Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ میں تارک وطن ہندوستانیوں کا احتجاج، طلبہ کے خلاف دہلی پولیس کے کریک ڈاؤن کی مذمت کی

Updated: July 21, 2026, 7:04 PM IST | London

مظاہرین نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے دیگر لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شفافیت، احتساب اور ہندوستان کے امتحانی نظام میں ساختاتی اصلاحات کو یقینی بنائے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

تارک وطن ہندوستانیوں نے پیر کی شام کو وسطی لندن میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر جمع ہو کر نیٹ پیپر لیک معاملے پر مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے اور دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کریک ڈاؤن کی مذمت کی۔ انڈیا ہاؤس کے باہر ہونے والے مظاہرے میں ”انقلاب زندہ باد“ اور ”پردھان استعفیٰ دو“ جیسے نعرے لگائے گئے۔ 

لندن کے علاوہ مانچسٹر، گلاسگو اور ایڈنبرا میں بھی بیک وقت ایسے احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔ منتظمین نے ۲۶ جولائی کو لیڈز میں بھی ایک مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا مشترکہ انعقاد ساؤتھ ایشیا سولیڈیریٹی گروپ، ایس ایف آئی-یوکے (SFI-UK) اور انڈیا ورکرز ایسوسی ایشن کے بینر تلے ”کاکروچز آف لندن یونائٹ، رائز ان پروٹیسٹ“ (لندن کے کاکروچز متحد ہو، احتجاج کیلئے اٹھ کھڑے ہو) کے عنوان سے کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی احتجاج: ملکی اخبارات میں پولیس کریک ڈاؤن نمایاں، مظاہرین کا مؤقف محدود

احتجاج کیلئے جمع ہونے والے ہندوستانی تارکین وطن سے خطاب کرتے ہوئے، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا، یوکے کی سیکریٹری سومیہا چٹرجی نے دہلی میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد کی مذمت کی۔ 

لندن میں مقیم، یونیسیف (UNICEF) کی ایک ملازمہ اشیتا نے بھی اس مظاہرے میں شرکت کی۔ انہوں نے مکتوب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہلی میں مقیم اپنے دوستوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یہاں احتجاج میں شامل ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”میں یہاں بہت محفوظ ہوں۔ میں یہ لندن میں کر رہی ہوں، جہاں مجھے معلوم ہے کہ میں محفوظ طریقے سے گھر واپس پہنچ سکتی ہوں، رات کو سکون سے سو سکتی ہوں اور اگر میں چاہوں تو دوبارہ آ سکتی ہوں۔ لیکن ہندوستان میں میرے دوستوں نے یہ سب کرنے کیلئے سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ بیرونِ ملک ہونے والے یہ مظاہرے ہندوستان میں احتجاج کرنے والوں کو یہ یقین دہانی کرائیں گے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مَیں آپ کی حفاظت نہ کر سکا: ابھیجیت دِپکے نے زخمی طلبہ سے معافی مانگی

لندن کے احتجاج میں نئی دہلی سے تعلق رکھنے والا ایک ۲۳ سالہ طالب علم نے بھی شریک تھا جس نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اس سے قبل سی اے اے-این آر سی کے خلاف مظاہروں میں بھی حصہ لے چکا ہے۔ اس نے کہا کہ موجودہ تحریک ہندوستان بھر میں انصاف کیلئے جاری وسیع جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے، اس میں ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے بے دخل ہونے والی آدیواسی برادریوں اور اپنی زمینوں پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سے متاثر ہونے والے دلت کسانوں کی جدوجہد بھی شامل ہے۔

تارک وطن ہندوستانی مظاہرین نے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے دیگر لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شفافیت، احتساب اور ہندوستان کے امتحانی نظام میں ساختاتی اصلاحات کو یقینی بنائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK