Inquilab Logo Happiest Places to Work

بقرعید کا تہوار گاؤں میں بکریاں پالنے والوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں

Updated: May 24, 2026, 9:51 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

ایک وقت تھا جب گرمی کی چھٹیوں میں بچے فجر کی نماز کے بعد بکریوں کا ریوڑ لے کر کھیتوں، باغوں اور ندی کے کنارے نکل پڑتے تھے۔

Now the villages are not what they used to be, the fields have shrunk and the herdsmen have also decreased. Photo: INN
اب گائوں  پہلے جیسے نہیں رہے، کھیت سکڑ گئے اور چرواہوں والی ٹولیاں بھی کم ہو گئی ہیں۔ تصویر: آئی این این

اِس وقت یوپی کے متعدد شہر سخت گرمی کی زد میں ہے۔ بندیل کھنڈ کی دھرتی تپ رہی ہے۔ سڑکوں پر سنّاٹا ہے۔ بازاروں میں کوئی چہل پہل نہیں ہے۔ لیکن باغوں میں رونق ہے، ہنسی ہے قہقہے ہیں اورکوئل کے گیت ہیں۔ گیہوں کی فصل کٹنے کے بعد کھیت خالی ہیں۔ تاحد نگاہ سپاٹ کھیت ہی کھیت نظر آرہے ہیں۔ اُن کھیتوں میں اپنا چارا تلاش کرنے کیلئے بکریاں اِدھر سے اُدھر بھٹک رہی ہیں۔ اُن کے مالکان دور سے اُن پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ اب بکریوں کیلئے باقاعدہ فارم ہائوس بناکر ان کو پالا جارہا ہے لیکن پہلےبکری اور مویشی پروری کرنے والے ایک چھپر میں اُنہیں رکھتے تھے اورصبح ہونے کے ساتھ بکریوں کے ریوڑ لے کر نکل پڑتے تھے...اُن کے ہاتھ میں ایک پتلی سی چھڑی ہوتی اُسی سے درجنوں بکریوں کو کنٹرول کیا کرتے تھے۔ پہلے بکری پالنےکا کام ہمارے یہاں زیادہ تر ’گڑریا، پال ‘ برادری کے لوگ کرتے تھے لیکن اب اس کام میں برادری کی قید ختم ہو گئی ہے۔ اب دوسرے لوگ بھی اس کام میں آگے آرہے ہیں کیونکہ یہ منافع بخش ہے۔ 
ایک وقت تھا جب گرمی کی چھٹیوں میں بچے فجر کی نماز کے بعد بکریوں کا ریوڑ لے کر کھیتوں، باغوں اور ندی کے کنارے نکل پڑتے تھے۔ وہ بکریاں بھی خوب تھیں۔ کوئی سیدھی سادی، تو کوئی اتنی شوخ کہ ذرا سی آنکھ ہٹی نہیں کہ کسی کے کھیت میں گھس گئی۔ یا نظروں سےاوجھل ہو گئی۔ شام تک اُس کو تلاش کرکے گھر لے جانا بڑا مشکل کام ہوتا تھا۔ بچے اور چرواہےصبح کی نرم دھوپ کے ساتھ بکریوں کو لیکر اِدھر اُدھر گھومتے اور سورج چڑھنے تک باغوں کی طر ف آجاتے۔ 
 کسی بڑے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر سستاتے۔ وہیں کسی کے تھیلے سے سوکھی روٹی نکلتی، کوئی پیاز لے آتا، تو کوئی ہری مرچ۔ کنویں یا نہر کا ٹھنڈا پانی پیتے اور پھر وہی روٹی دنیا کی سب سے لذیذ نعمت لگتی تھی۔ بکریاں چراتے ہوئے بچوں کی اپنی ایک دنیا ہوتی تھی۔ کوئی آم کی پتیوں سے بنائی گئی پپہری بجاتا، کوئی مٹی سے کھلونے تیار کرتااور کوئی درختوں پر چڑھ کر دور تک پھیلے کھیتوں کو دیکھتا رہتا۔ شہر سے گائوں آنے والے بچے تو بکریوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی آواز سے ہی خوش ہو جاتے تھے۔ وہ ٹن ٹن کی آواز آج بھی ان کی یادوں میں کسی پرانی دھن کی طرح گونجتی ہوگی۔ 
گرمی کے دنوں میں جب دھوپ تیز ہو جاتی تو بکریاں خود ہی کسی سایہ دار جگہ جا بیٹھتیں اور چرواہے کسی درخت کے نیچے لیٹ کر آرام کرتے۔ اس دوران اگر ان کے ہاتھ آم کی سیکر لگ جاتی تو وہ اتنے خوش ہوتے جیسے نعمت غیرمترقبہ مل گئی ہو۔ (وقت سے پہلے پکنے والے آم کو سیکر کہتے ہیں )پرانے آم کے درختوں سے پہلے سیکر گرا کرتی تھی۔ اس وقت باغوں میں بچوں کا ایک غول پیڑوں کے نیچے ٹہل ٹہل کر سیکر تلاش کرتا تھا۔ تلاش کے دوران اگر کسی پیڑ سے سیکر گرتی تو ایک ساتھ سبھی دوڑ لگا دیتے تھے۔ لیکن وہ سیکر تو کسی ایک کے ہی ہاتھ آتی تھی۔ سیکر پانے والا بندہ فاتحانہ انداز میں باغ میں شور مچاتادوڑتا۔ پھر سب ایک جگہ جمع ہو کر ایک دوسرے کو سیکر چکھاتے تھے۔ آخر میں گٹھلی کیلئے لڑائی ہو جاتی تھی۔ شام ڈھلے جب بکریوں کا ریوڑ گاؤں کی گلیوں میں واپس آتا تو ہر گھر کے دروازے پر ایک عجیب سی رونق ہوتی۔ چھوٹے بچے اپنی اپنی بکری پہچان کر خوش ہوتے۔ 
بڑے اور چھوٹے جانور پالنے والوں  کو بقرعید کا بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔ اس تہوار میں اُن کی سال بھر کی محنت کا پھل ملتا ہے۔ کیونکہ جس شخص نے سردی، گرمی، بارش اور دھوپ میں بکریوں کی دیکھ بھال کی ہو، ان کیلئے بقرعید کا چاند ایک خاص خوشی لے کر آتا ہے۔ دیہات میں بہت سے غریب اور محنت کش خاندان ایسے ہوتے ہیں جو چند بکریاں پال کر ہی اپنی روزی کا سہارا بناتے ہیں۔ سال بھر وہ ان جانوروں کو بچوں کی طرح پالتے ہیں۔ صبح سویرے انہیں چرانے لے جانا، دوپہرمیں پانی پلانا، بیماری میں تیمارداری کرنا، اور رات کو باڑے میں محفوظ باندھنا، یہ سب آسان کام نہیں ہوتے۔ چرواہے اپنی نیند، آرام اور کئی خوشیاں قربان کرکے ان جانوروں کی پرورش کرتے ہیں۔ 
جیسے جیسے بقرعید قریب آتی ہے، ان کے دلوں میں امید جاگنے لگتی ہے۔ وہ روز بکریوں کو غور سے دیکھتے ہیں کہ ان کا وزن کتنا بڑھا، بال کیسے چمک رہے ہیں اور بازار میں کتنا دام مل سکتا ہے۔ اس طرح ان کے پالے ہوئے جانور جب اچھی قیمت میں فروخت ہو جاتے ہیں تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی رقم سے کسی کے گھر راشن آتا ہے، کسی کے بچوں کیلئے نئے کپڑے بنتے ہیں، کسی کی ادھار کی رقم ادا ہوتی ہے اور کسی کے گھر کئی مہینوں بعد خوشحالی آتی ہے۔ اب گائوں  پہلے جیسے نہیں رہے، کھیت سکڑ گئے اور وہ چرواہوں والی ٹولیاں بھی کم ہو گئیں، مگر یادوں کے کسی کونے میں اب بھی وہ منظر زندہ ہے، جہاں دھول اڑاتی پگڈنڈی پر ایک بچہ لکڑی کندھے پر رکھے، بکریوں کے پیچھے چل رہا ہےاور اسے خبر ہی نہیں کہ وہ اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت دن گزار رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK