Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیڈروں کی لن ترانی ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہی ہے

Updated: June 26, 2026, 10:02 PM IST | Jamal Rizvi | Mumbai

ایک کھیپ ایسے لیڈروں کی بھی تیار ہو گئی ہے جنھیں عالمی سیاست کے ابجد کا علم نہیں لیکن بین الاقوامی معاملات پر رائے دینا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔

Bihar Education Minister Mithilesh Tiwari. Photo: INN
بہار کے وزیرتعلیم متھلیش تیواری۔ تصویر: آئی این این

عوام اور سماج سے متعلق کسی معاملے یا مسئلے پر سیاسی لیڈروں کی لن ترانی اب اس سیاسی روایت کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا سہارا لے کر ارباب اقتدار نہ صرف عوام کا استحصال کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات عوام کی سادہ لوحی کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کی سیاست میں جن منفی رجحانات نے نمایاں حیثیت اختیار کر لی ہے ان میں دھرم کے نام پر عوام کو ورغلانے اور ان کا جذباتی استحصال کرنے کے علاوہ سیاسی لیڈروں کا عوام اور سماج کے تئیں وہ غیر ذمہ دارانہ رویہ بھی باعث تشویش ہے جس میں وہ خود کو ہر طرح کی جواب دہی سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان لیڈروں خصوصاً ارباب اقتدار کے دہن پر فریب سے اکثر ایسی لن ترانی سننے کو ملتی ہے جس کا نہ تو سماج کی حقیقی صورتحال سے کوئی واسطہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے عوام اور سماج کے متعلق ان لیڈروں کی وہ فکر مندی ہی نظر آتی ہے جس کا پرزور مظاہرہ یہ لیڈران انتخابات کے دوران کرتے ہیں۔ اسی مظاہرے کی بنیاد پر انھیں عوام کا وہ قیمتی ووٹ حاصل ہوتا ہے جو اُن کیلئے اقتدار کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ جانے کے بعد سیاسی لیڈران بعض اوقات ایسی اول جلول باتیں کرنے لگتے ہیں کہ ان کی ذہنی صحت شک کے دائرے میں آجاتی ہے۔ 
اس وقت وطن عزیز کی سیاسی فضا میں ایسے لیڈروں کی لن ترانی کی گونج اکثر سنائی دیتی ہے جو سیاست اور سماج کے باہمی ربط، اس ربط کی آئینی حیثیت اور ملک و معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے میں عوام کے کلیدی کردار نیز ملک کی بین الاقوامی شناخت سے وابستہ بنیادی حوالوں سے نابلداپنی عجیب و غریب منطق اور سیاسی تحفظات کے زائیدہ تصورات کو اصل حقیقت سمجھ رہے ہیں۔ اس ضمن میں انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی باتوں کو سننے والے سامعین کی خاصی تعداد اپنے پسندیدہ لیڈر کی لن ترانی کو ہی اصل حقیقت سمجھتی ہے اور پھر اپنے گرد و اطراف کے ماحول کو اسی خیالی اور مثالی حقیقت کے رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ لیڈروں کی لن ترانی اور اس پر عوام کی سرد مہری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ارباب اقتدار نے عوام پر اپنے عہدے اور منصب کا ایسا خوف طاری کر دیا ہے کہ اب سچ کہنے اور اپنے آئینی حق کا مطالبہ کرنے والوں سے یہ بے تکا سوال پوچھنے کی روایت بن گئی ہے کہ اقتدار سے ڈر نہیں لگتا؟ یہ سوال اقتدار کے آمرانہ رویہ اور جمہوری نظام کی اس بد حالی اور بے توقیری کا اشاریہ ہے جس نے عوام کو محض ایسا کارندہ بنا دیا ہے جس کا کام سیاسی لیڈروں کے ہر سیاہ و سفید پر ایمان لانا اور اپنی محرومی و بے بسی کو فراموش کر کے ارباب اقتدار کے عائد کردہ احکام کو تسلیم کرنا ہے، خواہ یہ احکام ملک و معاشرہ کو سیاسی، ثقافتی، سفارتی اور معاشی اعتبار سے کمزور ہی کیوں نا بناتے ہوں۔ 
سیاسی لیڈروں کا عوام کے تئیں یہ مضحکہ خیز اور غیر سنجیدہ رویہ گزشتہ دس بارہ برسوں سے ملک کی سیاست کی وہ سچائی بن چکا ہے جس نے عوامی مسائل میں متواتر اضافہ کیا ہے۔ ان مسائل نے عوام کو صرف معاشی طور پرہی کمزور نہیں کیا ہے بلکہ ان عوامی شعبوں کی صورتحال بھی تشویش ناک سطح پر پہنچ چکی ہے جن کا قیام آزاد ہندوستان میں عوام کے آئینی حقوق و فرائض کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہوا تھا۔ ارباب اقتدار اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے دیگر مقتدر افراد اس آئینی التزام کو اپنی لایعنی اور غیر منطقی باتوں سے غیر اہم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کے کسی بھی عمل کیلئے انھیں جوابدہ نہ ٹھہرایا جاسکے۔ اس وقت ملک گیر سطح پر تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں کی خستہ حالی کی ایک بڑی وجہ سیاست دانوں کا یہ طرز عمل رہا ہے جو اُن شعبوں کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے بجائے انھیں اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ 
ملک میں عوامی مسائل کی حقیقی صورتحال پر اپنی لن ترانی کا پردہ ڈالنے والے سیاسی لیڈروں کے ساتھ ہی ایک کھیپ ایسے لیڈروں کی بھی تیار ہو گئی ہے جنھیں عالمی سیاست کے ابجد کا علم نہیں لیکن بین الاقوامی معاملات پر رائے دینا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ ان لیڈروں کی ایسی رائے زنی کو اگرمشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایسے لیڈروں کی لن ترانی کا واحد مقصد ’فادر لینڈ‘ کا گن گان اور امریکہ کی جی حضوری کرنا ہے۔ اس عالمی بحران کیلئے ہر زاویہ سے ایران کو مورد الزام ٹھہرانے والے ان لیڈروں کی زبان پر اس وقت تالا لگ جاتا ہے جب امریکہ بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی کرکے تین ہندوستانیوں کو اپنی سفاکیت کا ہدف بناتا ہے۔ ملکی سطح پر عوام کا جذباتی استحصال اور ان کی فہم و دائش کو اپنی لن ترانیوں کا تابع سمجھنے کے علاوہ عالمی سیاست پر بے تکی باتیں کرنے والے یہ سیاست داں ملک کی امیج کو وسیع تنا ظر میں نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی لیڈروں کی ایسی لن ترانیوں پر آمنا و صدقنا کہنے کے بجائے عوام ان لیڈروں کی جوا بدہی کو یقینی بنانے والی فضا تیار کریں تاکہ ملک کی امیج کو پہنچنے والے نقصان کی راہ مسدود ہو سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK