عبدالحئی سے ساحر لدھیانوی تک

Updated: March 07, 2021, 8:13 PM IST | Ali Ahmed Kazmi

ساحر کی حیات و خدمات پر یہ مضمون اس شاعرونغمہ نگار کی زندگی کے ابتدائی حالات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ اُن کی فکر کیسے پروان چڑھی اور ساحر اتنی بڑا نام کیسے بنے۔

Sahir Ludhianvi. Picture:INN
ساحر لدھیانوی۔تصویر :آئی این این

انجمن پنجاب لاہور نے نظم کی کچھ ایسی بنیاد ڈالی کہ  پنجاب نظم کا مرکز ہی بن گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں، اس لئے کہ اس میں پنجاب کی تاریخ و تہذیب کا بڑا دخل ہے۔ پنجاب کی سرزمین محنت و مشقت کا کلچر، کھیت ، باغ، دریا، میلے ٹھیلے۔  رقص و سرور کی غزل کہاں ٹھہر سکتی تھی۔ جہاں محنت ہو اور محبت بعد میں اور جو محبت ہے وہ بھی محنت کے بطن سے ہی پیدا ہورہی ہو تو اردو کے روایتی کلچر سے اسے مختلف تو ہونا ہی تھا۔ اس اختلاف کو جِلا ملی انجمن پنجاب سے جہاں حالیؔ اور آزادؔ تو تھے ہی، آگے بڑھ کر اقبالؔ، اخترؔ، فیضؔ، میراجیؔ، راشدؔ، احمد ندیم قاسمی وغیرہ سے ہوتی ہوئی یہ شاہراہ ساحرلدھیانوی تک پہنچتی ہے ۔ میں نے کبھی اپنے ایک مضمون ’’ترقی پسند تحریک اور پنجاب‘‘ میں لکھا تھا:’’کہا جاتا ہے کہ جہاں پانی ہوتا ہے وہاں زندگی میں آب ہوتی ہے۔ کھیتوں میں پانی ہوتا ہے اور آنکھوں میں بھی اور جب یہ دونوں چیزیں سیراب ہوں تو وہاں کی ثقافت اور زراعت دونوں مالامال ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ ندیوں والے صوبۂ پنجاب کی ثقافت اور زراعت اپنی مثال آپ ہے۔ محنت ہو یا محبت، علم ہو یا ادب، کھیل کود ہو یا جنگ و جدل، پنجاب سبھی میں پیش پیش ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں کوئی جنگ، مہم اور تحریک پنجاب کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں۔ وہ تحریک ِ آزادی ہو یا ترقی پسند ادبی تحریک، پنجاب ہر جگہ چھایا ہوا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے سلسلے میں پنجاب کی بنیادی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔‘‘ پنجاب کی ایک اور امیج سجادظہیر کے قلم سے ملاحظہ کیجئے ۔ جب وہ ہندوستان میں ترقی پسند انجمن قائم کررہے تھے تو الہ آباد کی میٹنگ (دسمبر ۳۵ء) کے بعد اور پہلی کانفرنس (اپریل ۱۹۳۲ء) سے قبل وہ محمودالظفراور رشید جہاں کی دعوت پر سب سے پہلے پنجاب ہی گئے۔ ’روشنائی‘  میں ایک جگہ لکھتے ہیں:’’رشید جہاں جب الہ آباد سے امرتسر واپس جانے لگیں تو انہوں نے یہ تجویز  پیش کی کہ میں بھی ان کے ساتھ پنجاب چلوں تاکہ پھر ہم وہاں کے ادیبوں سے مل کر براہِ راست گفتگو اور تبادلۂ خیال کرسکیں چنانچہ جنوری ۳۶ء میں مَیں  پنجاب کے لئے روانہ ہوگیا۔ اس سے پہلے کبھی پنجاب نہیں گیا تھا، سوا اس کے کہ لڑکپن میں ایک دفعہ اپنے خاندان کے ساتھ کشمیر جاتے ہوئے وہاں سے گزرا تھا اور اس کی کچھ عجیب و غریب یادیں تھیں۔ ایک تو یہ کہ اسٹیشنوں پر ہمارے یہاں کے مقابلے پھل اور کھانے کی چیزیں بہت  زیادہ ہوتی تھیں۔ بڑے بڑے ڈبل گلاسوں میں لسی بہ افراط ملتی ہے۔ لوگ لمبے چوڑے ہوتے ہیں ۔ باتیں اونچی آواز میں کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر کے سروں پر پگڑیاں ، چہروں پر داڑھیاں ہوتی ہیں، شلوار بہترین اور لمبی لمبی قمیض چاروں طرف نظر آتی ہے۔ ہمارے یہاں کی طرح ننگے اور بھوکے بالکل نہیں دکھائی دیتے۔ پنجاب کے ساتھ خوشحالی، توانائی اور کسی قدر سختی کا تصور ذہن میں پیوست ہوگیا تھا۔‘‘
اور یہ تصور  غلط نہ تھا۔  غالباً اسی لئے پنجاب کی محنت کوشی اور زندہ دلی کے ماحول میں نرم و نازک غزل کم دکھائی دیتی ہے اور تندرست و توانا نظم زیادہ، جس کے سلسلے بلھے کی کافی سے لے کر ساحرلدھیانوی کی نظموں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آخر کوئی تو بات ہے کہ بزرگ شاعروں اور زمیندارؔ اور مخزنؔ جیسے بڑے بڑے رسالوں نے شعر و ادب کا جو ماحول بنایا اسی میں عبدالحئی ساحر کی آنکھیں کھلتی ہیں۔
 ۸؍مارچ ۱۹۲۱ء کو عبدالحئی ساحر، لدھیانہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ گھر کے نامساعد حالات، والدین کے مابین اختلافات، والد کی نامناسب برہمی اور والدہ کی مجبوری اور گردوپیش کے ماحول کی بے قراری سے کم عمر عبدالحئی غیرمعمولی طور پر متاثر ہوئے۔ 
جب ساحر صرف ۶؍ماہ کے تھے، والدین کے درمیان مقدمہ بازی ہوئی کہ ساحر کس کے پاس رہیں گے ۔ عدالت نے فیصلہ ماں کے حق میں کردیا۔ کچھ اور مقدمے چلتے رہے اور ساحر بڑے  ہوتے رہے اور مالوہ خالصہ ہائی اسکول لدھیانہ میں ابتدائی درجات پاس کرنے لگے۔ یہیں انہوں نے فیاض ہریانوی سے اردو فارسی کی تعلیم حاصل کی اور ہائی اسکول اور انٹرپاس کیا ۔ ایک جگہ فارم بھرتے ہوئے اپنی ہابی کے خانے میں فوٹوگرافی لکھا اور آگے چل کر وکیل بننے کی خواہش ظاہر کی۔ آنکھ کھولتے ہی ماں باپ کے درمیان مقدمہ بازی میں ماں کی مجبوری دیکھ کر عبدالحئی وکیل بننے کے علاوہ اور کیا سوچ بھی سکتے تھے۔  انٹرپاس کرنے کے بعد عبدالحئی نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں بی اے میں داخلہ لیا ۔ 
اس کالج کے دور میں عبدالحئی کا تعلق کمیونسٹ پارٹی سے  ہوا جس کی نوجوان تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے بھی رابطہ ہوا۔ ا ن سلسلوں اور رابطوں کے تحت یہ خیال آ سکتا ہے کہ ان تنظیموں اور اشتراکی لٹریچر نے ہی ساحر کو ترقی پسند بنایا۔ لیکن عبدالحئی ساحر کے  بچپن کے دوست ممتاز ادیب و صحافی حمیداختر نے متعدد بار اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی ابتدائی زندگی سے ہی ترقی پسند خیالات رکھتے تھے۔ لکھتے ہیں: ’’ساحر ابتداء سے ہی ترقی پسند خیالات رکھتا تھا۔ ترقی پسند تحریک اپنانے سے پہلے وہ مروجہ نظام سے بیزاری کا اظہار کرتا ۔ یہ بیزاری سماجی اقدار کے خلاف تھی۔‘‘ ماں کی مجبوریوں  و محرومیوں سے بھی وہ بے حد پریشان تھے۔ بقول حمیداختر ’’ اس کے باغیانہ خیالات اسی کا ردّعمل تھے چنانچہ وہ ابتدائی زندگی سے ہی سماج کا باغی بن گیا۔‘‘ کمیونسٹ پارٹی ہو یا فیڈریشن، اس میں اسے پناہ ملی اور ایک نظریہ بھی۔ چنانچہ وہ جلسوں میں برابر شرکت کرنے لگے، تقریریں کرنے لگے اور سیاسی و سماجی موضوعات پر نظمیں کہنے لگے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ جب وہ فیاض ہریانوی سے عربی فارسی پڑھ رہے تھے اسی وقت ایک نظم کہی اور ایک دوست کے ذریعہ استاد تک بھجوائی۔ استاد نے نظم دیکھ کر کہا ’’اشعار موزوں ہیں لیکن نظم معمولی ہے۔‘‘ نوجوان عبدالحئی اس پر خوش ہوگئے کہ اشعار موزوں  ہیں۔ کچھ اور آگے بڑھ کر  انہیں اپنے نام کے آگے تخلص رکھنے کا خیال آیا۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں جب وہ ہراعتبار سے سرگرم تھے، تحریر اور تخلیق سب ساتھ ساتھ رواںدواں تھے، مطالعہ بھی جاری تھا، اسی درمیان اُن کی نظر اس مرثیہ پر پڑی جو اقبال نے داغؔ کی وفات پر لکھا تھا۔ وہ اس شعر پر رک گئے:
اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبلِ شیراز بھی
سیکڑوں ساحر بھی ہوں گے صاحب ِ اعجاز بھی
بس انہیں لفظ ’’ساحر‘‘ پسند آگیا اور وہ عبدالحئی سے اے ایچ ساحر اور اے ایچ  ساحر سے ساحرلدھیانوی ہوگئے  لیکن محض تخلص سے ساحر کا سحر طاری نہیں ہوا بلکہ اُن تجربات و حادثات کو بھی سمجھتے چلنا چاہئے جسے لوٹانے کی فکر میں ساحر کا پوراتخلیقی سفر ٹکا ہوا ہے:
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
یہاں غور طلب ہے کہ نوجوان ساحر نے اپنی شاعری کا آغاز روایتی  طور پر عشقیہ شاعری یا غزلیہ شاعری سے نہ کرکے نظم سے کیا اور نظم بھی رومانی کم، باغیانہ اور سرفروشانہ زیادہ۔ خیال رہے کہ ابھی ان کی ملاقات سجادظہیر سے نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی وہ انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ ہوئے تھے۔ تنظیمی وابستگی سے قبل ہی وہ نظریاتی وابستگی کا بار اٹھا چکے تھے اور یہ بارِ گراں نہ انہیں کسی استاد نے دیا اور نہ ہی وہ کسی بڑے شاعر سے متاثر ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ ویسے تو اُن دنوں اقبال کی شاعری نقطۂ عروج پر تھی اور صرف پنجاب میں ہی نہیں، پوری اردو دنیا میں ان کی شاعری کا طوطی بول رہا تھا۔ اس لئے بچپن سے ہی اقبال کی نظمیں و نغمے ان کے کانوں میں گونجنے لگے۔ اُن کی بہن سرور شفیع ایک مضمون میں لکھتی ہیں:
’’بازار جاتے تو ہر طرح کی کتابیں خریدلاتے۔ پھوپھی امی کہتیں جب آپ بڑے ہوجائیں گے او راچھی  طرح سے پڑھنے لگیں گے تو خرید لینا۔ کہتے نہیں، میں تو ماموں سے پڑھ کر سنوں گا۔ کتابیں جمع کرتے اور خوش ہوتے۔ جب چوتھی کلاس میں تھے تو ایک روز ماموں کے ساتھ بازار گئے، کتاب کی دکان پر پہنچے تو سامنے  ’بالِ جبریل‘ نظر آئی۔ کہنے لگے یہ کتاب لوں گا۔ ماموں کو بالِ جبریل خریدنا پڑا ۔ روز ماموں سے کہتے آپ مجھے پڑھ کر سنائیں، میں یاد کرلوں گا۔‘‘
 یہ  بچپن کی بات ہے لیکن جب ساحر جوان ہوئے تو اقبال انتقال کرگئے (۱۹۳۸ء)۔ ان کے انتقال کے بعد جوشؔ اور احسان دانشؔ کے چرچے ہوئے۔ ایک شاعرِ انقلاب دوسرے شاعرِ مزدور کہلائے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان دونوں شاعروں  نے ساحر کو کس قدر متاثر کیا ہوگا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر گفتگو کی ضرورت ہے۔ یہ سب باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہوسکتی ہیں لیکن راقم کا خیال ہے کہ ان سب سے زیادہ وہ والد کی بے رحمی اور والدہ کی مجبوری و غریبی سے متاثر ہوئے اور ان سے علاحدہ ہوکر وہ مزدوروں کے محلہ میں ایک معمولی مکان میں رہنے لگے۔ مزدوروں  کے تعلق سے ان کا نزدیک کا مشاہدہ ہی ان نظموں کی تخلیق میں معاونت کرتا ہے جو میرٹھ کے رسالہ میں شائع ہوئیں، اس کے بعد پنجاب کا سرفروشانہ ماحول، تحریک آزادی اور غلامی سے نجات پانے کا زور و شور یہ سب بھی اپنا کام کرتے رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK