دکھ اور درد سے بھرا ،۷۲؍ میل لمبا سفر

Updated: June 22, 2020, 12:11 PM IST | Shahid Nadeem

مراٹھی ادیب اشوک وٹکر نے’ ۷۲؍ میلـ ــ‘ جو سفرکی داستان ہےمحض ڈھائی دن میں لکھی تھی

72 mile
اشوک وٹکر کی مذکورہ کتاب پر فلم بھی بنائی جاچکی ہے۔ یہ منظر اسی فلم کا ہے۔

اشوک وٹکر کی مراٹھی کتاب صرف تین دن کے سفرکی داستان ہےجو محض ڈھائی دن میں لکھی گئی ۔ اشوک کے والد نامدیو وٹکر ،مراٹھی کے ممتاز ڈراما نگار ، فلمساز اور فنکار تھے۔ ان کی خود نوشت ’کتھا ماجھی  جنماچی ‘ بہت مقبول ہوئی تھی ۔ اشوک کہتے ہیں کہ ’’ جب میں ۷۲؍ میل لکھ رہا تھا تو وہ اپنی سوانح کو سمیٹنے میں مصروف تھے۔ ہم نے کبھی ایک دوسرے کو نہیں بتایا کہ ہم نے کیا لکھا ہے، لیکن برا  اس بات کا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی سوانح  پوری سچائی اور ایمانداری  سے نہیں لکھی ۔ ‘‘۷۲؍ میل کو حکومت مہاراشٹر نے ایوارڈ کے لئے منتخب کیا تھا ۔ اس پر ایک فلم ’۷۲؍ میل ۔ایک پرواس ‘ بھی بن چکی ہے۔ اس کے ہدایت کار راجو پٹیل تھے۔ 
 اشوک کی ماں اپنے شوہر سے ناچاقی کے بعد میکے وڑگائوں چلی گئی۔ دو ڈھائی برس تک اس نے بڑی ذلت آمیز زندگی گزاری ’’ تب ہمیں معلوم ہوا کہ والدین کے رشتے میں دراڑ آچکی ہے۔ ماں صرف مجھ سے ہی نہیں دونوں چھوٹے بھائیوں سے پریشان ہو چکی تھی ۔ میرا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ کبھی کبھی مجھے شکنجے میں اٹکا کر کھونٹے پر ٹانگ دیا جاتا ۔ اب بھی  ان دنوں اور دور کو یاد کرتا ہوں تو ٹیس سی اٹھتی ہے۔ کئی لوگ مل کر مجھے لاوارث کتے کی طرح پیٹتے،گالی گلوج تو روز کا معمول تھا ۔ میرے جسم پر سو سے زائدچھوٹے موٹے زخموں کے نشان ہیں۔ ان میں کئی زخم املی کی لکڑی یا ہم ’ماتنگوں ‘ کے گھروں میں ببول کے چھلکے سے بنے ہوئے ڈنڈوں کے ہیں۔ ‘‘ اشوک کے والد ممبئی کی فلمی  اور ادبی دنیا میں مصروف تھے۔ گھر کی ذمہ داریوں سے لاپروا، ۶؍ ۶؍ مہینے بعد گھر لوٹتے ۔ اشوک لکھتے ہیں کہ’’ گھر میں میں سب کا ناپسندیدہ ، ڈانٹ ڈپٹ  سہنے والا ، بلی کے بچے کی طرح  جسے بوری میں بھر کر گائوں کے باہر پٹھار یا پہاڑ پر چھوڑ دیا جاتا ۔ اسی طرح ماں باپ  نے ایک دن مجھے وڑگائوں سے اٹھاکر بہت دور ستارا کے بورڈنگ اسکول میں چھوڑ دیا اور چلے گئے۔ مجھے گھر کی دیمک سمجھا گیا۔‘‘ اس وقت اشوک کی عمر صرف تیرہ برس تھی ۔ وہ وہاں جانا نہیں چاہتا تھا ۔ بورڈنگ کی پابند اور محدود زندگی اسے پسند نہیں تھی ۔ وہ مکمل آزاد ،سیر وتفریح  کے ساتھ اپنی زندگی جینا چاہتا تھا ۔ اس کا غصہ اور تلخی آج بھی اس کے دل میں باقی ہے۔ وہاں سے نکلا  اور ستارا سے کولہاپورتک ۷۲؍ میل کا سفر ننگے پیر ، پیدل ، تین ساڑھے تین دن میں طے کیا۔وہ لکھتے ہیں :لوگوں کے پیروں میں کانٹے چبھ جاتے ہیں ،ٹوٹ جاتے ہیں، کچھ عرصہ بعد گوکھرو بن جاتے ہیں ۔ میرے دل میں بھی نہ جانے کتنے گوکھرو ٹیس رہے ہیں جو درد سے راتوں کو بیدار رکھتے ہیں۔ ‘‘
 اس سفر کے دوران خوف ، بے عزتی ، بے چارگی، مجبوری اور گھر پہنچنے کی جلدی  ان پر سوار تھی ۔ راستے میں ان کی ملاقات بدنصیب  دلت عورت رادھیکا سے ہوئی جو اپنے ۶؍ بچوں کے ساتھ کولہاپور کے لئے نکل پڑی تھی ۔ ان سب میں اشوک بھی شامل ہوگئے۔ کولہاپور تک صرف پانچ زندہ رہ گئے۔ راستے میں بھوک ، بیماری اور بے بسی نے اس کے ۳؍ بچوں کو نگل لیا۔ تینوں کو دفن کرنے میں اشوک نے اس کی مدد کی ۔ اس سفر سے زندہ رخصت ہونے والی عورت ، اس کےتین بچے: ۲؍ بیٹیاں  اور ایک بیٹا ، ان میں سے آج شاید ہی کوئی زندہ ہو ۔ میں نے بعد میں انہیں بہت تلاش کیا ، جگہ جگہ ڈھونڈا ، کچھ پتہ نہ چل سکا ۔ صرف یہی نہیں اس عورت نےمجھ سے جن جن لوگوں کا ذکر کیا تھا وہ بھی اسے اور اس کے بچوں کو بھول چکے تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان بے غیرتوں کو سب معلوم تھا مگر بتانا نہیں چاہتے تھے۔ ‘‘
 اس کتاب کے بارے میں وہ لکھتے ہیں : اپنی تکلیف ، دکھ  درد ، جسمانی اور ذہنی اذیت اور اچھے برے تجربات بیان کرکے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے سے مجھے نفرت ہے۔ میرے قریبی اس ۷۲؍ میل لمبے سفر کی روداد سے پوری طرح واقف نہیں۔ اکثر وہ اس کے بارے میں  جاننا بھی چاہتے ہیں لیکن مجھے حوصلہ نہیں ہو تا۔اب اس بارے میںلوگوں کو بتانے سےکیا حاصل۔ میں نے اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا۔  شاید وہ اس پر یقین نہ کرپائےلیکن میرے اندر ایسا زلزلہ اٹھتا رہتا ہے کہ سب کچھ بیان کردوں ۔ اپنے بارے میں نہ سہی  اس دلت عورت کے بارے میں اس کے بچوں کے بارے میں ، اب یہ کہانی سناکر مجھے آزاد ہو نا ہوگا۔‘‘اس سفر میں تعصب اور تکبر سے چور انسانوں کےتلخ  ترش تجربات کو جس درد مندی سے بیان کیا گیا ہے، اس سے معاشرے میں پسری سفاکی اور سنگ دلی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ایسے ہی ایک واقعہ کے بارے میں وہ لکھتے ہیں : راھا کے ایک بیٹے کو بیل نے اپنے کھروں سے کچل دیا۔ اس کی  پسلیاں ٹوٹ گئیں ۔ ایک ٹرک پر ہم قریبی گائوں کے آر ایم پی ڈاکٹر کے پاس گئے۔ اس نے پوری طرح ٹوٹی ہوئی پسلیوں پر لگانے کے لئے ذرا سا مرہم کاغذ پر لپیٹ کر ہماری طرف اچھال دیا۔ اتفاق سے بعد میں اسی ڈاکٹر سے میری ملاقات ہوئی ۔ باتوں باتوں میں پرانی یاد تازہ ہو گئی ۔ جس وقت ہم دوا لینے اس ڈاکٹر کے گھر گئے تھے اس نے ہمیں بھگادیا تھا ۔ زخمی قریب المرگ بچہ پیاس سے تڑپ رہا تھا ۔ بھاگ دوڑ کے بعد  احساس ہوا کہ مجھے بھی شدید پیاس لگی ہے۔ خوش قسمتی سے ہم سے کچھ بڑی عمر کے مضبوط اور قدوقامت کے لڑکے پانی سے بھرا مٹکا  لئے جارہے تھے۔ ’’تھوڑا پانی پلادو ، پیاس لگی ہے۔ یہ بچہ پانی پانی کررہا ہے۔ ‘‘ میں گڑگڑایا لیکن وہ بچے کا مذاق اڑانے لگے۔ آئو تمہیں پانی دیتے ہیں ۔ وہ ہمارے پھیلے ہوئے ہاتھوں پر پانی ڈالتے لیکن اسے بھرنے نہیں دیتے۔ ہنستے کھل کھلاتے ہمارے پیچھے پیچھے چلنے لگے ۔ ہم ہاتھ پھیلائے پانی کو ترستے رہے۔ انہوں نے پانی ضائع کردیا مگر ہمیں پینے نہیں دیا۔ بالآخر ہم نے کائی سے بھرے گڑھے میں گندا پانی پی کر پیاس بجھائی۔اس سفر میں انسان دوستی  اور درد مندی کے بھی واقعات پیش آئے جو انسانی قدروں پر یقین اور اعتماد بحال کردیتے ہیں۔ جیل سے فرار ایک مجرم نے ان کی جو مدد کی اسے بھلانا آسان نہیں ۔
 اشوک کے الفاظ میں :جس مفرور ملزم نے رادھا کے بچے کو دفن کرنے میں ہماری مدد کی تھی ، یہ جان کر کہ ہم بھوکے ہیں اس نے اپنی تھیلی سے روٹی اور چٹنی نکال کر ہمارے سامنے رکھ دی اور کسی کی آہٹ پاکر لنگڑاتا ہوا پتھروں کے پیچھے بھاگ گیا۔ بولا ’’میرے بارے میں کسی کو بتانا مت ۔‘‘ اس روز ہم نے اسے آخری بار دیکھا ۔ اس قاتل مفرور مجرم کے علاوہ ہمیں جو بھی ملا سب بدقماش ، بدذات اور مغرور تھے۔ کچھ عرصہ بعد میں اسی علاقے میں گھوم رہا تھا ، تبھی سات برسوں سے روپوش  ایک لنگڑے مجرم کو سو دو سو لوگوں نے ایک گڑھے میںگھیر کر پتھر سے کچل کر مار ڈالا تھا ۔ میری آنکھوں کے سامنے وہی مفرور لنگڑا مجرم تھا ۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ میں چپ چاپ کھڑا دیکھتا رہا ۔
  ۷۲؍ میل کی یہ دکھ بھری اور دلخراش داستان محض ڈھائی  دن میں تحریر کی گئی ہے۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ کتاب میںبیان ہونے سے رہ گیا  جسے انہوں نے دیباچے میں شامل کرلیاہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK