عبدالحئی سے ساحر لدھیانوی تک

Updated: March 21, 2021, 8:35 PM IST | Ali Ahmed Kazmi

ساحر کا بمبئی قیام ان کو راس آیا۔ جدوجہد کے بعد وہ فلمی گیتوں میں کامیاب ہوئے (یہ ایک الگ باب ہے) اس سے یہ ضرور ہوا کہ ایک مستقل ٹھکانہ ہوا اور آسودگی بھی میسر ہوئی ۔ وہ آخر تک بمبئی میں ہی رہے۔ بمبئی میں وہ فلموں کے لئے لکھتے ضرور رہے لیکن یہاں بھی مزدور بستیوں، نوجوانوں سے زیادہ تعلق رکھتے تھے۔ ان کی تقریبات اور مشاعروں میں شرکت کرتے۔

Sahir Ludhianvi. Picture:INN
ساحر لدھیانوی۔تصویر :آئی این این

ساحر کا بمبئی قیام ان کو راس آیا۔ جدوجہد کے بعد وہ فلمی گیتوں میں کامیاب ہوئے (یہ ایک الگ باب ہے) اس سے یہ ضرور ہوا کہ ایک مستقل ٹھکانہ ہوا اور آسودگی بھی میسر ہوئی ۔ وہ آخر تک بمبئی میں ہی رہے۔ بمبئی میں وہ فلموں کے لئے لکھتے ضرور رہے لیکن یہاں بھی مزدور بستیوں، نوجوانوں سے زیادہ تعلق رکھتے تھے۔ ان کی تقریبات اور  مشاعروں میں شرکت کرتے۔ ایک مشاعرے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مزدور سامعین ایک کے بعد ایک نظموں کی فرمائش کرتے رہے اور ساحر ڈھائی تین گھنٹے تک کھڑے ہوکر اپنی نظمیں سناتے رہے۔ خیال رہے کہ وہ سب کی سب نظمیں ہی تھیں ، انقلابی و جوشیلی نظمیں۔ غزل ایک بھی نہیں۔
انقلابی و عوامی شاعر تو وہ ابتداء سے ہی تھے، مختلف تجربات ، مشاہدات اور  حادثات نے نوجوان عبدالحئی کو کس طرح اشتراکی و احتجاجی شاعر ساحر لدھیانوی بنا دیا اور ایک مقام و منصب تک پہنچا دیا، یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لیکن جو  بات اصل ہے اس پر گفتگو کم ہوئی ہے۔ جو اصل ساحر  ہے، نظم گو ساحر ہے یا اس کی جو رومانیت  ہے اور رومانیت کے اندر انانیت ہے اس کو ٹھیک سے سمجھا نہیں جا سکا۔ اس لئے پوری ترقی پسند شاعری بالعموم اور ساحر کی شاعری بالخصوص غلط فہمی کا شکار ہوئے۔ اس لئے چلتے چلتے چند باتیں اور کرنی ضروری ہیں۔ میں نے کسی اور مضمون میں لکھا تھا کہ ترقی پسند شاعری اور ساحر لدھیانوی اکثر غلط فہمیوں کا شکار رہے۔ ترقی پسند شاعری کے بارے میں عام طور پر مخالف ذہن نے خاص طور پر بار بار کہا کہ یہ تو نعرہ بازی کی شاعری ہے۔ اس میں  ہنگامیت ، خطابت اور خارجیت زیادہ ہے۔ اسی نوع کے اعترافات اور الزامات اور بھی ہیں جن کا کچھ تو وقت نے جواب دے دیا ہے اور کچھ آنے والا وقت دے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ ترقی پسند شاعری کا مرکز و محور محبت ہے اس لئے کہ زندگی کا بھی مرکز محبت ہی ہے۔ 
ساحر کے یہاںعاشقانہ انانیت کیوں اور کس نوع کی ہے، اس پر الگ سے کسی مقالہ میں گفتگو کروں گا ۔ یہاں ساحرکے تعلق سے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ وہ بیشتر ترقی پسند شاعروں سے چھوٹے اور جونیئر تھے۔ جب مجازؔ کا شعری مجموعہ ’آہنگ‘ شائع ہوا (۱۹۳۸ء) تو وہ انٹرمیڈیٹ کے طالب علم تھے۔ اقبال اور جوش مشرقی افق پر چھائے ہوئے تھے جن سے ہر ترقی پسند شاعر متاثر ہی نہیں مرعوب بھی ہورہا تھا۔ غزل میں حسرتؔ، فراقؔ، فانی ؔ اور جگرؔ وغیرہ کا جادو چل رہا تھا۔ ایسے میں ایک بھٹکے اور سہمے ہوئے نوجوان جونیئر شاعر کا اپنی راہ تلاش کرنا اور اپنی منفرد پہچان بنانا کس قدر مشکل کام تھا۔ ساحر بچپن کا جو ماحول اور زندگی گزار کر آئے تھے اس نے انہیں ڈرپوک اور چڑچڑا بنا دیا اور مستقبل کے جو راستے  تھے وہ اس قدر بنجر اور خاردار تھے کہ ان سے نغمگی اور دلکشی کا دور دور تک تعلق نہ تھا۔ انہوں نے نوجوانی میں جو سچا عشق کیا اس میں خوف اور ہچکچاہٹ نے ناکامی ہی دی۔ دیگر عشق بھی ناکام رہے۔ زندگی کے دیگر معاملے اور فیصلے بھی گڈمڈ سے رہے۔ لیکن شاعری اور فنکاری کے معاملات بڑے عجیب و غریب ہوا کرتے ہیں۔ وہ اکثر ناہموار ماحول میں نمو پاتے ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ فرائڈ نے کہا تھا کہ انسان کی مایوسیاں اور محرومیاں ہست و بود کے معاملے میں انتہاپسندی کا شکار ہوتی ہیں جیسے میراجی نے ایک بار کہا تھا کہ یا تو وہ تارک الدنیا ہوکر جنگل میں جا بسے گا یا پھر کمیونسٹ پارٹی کا فل ٹائم  ورکر بن جائے گا ۔ لیکن سلجھا ہوا ذہن اپنی محرومیوں کے حوالے سے ایک نئے جہان کا خواب دیکھتا ہے اور خوشحال اور پرمسرت انسان کی تلاش کرتا ہے۔ اس لئے زندگی اور اس سے زیادہ شاعری میں خواب دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ساحر نے بھی خواب دیکھے  ۔ ان کے ایک مجموعہ کا نام ہی ہے ’’آؤ کہ کوئی خواب بُنیں‘‘۔ علی سردار جعفری نے بھی ’’ایک خواب اور‘‘ دیکھا۔ فیض نے بھی کہا تھا کہ خواب دیکھنا ان کا فطری عمل ہے اور خوابوں کا ٹوٹنا سماجی عمل۔ ساحر نے بھی خواب دیکھے۔  یہ الگ بات ہے کہ اس کے ماحول، ذہن اور وژن نے اس کی ذات کو کائنات سے وابستہ کردیا۔وہ ان خاردار راہوں پر چلے، گلی کوچے میں رہے، تنگ دستی کا شکار ہوئے، ٹھوکریں کھائیں، بھوکے بھی رہے لیکن یہ سب تکلیفیں اور اذیتیں شاعری کے لئے نعمت ثابت ہوئیں۔ کچھ ایسی نعمت جہاں سمجھوتے کا گزر نہیں۔ ادب سے لے کر فلم تک اس نے اپنی شرطوں پر شاعری کی  اور زندگی بسر کی۔ اس کے فلمی گیت کس قدر مقبول ہوئے  اس کی ایک الگ کہانی ہے۔ اس کا پہلا شعری مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ جو محض ۲۲۔۲۳؍ سال کی عمر میں شائع ہوا، غیرمعمولی طور پر مقبول ہوا۔ اسی سال سردار جعفری کا ’’پرواز‘‘ اور کیفی اعظمی کا ’’جھنکار‘‘ شائع ہوا لیکن انہیں بھی وہ مقبولیت نہیں ملی جو ’تلخیاں‘ کو ملی۔ ایسی غیرمعمولی مقبولیت و شہرت بہت سے سوال کھڑے کردیتی ہے، کچھ الزامات بھی ۔ مثلاً ساحر نوجوانوں کا شاعر  ہے، ساحر عوامی  شاعر ہے، ساحر فلموں کا شاعر ہے، وغیرہ۔ ایسے الزامات اکثر مخالف سمت سے زیادہ آئے جو عوامی شاعری کا دھندلا سا بھی تصور نہ رکھتے تھے۔ 
 ساحر کی مقبولیت کی وجہ صرف نظم نہیں تھی بلکہ وہ شاعری ہے جو عشق سے شروع ہوتی ہے اور رومان پر ختم ہوتی ہے۔ ساحر نے ترقی پسندی کو اشتراکیت سے زیادہ رومانیت کے قریب کیا ۔ اسے نئے مفاہیم دیئے اور اسالیب بھی جو ساحر کی اپنی غیرمعمولی  صلاحیت اور انفرادیت کی پہچان بنتے ہیں جن پر فیض، مجاز وغیرہ کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ لیکن بعض معنوں میں ساحر اوریجنل نے اس کا محض قدیم لب و لہجہ ، اس کا اپنا درد، اس کی پیاس  اور اس کی محرومی جو نشاط میں بدل گئی اور عشق کا روپ لے کر کلیوں کے نشاط میں رچ بس گئی، جس کی خوشبو،  نزاکت اور رومانیت کو نئے سرے سے غور کرنے، سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی خوشبو اور رومانیت اسے عبدالحئی سے نکال کر ساحر لدھیانوی بناتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK