Inquilab Logo Happiest Places to Work

باغ کے کونے میں اینٹیں جوڑ کر بچے اپنا چولہا بناتے ہیں اور پکوان تیار کرتے ہیں

Updated: June 26, 2026, 10:00 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

باغ میں  کچن کا اور ہوٹل کا کھیل کافی پرانا ہے۔ پہلے بچے باغ میں  ہوٹل بھی کھولا کرتے تھے۔ باقاعدہ کوئلے کی راکھ سے اس کا نام لکھا جاتا تھا اور کھانے کی لسٹ بھی لگائی جاتی تھی۔

Even today, in the age of mobile phones and video games, there are some village gardens where the charm of this innocent children`s kitchen sometimes returns. Photo: INN
آج موبائل اور ویڈیو گیمز کے دور میں بھی گاؤں کے کچھ باغ ایسے ہیں جہاں بچوں کے اس معصوم کچن کی رونق کبھی کبھی لوٹ آتی ہے۔ تصویر: آئی این این

اسکولوں میں گرمی کی چھٹیاں چل رہی ہیں۔ بچے دن بھر آم کے باغوں میں گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ یہاں ہریالی اور ٹھنڈی چھائوں میں بچوں کی اپنی الگ دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ باغ کے کسی کونے میں چند اینٹیں جوڑ کریہاں بچے اپنا چولہا تیار کرتے ہیں۔ اپنے اپنے گھروں سے بچے رکابی اور برتن لے کر آتے ہیں اور پھر یہاں اُن کا کچن شروع ہو جاتا ہے جہاں یہ اپنی پسند کا کھانا پکاتے ہیں۔ کچن کا کام سنبھالنے والی لڑکیوں کے ساتھ لڑکے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ لڑکوں کے ذمہ لکڑیاں جمع کرنا ہوتا ہے، وہ پورے باغ میں ٹہل ٹہل کرلکڑیاں چُنتے ہیں ۔ لکڑی کم پڑنے پر کوئی چپکے سے اپنے گھر سے لکڑی اُٹھا لاتا ہے۔ یہ سب کام اکثر دوپہر میں ہوتا ہے جب گھر کے بڑے آرام کرنے چلے جاتے ہیں تو یہ بچوں کی ٹولیاں اپنے کام میں لگ جاتی ہیں۔ بچوں کے کچن میں آلو بھونا جاتا ہے۔ کچے آم کی چٹپٹی چٹنی تیار کرنے کیلئے کھیتوں سے مرچیں توڑ کر لائی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی آٹے کی چھوٹی چھوٹی روٹیاں بھی تیار کی جاتی ہیں لیکن وہ اکثر کچی رہ جاتی ہیں یا پکتے ہوئے جل جاتی ہیں، پھر بھی بچے اسے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ اگر یہی کھانا اُنہیں گھر کے دستر خوان پر پیش کیا جائے تو کھانا تو دور وہ اُسے ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔ 
اب یہاں اس کی شکایت کیسے کریں جسےخود ہی تیار کیا ہے۔ اکثر اُن کے چولہے کی لکڑیاں جلتی نہیں ہیں۔ چنانچہ کھانا کم پکتا ہے اوردھواں زیادہ اُٹھتا ہے۔ گھر میں تیار کیا ہوا یہی کھانا پسند نہ کرنے والے بچے یہاں ، کچا پکا سب بڑے شوق سے کھا جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوب تعریف کرتے ہیں۔ باغ کے اس کچن میں سب اپنے اپنے حصے کا کام کرتے ہیں ۔ کوئی کھانا پکاتا ہے، کسی کی ذمہ داری سامان لانے کی ہوتی، کوئی برتن صاف کرتا۔ سب سے زیادہ مزے کا کام کھانا چکھنے والے کا ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہےسالن پھیکا ہے اس میں  مرچیں بڑھائو، دال میں  نمک نہیں  ہے۔ چٹنی بہت تیکھی ہو گئی ہے۔ اُس کی ان باتوں  پر کبھی کبھی باورچی کی ذمہ داری نبھانے والا بچہ جھنجھلا جاتا اور چمچہ اُس کے ہاتھ میں  دیتے ہوئے کہتا ہے، لو بھئی میرے کھانا پکانے میں  کمی ہے، اب یہ کام تمہیں کرو۔ 
سب سے دلچسپ لمحہ وہ ہوتا ہے جب اچانک کسی کی ماں باغ میں آ جاتی اور اپنے برتن پہچان لیتی ہے...ارے یہ تو میری کڑاہی ہے، تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو...پھر چند سیکنڈ پہلے تک کے مشہور باورچی ایسے غائب ہوتے ہیں جیسے باغ میں کبھی تھے ہی نہیں۔ شام کو جب بچے گھر لوٹتے ہیں تو کپڑوں پر راکھ، ہاتھوں پر آٹا اور چہروں پر مٹی لگی ہوتی ہے، لیکن دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ آج انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی دعوت کی ہے۔ 
باغ میں  کچن کا اور ہوٹل کا کھیل کافی پرانا ہے۔ پہلے بچے باغ میں  ہوٹل بھی کھولا کرتے تھے۔ باقاعدہ کوئلے کی راکھ سے اس کا نام لکھا جاتا تھا اور کھانے کی لسٹ بھی لگائی جاتی تھی۔ اس میں اصل کھانے کا نہیں بلکہ مصنوعی کھانے کا انتظام ہوتا تھا۔ درختوں کی پتیوں سے سبزی بنائی جاتی تھیں ۔ مٹی کا آٹا ہوتا تھا۔ کنکریاں چاول کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔ ہوٹل مالک کو مہوے کی پتیوں کے نوٹ دیے جاتے تھے۔ چھوٹی پتیاں دس، بیس اور پچاس کی ہوتیں ۔ بڑی پتی پانچ سو کا کام کرتی تھی۔ مالک باورچی کی باقاعدہ تنخواہ طے کرتا تھا۔ کھانا تیار ہونے پر ہوٹل مالک زور زور سے آوازیں لگاتا... آئیے جناب گرما گرم پلاؤ تیار ہے، آج خاص رعایت بھی ہے۔ کوئی بچہ گاہک بن کر آتا اور پوچھتا، بھائی، دال کتنے کی پلیٹ ہے؟جواب ملتا ...آپ کیلئے مفت ہے، بس اسی طرح خدمت کا موقع دیتے رہئے۔ کبھی کبھی بچے باغ میں آنے والے کسی بزرگ کو بھی اپنے ہوٹل کا مہمان بنا لیتے۔ بزرگ بھی ان کا دل رکھنے کے لئے فرضی چائے کی تعریف کرتے تو بچوں کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ ہمارے پڑوس میں ایک چچا میاں تھے۔ اُن کا تو نام ہی ’ہوٹلہا‘ پڑ گیا تھا۔ انہوں  نے اپنے بچپن میں باغ میں خوب ہوٹل چلائے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے اصل نام سے کم جانے جاتے، گائوں کے لوگ اُنہیں اسی نام سے پکارا کرتے تھے۔ 
اُس ہوٹل میں  پارسل کھانا پیک کرنے کا طریقہ بھی خوب تھا۔ درختوں کے بڑے بڑے پتوں کو چن کر اس میں  کھاناپیک کر دیا جاتا تھا۔ کبھی کبھی بچے پرانی کاپی کا پھٹا ہوا صفحہ یا اخبار کا کوئی ٹکڑا ڈھونڈ کر لاتے اور اس میں کھانا لے جاتے تھے۔ ہنسی تو اُس بات پر آتی تھی ...جب ہوٹل والا ہدایت دیتا کہ بھئی دھیان سے لے جانا کہیں سالن چھلک نہ جائے۔ بعض بچے پارسل وصول کرتے ہی شکایت شروع کر دیتے۔ میں نے فُل سالن کیلئے کہا تھا، یہ تو ہاف ہے۔ یہ دیکھئے یہ اس میں چاول بھی کم ہیں۔ 
وہ منظر بھی خوب ہوتا جب پارسل وصول کرنے والا بچہ کہتا کہ آج کی بریانی کے کیا کہنے ...کیا خوشبو آرہی ہے۔ پورا محلہ مہک گیا...بھئی واہ۔ آج موبائل اور ویڈیو گیمز کے دور میں بھی دیہات کے بہت سے باغ ایسے ہیں جہاں بچوں کے اس معصوم کچن کی رونق کبھی کبھی پھر سے لوٹ آتی ہے اور بڑے بوڑھے اپنی بچپن کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK