قید سے رودادِ قفس تک ، میری ٹائیلر کی کہانی

Updated: July 20, 2020, 11:21 AM IST | Shahid Nadeem

ہزاری باغ اور جمشید پور کی جیلوں میں پانچ برس کے مشاہدات اور تجربات کو انہوں نے اپنی کتاب ’مائی ایئرس اِن این انڈین پریزن ‘، میں قلمبند کیاہے

Mary Taylor Book
میری ٹائلر کی کتاب کا عکس

 ایک وقت تھا جب مغربی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاؤں نکسل باڑی سے اٹھنے  والی یہ تحریک ہندوستانی عوام کی جدوجہد اور انقلاب کی علامت بن گئی تھی ، اِن دنوں اسے اربن نکسل کے نئے نام سے یاد اور بدنام کیاجارہا ہے۔ عوام کو غربت اور استحصال سے روکنے اور بچانے والی یہ تحریک رفتہ رفتہ اپنا وجود گم کرتی جارہی ہے۔ میری ٹائیلر بھی اسی نکسلی تحریک کا حصہ تھی۔ اپنے بنگالی شوہر  امالیندوسین کے ساتھ اس کی سرگرمیوں میں شامل رہی۔ ۲۷؍ برس کی عمر میں ۱۹۷۰ء میں اسے ایک جھوٹے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا۔ جولائی ۱۹۷۵ء تک وہ جیل میں  رہی ۔  ہزاری باغ اور جمشید پور کی جیلوں میں پانچ برس کے مشاہدات اور تجربات کو اس نے اپنی کتاب ’مائی ایئرس اِن این انڈین پریزن ‘، میں قلمبند کردیا ہے۔ میری ٹائیلر کو اس پانچ سال کے عرصہ میں کئی طرح  کے مسائل اور مصیبتوں  سے گزرنا پڑا، کئی طرح کے کرداروں اور قیدیوں کو بہت قریب سے  دیکھنے کا موقع ملا، اوران کے بارے میں اس نے تفصیل سے لکھا۔
 جیل کےمشکل دنوں اور عمارت کا حال بیان کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں: بارش کے دنوں میں دیوار سے پانی رِسنے اور چھت ٹپکنے لگتی۔ اس کے ساتھ کوئلہ اور جلانے والی لکڑی  کے ذرے بھی آجاتے جو کمبل اور بورے سے بھی نہیں رُکتے۔ بہار کا بڑا حصہ ہفتوں پانی میں ڈوبا رہتا۔ فصلیں برباد ہوجاتیں۔ ہماری روز کی سبزی ترکاری اور آلو سیاہ پڑجاتے۔  (کھاتے وقت) منہ میں جلن اور تکلیف کا احساس ہوتا۔‘‘  اس کے برخلاف متمول اور مالدار قیدیوں کو اچھے کپڑے دیئے جاتے ، جس پر غریبوں عورتوں کو غصہ آتا۔ میری ٹائیلر نے جیل کے عہدیداروں سے اس تفریق پر احتجاج بھی کیا تو انہیںبتایاگیا کہ اس کے ساتھ رہنے والی اکثر قیدی عورتیں جیل آنے سے پہلے بھی اسی طرح زندگی گزارنے کی عادی ہیں اور یہ حقیقت بھی تھی۔ باہر رہنے والوں کو سردی کے سخت موسم میں ننگے  پیر اور کم کپڑوں میں زندگی گزارنی ہوتی۔جیل کے کھانے کے بارے میں وہ لکھتی ہیں کہ روز سبزی کو لوہے کے ڈرم میں ابلنے کیلئے  رکھ دیا جاتا۔ یہاں تک کہ وہ سیاہ اورلج لجی ہوجاتی ۔ مناسب کپڑے اور کمبل نہ ہونے کی وجہ سے اکثر قیدی بیمار پڑ جاتےاور جیسے جیسے سردی خشک ہوتی جاتی، ان کے پیر پھٹ جاتے اوران سے خون رسنے لگتا۔ بہت سے قیدیوں کے پاس تو چپل تک نہیں تھی۔ سخت سردی کی وجہ سے بچے رونے لگتے ، نلکے خشک ہوجاتے اوراس میں سے بوند بوند پیلا پانی ٹپکتا۔ 
  ۱۹۷۱ء دسمبر کے ابتدائی دنوں میں ہندوستان اور پاکستان کی  جنگ چھڑ گئی ، اوپر سے ہوائی جہاز گزرتے تو قیدی عورتیں اور بچے اسے دیکھنے باہر نکل آتے ۔  ملٹری کے ٹر ک اور لاریاں  رات  بھر آتی جاتیں، جنگ ختم  ہونے کے کچھ روز بعد میری ٹائیلر کی ساتھی  عورتوں پَنّو ، روہنی ، صحیح النساء کوبھاگلپور جیل منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ بہار میں یہ عورتوں کی واحد جیل تھی۔ میری ٹائیلر کے مطابق ایک عورت جسے حال ہی میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی  بھاگلپور جانے والوں میں شامل تھی۔مرد قیدیوں میں اس کا ایک شناسا تھا۔ اس نے اسسٹنٹ  جیلر کو  ۶۵؍روپے دیئے تاکہ اسے اس کے گاؤں کے قریب ہزاری باغ میں ہی رہنے دیاجائے۔ اس کے علاوہ ایک وجہ اور تھی، وہ اپنی ذات کے ایک قیدی کے بیٹے  سے اپنی  ۶؍ سال کی بیٹی کا رشتہ کرنا چاہتی تھی۔ قیدیوں کی نگراں وارڈن کے بارے میں وہ بیان کرتی ہیں کہ لیونی، خاتون وارڈن، مجھے دیکھ کر بہت افسوس کرتی۔ میرے پاس آکر بیٹھنے لگی۔ وہ ابھی بمشکل کم سنی سے نکلی تھی، میں حیران تھی کہ وارڈ ن کیسے بن گئی ۔ اس نے بتایا کہ سوتیلے باپ کی موت کے بعد ، سوتیلے بھائیوں نے لیونی کی ماں اور پانچ چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھر سے نکال دیا۔ انہیں ڈرتھا کہ وہ مرحوم باپ کی زمین کے حصہ میں دعویٰ نہ کردیں۔ لیونی کو غربت کے دن اچھی طرح یاد تھے۔ گھر نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایک جاننے والے کے آنگن میں سوتے تھے، کوئی برتن تھانہ تھالی ،دن میں ایک بار کھانا کھاتے ۔ کھانے میں اُبلے چاول اور پتیاں ہوتیں۔کبھی کبھار آنگن میں لگے درخت کی پتیاں  اُبال کر کھانے سے زبان کا ذائقہ بدل جاتا ۔ بعد میں ماں کو کام مل گیا۔ تسلے میں اینٹ سیمنٹ ڈھوتے ہوئے وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی جیسے سرکاری نوکری مل گئی ہو، روزانہ کھانا مل جاتا اور اتنے پیسے ہوتے کہ چھوٹے بھائیوں کی فیس ادا کرسکیں۔
 جیل میں ٹائیلر کی ملاقات ایک اور کردار سے ہوئی جس کی اپنی ایک کہانی تھی ۔ اس کے بازو میں پَنّو نامی ایک  بزرگ عورت سوتی تھی، سنتھال ذات کی ، آسام ، بہار ، جھارکھنڈ ، میزورم ، اڑیسہ اور بنگال میں آباد یہ قبیلہ اپنے تیزاور باغیانہ تیور کی وجہ سے انیسویں صدی میں انگریزوں کے خلاف مسلح بغاوت کی وجہ سے مشہور تھا۔ پَنواکثر خواب میں اپنی بیٹی کو  دیکھ کر اٹھ بیٹھتی اور بڑبڑانے لگتی ۔ اس  نے اپنی بیٹی کا سر پتھر سے کچل کر ہلاک کردیاتھا۔ کبھی کبھی کہتی مجھے یہ کرنا پڑا ۔  اس کے پیٹ میں گاؤں کی مکھیا کا بچہ پَل رہا تھا ۔ مکھیا نے شادی سے انکارکردیا۔ گاؤں والوں کے طعنہ اور طنزیہ جملے سنتے سنتے اس کا سرشرم سے جھک جاتا۔ ایک روز پَنّو لکڑی جمع کرنے کے بہانے بیٹی کے ساتھ جنگل گئی اور اسے ختم کردیا اور پولیس کے سامنے حاضر ہوگئی اور چار برس جیل میں گزارنے کے بعد اسے بیس سال کی سزا ہوگئی۔ میری ٹائیلر کے مطابق قتل  کے ایسے معاملات  جن میں انتقام کا جذبہ یا خاندان کی عزت بچانے کے لئے قتل کیا گیا تھا، قاتلوں نے کبھی قانون سے بچاؤکی کوشش نہیں کی۔ جیل  کے پانچ سال کے عرصہ میں بمشکل کوئی ایسا  معاملہ مجھے دیکھنے کو ملا  جس میں منصوبہ بند طریقے سے قتل کیا گیا ہو۔‘‘
  جیل  میں ٹائیلر نے دیکھا کہ کم درجے کے وارڈن ، قیدیوں کا راشن کا حصہ نکال لیتے، اسپتال کا اسٹاف  دوائیں اور مریضوں کا پرہیزی کھانا تک ہڑپ کرجاتا۔ اُن کی ان معمولی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کے لئے ہیڈ وارڈن کو معقول رقم ادا کرنی پڑتی ۔اس ہیڈ وارڈن کے پاس کئی ٹیکسیاں اور تیس ایکڑزمین تھی، حالانکہ اس کی تنخواہ صرف تین سو روپے تھی  جو اس کے خاندان کی کفالت کے لئے بھی ناکافی تھی۔ جہاں تک عہدیداروں کی بات ہے ، وہ قیدیوں سے گھریلو کام لیتے اور دیگر منافع بخش کاروبار کرتے۔ معاملہ یہیں تک نہیں تھا۔ ایک سپرٹنڈنٹ جیل میں وزیر کی آمد پر اکثر نفرت کا اظہار کرتے، ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ رقم کا مطالبہ کرتے تھے، اگر نہ دوں تو دور دراز علاقہ میں تبادلہ کی دھمکی دیتے۔  اپنے ساتھی قیدیوں کے بارےمیں وہ کہتی ہیں کہ ان قیدیوں نے محدود زندگی گزاری۔ ان کے لئے گاؤں ہی پورے ملک کی طرح تھا، ان کے سارے تجربے اسی حد تک تھے ۔ وہ چڑیل ، بھوت ،بدروح اور اندھی عقیدت کی دنیا میں جیتی تھیں ان میں سے بیشتر نے کبھی اخبار نہیں دیکھا تھا۔ 
 جیل میں مقدمہ اور عدالت کا بھی بُرا حال تھا اس کی کئی کہانیاں بھی تھیں۔ مثلاً پچپن برس کی گلابی کے بارے میں  وہ بتاتی ہیں کہ چار دوسرے مزدوروں کے  کے ساتھ ایک کھیت میں وہ کام کرتی تھی ۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کھیت کی ملکیت کے بارے میں زمین کے مالک سے اس کے بھتیجے کا تنازع ہے، انہیں چاول کی چوری کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا۔ ستم ظریفی یہ کہ ملکیت کے دونوں دعویداروں نے آپس میں تصفیہ کرلیا اور رہا ہوگئے مگر ملازمین تین سال سے قید میں تھے،  انہیں ایک  باربھی جج کے سامنے نہیں پیش کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK