو لاہور میں پیدا ہوئے ( اس لئے وہ اکثر خود کو مڈ نائٹ چائلٹ کہتے ہیں۔ ) بیدی کئی سال پہلے اپنی ماں پر ایک فلم بنانا چاہتے تھے۔ سوانح لکھنے میں خطوط اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ آکسفورڈ کی دودوست تھی دونوں آج بھی لندن کی ممتاز شخصیتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ایک تھی الیوسیلو جو ممتاز براڈ کاسٹر تھیں ، دوسری ممتاز سیاست داں باریراایکسیل ۔ انہوںنے خطوط اور پوسٹ کارڈ  کی ایک فائل  بیدی خاندان کے سپرد کی تھی۔  اینڈریو وہائٹ ہیڈ کے مطابق ’ کبیر بیدی سے ان کے والدین کے بارے میں بات کرنے گیا ۔ انہوںنے اچانک دریافت کیا تم ریکارڈنگ کے بارے میں جانتے ہو، میں نے انکارکیا۔ انہوںنے بتایا کہ موت سے سال دوسال پہلے سسٹرپالموا (فریڈا)  کولکاتا میں رنگا اوران کے خاندان سے ملنے آئیں اور کیسٹ ریکارڈ  خریدلائیں، اوراپنے ابتدائی دنوں خاص طورپر بیس برس کے حالات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ وہ نوٹس تیار کرتیں اور پھر مائیکروفون پر ریکارڈ کراتیں ۔ وہ نوٹس آج بھی خاندان میں محفوظ ہیں۔‘‘  غالباً وہ چاہتی تھیں کہ خاندان والوں کو ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں جو تجسس ہے ، اسے دور کرسکیں۔
  فریڈا کا جنم ڈربی ، موتک اسٹریٹ میں ۱۲؍ فروری ۱۹۱۱ء کو ہوا، والد فرینک ہوسٹن گھر ساز اور جوہری تھے  ۔ بابا پیارے لال (بی پی ایل ) لاہور کے ایک معزز سکھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا سلسلہ بابا گرونانک دیو سے ملتا تھا ۔ وہ آکسفورڈ ، فلسفہ، سیاسیات  اور اقتصادیات کی تعلیم حاصل کرنے گئے تھے۔  ایک لیکچر کے دوران دونوں کی ملاقات  اور پھر دوستی ہوگئی۔ دونوں آکسفورڈ مجلس کے ممبربن گئے۔ آکسفورڈ مجلس ، ہندوستانی طلبہ کی انجمن تھی جس میں مباحثہ ہوتا۔ اس کے علاوہ  دونوں کمیونسٹ  اکتوبر کلب اور لیبر کلب کے بھی رکن بن گئے۔ اس کے بعد دونوں کی چاہت اور بڑھ گئی۔ دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا۔ ۲۱؍ جون ۱۹۳۳ء کو اس نے بابا پیارے لال بیدی سے آکسفورڈ رجسٹری آفس میں شادی کرلی۔ شادی کی خبر آکسفورڈ میل کے پہلے صفحہ پر شائع ہوئی تھی۔  دونوں کی شادی ذہنی اور سیاسی ہم آہنگی کا نتیجہ تھا۔ دونوں طالب علم تھے۔ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور رنگ ونسل اور مذہب کی قید کو نہیں مانتے تھے۔
 فریڈا شادی کے بعد خود کو ہندوستانی تسلیم کرتی تھی، اس نے اپنی دوست سے کہا کہ ’ میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ میں ہندوستان جارہی ہوں۔‘ ۲۳؍ برس  کی عمر میں ۱۹۳۳ءکی موسم گرما میں جب وہ بمبئی کے ساحل پر اتری تو بیٹا گود میں تھا۔ وہائٹ ہیڈ کہتے ہیں کہ اپنے آبائی ملک کے بجائے انہوںنے اپنی پسند کا ملک منتخب کیا تھا۔شادی کے بعد دونوں لاہور منتقل ہوگئے۔ فریڈا انڈین قومی تحریک  کی سرگرم رکن بن گئی  اور آندولن میں حصہ لینے لگی ، وہ پہلی  یورپین خاتون تھی جسے ستیہ گرہ میں حصہ لینے کے جرم میں لاہور، عورتوں کی جیل میں تین مہینے قید رکھا گیا۔ اس نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہندوستان کو اتحادیوں  کے ساتھ دوسری جنگ عظیم میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ کچھ عرصہ بعد یہ خاندان کشمیر چلا گیا، جہاں بابا پیارے لال بیدی پانچ برس تک اس دور کے وزیراعظم شیخ عبداللہ اور کشمیر قومی تحریک کیلئے کام کرتے رہے۔ کبیر بیدی کہتے ہیں، وہ شیخ عبداللہ کی زبردست حامی تھیں، پاکستان کشمیر پر مسلسل حملے کررہا تھا۔ ایسے حالات میں عورتوں  کواپنی حفاظت کے لئے اسلحہ کی تربیت اور حوصلہ افزائی ضروری تھی، حالانکہ یہ ان کی فطرت کے خلاف تھا ، ہزاروں پناہ گزیں   وہاں تھے جن کی دیکھ بھال  ماں نے کی۔ اس ملک سے محبت اور خاص مقصد کے لئے وہ لڑیں ، مگر کبھی بندوق  نہیں چلائی ۔ وہ شلوار قمیص اور کبھی ساڑی پہنتیں تھیں۔ میں ان سے بہت قریب تھا، ان کا مجھ پر بہت اثر ہے، وہ ہندی اور پنجابی روانی سے بولتیں تھیں بلکہ تحریک آزادی کے دوران پنجاب میں تقریریں بھی کیں ۔۱۹۶۶ء میں فریڈا نے مکمل طورپر تبتی بدھسٹ کا مقدس درجہ اختیار کرلیا، سرکے بال منڈوالئے اور زعفرانی جامہ پہن لیا اوراپنا خاندانی نام بدل کر سسٹر پالموا رکھ لیا، اور سّکم کے رام ٹیک میں رہنے لگیں۔ وہاں ننوں کی رہائش گاہ اور نرسری اسکول قائم کیا  اور ان کے ساتھ آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے جواہرلال نہرو کو آمادہ کیا۔
   ۱۹۶۶ء کا سال تھا،  دہلی کی گرمی شباب پرتھی، بیس برس کے کبیر دہلی کے ممتاز کالج اسٹیفن میں زیر تعلیم تھے  اور ٹوٹی ہوئی کمر کے علاج کے بعد صحت یاب ہورہے تھے، انہیں ہلکا سا اندازہ تھا کہ ماں کی زندگی میں رفتہ رفتہ بدھ ازم اثر ڈال رہا ہے مگر وہ اس کے لئے قطعی آمادہ نہیں تھے کہ ماں (بدھ مت ) اختیارکرلے گی۔کبیر کہتے ہیں میں ہوسٹل میں تھا ، مجھے بتایا گیا کہ ماں شہر میں ہے ان سے جاکر مل لو، وہ نظام الدین  میں ٹھہری تھیں۔ میں نے دیکھا ان کے سرکے بال منڈے ہوئے تھے ، تبتی بدھسٹ لبادہ پہن  رکھا تھا۔ پہلے مجھے صدمہ ہوا، پھر احساس ہوا کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ، یہ سب کرنے سے پہلے  انہوںنے مجھے بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔کبیر کو غصہ تھا، انہوںنے اس کا اظہاربھی کیا۔ ماں نے جواب دیا یہ سب ایسے ہی ہے، مجھے محسوس  ہوا کہ یہ کرنا چاہئے ۔۱۹۷۷ء میں فریڈا یا سسٹر پالموا کا ۶۶؍ برس کی عمر میں دہلی میں انتقال ہوگیا۔  اپنی زندگی کا دوتہائی حصہ اسی  ملک میں گزارا۔ مسز اندرا گاندھی نے جب انہیں ’غیرملکی خاتون کو ہندوستانی خدمات‘ کے لئے خصوصی اعزازسے نوازا تو وہ خوش بھی تھیں اور خفا بھی۔ چالیس برس ہندوستان میں گزارنے کے بعد بھی وہ غیرملکی ہی رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK