ایندھن اور جی ایس ٹی  

Updated: November 16, 2022, 2:04 PM IST | Mumbai

پیٹرول ڈیزل نے مہنگائی میں جس قدر اضافہ کیا اور اس کی وجہ سے عام آدمی کی جو درگت بنی وہ سب پر ظاہر ہے۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

پیٹرول ڈیزل نے مہنگائی میں جس قدر اضافہ کیا اور اس کی وجہ سے عام آدمی کی جو درگت بنی وہ سب پر ظاہر ہے۔ اب اگر ان اشیاء کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا گیا جس کی تیاری کے اشارے مل رہے ہیں تو صورت حال کیا ہوگی یہ کہنا مشکل ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے ایندھن کی قیمت بڑھے گی نہیں بلکہ کم ہوجائیگی۔ اگر ایسا ہے تو اس سے عوام کو راحت کا سانس لینے کا موقع ملے گا مگر خدانخواستہ ایسا نہیں ہو تو کیا صورت بنے گی اس کے بارے میں سوچئے بھی تو تشویش لاحق ہوجاتی ہے۔ اس تشویش سے دامن جھٹکنا اس لئے بھی مشکل ہے کہ ابھی ہماچل پردیش میں حکمراں جماعت کے خلاف جس برہمی کا مظاہرہ رائے دہندگان کی جانب سے ہوا اس کی متعدد وجوہات میں سے ایک وجہ یہی جی ایس ٹی تھا۔ ہماچل کے کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان بکسوں پر بھی جی ایس ٹی لگا دیا ہے جن میں سیب رکھے جاتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی گلہ تھا کہ کیڑا مار دواؤں پر بھی جی ایس ٹی ہے۔ ان اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح ۱۸ ؍فیصد کر دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ایندھن کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے کی تیاری تو بہت پہلے سے ہے مگر کچھ سوچ کر اسے پس پشت ڈال دیا گیا تھا۔ دراصل ایندھن پر مرکزی حکومت کے بھی ٹیکس ہیں اور ریاستی حکومتوں کے بھی۔ ایندھن سے ملنے والی آمدنی میں مرکزی حکومت اپنا حصہ رکھ لیتی ہے اور ریاستوں کو ان کا حصہ مل جاتا ہے۔ جی ایس ٹی کا کلیکشن براہ راست مرکز کی جیب میں جائیگا اور یہ نزاع کا اہم سبب ہے۔ مرکزی حکومت کو جب اپنے حصے کے ٹیکسیز وقت پر نہیں ملتے تو ان کا اپنا بجٹ لڑکھڑانے لگتا ہے۔ جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعدسے اب تک مرکز اور ریاستوں کے تعلقات میں تلخی اس لئے بھی بڑھی ہے کہ مرکز نے جی ایس ٹی میں ریاستوں کا حصہ لوٹانے میں تاخیر کی اور جب کافی تقاضوں کے بعد لوٹایا بھی تو قسطوں میں۔ ریاستی حکومتیں اسی لئے آمادہ نہیں ہیں کہ ایندھن پر جی ایس ٹی کا سایہ دراز ہو۔ یہی بات گزشتہ دنوں پیٹرولیم کے مرکزی وزیر ہردیپ پوری نے بھی کہی کہ ریاستوں کی آمادگی بہت مشکل ہے مگر ہم یعنی مرکزی حکومت تیار ہے۔ اس بیان کے بین السطور ہمیں یہ اشارہ دکھائی دیتا ہے کہ اب مرکز ریاستوں کو ’’راہ راست‘‘ پر لانے کی ہرممکن کوشش کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستیں اس دباؤ کے آگے سر جھکا دیں گی۔ اس کا امکان کم ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ نہیں کہ جی ایس ٹی میں اپنے حصے کیلئے ریاستوں کو مشقت کرنی پڑے گی بلکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر جی ایس ٹی کی شرح ۲۸؍ فیصد ہو تب بھی ریاستوں کی آمدنی کم ہوجائیگی جس کے پیش نظر عوامی کاموں کے اخراجات کیلئے انہیں مرکز کی عنایات پر انحصار کرنا پڑے گا جو انہیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ سے، عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا ان کیلئے مشکل ہوجائیگا یا ان میں تاخیر ہوگی۔ یاد رہے کہ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی کے نفاذ کے وقت ریاستوں سے کہا تھا کہ نئے ٹیکس نظام کے سبب ریاستوں کا جو مالی نقصان ہوگا اس کی بھرپائی مرکزی حکومت کرے گی۔ بھرپائی میں تاخیر ہی کی وجہ سے ریاستیں خفا تھیں۔ اس خفگی میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب ریاستوں کا اپنا حصہ بھی مشکل سے مل رہا تھا۔ اب جبکہ یہ معاملہ نئے سرے سے اٹھا ہے دیکھنا ہے کہ کوئی حتمی تصویر ابھرتی ہے یا تھوڑی بہت ہلچل کے بعد یہ ازسرنو سرد خانے میں چلا جاتا ہے۔ جو بھی ہو، عوام کو راحت ملنی چاہئے، اذیت نہیں جو تسلسل کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK