آرین کی گرفتاری، ضمانت اور میڈیا کے شوروغوغا سے انصاف پسند آوازوں تک

Updated: October 31, 2021, 12:35 PM IST | Inquilab Desk

آرین خان کو ہائی کورٹ سے ضمانت کا پروانہ مل جانے کے بعد شاہ رخ خان کے خاندان، ان کے دوستوں، خیر خواہوں اور مداحوں نے یقیناً  راحت کا سانس لیا ہوگا۔ آرین کے ساتھ ان کے دوست ارباز مرچنٹ اور من من دھامیچہ کو بھی ضمانت ملی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آرین خان کو ہائی کورٹ سے ضمانت کا پروانہ مل جانے کے بعد شاہ رخ خان کے خاندان، ان کے دوستوں، خیر خواہوں اور مداحوں نے یقیناً  راحت کا سانس لیا ہوگا۔ آرین کے ساتھ ان کے دوست ارباز مرچنٹ اور من من دھامیچہ کو بھی ضمانت ملی ہے۔ یہ تینوں ہی ۲۶؍ دنوں سے آرتھر روڈ جیل میں قید تھے۔ آرین کے پاس سے منشیات برآمد نہ ہونے نیز اس کے استعمال نہ کرنے کے باوجود ان کی ضمانت کی درخواست متعدد مرتبہ مسترد ہوئی۔ اس دوران تمام میڈیا اداروں کی نظریں اس ہائی پروفائل کیس پر جمی ہوئی تھیں کیونکہ آرین بالی ووڈ کے کنگ خان کے بیٹے ہیں۔ آرین کی گرفتاری کے بعد ہی سوشل میڈیا پر پیغامات کا ایک طوفان آگیا تھا، جو اَب تک تھما نہیں ہے۔ جہاں صارفین پہلے ان کی گرفتاری کے متعلق اپنی اپنی رائے پیش کررہے تھے، وہیں اب ضمانت مل جانے کے کورٹ کے فیصلے پر اظہار خیال کررہے ہیں۔  اس دوران سوشل میڈیا پر شاہ رخ خان کے خاندان کے خلاف نفرت انگیز پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس میں اب بھی کمی نہیں آئی ہے۔ کنگ خان کے مداح اور خیر خواہ ان نفرت انگیز پیغامات کا اپنے طور پر جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں، جس کی وجہ سے سوشل میڈیا بحث کا میدان جنگ بنا ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر اور میڈیا میں بھی کئی لوگوں نے آرین کو منشیات کا عادی قرار دیا تو کئی نے ان کی ’’غلط پرورش‘‘ کیلئے شاہ رخ اور اُن کی اہلیہ گوری پر انگلیاں اٹھائیں لیکن بیشتر افراد نے یہ بھی کہا ہے کہ آرین کو کسی سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔ متعدد افراد نے اسے ایک سیاسی کھیل بھی قرار دیا جن میں ملک کے چند مشہور سیاستداں اور صحافی بھی شامل ہیں۔ آرین کو ضمانت تو مل گئی ہے لیکن یہ کیس کتنے عرصے تک چلے گا، اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ اس کیس کے بیشتر پہلوؤں سے قارئین واقف ہیں اس لئے انقلاب نے کوشش کی کہ اپنے قارئین کو ملک کے معاصر اخبارات اور میڈیا اداروں کے منتخب مضامین اور اداریوں سے واقف کرائے، چنانچہ ان کالموں میں دیکھئے کہ کس اخبار یا میگزین میں کس نے کیا لکھا۔ اس سے آرین کیس کے حوالے سے ملک کے موجودہ سیاسی ماحول پر بھی روشنی پڑتی ہے اور اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ ملک میں ابھی ایسے افراد اور ادارے موجود ہیں جو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط قرار دیتے ہیں اور اپنے خیال کو اپنے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ان میں اظہار خیال کی جرأت بھی ہے۔ واضح رہے کہ لکھا تو بہت گیا ہے مگر جگہ کی قلت کے سبب ہم نے محض چند مضامین اور اداریوں کو اقتباسات کیلئے منتخب کیا ہے۔ 

میڈیا نے آرین کو ویلن بنا نے کی کوشش کی ہے
 ’’ہم انفرادی طور پر کتنے ناخوش ہیں کہ ہم کسی اور کے غم سے خوشی حاصل کرتے ہیں؟ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمیں عوامی شخصیات کو تنقید کا نشانہ بنانے میں خوشی محسوس ہوتی ہے؟ گرفتاری سے قبل تک، آرین کو بالی ووڈ کے آئندہ سپر اسٹار کے طور پر دیکھا جارہا تھا حالانکہ ان کے ڈیبیو (پہلی فلم) کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اس پورے معاملے میں عدالت کا فیصلہ سنانے سے پہلے ہی عوام نے انہیں مجرم قرار دے دیا۔ اس میں ان کے والدین کو بھی کھینچا گیا، چاہے ان کا قصور ہو یا نہ ہو۔ بلاشبہ، میڈیا نے آرین خان کو بدنام کرنےاور انہیں ایک ویلن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے سبب آرین کے تعلق سے لوگ ایک خاص رائے قائم کررہے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو ناظرین دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
شومینی سین، کالم نگار، ویو این
’’پہلے ضمانت، جیل نہیں‘‘
 ’’ایک دن کیلئے بھی آزادی سے محروم کرنا، کئی دنوں کی آزادی سے محروم کرنے کے برابر ہے۔‘‘ تقریباً ایک سال قبل ارنب گوسوامی کو ضمانت دینے سے انکار کرنے پر بامبے ہائی کورٹ کی سرزنش کرتے ہوئے، سپریم کورٹ کے جسٹس ڈی وائی چندرچڈ نے اس اصول کو بیان کیا تھا جسے عدالتوں کو شہریوں کی آزادی کے ’’دفاع کی پہلی حد‘‘ برقرار رکھنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’پہلے ضمانت، جیل نہیں۔‘‘ غیر واضح انداز میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم، جرم ثابت ہونے تک بے قصور ہے، اس لئے اسے تب تک جیل میں نہیں ڈالا جانا چاہئے جب تک اس بات کا خطرہ نہ ہو کہ وہ تفتیش پر اثرانداز ہوگا یا فرار ہوجائے گا۔پھر نچلی عدالتیں، عدالت عظمیٰ کے اس فرمان کو کیوں بھول رہی ہیں؟ جب آرین خان کے پاس سے کوئی نشہ آور شے برآمد نہیں ہوئی نہ ہی اس نے اسے استعمال کیا تو اسے جیل میں کیوں رکھا گیا؟ سب سے اہم یہ کہ اسے ضمانت ملنے میں تاخیر کیوں ہوئی؟ سپریم کورٹ کے رہنما خطوط ہونے کے باوجودآرین خان کیس میں خصوصی عدالت کا  فیصلہ ’’ضمانت پر جیل ‘‘کے انتخاب کی ایک اور مثال ہے۔‘‘
اداریہ، انڈین ایکسپریس ، ۲۳؍ اکتوبر
شہری کے بنیادی حقوق کی پامالی 
 ’’اس معاملے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ نچلی عدالتوں نے بغیر کسی ثبوت کے آرین خان کو ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ کیا ہمارا ملک جمہوریت کی مثال ہے؟ ان پر قابل ضمانت دفعات عائد کی گئی تھیں لیکن این سی بی کا اصرار تھا کہ یہ قابل ضمانت نہیں ہیں۔ایجنسی نے کسی کاغذی کارروائی کے بغیر آرین کا فون ضبط کرلیااور ان کی وہاٹس ایپ چیٹ تک دیکھ لی، آرین سے ایک ایسے کاغذ پر دستخط کروایا گیا جس کے تحت انہوں نے اپنی رضامندی سے فون ایجنسی کے حوالے کیا تھا۔ یہ ایک شہری کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے۔ جس طرح آرین کو گرفتار کیا گیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں باقاعدہ فریم کیا گیا تھا۔ جائے واردات پر دو ایسے افراد کا موجود ہونا، جن کے خلاف فراڈ کے مقدمات درج ہیں، کیا ثابت کرتا ہے؟آرین خان کیس کی آڑ میں کیا چل رہا ہے، وہ ہمیں نہیں دکھایا جارہا ہے۔ کسی بھی جمہوری ملک میں کسی بھی ایجنسی کو ایسے بے لگام اختیارات نہیں دیئے جانے چاہئیں۔ یاد رکھیں، ہمارا قانون ہمیشہ ضمانت کو جیل پر ترجیح دیتا ہے، اور جرم ثابت ہونے تک ملزم بے گناہ ہوتا ہے لیکن اس کیس میں دونوں ہی اہم باتوں کو پلٹ دیا گیا ہے۔ یہ مستقبل کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔‘‘
تحسین پونہ والا، کالم نگار، انڈیا ٹوڈے
 نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت 
 ’’عدالتوں کی جانب سے متعدد مرتبہ آرین خان کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ، ایک نوجوان کی ماں کے طور پر مجھ میں قوم کے نوجوانوں کیلئے ناامیدی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ہم ملک کے نوجوانوں کو اپنا سرمایہ کہتے ہیں۔ جب ہم ان سے ووٹ مانگتے ہیں تو انہیں قوم کا مستقبل کہتے ہیں۔ جب انتخابات ہوتے ہیں تو ہم انہیں ووٹ دینے کی ذمہ داری یاد دلاتے ہیں۔ ہم اپنے منشور میں اعلیٰ تعلیم، شاندار مواقع اور محفوظ ملازمتوں کا وعدہ کرتے ہیں اور جب ہمیں اقتدار مل جاتا ہے تو ہم درج بالا تمام باتیں پوری کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ایک ۲۳؍ سالہ نوجوان نے غلطی کی ہے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے پھر اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟ ہمارا نظام ہر طرح کے خوف، حمایت یا تعصب سے پاک ہونا چاہئے۔ ہمارے پاس ایک ٹوٹا ہوا نظام ہے، اور یہی وہ چیز ہے جسے ہم خود ٹھیک نہیں کرتے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے چھوڑ دیتے ہیں جس میں کسی نہ کسی طرح وہی (آئندہ نسلیں ہی) پھنس جاتی ہیں۔ این سی بی نے آرین کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کسی ’’بھیانک منصوبے‘‘ کے ثبوت کے طور پر آرین کی وہاٹس ایپ چیٹ میں لفظ ’’دھماکے‘‘ پر زور دیا۔ اگر یہ المناک واقعہ کسی نوجوان کی زندگی سے نہیں جڑا ہوتا تو میں اسے این سی بی کی ایک مضحکہ خیز حرکت قرار دیتی۔ فقرہ ’’ہیونگ اے بلاسٹ‘‘ آج کے لاکھوں نوجوانوں کے وہاٹس ایپ چیٹ میں ملے گا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کی نوجوان نسل کوئی خطرناک منصوبہ بندی کررہی ہے؟ ہمیں اپنے ان نوجوانوں کو ایک محفوظ نظام اور محفوظ ملک دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
پرینکا چتر ویدی ،کالم نگار اور رکن پارلیمان، شیوسینا
... کیونکہ تمہارا نام’’ خان‘‘ ہے
 ’’اس معاملے کے ذریعے ہندوستان کی اقلیتوں کو ایک سرد پیغام بھیجا گیا ہے: تم چاہے جو بھی کرو، یا کرتے ہو، تم پر نظر رکھی جارہی ہے، تم سب کیلئے شاہ رخ خان ہو ہمارے ہمارےلئے کسی چوپائے سے کم نہیں کیونکہ تمہارا نام ’’خان‘‘ ہے۔ این سی بی پر الزام ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی مادوں کے استعمال سے نمٹنے کیلئے ایجنسی این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت نہ صرف بالی ووڈ اداکاروں کو نشانہ بنارہی ہے بلکہ ٹھگوں، بدمعاشوں اور بی جے پی کے کارکنان کو تحقیقات میں شامل کرکے ان کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ آج، مبینہ طور پر، این سی بی کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ممکنہ عالمی منشیات کارٹیل چلانے کے شبہ میں لوگوں کو گرفتار کر سکتی ہے، اگر اسے آپ کا نام نہیں پسند ہے یا اگر آپ کا نام خان ہے تو اُنہیں اور بھی موقع مل جاتا ہے۔ اس کیس کے ذریعے حکومت کامیابی سے لکھیم پور کھیری اور ۳؍ ہزار کلو گرام منشیات کے معاملات سے عوام کی توجہ ہٹا چکی ہے۔ فیس بک کے سابق ڈیٹا سائنٹسٹ فرانسس ہیوگن نے کہا تھا کہ ہندوستان میں تشدد اور تقسیم کو فروغ دینے کیلئے فیس بک کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ایک مخصوص سیاسی مفاد کیلئے کام کرنے والے کارندے انفرادی اکاؤنٹ بناتےہیں اور ان کے ذریعے نفرت کو عام کرتے ہیں جس کا اثر ہمارے پڑوسی ممالک پر بھی پڑتا ہے۔ اگر کوئی آرین خان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کا جائزہ لے تو اس میں سیاحت، یونیورسٹی، کھیل کود یا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ پوسٹس نظر آئیں گی۔ وہ کسی سرگرمی کا حصہ نہیں ہیں، انہوں نے کوئی سیاسی نعرہ نہیں لگایا ہے، یہاں تک کہ احتجاجی جلسوں یا واک کا حصہ بھی کبھی نہیں بنے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا انہیں محض اس لئے پھنسایا جارہا ہے کہ ان کے والد ملک کے بہت ممتاز اداکار بلکہ سپر اسٹار ہیں؟ تصحیح: کیا انہیں اسلئے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ان کے والد دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری کے مسلمان سپر اسٹار ہیں؟‘‘
سائرہ شاہ حلیم، سماجی رضاکار اور ایجوکیٹر
 مسلمان، دلت اور قبائلی
 ’’ہو سکتا ہے آرین خان نے منشیات کا استعمال کیا ہو، اور شاید نہ کیا ہو۔ لیکن اس پورے معاملے میں جو چیز غیر مبہم ہے، وہ ہے، سسٹم کے ردعمل میں تناسب کی مکمل کمی ۔ ہماری نچلی عدالتیں کم خطرہ مول لینے کو ترجیح دیتی ہیں۔ دہلی کی وہ عدالت مستثنیٰ ہے جس نے ماحولیات کی رضا کار دِشا رَوی کے بنیادی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ لیکن ملک کے زیادہ تر حصوں میں ہماری نچلی عدالتیں ایسے معاملات میں فیصلہ سنانے میں جمود کا شکار رہی ہیں۔ اس کیس نے ماضی کے چند معاملات کی یاد تازہ کردی ہے۔ اس سے قبل اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کو ایک ایسے لطیفے کیلئے گرفتار کرلیا گیا تھا جو انہوں نے تقریب میں سنایا ہی نہیں تھا، اس کے بعد ان کی ضمانت کی درخواست بار بار مسترد ہوتی رہی تھی۔ اسی طرح ، ویب سیریز تانڈو کے ایگزیکٹیوز کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے گئے، اور انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں ہی صورتوں میں، انصاف کیلئے سپریم کورٹ تک جانا پڑا۔ لیکن اگر آپ کے پاس سپریم کورٹ کے وکلاء تک پہنچنے کی استطاعت نہیں ہے تب کیا ہوگا؟ یہ سوچ کر دل کانپ جاتا ہے کہ جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ زیر سماعت مقدمات میں زیادہ تعداد مسلمانوں، دلتوں اور قبائلیوں کی ہے۔ آرین خان کی کہانی کسی ’بگ باس‘ کی کہانی نہیں ہے۔ وہ آئین کی پاسداری کررہا ہے۔‘‘  برکھا دت، صحافی، ہندوستان ٹائمز
’’پل پل‘‘ کی رپورٹنگ
 ’’اگر آپ کو آرین خان معاملے پر نظر رکھنا ہے تو نیوز چینلز کا سہارا بالکل نہ لیں۔ اس ہائی پروفائل کیس کی ’’پل پل‘‘ کی رپورٹنگ ٹی وی چینلز کر رہے ہیں، اور کہیں نہ کہیں قوم پرستی اور مذہب پر بھی بحث کی جارہی ہے۔ ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ کچھ اس طرح ہے: مکل روہتگی ممبئی پہنچ گئے، روہتگی عدالت میں داخل ہوئے، روہتگی نے کہا ...، سماعت تھم گئی، سماعت دوبارہ شروع ہوئی، سمیر وانکھیڈے دہلی پہنچے، پھر عدالت پہنچے، آرین خان جیل سے نکلے، آرین عدالت پہنچے۔ اس قسم کی خبریں دیکھتے وقت کیا آپ کو خواہش نہیں ہوتی کہ حلق پھاڑ کر کہیں ’’کچھ دیر کیلئے خاموش بیٹھ جاؤ۔‘‘ جس طرح اس معاملے کو میڈیا میں لایا گیا، وہ بالکل درست نہیں ہے۔ آرین کے معاملے میں بیشتر چینلوں کا یہی کہنا ہے کہ ’’ضمانت یا جیل۔‘‘ اس پورے معاملے میں کیا میڈیا کا رویہ درست ہے؟
شیلاجا باجپئی، مصنف، ناقد
ممبئی کروز منشیات معاملہ یا سیاسی سازش؟
 ’’اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان منشیات کے معاملے میں گرفتار ہیں اور ان کے بارے میں مسلسل خبریں آرہی ہیں۔ تاہم، شواہد ہیں کہ آرین کے پاس سے کوئی نشہ آور چیز برآمد نہیں ہوئی ہے۔ انہیں محض چند پرانے وہاٹس ایپ پیغامات کی وجہ سے زیر حراست لیا گیا اور پوچھ گچھ جاری ہے۔ ان کے خلاف ایسا کوئی سنگین الزام نہیں ہے کہ ضمانت نہ دی جائے، لیکن این سی بی کسی نہ کسی طرح ان پر اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ این سی بی کے کام کرنے کے انداز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ این سی بی ڈائریکٹر کے خلاف عائد کئے گئے الزامات میں کس حد تک صداقت ہے، یہ تو جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا، لیکن اس واقعہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ ایسی منصفانہ کام کرنے والی ایجنسیاں بھی بے داغ نہیں ہیں۔ کروز منشیات معاملے نے اب سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت اور کئی دوسری پارٹیاں بھی اس میں کود پڑی ہیں اور وہ صاف کہہ رہی ہیں کہ این سی بی نے یہ چھاپہ مرکز کے کہنے پر مارا اور شاہ رخ خان کے بیٹے سمیت ۱۳؍ لوگوں کو جان بوجھ کر گرفتار کیا۔ اس گرفتاری میں جن لوگوں کو گواہ بنایا گیا تھا ان میں سے کچھ بی جے پی کارکن بتائے جاتے ہیں۔ اپنے خلاف الزامات کی وضاحت میں سمیر وانکھیڈے کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے وہی کیا جو انہیں اوپر سے حکم دیا گیا تھا۔ مذکورہ بالا حکم این سی بی کی غیر جانبداری پر خود بخود سوال اٹھاتا ہے۔‘‘
جن ستہ، اداریہ، ۲۷؍ اکتوبر

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK